اگر قدریں مٹتی رہیں؟؟؟

احتشام الحق سلفی(انڈیا)

shaz_bazmi@yahoo.co.in

ابتدائے آفرینش سے ہی جب انسانوں کو زندگی کا شعور حاصل ہوا ، جینے کے کچھ ڈھنگ اختیار کرنے لگے۔ یہ ان کی زندگی کے طور قرار پائے ۔ ان اطوار سے قدریں متعین ہوئیں۔ انہی اقدار پر ان کی تہذیب کی بنیاداستوار ہوئی۔ یہ اقدار بھلے برے دونوں تھے۔ اس میں عہد بہ عہد ترقی وتوسیع ہوتی رہی ۔ اس طرح انسانی تہذیبیں اعلی وارفع ہوئیں۔ اور بے دست وپائی سے سفر کرنے والے انسانوں نے ترقی کی اعلی منزلیں طے کرلیں۔

تبدیلی کا عمل زندگی سے وابستہ ہے۔ جب تک حیات میں حرارت باقی ہے تبدیلی، ترقی اور توسیع کا عمل جاری رہتا ہے۔ تبدیلیاں جب صحیح سمت میں ہوتی ہیں تو ان میں حسن ، جمال، علواور ترفع آتا ہے۔ جب غلط سمت اختیار کرلیتی ہےں تو پستی ، بے ڈھب پن اور ذلت ہاتھ آتی ہے اور زندگی ایک قدم پیچھے کی طرف کھسک جاتی ہے۔ قدریں بھی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ قدروں میں تبدیلی بھی فطری ہے۔

سائنسی دریافتوں اور ایجادوں کے باعث ہر شعبہ حیات میں زبردست تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ اس تبدیلی کے اثرات انسانی فکر و شعور میں بھی پائے جاتے ہیںاور یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ان سے سماجی انصاف ، آمدنی ، وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم عمل میں آئی ہے اور ہر قسم کی عدم مساوات ، استحصال ، جبر، غلامی، ناانصافیوں ، بدعقیدگیوں اور توہمات کا خاتمہ ہواہے ، انسانوں کو انسانی عظمت حاصل ہوئی ہے اور اس بے کنار کائنات میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنی زندگی کی بقا اور ترقی کا ایک احساس قائم ہواہے ۔لیکن سچ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ پچھلی وہ اعلی قدریں مسخ ہوتی جارہی ہیں جن سے انسانی تہذیب آراستہ ہوئی تھی ۔ اب انسانی ذہن نے زندگی کے ہر موڑ پر صارفی انداز میں سوچنا شروع کردیاہے ۔ کسی چیز کی قدر اس کے مادی افادے کے اعتبار سے متعین کی جانے لگی ہے۔ جو چیزیں بظاہر مادی طور پر بے افادہ نظر آئیں ان سے تعلق منقطع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ انسانوںنے زندگی کے ان اطوار سے جس کو اپنے فطری انسانی جذبہ سے اختیار اور قبول کیا تھا، بیزاری اختیار کرنے لگے ہیں ۔زندگی اگر اسی رخ پہ چل پڑی تو اس انسانی دنیا میں ایک ایسا انتشار پیدا ہوگا کہ انسان اپنی ہی ترقی کے ہاتھوں فنا پذیر ہوجائے گا۔

فکری اور ٹکنالوجی ترقی کے احساس نے آج انسان کو پیچھے کی طرف ڈھکیل دیا ہے ۔ ترقی ، فیشن اور جدیدیت کی دھن میں ایسا رویہ اختیار کیا جارہا ہے کہ انسان کے جسم پہ لباس ایک بوجھ بنا ہوا ہے اور اسے کم سے کم تر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔Low West, Top, Bikny, Sleeveless T-Shirts, Short Shirts, Strachable اور جالی دار جیسے تنگ اور ادھ کھلے لباس اختیار کیے جارہے جن میں جسم کے انہی حصوں کا اظہار اور نمائش زیادہ ہے جس کو اولاً چھپانے کی کوشش ابتدائی انسانوں کی تھی۔

خواتین کو مساوات اور آزادی دینے کے لیے طرح طرح کی تحریکیںچلائی جارہی ہیں اور ہر طرح کی مراعات دی جارہی ہے۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہیں جس چیز سے سب سے زیادہ آزادی ملنی چاہیے وہ لبا س ہی ہے۔ چنانچہ پردہ کو عورتوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ بھی بتایا جاتاہے۔ ماضی میں یورپین ممالک کو چھوڑکر دنیا کے اکثر حصوں میں عورتیں مردوں سے زیادہ کپڑے کا استعمال کرتی رہی ہیں ۔ لیکن اتفاقا ًآج سب سے کم استعمال عورتیں ہی کرتی ہیں اور فیشن ڈیزائننگ کے طفیل عورتوں کے لباس پر تجربہ کا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا ہے۔ دوسری طرف فلموں نے بھی اس میں خوب رول ادا کیا ہے جہاںایسے ہی لباسوں کی فراوانی ہے جو اعضاءکی زیادہ سے زیادہ نمائش کرسکیں۔

سر ڈھانکنا عورتوں کی فطرت رہی ہے۔ لیکن ترقی کی اس دوڑ میں اب یہ رفتہ رفتہ فرسودگی کی علامت سمجھاجانے لگا ہے۔ یورپین ممالک میں تو اس پر پابندی عائد ہوہی رہی ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ ہندوستان جیسے ممالک جو یورپین ممالک کے تہذیبی مقلد بنتے جارہے ہیں،اس روش کو اختیار کر لیں۔ اب تو ایسے خیالات بھی ذہنوں میں پیدا ہونے لگے ہیں کہ فطرت نے انسان کی جو ساخت بنائی ہے وہ بجائے خود خوبصورت ہے ۔ بھلا ایسے میں اس کو چھپاناکیا؟ ایسے خیالات اگر ذہنوں میں بار پاگئے تو انسانیت پھر کہاں پہنچے گی؟

انسان نے کب سے جاہلانہ زندگی کا طریقہ اختیار کیا قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاریخ میں کسی ایسے دور کا پتہ نہیں چلتا جس میں خاندانی نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود نہ رہا ہو۔ لیکن جب بھی اس روایت کو اپنایاگیا ہو یہ ایک فطری خواہش رہی ہوگی، جس سے نہ صرف سماج کی تنظیم ہوئی بلکہ کائنات منظم اور منصوبہ بند طریقے پر ارتقا پذیر ہوئی۔ ایسے خاندانی نظام کا وجود عمل میں آیا جو افراد کو مضبوط آہنگ اور پائیدار رشتہ سے مربوط کرتا ہے ۔اسی پر سارے سماجی تعلقات استوار ہوتے ہیںاور افراد کے درمیان انس و محبت اورباہمی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن بقدرتحصیل ترقی مختلف ممالک میں اس نظام میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں اور خاندانی نظام تحلیل ہونے کے درپے ہے۔ ”ازدواجی تعلقات کو وہ تقدس اور پائیداری حاصل نہیںرہی ہے جو سابقہ سماجوں میں تھی“۔اب شادی کا مطلب”جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے“ جیسا ہی رہ گیا ہے۔کیونکہ خاندانی نظام میں شادی کی ضرورت کا احساس اور اس عمل سے افراد کے مابین جو ارتباط اور جذباتی لگاؤ تھے‘ بناشادی جنسی تسکین کے ممکن ہونے کے باعث نہایت کمزور پڑگئے ہےں۔ وہ دن دور نہیں کہ انسان شادی کرنے اور کسی کو تا حیات ”گلے کی گھنٹی “ بنائے رکھنے سے بیزاری کا اعلان کردے۔یہ بات بھی ایشیائی اور مشرقی ممالک کو ہی ذہن میں رکھ کر کہی جاسکتی ہے ورنہ مغربی ممالک میں تو بغیر شادی گھر بسانااور اولاد پیدا کرنا عام سی بات ہے ۔ وہاں تو گروہی شادیا ں بھی ہورہی ہیں جس میں ایک گروپ کی ہر لڑکی جوڑے کے گروپ کی ہر لڑکے کی بیوی ہونے کا حق رکھتی ہے۔ مزیدبرآں ہم جنس جوڑے قانونی شادیاں کرتے ہیں ۔ ہندوستان میں بھی اس کی کئی مثالیںموجود ہیں۔”اس قسم کی غیر روایتی شادیاں کچھ سوالوں کو جنم دیتی ہیں مثلاً شادی کا مقصد کیا ہے؟ کیا شادی کرنا سماجی اعتبار سے لازمی ہے؟ کیا بغیر شادی اور کنبہ کے سماج چل سکتا ہے؟“ ۔

ازدواجی زندگی کا فائدہ یہ ہے کہ مرد وعورت دونوں متوازی طور پر ایک دوسرے کے لیے راحت رسانی کا ذریعہ ہیںاور دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اور مجبوری بھی ہیں ۔ان دونوں سے جواولاد وجود میں آتی ہےں ان سے جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں زندگی کے نشیب وفراز میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیںاور اسی میں زندگی کا مزہ بھی ہے۔ مگر اب زندگی صارفی ہوچکی ہے۔ حکومتوں نے باہمی رضا مندی سے جنسی خواہش کی تکمیل کی نہ صرف مکمل آزادی د ے رکھی ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔مثلا ریڈیو اشتہار: ”Condomکا استعمال کیجیے، جیون ساتھی کے ساتھ وفادار رہیے“۔ جیون ساتھی کوئی اور ہے اور Condom کے استعمال کے لیے کوئی اور۔ نیز اس کے بھر پور مواقع بھی موجود ہیں۔ یا اس کے اتنے مواقع ہیں کہ اس پر پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ، اس لیے قانون کو اجازت دینی پڑی ہے۔اس طرح آزاد رو ذہنیت والے دونوں صنفوں کے لیے’شام ہوئی اور صبح کو ایک خواب فراموش‘جیسا Tough and Rough ماحول ہے۔ کیا ایسے میں بھلا مرد اورعورت کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کرپانا اور ایک دوسرے کی ناگزیر ضرورت محسوس کرنا پہلے کی طرح ممکن ہے؟جب کہ دونوں خود کفیل بھی ہیں۔ بات اب اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ چکی ہے اور ہم جنسی بھی جائز قرار پاگئی ہے۔ جس میں اپنی تہذیب (سبھیتا )پر فخر کرنے والا ہندستان جیساملک بھی شامل ہے ۔ جامع اردو انسائیکلو پیڈیا میں خاندانی نظام کی گفتگو کا جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ قابل غور ہے: ” بدلتے ہوئے حالات میں محنت کی تقسیم بھی غیر یقینی ہوگئی ہے۔ کمانا اور امور خانہ داری کی ذمے داری اٹھانا دونوں ہی کام مرد اور عورتیں دونوں کررہے ہیں۔ بچوں کو پیدا کرنا بھی مغربی ممالک میں کم ہوگیا ہے۔ کیوں کہ رشتے کمزور ہوگئے ہیں ۔ اس لیے سماجی تحفظ انس ومحبت بھی خاندان اب نہیں دے پاتا۔ اس طرح خاندان کے بنیادی مقصد پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ شادی کی رسم یا قانونی خانہ پری مغربی ممالک میں بالکل بھی ضروری نہیں۔“ کیا ترقی یافتہ زندگی کی یہ روش اپنی موجودہ راہ پر گامزن رہی تو کائنات کی یہ شکل ایسی ہی رہے گی جیسی اب تک ہوتی چلی آئی ہے؟

  سماجی نظام میں جو تنظیم اور انضباط ہے اس میں خاندانی نظام ہی کا رول ہے ۔ جس کے مقاصد میں گھر بسانے کے ساتھ اولاد پیدا کرنا ان کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرنا اور خاندان کے افراد کے درمیان باہمی یگانگت ، محبت ، انس کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ بچوں کی پیدائش ، پرورش وپرداخت اور تعلیم وتربیت کے کام نہایت کٹھن، بے لوث، صبر آزما اور ذمہ داری کے ہیں ۔ آج ان مسائل کے تئیں انسان سماج کے سامنے جواب دہ بھی ہوتا ہے۔ ذہنیت آزاد روہوگی توکون بچوں کی پیدائش اور پرورش کے عمل کی پریشانیوں سے گزرکر ذمہ داری سے عہدہ برآہونا چاہے گا۔ جنسی بے راہ روی کی صورت میں پیدا ہونے والے بچوں کے جو مسائل کھڑے ہوں گے، ان کا نتیجہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں دیکھا جاسکتا ہے۔

آج تعلیمی اور دیگر دستاویزوں پر ماں کے نام کو اولیت دی جارہی ہے ،چاہے اس کے پیچھے جوبھی تصور دیا جارہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں جنسی بے راہ روی کے نتیجہ کے طورپر پیدا ہونے والے بچوں کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ابھی تک ہمارے خاندانی نظام کی تشکیل اس طرح ہوتی تھی کہ ایک خاندان ہوتا تھا جس میں میاں بیوی ، بچے اور ان کے پرکھے ہوتے تھے۔ عام حالت میں مرد کا کام اپنے پرکھے ،بیوی اور بچوںکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ذریعہ معاش اختیار کرناہوتا تھا جب کہ بیوی ‘ بچوں، ماں باپ اور گھر کی نگہبانی اور شوہر کے لیے سکون کا ذریعہ تھی۔ بچوں کے بڑے ہونے پر ان کی شادیاں کی جاتیں۔ لڑکا بال بچوں کے ساتھ والدین کی ضروریات پوری کرتا اور عورت خانگی ضرورتوں کو پورا کرتی تھی۔باہمی میل جول اور یگانگت سے گھر کا ماحول خوش گوار ہوا کرتا تھا۔ اب اس میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ مادی حرص نے مرد اورعورت دونوں کو دولت کمانے پر آمادہ کردیا ہے۔ ایسی صورت میں بچے باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا سے محروم ہیں اور شوہر بیوی کی سکون بخشی سے ،بیوی شوہر کے اٹوٹ پیار اور بچوں کی والہانہ انسیت اور لگاؤ سے۔والدین کے لیے جائے قرار Old Home یعنی Ancestor’s House ہے۔ جہاں خدمت اور ضرورت برآری کے خواہ جتنے سامان موجود ہوں انسان کو ملنے والی گھر کی انسیت ، محبت اور ہمدردانہ جذبہ مفقود ہوتا ہے۔

 والدین کے ساتھ اس رویہ کے پیچھے شاید صارفی سوچ بھی ہو کہ وہ اب کسی مصرف کے نہیں رہے، نہ ہی ان سے مستقبل میں کسی فائدے کا امکان ہے۔دوسری طرف جو بچے باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا سے محروم ہوں گے بھلا کیوں کر ان کے پاس بھی والدین کے لیے وقت ہوگا؟ انسان تما م جانداروں میں سب سے زیادہ باہمی امداد کا محتاج ہے۔ ایام طفولیت میں ایک خاص مدت تک والدین کی توجہ اور دیکھ بھال کے بغیر اس کا نشو ونما نا ممکن ہے۔ اسی طرح ہر شخص عمر کی ایک خاص مدت طے کرلینے کے بعد دوسرے انسانوں کی توجہ اور دیکھ بھال کا محتاج ہوجاتا ہے۔باہمی یگانگت ، محبت وانسیت اور ہمدردی وغیرہ تو ایسے جذبات ہیں جن کی ہر وقت ہر انسان کو ضرورت ہے۔اگر کوئی شخص ان کو اپنی زندگی میں ناپید پائے تو اس پر جنون طاری ہوجائے۔ گرچہ ترقی کے اس دور میں غیر انسانی سلوک کے خاتمہ کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن اس کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ عمر کے اس مرحلہ میں جب انسان کو دوسرے کی خدمت کی ضرورت ہو تب Old Home میں رکھا جائے ،محض مادی حرص میںبچوں کو External Feederاور Kidz Gardenکے حوالے کردیا جائے۔ یہ رویے دور حاضر کے اعلی انسانی سلوک کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔

ہمارے موجودہ سماجی نظام میں مردوں کے ساتھ بھی احترام انسانیت کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ سماج میں رائج مذہبی یا سماجی طریقہ کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہےں۔ مادی حرص نے انسان سے فارغ البالی چھین لی ہے ۔ جہاں مادی فائدہ نہ ہو اس کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ مادی حرص اگر بڑھتی رہی تو ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی فرد خانہ کے مرنے پر یہ طریقے اپنانے کی بجائے مزدوروں کا استعمال کرکے اسے کسی ٹھکانہ لگادینے جیسا رویہ اپنایا جانے لگے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی تاریخ کے ابتدائی دنوں میں ایسی ہی صورت حال رہی ہوگی۔

اخلاق باختگی کی کچھ صورتیں تو ایسی ہیں کہ انسانی تاریخ کے ابتدائی دنوں میں بھی نہیں رہی ہوں گی یا جہاں ایسی صورتیں ملتی رہی ہیں تاریخ ان علاقوں اور ادوار کو تہذیب سے عاری گردانتی ہے۔ مثلا Swapping(مبادلہ زوج) جس میں دو اشخاص اپنی بیویوں کا تبادلہ کرتے ہیں اور ہر وہ تعلق قائم کیا جاسکتا ہے جو زن وشو کے درمیان ممکن ہے۔ Live in Relationship(دوستانہ تعلق ازدواج) اس میں مرد وعورت بغیر شادی ایک ساتھ رہتے سہتے ہیں۔ ان کے درمیان زن وشو کے سارے تعلقات قائم ہوتے ہیں ۔ اولادیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر مرد کفالت واخراجات سے انکار کردے یا اپناتعلق ختم کرلے تو عورت کو قانونی چارہ جوئی کاکوئی حق حاصل نہیں ہوگا یا دونوں جب چاہیں اپنا رشتہ توڑلیں۔ جب کہ شادی ایک سماجی معاہدہ ہے جس میں دونوں جواب دہ ہوتے ہیں۔ انتہائی صورت تو یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کہتی ہے میں اتنے دنوں کے لیے اپنے Boy Friendکے ہاں رہوں گی۔ اسی طرح شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں اتنے دنوں کے لیے اپنی Girl Friendکے ہاں رہوںگا ۔ اس کے باوجود ان کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے رضا مندی کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے کہ ان کے درمیان ناجائز رشتے بھی قائم ہوں گے۔

مغربی دنیاکو یہاں کی اخلاقی اقدار کی بحث میں لانا کچھ اٹ پٹا سا ہے ۔کیوں کہ ان کے اقدار کی تشکیل میں مادیت پرستی اور ہر طرح کی آزادروی کو دخل حاصل ہے ۔ چونکہ ان واقعات سے ایشیائی ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ اس لیے ایک واقعہ نظر میں رکھنے کے قابل ہے۔ امریکہ کے پرانے صدر کے حریف Algoreنے انتخابی مہم کے درمیان اسٹیج پر اپنی بیوی کا بوسہ لے کر لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی ، اس کے جواب میں G.W.Bushنے ہر اسٹیج پر اس عمل کو دہرا کر جواب دیا۔ حالاںکہ یہ وہ عہدہ ہے جس پر فائز ہونے والی شخصیت Role Model ہونی چاہیے۔

فلم اور سیریلوں کی دنیا تو نرالی دنیا ہے۔ اس میں ایسے ایسے واقعات اور مناظر دکھائے جاتے ہیں جس میں کسی اخلاقی ضابطے کے لحاظ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے بارے میں کچھ کہنا بے جا ہے ۔مگر یہ ہماری نئی تہذیب کو ہموار کرنے کے دعوے دار ہیں اور بحیثیت میڈیا یہ جمہوریت کے چوتھے ستون ہیں۔ ان کی رسائی اکثر گھروں تک ہے اور ان کے اثرات انسانی زندگی پر بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں اکثر اوقات ایسے تماشے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک مرتبہ بالی ووڈ ادا کار اکشے کمار نے Ramp پر شو کرتے ہوئے ناظرین  کے درمیان کھڑی اپنی بیوی سے Jeans Unbuttonکرنے کو کہا اور اس نے سر محفل ایسا کیا بھی۔ کسی نے اس کی گرفت کرنے کے لیے قانون کا سہارا لینا چاہا لیکن نہ کچھ ہونا تھا نہ کچھ ہوا۔ سن رسیدہ ہالی ووڈ ایکٹر رچرڈ گیر جب ہندستان آیا تو اس نے بالی ووڈ اداکارہ شلپا شٹی کوعالم بے خودی میں سر محفل چومنا شروع کردیا اور  اداکارہ دیکھتی رہ گئی۔بھوجپوری فلموں کے تماشے ان سب پر مستزاد ہےں جن کے نہ صرف مناظر بلکہ گانے بھی Adult (عریاں) ہی ہوتے ہیں۔

ٹی وی سیریلوں میںبھی تماشوں کی کمی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ ٹی وی سیریل ” سچ کا سامنا“ میں کسی عورت سے پوچھا گیا کہ” کیا آپ نے شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ شب باشی کی ہے؟“ اس نے بلا جھجھک اپنا جواب اثبات میں دیا۔جیسے یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے!

ان اقدار شکن واقعات کو حیطہ تحریر میں لاتے ہوئے قلم کی زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ مگر یہ وہ واقعات ہیں جن کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آئے دن ہماری میڈیا محض تجارتی فروغ کی خاطر Live Telecastکرتی ہے۔ عوام کے ذہن ودل ان سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی روزانہ کی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیںجنہیں جائز طور پر بھی پس پردہ ہی انجام دیا جانا چاہیے۔ لیکن وارفتگی جنون میں انہیں ناجائز طورپر اور سر محفل انجام دیا جاتا ہے۔” چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“۔ حیرت ہے کہ ہماری میڈیا اسے عوام تک برضا ورغبت پہونچارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسی صورتیں تاریخ کے ابتدائی دنوں میں بھی نہیں رہی ہوں گی۔ شاید ان سادہ لوح انسانوں کے سامنے بھی یہ واقعات رونما ہوتے تو ان کی آنکھیں شرم سے جھک جاتیں۔ مگر ہمارا آج کا سماج ،آج کا سماج ہے۔ ماڈرن، ترقی یافتہ اور تہذیب کا علم بردار!!!

 یہ ساری بڑھتی ہوئی مادی اور صارفی صورت حال  شتربے مہار کی طرح اگر ہماری سماجی زندگیوں میں درآئیں تو کیا آج کا ترقی یافتہ انسان آئندہ ایسا ہی رہے گا؟

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*