نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا طریقہ تربیت (4)

سید عبدالسلام عمری (کویت )

abdussalamsyed@ymail.com

 باہمی ربط و ضبط

دیکھا گیا ہے کہ اصلاح وتربیت کا کام کرنے والے عام طور پراپنے کو سنبھال کر اور عوام سے کاٹ کررکھتے ہيں ۔ لیکن رسول کریم صلى الله عليه سلم مقام نبوت پر فائز ہونے کے باوجود ‘ خاتم الانبیاء و سید المرسلین ہونے کے باوجود ‘ عوام سے گہرا ربط رکھتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم لوگوں سے بالکل الگ تھلگ نہيں رہتے بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم  ان ميں گھل مل جاتے ۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ۔ سفر ميں ان کے ساتھ کھانا پکانے کے لے لکڑیاں چن لاتے ۔ مسجد کی تعمیر ہوتی تو خود بھی پتھر ‘ مٹی ڈھوتے ۔ خندق کی کھدائی کا موقع ہوتا تو آپ بھی کدال سنبھالتے ۔ بھوک و فاقہ برداشت کرنے کی نوبت آتی تو ایک کے بجائے دو دو پتھر باندھتے ۔ جنگ کا موقع ہوتا تو اپنے رفقاء و اصحاب کے ساتھ آخر وقت تک شریک رہتے ۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کے غم اور خوشی کو اپنا غم اور خوشی سمجھتے ۔ خوشی ميں شریک ہوکرمبارکباد دیتے۔ مصیبت زدوں کاسہارا بنتے۔ پریشان حال لوگوں کی مدد کرتے ۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتے۔ اپنے حسن سلوک اور سچی مسکراہٹوں سے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ۔ غرض يہ کہ آپ ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ اپنے کسی عمل یا روش سے کبھی يہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ آپ خود کو کسی سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

آپ صلى الله عليه وسلم  کی سنت تھی کہ راستے ميں ملنے والوں کو سلام کرتے ، کسی کے سلام کا انتظار نہ کرتے،خود آگے بڑھکر سلام کرتے۔ بچوں کو بھی خود ہی پہلے سلام کرتے۔ گھر ميں داخل ہوتے تو اہل خانہ کو بھی خود ہی سلام کہتے ۔ کوئی ساتھی سے ایک لمبے وقفہ کے بعد ملاقات ہوتی تو اس سے گلے بھی ملتے۔ کبھی پیشانی چومتے ۔ کسی بھی ساتھی کو رخصت کرتے وقت دعاﺅں ميں یاد رکھنے کی فرمائش بھی کرتے۔ کوئی آپ سے مصافحہ کرتا تو اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ کھینچتے جب تک خود وہ اپنا ہاتھ کھینچ نہ لیتا ۔ کوئی اپنا دور دراز فاصلہ پر ہوتا سلام کہلوا بھیجتے۔ رفقاء و رشتہ داروں کو ہديہ دیتے ۔ انکے ہدے بھی خوشدلی سے قبول فرماتے اور کہتے: تَھَادَّو ا تَحَابُّوا (رواہ البخاری فی الا دب المفرد )” آپس ميں ایک دوسرے کو ہدے دیا کرو ‘ ہديہ دینے اور لینے سے محبت بڑھتی ہے “

 بیماروں کی عیادت کے لیے دور دراز مقامات تک بھی پہنچتے ۔ بیماروں کے سرہانے بیٹھ کر نہایت ہی خوش مزاجی اور بے لوث محبت کے ساتھ پوچھتے ” اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ “ کبھی بیمار کی پیشانی اور نبض پر اور کبھی چہرے پر‘ سینہ اور پیٹ پر‘ دست شفقت پھیرتے ‘ بیمار کی ہمت بندھاتے اور کہتے : لَا بَا سَ طُھُو ر  اِن  شَاء اللّٰہُ ”پریشانی کی کوئی بات نہيں ؛ اللہ نے چاہا تو بہت جلد صحتیاب ہو جاﺅگے“۔ کھانے کے لےے پوچھتے ‘ پرہیزی کھانوں کے اہتمام کے لےے تلقین کرتے‘ اگر کسی کے عالم نزع کی بابت خبر ملتی تو فورا ًوہاں پہنچتے ۔ توبہ کی ہدایت کرتے‘ کسی کی وفات کی اطلاع ملتی تو فورا ًاسکے گھر پہنچتے‘ پس ماندگان کو صبر کی تلقین کرتے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار فرماتے۔ تجہیز وتکفین ميں جلدی کرتے۔ جنازہ اٹھتا تو خود بھی جنازہ کے ساتھ جاتے۔ جنازہ کی نماز پڑھتے اور میت کے لےے مغفرت کی دعا بھی کرتے۔

ضرورت پڑتی تو لوگوں کے بہت سارے کام کردیتے ۔ بازاروں سے سودا لا دیتے۔ غریبوں کی مدد کرتے۔ گنجائش ہوتی تو لوگوں کو قرض دیتے یا دلا دیتے۔ ان کے قرض خود ادا کرتے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے۔ یتیموں کا سہارا بنتے۔ بیواﺅں کی کفالت کرتے۔ غلاموں کی آزادی کا بندوبست فرماتے۔ اور ان کی امدادپر دوسروں کو ابھارتے۔ معاشرہ کے کمزور طبقات کو اونچا اٹھانے کی کوشش کرتے۔

 مختصر يہ کہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے خود کو سماج سے اسقدر قریب رکھا تھا کہ معاشرہ کا ہر فر د يہی سمجھتاتھا کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سب سے زیادہ اسی کو چاہتے ہيں۔ جی ہاں!تربیت کے سلسلہ ميں انسان کے ذاتی تعلقات اور سماجی روابط کا بڑا اثر پڑتاہے۔ اصلاح و تربیت کا فریضہ انجام دینے والوں کی ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ اپنے زیر تربیت افراد اور سماج کی اکائیوں سے زیادہ سے زیادہ تعلق پیدا کریں۔ گرتے ہوﺅں کو سہارا دیں۔ زخمی دلوں کا مرہم بنیں۔ قرض کے بوجھ کے نیچے دبنے والوں کو اس بوجھ سے نجات دلانے کا انتظام کریں۔ غریب الدار اور پردیسی کے لےے ٹھکانہ کا بندوبست کریں۔ ناخواندگان کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ پھر دیکھیے يہ کردار کس طرح رنگ لاتا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے ایسی ہی فضا کو قائم کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا :

” ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو انسان کی انگلیوں کے ہر پور پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔ دو انسانوں کے درمیان انصاف پسندی سے صلح کرانا صدقہ ہے۔ کسی انسان کے سوار ہونے ميں مدد کرنا صدقہ ہے۔ کسی کا سامان لاد دینااور اتار دینا بھی صدقہ ہے۔ کسی سے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔ نماز کی نیت سے اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ تکلیف دہ چیز کو لوگوں کے راستہ سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(متفق علیہ)

دل کا پل مسکراہٹ

مذہبی پیشواﺅں کے بارے ميں ہمیشہ لوگوں کا يہ تصور ہوتا ہے کہ ان کی صورتیں ہر وقت روہانسی اور طبیعتيں خشک ہوتی ہيں۔ مگر انقلابی کارناموں کو انجام دینے والوں کے لےے ضروری ہے کہ وہ مسکراہٹ ومزاح سے فرائضِ حیات کے بوجھ کو ہلکا کردے۔ مجلس ميں شفتگی کی پر سرور فضا پیدا کرکے اپنے احباب کے غموں کا بوجھ ہلکا کرے اور انکے دلوں ميں گھر کر لے۔ چنانچہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم  بہت مسکرانے والے اور ہنس مکھ چہرے کے مالک تھے۔

يہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ آدمی اگر ہر وقت منھ پھلائے رہے ۔ لوگ بھی اسکے لبوں پر مسکراہٹ اور چہرے پر ہنسی نہ ديکھیں تو اسکی شخصیت غیر دلچسپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسکے مصنوعی رکھ رکھاﺅں سے لوگوں کو وحشت ہونے لگتی ہے۔ دنیا کا سب سے عظیم معلم و مربی نفسیات کے اس باب کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ اگر تاریخ آپ صلى الله عليه وسلم  جیسا رکھ رکھاﺅ، سنجیدگی اور متانت کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے تو شگفتہ مزاجی ‘ حسن ذوق ‘ مسکراہٹ و مزاح ميں بھی آپ کا کوئی ثانی پیش نہيں کر سکتی۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کی سنجیدگی ميں اور مزاح ميں حد درجہ اعتدال ‘ آپ صلى الله عليه وسلم  کے تکلم و تبسم ميں بے مثال توازن ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کا تبسم عام لوگوں کی طرح محض دانتوں کو ظاہر کر دینا ہی نہيں تھا بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم  کی ايک مسکراہٹ سے ہزاروں دل کھل اٹھتے تھے۔ سیکڑوں زخموں پر مرہم لگ جاتا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم  نے صحابہ  کی محفلوں کو اپنے خطبوں سے گرمایا ‘ اپنی پرسوز نصیحتوں سے آنسوو ں اور سسکیوں کا سماں باندھ دیا تو اپنی خوش مزاجی و خوش طبعی سے مجلسوں کو گل گلزار بھی بنا یا۔

ایک بار حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه  نے تعجب سے کہا ” کیا آپ بھی ہم سے مزاح فرماتے ہيں؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: ہاں ! مگر ميں خلاف حق کوئی بات نہيں کہتا“ ۔(شمائل ترمذی ) ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*