انتہاءپسندی اسلام کی نظر میں

 محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت)

 دین میں انتہاءپسندی باعث تباہی ہے

غلو اور انتہا پسندی حد سے آگے بڑھ جانے کا نام ہے ، اسلام میانہ روی اور اعتدال کا مذہب ہے ، جو شخص اسلام کے احکامات پر غور کرے گا چاہے وہ اوامر ہوں یا نواہی ، وہ محسوس کرے گا کہ اسلامی احکام کی بنیادیں میانہ روی ، اعتدال ، سہولت اور کشادگی پر قائم ہیں اور تشدد ، تعذیب ، انتہاءپسندی اور خشک روی کا اس سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ بلکہ اسلام نے ہر طرح کے غلو اور انتہاءپسندی کی مذمت کی ہے، غلو کی ہر قسم سے ڈرایا ہے اوراس سے مسلمانوں کو ہر حال میں بچنے کی تاکید کی ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ امت مسلمہ خود ایک معتدل امت ہے؟ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

”اور اسی طرح ہم نے تمہیں اے مسلمانو ! ایک معتدل اور بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں کے بارے میں گواہی دو اور رسول تمہارے بارے میں گواہی دیں“ ۔ ( بقرہ :143)

رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  نے اپنی امت کو انتہاءپسندی سے ڈرایا اور فرمايا کہ آج تک جتنی بھی امتیں تباہ وبرباد ہوئیں ، اسی کی وجہ سے ہوئیں ، جیسا کہ ارشاد ہے :

 ” لوگو ! تم دین میں غلو کرنے سے بچو‘ کیونکہ اگلی امتوں کو دین میں غلو نے ہی ہلاک کردیا تھا “۔( نسائی )

انسان جب انتہاءپسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو وہ ارشادات ربانی اور فرمودات نبوی کو بھول جاتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ خواہشات کی اتباع اور پیروی کی شکل میں نکلتا ہے ، جس سے نہ صرف وہ بھٹک جاتا ہے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی راہ ہدایت سے بھٹکا دیتا ہے ۔ ع

  ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

اﷲ تعالیٰ نے اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ) کی گمراہی کا سب سے بڑا سبب دین میں غلو اور انتہاءپسندی کو قرار دیا ۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے :

”( اے محمد صلى الله عليه وسلم  ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب !تم لوگ اپنے دین میں نا حق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود گمراہ ہوگئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور راہ راست سے بھٹک گئے“ ۔   ( مائدہ :77)

اسی لیے سرور کائنات  صلى الله عليه وسلم  نے اپنی امت کو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی یہود ونصاریٰ کی روش پر چلنے سے خبردار فرمایا، ام المومنین حضرت عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں : ”جب رسول اﷲ ا پر حالتِ نزع طاری ہوئی تو آپ اپنی چادر مبارک کو بار بار اپنے چہرے سے ہٹاتے اور اسی حالت میں فرماتے :” یہود اور نصاری پر اﷲکی لعنت ہو ‘ جنہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو مسجد بنالیا “ گوےا آپ ا ان کے اس عمل سے امت کو ڈرا رہے تھے ۔( متفق علیہ )

عقائد میں انتہاءپسندی

یہود اور نصاریٰ اسی غلو کی ہی وجہ سے اس کائنات کے سب سے بڑے جرم کے مرتکب ہوئے ، یہود نے حضرت عزیرں کو اﷲ کا بیٹا قرار دیا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ںکو ، اور پھر اپنے علماءاور درویشوں کو بھی مافوق الفطرت ہستیاں قرار دے کر انکی عبادت میں مشغول ہوگئے:

”اور یہود نے کہا کہ عزیر اﷲ کے بیٹے ہیں ، اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اﷲ کے بیٹے ہیں ، ان لوگوںکے قول کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا تھا ، اﷲ انہیں ہلاک کردے کہ کس طرح حق سے پھرے جارہے ہیں۔ان لوگوں نے اپنے عالموں اور اپنے عابدوں کو اﷲ کے بجائے معبود بنالیا اور مسیح بن مریم کو بھی ، حالانکہ انہیں تو صرف ایک اﷲ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے“ ۔ ( توبہ : 30۔31)

اسی لیے رسول کائناتمحمد انے اپنی امت کو اپنی ذات میں غلو کرنے سے بایں الفاظ منع فرمایا :

 ” تم مجھے میرے مقام ومرتبہ سے اتنا نہ بڑھاؤ جتنا کہ عیسائیوںنے عیسی بن مریم کو بڑھایا، میں صرف بندہ ہوں اسلئے تم مجھے اﷲ کا بندہ اور اسکا رسول کہو“۔ (متفق علیہ)

عبادات میں انتہاءپسندی

(1) حضرت عبد اﷲ بن عباس ص بیان کرتے ہیں : ”رسول اﷲ  صلى الله عليه وسلم  نے مجھے دسویں ذی الحجہ کے دن رمی کے واسطے چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن کر دینے کے لیے کہا ، میں نے آپ کو سات کنکریاں ( جو چنے کے دانے کے برابر تھیں )چن کر دیں ، آپ اپنی سواری پر تھے اور ان کنکریوں کو اپنے دست مبارک میں رکھتے ہوئے فرمارہے تھے : ” ان جیسی کنکریوں سے رمی کرو “۔ ( جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کنکریوں کے بجائے پتھر اٹھا رہے ہیں تو ) آپ ا نے فرماےا : ” لوگو ! تم دین میں غلو کرنے سے بچو‘ کیونکہ اگلی امتوں کو دین میں غلو نے ہی ہلاک کردیا تھا“( نسائی)

(2) حضرت انس  رضى الله عنه کہتے ہیں : ” تین شخص رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  کی ازواج مطہرات کے گھر کے پاس آئے ، تاکہ ان سے آپ صلى الله عليه وسلم  کی عبادت کا حال دریافت کریں ۔ جب انہیں آپ ا کی ( رات کی )عبادت کی تفصیل بتائی گئی تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا : ہمارا رسول اﷲ ا سے کیا مقابلہ ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردئے گئے ہیں ۔ ( اس لیے ہمیں آپ صلى الله عليه وسلم  سے زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے ) چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا : میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا ۔ دوسرے نے کہا : میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا ، کبھی روزے کا ناغہ نہیں کروں گا ۔ تیسرے نے کہا :میں عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔ ( جب رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  کو ان باتوں کا پتہ چلا تو ) آپ انکے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا :کیا تم نے اس طرح کہا ہے ؟ ( جب انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ  صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا ) میں تم میں سب سے زیادہ اﷲ سے ڈرنے والا اور اس کا سب سے زیادہ خوف اپنے دل میں رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ دیتا بھی ہوں ، رات میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ، پس یہ سارے کام میری سنت ہیں اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں یعنی اس کا مجھ سے تعلق نہیں( بخاری ومسلم )

(3) حضرت وھب بن عبداﷲ رضى الله عنه کہتے ہیں :

 ” رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  نے حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو الدرداء رضى الله عنهما کو بھائی بھائی بنایا ، حضرت سلمان فارسی رضى الله عنه ، حضرت ابو الدرداء رضى الله عنه کے گھر گئے ، تو حضرت ام الدرداء رضى الله عنه کو پراگندہ حال دیکھ کر پوچھا : یہ کیا حال بنا رکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابو الدرداء رضى الله عنه کو دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اتنے میں حضرت ابو الدرداء رضى الله عنه بھی آگئے ، حضرت ابوالدرداء رضى الله عنه نے ان کے لیے کھانا بنایا اور انہیں کھانے کی دعوت دی، حضرت سلمان فارسی رضى الله عنه نے ابو الدرداء رضى الله عنه کوبھی کھانے پربلایا توانہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں ۔ حضرت سلمان فارسی رضى الله عنه نے کہا : میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ آپ نہ کھائیں ۔ انہوں نے ( نفلی روزہ توڑکر ) ان کے ساتھ کھانا کھایا ۔ جب رات ہوئی توحضرت ابو الدرداء رضى الله عنه نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت سلمان فارسی رضى الله عنه نے کہا ” سوجاؤ“ ۔ وہ سوگئے ۔ تھوڑی دیر بعد نماز کے لیے پھر کھڑے ہوئے تو انہیں ڈانٹا کہ سوجاؤ ، وہ سوگئے ۔ رات کے آخری حصے میں حضرت ابو الدرداء  رضى الله عنه  کو جگایا اور کہا : اب اٹھو ، پھر دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی ، پھر حضرت سلمان فارسی رضى الله عنه نے حضرت ابو الدرداء رضى الله عنه کو سمجھاتے ہوئے کہا : ”تم پر تمہارے رب کا حق ہے ، تمہاری جان کا بھی حق ہے ،تمہارے اہل وعیال کا بھی حق ہے ، ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو ۔ حضرت ابو الدرداء رضى الله عنه ، رسول اکرم اکے پاس آئے اور ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایا : ”سلمان نے سچ کہا ہے “۔ ( بخاری )

(4) حضرت انس رضى الله عنه  کہتے ہیں :

”رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی ہے ۔ تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے پوچھا : یہ رسی کس لیے ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ  ام المومنین حضرت زینب ؓ کی رسی ہے ، وہ رات کو قیام کرتی ہیں جب کھڑی کھڑی تھک جاتی ہیں تو رسی کا سہارا لے لیتی ہیں جس سے کچھ تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا :” اسے کھول دو ، ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس وقت نماز پڑھے جب وہ فرحت ونشاط محسوس کرے ، جس وقت تھک جائے تو سوجائے “ ۔ ( متفق علیہ )

(5) سیدنا عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں :

 رسول اﷲ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  کی نظر مبارک دوران خطبہ ایک شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا ، آپ صلى الله عليه وسلم  نے اسکے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو لوگوں نے بتلایا کہ اس کا نام ابواسرائیل ہے ، اس نے اس بات کی نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں اور نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ بات چیت کرے گا اور روزہ رکھے گا ۔ آپ ا نے فرمایا : اس سے کہو کہ وہ گفتگو کرے ، سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے ، البتہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے“           ( بخاری)

معاملات میں انتہاءپسندی کی مذمت

اسلام نرمی ، سہولت، صبر اور اخلاق کا مذہب ہے ، اسی لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے شدت ، تنگی، بداخلاقی اور انتہا پسندی کی بھرپور مذمت فرمائی ہے ، بلکہ اس کو کسی بھی دنیوی یا اخروی معاملے کے متعلق باعث تباہی قرار دیاہے۔

 ام المومنین حضرت عائشہ کہتی ہیں ،رسول اﷲ ا نے فرمایا:”بے شک نرمی جس چیز میں داخل ہوتی ہے تو اس کو اچھا بنادیتی ہے ، اور جس چیز سے غائب ہوجاتی ہے اس کو بُرا کر چھوڑتی ہے “۔ (مسلم ) ایک اور روایت میں ہے : ”اﷲ تعالیٰ مہربان ہے اور وہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے “۔ ( متفق علیہ )

رسول اﷲ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  کے عہد مبارک میں ایسے واقعات پیش آئے جس میں مساجد کی بے حرمتی کی گئی ، لیکن آپ نے ایسا حکیمانہ رویہ اختیار فرمایا کہ جس سے مسلمان قوم کا داعیانہ کردار بھی نکھر کر سامنے آگیا اور بے حرمتی کرنے والا شخص نعمت اسلام سے بھی مالا مال ہوگیا ۔

حضرت ابوہریرہ  رضى الله عنه  کہتے ہیں :

 ” ایک بدو شخص مسجد نبوی میں آیا اور اس کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا ، ( جب کہ رسول اﷲ  صلى الله عليه وسلم  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد میں ہی موجود تھے) لوگ اس شخص کی طرف لپکے تاکہ اس کی پٹائی کریں ، لیکن رسول اﷲ ا نے انہیں روک دیا ، فرمایا : اسے پیشاب کرنے دو ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہادو ۔ تم آسانی بہم پہنچانے والے بنا کر بھیجے گئے ہو نہ کہ تنگ اور خشک رویہ اپنانے والے “ ( بخاری )۔ ابن ماجہ کی روایت میں ہے : ” آپ نے اس شخص کو نہ تو ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا ، بلکہ سمجھاتے ہوئے فرمایا :” یہ مسجدیں پیشاب ، پاخانے کے لیے نہیں ہیں ، بلکہ ا ﷲ تعالیٰ کے ذکر اور نماز ادا کرنے کے لیے ہیں “۔ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ : ” اس شخص نے حالت نماز میں بآواز بلند یہ دعا کی :

” یا اﷲ ! مجھ پر اور محمد پر ہی رحم کرنا ، ہمارے سوا کسی اور پر ہرگز رحم نہ کرنا“ سلام پھیرنے کے بعد آپ انے مسکراتے ہوئے فرمایا : ” تم نے ( اﷲ کی ) وسیع ( رحمت ) کو سکڑ کر رکھ دیا “۔ ( ابن ماجہ ۔ ابوداؤد )

اگر اس جیسا واقعہ ہندوستان میں واقع ہوجائے تو شاید بہت بڑا فساد ہوجائے جس میں دسیوں بے گناہ لوگوں کی جان چلی جائے اور اکثر فساد انہی جیسے واقعات سے شروع ہوتے ہیںکہ کسی ایک فریق نے مسجد کے سامنے سے جلوس نکالا یا باجابجایا یا پٹاخے جلائے ، مسلمان نوجوانو ں نے سنگ باری کی ، اس کے بعد فساد شروع ہوگیا ۔ جبکہ اکثر مقامات پر اس طرح کی کاروائی ، پوری تیاری کے ساتھ فساد بھڑکانے کے لیے ہی کی جاتی ہے ، افسوس کہ مسلمان اس پلاننگ کو سمجھ نہیں پاتے ، جوش میں آکر کوئی ایسی حرکت کردیتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے انتہاءپسندوں کے لیے فساد کا بہانہ مل جاتا ہے اور پھر بھیانک فساد میں اپنا نقصان خود کربیٹھتے ہیں ۔

آج بشمول مسلمانوں کے دنیا کی تمام اقوام میں  انتہاءپسندی کا گراف تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے ، اور اس معاملے میں مسلمان بھی گمراہ اقوام سے پیچھے نہیں رہے ، بلکہ اسکی پیشین گوئی خود رسول اکرم ا نے اپنی احادیث مبارکہ میں فرمائی ہے ، جیسا کہ ارشاد ہے :

”تم ضرور اگلی امتوں کی عادات و اطوار کی بالشت دربالشت اور ہاتھ در ہاتھ پیروی کروگے ‘ یہاں تک کہ وہ کسی گوہ کے سوراخ میں جا گُھسیں گے تو تم بھی اس میں داخل ہوجاؤگے‘ ہم نے کہا : ” اے اﷲ کے رسول : کیا ہم یہود ونصاری کی پیروی کریں گے ؟“ آپ نے فرمایا :  ” اگر وہ نہیں تو پھر کون ؟“ ۔ (متفق علیہ )

انتہاءپسند لوگ اپنی انتہاءپسندی کی وجہ سے دین اسلام کو بھی آخری سلام کردیتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ  رضى الله عنه  سے مروی ہے ، رسول اﷲ  نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ” دین آسان ہے ، جو شخص دین میں بے جا سختی کرتا ہے تو دین اس پر غالب آجاتا ہے “۔ [یعنی ایسا انسان مغلوب ہوجاتا ہے اور دین پر عمل کرنا چھوڑدیتا ہے]( بخاری )

ان تمام آیات واحادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اسلام دین رحمت ہے ، یہ وہ عادلانہ مذہب ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے ساری بنی نوع انسانیت کے لیے منتخب فرمایا ہے ، اس کا تشدد ، غلو اور انتہاءپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ساری انسانیت کو انتہاءپسندی سے محفوظ کرکے حقیقی اسلام کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*