خرد کا نام جنوں رکھ دیا !؟

اعجاز الدین عمری (کویت)

کئی سال پہلے جب میں ابھی لڑکپن کی عمر سے گذر رہا تھا، میں نے ایک کہانی سنی تھی۔ کہانی کچھ اس طرح تھی ” کچھ مہاوت ( ہاتھی پالنے والے)شکار کی خاطر جنگل چلے گئے اور ایک ہاتھی کا بچہ شکار کر لائے۔ اب وہ فیلچہ جنگل چھوڑ کر شہر میں بسیرا کرنے لگا ۔ وہ بھولنے لگا تھا کہ اس کا سر رشتہ جنگل کے ایک عظیم اور طاقتور ترین جانور سے جڑاہے ۔ اس کو یہ بھی پتا نہیں رہا کہ سپہ گری اور زور آزمائی اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اس نے تو اپنی فطرت ہی بھلادی تھی۔ دن گذرنے کے ساتھ اس کے طور طریقے بھی وہی ہونے لگے جو اسے فیلبان سکھایا کرتا۔ انسان نے اسے سدھار کر رام کرلیا تھا۔ مدّتیں گذرگئیں اب وہ ننھا فیلچہ بڑا ہوکر عظیم ہیکل اور قوی جثہ والا ہاتھی بن چکا تھا اس کی طاقت سے انسان کی طاقت کا کوئی موازنہ نہیں ہوسکتا تھا۔ مگر چھ فٹ کاانسان اسے اپنے اشاروں سے نچاتا تھا وہ جب اُٹھنے کو کہتا تو اُٹھ جاتا اور جب وہ بیٹھنے کو کہتا تو بیٹھ جاتا۔ انسان اس سے اپنی مرضی کے سارے کام لیتا۔ بھاری بھر کم بوجھ اُٹھانا، کرتب دکھانا،سواری بننا انسان نے تو اسے اپنا مطیع و فرمانبردار غلام ہی بنا رکھاتھا۔ ماہ و سال گذرتے چلے گئے اور ہاتھی اپنی اصلیت سے بے پرواہ انسان سے وفاداری کرتا رہا۔ایسے میں ایک دن اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا اس نے ایک رات ایک عجیب خواب دیکھا اس نے دیکھا کہ وہ گھنے جنگلوں میں پہنچ چکا ہے۔ وہاں اس جیسی شکل و صورت والے ہاتھیوں کا جھنڈ ہی موجود ہے ۔ ان جنگلوں میں شیر ، باگ، چیتا، بھیڑیا بھیانک و خونخواردرندے اور چوپائے موجود ہیں۔ مگر اس کے ہمشکل و ہمزباں ہاتھیوں کی شان ہی نرالی تھی۔ جنگل کے سبھی جانور ان کے خوف و رعب سے سمٹے سمٹے رہتے تھے اور شیر جو جنگل کا بادشاہ تھا وہ بھی ان کی ہیبت سے سہما سہما رہتا تھا۔ وہ بڑی آزادی سے پورے جنگل میں دندناتے پھرتے تھے ، کوئی اُنہیںٹوک سکتاتھا اورنہ ہی اُنہیں کوئی روک سکتا تھا۔ اور جب وہ سونڈ اُٹھا کر چنگھاڑتے تو اس سے ہر چرند و پرند کا دل دہل جاتا پو پھٹتے ہی جب اس کی آنکھ کھلی تواُسے فضا کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی۔ مشرق سے اُبھرتا سورج اس کے لیے ایک نئی صبح کا پیام لایا تھا۔ ایک نئی روح ایک نئی اُمنگ نے اس کی زندگی کو رُخ انقلاب دے دیا تھا۔ اس نے اپنی فطرت کی کنہ پالی تھی ۔ زندگی کا سر بستہ راز صبحِ روشن کی مانند اس کی آنکھوں میں عیاں تھا وہ  خود شناسی کی دولت سے مالا مال ہوچکا تھا ۔ آج پہلی بار اس کے دل میں مہاوتوں سے بغاوت کے خیال نے انگڑائی لی تھی ۔ ایک نئے جذبہ سے سرشار اس نے اپنی آزادی کی جانب پہلا قدم اُٹھایا اور اپنی پوری طاقت کا استعمال کیا۔ اس نے اپنے پیروں میں پڑے غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا اب وہ خود کو آزاد سمجھنے لگا تھا وہ اپنی جنگلی شان کے ساتھ چنگھاڑتے ہوے بھاگنے لگا اس نے شہر میں اودھم مچا رکھا تھا اس کو روکنا اب کسی کے بس کی بات نہیں تھی مگر اس کے آقاوں کو اس کی یہ آزادی برداشت نہ ہوسکی انہوں نے اس پر جنون کا الزام لگایاانسان کی فریبی دنیا اب اس کو ”دہشت گرد“ کے نام سے پکارنے لگی ۔ آخر فیصلہ صادر ہوا کہ ”پاگل ہاتھی “ کو جان سے ماردیا جائے پھر ’سرکاری دستوں ‘ نے اس پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع کردی اس کو اپنی فطرت کی جانب لوٹنے کی سزا مل چکی تھی وہ اپنی آزادی کی قیمت پا چکا تھا۔“

وہ میرا لڑکپن تھا۔ اس وقت یہ میرے لیے صرف ایک کہانی تھی مگر جیسے جیسے میں پختگی کی عمر کو پہنچنے لگا اور شعور و آگہی نے مجھے سوچنے سمجھنے کے لایق بنا دیا تو یہ میرے لیے صرف ایک کہانی نہ رہی تھی بلکہ یہ تو میری نگاہوں میں موجود انسانی سماج کی منہ بولتی تصویر تھی وقت کے ’مہاوتوں‘ نے بڑے زمانے سے اور بڑی’ ہنر مندی‘ سے ایک ”انقلابی دین “ کے ماننے والوں کو محکوم و مطیع بنارکھا تھا۔ فکر و نظر کو اپاہج کردینے والی خواب آور گولیاں کھلا کھلا کر ” مسلم امّت “ کو اُنہوں نے گہری نیندسلا رکھا تھا۔ سو جتن کرکے اس ملت کو سماجی، سیاسی اور فکری بیداری سے دور رکھا۔ حکمرانوں کی ساحری نے کبھی ان کو جاگنے نہ دیا ۔ ابلیس کی ایجاد کردہ آزادی افکار نے جہانِ انسانیت میں رنگوں کا جال بچا رکھاتھا بجلی کے چراغوں سے بستیاں ہی روشن نہ ہوی تھیں بلکہ افکار بھی منور تھے ایسے میں کوئی نگہ دل وا کرنے کی فرصت کہاںسے پائے 

نگہ الجھی ہوی ہے رنگ و بو میں

 خرد کھو ئی گئی ہے چار سو میں

آزادی  افکار کا فریب بھی تھا اور ”بندہ  مومن“ کی اذان پر پابندی بھی پھر وہ سحر کیوں کر نمود پاتی جس سے ”شبستانِ وجود “میں لرزہ پیدا ہوتا ”ملت“ تو تہذیب کے پھندے میںبری طرح گرفتار تھی۔ سوزِ عمل سے محروم ”اہلِ ایمان“ غفلت کی میٹھی نیند کے مزے لے رہے تھے مگر روحِ مسلمان کی تقدیر بھی عجیب ہے تاریخ کے ہر کٹھن موڑ پر،سوتے سوتے بھی یہ ملت اچانک جاگ پڑی ہے اور جب بھی جاگی ہے اس نے بات صرف بیداری کی کی ہے شکستہ بال و پر میں بھی ان کی شاہیں نگاہی فلک پیما رہی ہے روٹھے ہوے دل پھر رفتہ رفتہ حرم آشنا ہونے لگے تھے پھر’ نغمہ  اللہ ہو ‘ کے ترانے فضا میں ارتعاش کے باعث تھے۔ بندہ حق بیں کی خودی بیدارہوچکی تھی۔

یہ بیداری باطل کو کس آنکھ بھاتی ؟ ” مسلمِ خود آشنا و خدا آشنا “ اور ” مومنِ خود دار و خدا اندیش “ پر ’الزامِ جُنوں‘ عائد ہوتا ہے ۔ دین اور دین کے شعائر کی محبت پالنے والا ” بنیاد پرستی “ کی تہمت اُٹھاتا ہے ۔ اپنی فطرت کی جانب قدم بڑھانے والا اللہ اور اس کی دی ہوی شریعت کی طرف رجوع کرنے والا ” رجعت پسند“ کہلاتا ہے ۔ حق بینی ، حق طلبی اور حق کی نگہبانی ”دہشت گردی “ قرار پاتی ہے ۔ پھر ناحق کے اجارہ داروں میں اس   مسلمِ ’آشفتہ سر ‘ کے خلاف مشورے ہوتے ہیں اس کی بربادی کے فیصلے طے پاتے ہیں اور پھر اقوام و ملل سب مل کر اس ”جنون“ کو صفحہ  ہستی سے مٹانے کے درپے ہوجاتے ہیں ….

 amagz@ymail.com

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*