آپ بھی اس میزائیل کی زد میں ہیں!

محمدآصف ریاض (دہلی ) asif343@gmail.com

” رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا:جب اللہ تعالی آسمانوں میں کسی امر کے بارے میں فیصلہ فرماتا ہے توفرشتے اللہ کے حکم کی فرمانبرداری میں اپنے بازوپھڑپھڑاتے ہیںاور اس سے اس طرح کی آواز پیدا ہوتی ہے گویاکہ زنجیر چٹانوںپر کھینچی جارہی ہو۔ جب ان کے دلوںپر سے خوف کی کیفیت دور ہوتی ہے تووہ کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ حق فرمایا ہے ، اوروہی سب سے اعلیٰ اوربرتر ہے ۔پس چوری سے سننے والے (جِن ) اس حکم الٰہی کوسن لیتے ہیں۔ وہ چوری چھپے سننے والے ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہوکر اوپر پہنچتے ہیں ۔کبھی شہابِ ثاقب اس سننے والے کو آلگتاہے ، اور اسے جلاکر بھسم کردیتا ہے اس سے قبل کہ وہ سنی ہوئی بات اپنے نچلے ساتھی کو بتادے ۔اورکبھی ایسا ہوتا ہے کہ شہابِ ثاقب اسے نہیں لگتا حتیٰ کہ وہ اپنے سے نچلے والے کو اور وہ اس سے نیچے والے تک اس خبر کو پہنچا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ خبر سب سے نیچے والے جن تک جاپہنچتی ہے جو زمین پر ہوتا ہے ۔پس وہ خبر ساحر(یاکاہن)کے منہ تک پہنچ جاتی ہے جواس میں سوجھوٹ ملاکر جھوٹ بولتا ہے ۔جب اس کی وہ ایک خبر سچ ہوجاتی ہے تولوگ یہی کہتے ہیں کہ:کیا اس نے یہ نہیں کہاتھا کہ فلاں اور فلاں دن ایسا اور ویسا ہوگا ؟ ہم نے اسے آسمانوں کی سچی خبر سننے کی وجہ سے سچا پایا ہے ۔“ (صحیح بخاری)

  دنیا پر روزانہ تقریباً چار کھرب شہاب ثاقب برستے ہیں۔ ان میں کچھ زمین کی سطح تک پہنچتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو فضاﺅں میں ہی تباہ ہوجاتے ہیں۔آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال قبل خلیج میکسکو میں ایک بڑا شہاب ثاقب آکر گرا تھا جس کی وجہ سے ڈائنا سوروں سمیت زیادہ تر ذی روح ختم ہوگئے تھے۔

 2004میں انٹارٹکا کی فضا سے ایک تیس فٹ لمبا شہاب ثاقب کا ٹکڑا ٹکرا یا تھا جس کی وجہ سے 20پونڈ دھول پیدا ہو کر بادلوں میں تبدیل ہوگئی تھی اور اس کے اثرات ہزاروں میل تک ظاہر ہوئے تھے۔

اس شہاب ثاقب کو انگریزی میں شوٹنگ اسٹار (Shooting Star) کہا جا تا ہے۔یہ شوٹنگ اسٹارس اپنی حقیقت کے اعتبار سے الہی میزائیل ہوتے ہیں، جو شیطان کو ہر وقت اپنے نشانے پر لیے رہتے ہیں۔جب بھی کوئی شیطان آسمان کی طرف رخ کرتا ہے فرشتہ اس پر میزائیل کا منھ کھول دیتا ہے یہاں تک کہ وہ میزائل اس کا پیچھا کرتے ہوئے زمین تک پہنچ جا تا ہے۔

”قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی،اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے،وہ چمکتا ہوا تارہ ہے ،کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو“۔ (الطارق1-4)

اور یہ کہ” ہم نے آسمانوں کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے اٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے“ ۔ (الجن 1)

زمین پر ہر روز شہاب ثاقب کی شکل میں کھربوں میزائیل کی بارش ہوتی ہے؟یہ بارش کیا بتا رہی ہے ؟

 یہ بارش بتا رہی ہے کہ اللہکی زمین پر بسنے والا ہر شخص الہی میزائیل (شہاب ثاقب) کی زد میں ہے۔ آدمی اس الہی میزائیل یعنی شہاب ثاقب سے اس لیے نہیں بچا ہوا ہے کہ اس نے اپنے بچنے کا سامان تیار کرلیا ہے بلکہ وہ اس سے اس لیے بچا ہوا ہے کہ اللہنے ابھی تک اسے اپنے نشانے پر نہیں لیا ہے ،جس دن وہ اسے اپنے نشانے پر لے لیگا تو زمین پر کوئی نہیں جو اسے اس الہیمیزائیل کی زد میں آنے سے بچا سکے۔

آدمی زمین پر بیٹھ کر اللہکے خلاف بغاوت کرتا رہتا ہے۔وہ احکام الہی کو پامال کرتا رہتا ہے۔وہ اللہکے بندوں کے خلاف منصوبے بناتارہتا ہے ۔وہ کمزوروں کو ستاتا ہے ۔ وہ زمین پر سر کشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی زمین جائداد پر قبضہ جمالیتا ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر بے خوف اور نڈر بن کر رہتا ہے۔وہ کسی بھی معاملہ میں اللہ کو خاطر میں نہیں لاتا۔وہ اللہ کی پکڑ سے اپنے آپ کو آزاد پا تا ہے۔حالانکہ زمین وآسمان پر ہونے والے واقعات بتا رہے ہیں کہ انسان اس زمین پر آزاد نہیں ہے۔وہ ہر لمحہ اللہ کی نگرانی میں ہے ۔اللہ کا میزائل ہر لمحہ اس کے تعاقب میں ہے۔

افسوس ہے انسان پر جو ” ٹاموہاک میزائیل “ ( امریکی میزائیل) سے تو واقف ہے اور وہ اس کی زد میں آنے سے گھبرا تا بھی ہے، لیکن وہ اس سے کھربوں گنا زیادہ طاقتور الہی میزائیل (شہاب ثاقب )سے واقف نہیں جو ہر وقت اس کے تعاقب میں ہے۔جو کبھی بھی اس کا خاتمہ کر   سکتاہے۔جس کا نشانہ بہت محکم اور  ( Abslute) ہے ،جو کبھی چوکتا بھی نہیں ہے!

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*