زلزلوں کی کثرت کا سبب

افادات : علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمه الله

سوال : بہت سارے ممالک زلزلوں کا شکار ہوئے ہیں مثلاً ترکی ، مکسیکو، تائیوان ، جاپان وغیرہ آخر یہ کس امر پر دلالت کرتے ہیں ؟

جواب :بلاشبہ اللہ تعالی اپنے فیصلے میں علیم وحکیم ہے ، اوراس کے احکام بھی علم وحکمت پرمبنی ہیں ، اللہ تعالی جب چاہتاہے اپنی نشانیاں ظاہرفرماتااور انہیں اپنے بندوں کی تخویف ،ڈر اور نصیحت وعبرت کا سبب بناتاہے، چنانچہ یہ نشانیاںواجبات کی یاددہانی کرانے کا باعث بنتی ہیں، ان میں شرک سے بچنے کی تاکید ہوتی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ بندے اس کے اوامرکی پامالی سے باز آجائیںجیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ﴾وَمَا نُرسِلُ بِالآیَاتِ لاَّ تَخوِیفا﴿”ہم تولوگوں کو ڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں“ ۔ (الاسراء59 )

دوسرے مقام پرکچھ اس طرح فرمایا :﴾سَنُرِیہِم آیَاتِنَا فِی الآفَاقِ وَفِی اَنفُسِہِم حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُم انَّہُ الحَقُّ اَوَلَم یَکفِ بِرَبِّکَ اَنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیءٍ شَہِید ﴿ [ فصلت ( 53 )] ” عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی اورخود ان کی اپنی ذات میں بھی دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پرظاہر ہو جائے گا کہ حق یہی ہے ، کیا آپ کے رب کا ہرچیز پرواقف اورآگاہ ہونا کافی نہیں“۔

اورایک جگہ پر فرمایا : ﴾قُل ہُوَ القَادِرُ عَلَی اَن یَبعَثَ عَلَیکُم عَذَاباً مِّن فَوقِکُم اَو مِن تَحتِ اَرجُلِکُم اَو یَلبِسَکُم شِیَعاً وَیُذِیقَ بَعضَکُم بَاسَ بَعضٍ (الانعام 65 ) ”آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ اس پربھی قادر ہے کہ تم پرکوئی عذاب تمہارے اوپرسے بھیج دے یا تمہارے پاوں تلے سے یا تم کوگروہ گروہ کرکے بھڑا دے اورتمہارے ایک کودوسرے کی لڑائی چکھا دے“ ۔

ابوالشیخ اصبھانی  نے مجاھد سے اس آیت کی تفسیریوں نقل کی ہے (تم پرکوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے)یعنی ”تم پرچیخ اور پتھر اور آندھی بھیج دے “ (یا تمہارے پاوں تلے سے )یعنی نیچے سے زلزلہ بھیج دے اورزمین میں دھنسادے“۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دنوں بہت سارے ممالک میں جوزلزلے آرہے ہیں وہ انہیں نشانیوں میں سے ہیں جن سے اللہ تعالی اپنے بندوں کوڈراتا اور یاددہانی کراتا ہے ، ان زلزلوں اور دیگر مصائب وآلام کا سبب دراصل شرک وبدعت اورگناہ ہے ، اللہ تعالی نے فرمایا: : ﴾وَمَا اَصَابَکُم مِّن مُّصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَت ایدِیکُم وَیَعفُو عَن کَثِیرٍ﴿(الشوری 30 ) ”تمہیں جوکچھ مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور اللہ تعالی توبہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے“ ۔

 اللہ تعالی نے سابقہ امتوں کے متعلق فرمایا :﴾فَکُلّاً اَخَذنَا بِذَنبِہِ فَمِنہُم مَّناَرسَلنَا عَلَیہِ حَاصِباً وَمِنہُم مَّن اَخَذَتہُ الصَّیحَةُ وَمِنہُم مَّن خَسَفنَا بِہِ الاَر ضَ وَمِنہُم مَّن اَغرَقنَا وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَظلِمَہُم وَلَکِن کَانُوا اَنفُسَہُم یَظلِمُون﴿ ( العنکبوت 40 )

” پھرتو ہم نے ہرایک کواس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کرلیا ان میں سے بعض پرہم نے پتھروں کی بارش برسائی اوربعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیااور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبودیا اوراللہ تعالی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنے آپ پر ظلم کررہے ہیں“۔

لہذاایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے، اپنے گناہوں اور معاصی سے توبہ کرے ،دین اسلام پراستقامت اختیار کرے اور گناہ اورشرک وبدعات سے بچے تاکہ اسے دنیا وآخرت میں ہرقسم کے شرسے نجات وعافیت حاصل ہو ،اللہ تعالی اس سے ہرقسم کے مصائب اورآزمائشوں کو دورکرے اورہرقسم کی خیروبھلائی عطافرماے، اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا :﴾وَلَو  ا َنَّ ا َہلَ القُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنَا عَلَیہِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالاَرضِ وَلَکِن کَذَّبُوا فَاَخَذنَاہُم بِمَا کَانُوا یَکسِبُون﴿[الاعراف ( 96 )] ”اوراگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی توہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا“۔

ایک دوسرے مقام پرکچھ اس طرح فرمایا :﴾ اَفَاَمِنَ اَہلُ القُرَی اَن یَاتِیَہُم بَاسُنَا بَیَاتاً وَہُم نَآئِمُونَ(97) اَوَ اَمِنَ اَہلُ القُرَی اَن یَاتِیَہُم بَاسُنَا ضُحًی وَہُم یَلعَبُونَ(98)اَفَاَمِنُوا مَکرَ اللّہِ فَلاَ یَامَنُ مَکرَ اللّہِ اِلاَّ القَومُ الخَاسِرُون﴿ (الاعراف 97 – 99 )

”کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے ہیں، اللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا “ ۔

 علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :”بعض اوقات اللہ تعالی زمین کوسانس لینے کی اجازت دیتا ہے توزمین میںبڑے بڑے زلزلے بپا ہوتے ہیں،اس سے اللہ تعالی کے بندوں میں خوف اورخشیت الہی اور اس کی طرف رجوع ، معاصی وگناہ سے دوری اوراللہ تعالی کی جانب گریہ زاری اوراپنے کیے پرندامت پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک مرتبہ جب زلزلہ آیا تو سلف میں سے کسی نے کہا :”تمہارا رب تمہاری ڈانٹ ڈپٹ کررہا ہے“۔

 اور جب مدینہ میں زلزلہ آیا توعمربن خطاب رضي الله عنه نے لوگوں کوخطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ ونصیحت کی اور کہنے لگے ”اگریہ زلزلہ دوبارہ آیاتو میں تمہیں یہاں نہیں رہنے دوں گا“۔

لہذازلزلہ،سورج وچاند گرہن اورسخت ترین آندھی وغیرہ میں اللہ تعالی کی طرف فوراًرجوع کرنا چاہیے ،اس سے گریہ وزاری کرنی چاہیے ،اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے اورکثرت سے ذکرواذکار اوراستغفار کااہتمام کرناچاہیے جیساکہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  کا معمول تھا ۔ایک مرتبہ آپ صلى الله عليه سلم نے سورج گرہن کے موقع پرفرمایا:”اگر تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو اللہ تعالی کے ذکر اوراس سے دعا واستغفار میں جلدی کیا کرو“۔ (صحیح بخاری 2/ 30 صحیح مسلم 2 / 628 )

اس موقع سے فقراءومساکین پررحم کھانا اوران پر صدقہ کرنا بھی مستحب ہے اس لیے کہ نبی صلى الله عليه سلم  نے فرمایا :

”رحم کرنے والوں پراللہ رحم کرتا ہے ، زمین پر رہنے والوں پر رحم کرو آسمان میں رہنے والا ( اللہ تعالی ) تم پررحم کرے گا “۔  (سنن ابوداو د 13 /285 سنن ترمذی 6 / 43 )

اورنبی صلى الله عليه وسلم کا یہ بھی فرمان ہے :”جس نے کسی مومن سے دنیاوی تکلیف دور کیا اللہ تعالی روز قیامت اس کی تکلیف دور کرے گا ، اور جس نے کسی تنگ دست پرآسانی کی اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت میں آسانی فراہم کرے گا ، اورجس نے کسی مسلمان کی ستر پوشی کی اللہ تعالی دنیاوآخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائے گا ، اوراللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتاہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتاہے “۔       (صحیح مسلم 4 / 2074 )

عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے عہد میں زلزلے آنے لگتے تو وہ اپنے گورنروں کو حکم جاری کرتے کہ صدقہ وخیرات کرو۔

اخیرمیں ہم اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے،انہیں دین کی سمجھ عطا فرمائے ، دین اسلام پراستقامت نصیب فرمائے، ہرقسم کے گناہوں اورمعاصی سے توبہ کرنے کی توفیق دے ، ہرقسم کی گمراہی ،فتنوں اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھے ۔ بلاشبہ اللہ تعالی ہرچیز پرقادر ہے۔ آمین یا رب العالمین۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*