علامات قیامت

 آفتاب عالم ندوی (کویت )

aftabtalat@gmail.com

 اللہ کے آخری نبی رسول پاک صلى الله عليه وسلم  نے اپنی ذات پر ختم نبوت کی اطلاع دیتے ہوئے یوم آخرت کے قریب ہونے کی خبر بھی دے دی ہے ۔ چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے قرب قیامت کی وہ نشانیاں بھی بیان فرمادی تھیں جو آپ کے بعد ظہور میں آنے والی تھیں اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان نشانیوں کا ظہورشروع ہوچکا ہے ،آج اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ان علامات قیامت کا ظہور ہورہا ہے اور کل بالآخر وہ لمحہ بھی آکر رہے گا جب اہل جہنم اپنے رب کی وعید کے مطابق اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا پائیں گے اور اہلِ جنت بھی دیکھ لیں گے کہ ان کے رب نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ برحق تھا ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے قرب قیامت کی جو علامتیں بیان فرمائی ہیں ان میں کچھ ذیل کے سطورمیں بیان کی جا رہی ہیں :

ناقابل تصور عجائب کا ظہور

یہ دور عجیب وغریب واقعات کادور ہے جس میں نت نئی ایجادات سے لے کر اصول واقدار ،عادات واطواراور نوع بنوع تنظیموں کی صورت میں حیرت انگیز مشاہدات سامنے آتے ہیں ۔ اس دور میں ہماری نگاہوں نے ایسی غیرمعمولی چیزیں دیکھی ہیں جن کے بارے میں پہلے ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے اس دور کے ان غیرمعمولی واقعات کی پیشین گوئی اسی لیے فرمادی تھی تاکہ جب ہمیں ان سے سابقہ پیش آئے تو ہمارے افکار میں کوئی پراگندگی اور دلوں میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہو ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا کہ لاتقوم الساعة حتی تروا ا مورا عظاما مالم تکونوا ترونھا ولاتحدثون بھا ا نفسکم ۔ (رواہ البزار والطبرانی )

ترجمہ : ”قیامت اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک تم ایسے غیرمعمولی امور نہ دیکھ لو جنہیں نہ پہلے کبھی تم نے دیکھا تھا اور نہ ان کے بارے میں آپس میں کوئی بات کی تھی “ ۔

 عالیشان عمارتیں بنوانے میں فخرکرنا

کوئی غیرمسلم یا حدیث نبوی سے ناواقف شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ ایک خستہ حال ،بھیڑوں کا چرواہاجسے نہ پیرو ں کے لیے جوتے میسر ہوں ،نہ جسم کے لیے لباس اور نہ پیٹ بھر غذا ‘ وہ عظیم الشان عمارتیں بنوا  سکتا ہے اور ان کی تعمیرمیںدوسروںسے مسابقت کرسکتاہے لیکن یہ تو ہم نے اپنی پیشانی کی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ننگے پیر گھومنے والے محتاج چرواہوں کے یہاں ایسی خوشحالی آچکی ہے کہ وہ پرشکوہ عمارتیں بنوانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ صادق ومصدوق صلى الله عليه وسلم  نے اس واقعہ کی پیش گوئی صدیوں پہلے کردی تھی اور اسے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا تھا:

”جب برہنہ پیر ،برہنہ جسم ،غربت کے مارے بھیڑوں بکریوں کے چرانے والے عمارتیں بنوانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے نظر آئیں تو بس روزقیامت کا انتظار کرو“ ۔ (صحیح مسلم )

 اجزائے ارضی کا سمٹ جانا

اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : لاتقوم الساعة حتی یتقارب الزمان وتزوی الارض زیا (الطبرانی)

ترجمہ : قیامت کی گھڑی اس وقت آئے گی جب وقت سمٹ جائے گا اور زمین پوری طرح سکیڑ دی جائے گی “۔

موجودہ دور میں ہم خود دیکھ رہے ہیں کہ زمین کے فاصلے کتنے سمٹ گئے ہیں ،راکٹ کی پرواز نے پوری زمین اور اس پر آباد انسانوں کا بیک وقت مشاہدہ آسان تر بنادیا ہے ، دوریاں نزدیکیوں میں تبدیل ہوچکی ہیں ،ایک جگہ بیٹھے بیٹھے دور دراز علاقوں کی آوازیں بآسانی سنی جاسکتی ہیں بلکہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ تصویریں بھی طویل مسافتیں طے کرلیتی ہیں ۔ یہ سب کچھ زمین سکڑنے اور وقت کے سمٹنے کے مشاہدات ہی تو ہیں اور صادق  وامین صلى الله عليه سلم  کے ارشاد کے مطابق یہ سب قرب قیامت کی علامات ہیں ۔

دولت کی فراوانی اور تجارت کی وسعت

نبی صلى الله عليه وسلم  نے دولت کی فراوانی ،تجارت میں وسعت اور تعلیم کی اشاعت کو بھی قیامت کی نشانیوں میں شمار کرایا ہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : من ا شراط الساعة ا ن یفیض المال ویکثر ویظہر القلم وتفشو التجارة (مسند احمد)

ترجمہ: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ دولت کی فراوانی ہوگی، قلم نمایاں ہوگا اورتجارت میںوسعت ہوگی“۔ یہاں قلم کے نمایاں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پڑھنے لکھنے والوں کی کثرت ہوگی ۔

خواتین کی عریانیت پسندی اور فتنہ سامانی

آپ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد گرامی ہے صنفان من ا ھل النار لم ارھما ، قوم معھم سیاط کا ذناب البقر یضربون بھا الناس ، ونساء کاسیات عاریات مائلات ممیلات ، روو سھن کا سنمة البخت المائلة….  (صحیح مسلم )

ترجمہ:دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا ( کیونکہ وہ ابھی پیدانہیں ہوئے ) ایک وہ لوگ جن کے ساتھ گائے کے دم کی طرح (لمبے لمبے) کوڑے ہوں گے ، جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے۔اور دوسری وہ عورتیں جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی ،

نازنخرے سے مٹک مٹک کر اپنی طرف مائل کرنے والیاں ہوں گی۔ان کے سر ایسے ہوں گے جیسے بختی اونٹ کے کوہان ( یعنی سر پر بالوں کا جوڑا بناکر رکھیں گی اور وہ اونچا ہوکرکوہان کی طرح معلوم ہوگا )….۔ (مسلم)

مذکورہ بالا سطور میں چند آثار قیامت کا ذکر کیا گیا ہے، جن کا مشاہدہ ہم خود کرچکے ہیں،احادیث نبوی میں قرب قیامت کی بہت سی علامات بیان کی گئی ہیں جن میں سے متعدد علامات مشاہدے میں آچکی ہیں اور جس ذات نبوی نے ان علامات کی پیشین گوئی فرمائی ہے اسی رسول ہدایت نے ہمیں قیامت ،اس کی حقیقت ،اس کے احوال وکوائف سے بھی آگاہ کردیا ہے ۔ یہ آگاہی ہر صاحب عقل وفہم کے اندر یہ تڑپ اور بیداری پیدا کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنے انجام کار کے تعلق سے فکرمند ہو جس سے اللہ کے تمام انبیاءکرام علیھم السلام باخبر کرتے آئے ہیں ۔ اپنے انجام کے بارے میں اس فکر مندی کے نتیجہ میں لازماً اس دنیا کی حقیقت کے بارے میں بھی غور کرنا ہوگا جہاں وہ زندگی گزار رہا ہے ۔ 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*