ڈاکٹرخورشید ملک سے ایک ملاقات

imagesشکاگومیں مقیم بے لوث ہندوستانی سماجی کارکن

ڈاکٹرخورشیدملک سے ایک ملاقات

                                                                                                                    محمد خالد اعظمی (کویت)

khalid.azmi64@gmail.com

شکاگومیں مقیم بے لوث ہندوستانی سماجی کارکن ڈاکٹرخورشیدملک پیشے سے ایک سرجن ڈاکٹرہیں لیکن دینی جذبہ اورسماجی خدمات ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے،موصوف امریکی شہریت حاصل کرنے کے باوجود اپنے علاقے کی خدمت کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں، اللہ تعالی اس طرح کا عزم مصمم ہرپردیسی کوعطافرمائے تاکہ خاندانوں میں جوایک طرح کی بے اعتمادی پھیل چکی ہے اس کا ازالہ ہوسکے ۔

ڈاکٹرخورشیدملک کی پیدائش1936ءمیں صوبہ بہار کے شہر گیا میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم مقامی اسکول میں ہوئی،اس کے بعدمیٹرک کا امتحان محمڈن اینگلوعربک اسکول پٹنہ سے1952ءمیں پاس کیا ، مزید تعلیم کی خاطر مسلم یونیورسٹی علی گڈھ گئے ، اور انٹرمیڈیٹ سائنس کاامتحان پاس کرنے کے بعد دوبارہ پٹنہ لوٹ گئے اور شہرکے مشہور تعلیمی ادارہ سائنس کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا، ساتھ ہی میڈیکل میں داخلہ کے لیے بھی ٹسٹ دیا، یہ حسن اتفاق تھاکہ1955ءمیں ان کا داخلہ دربھنگہ میڈیکل کالج میں ہوگیا ،لہذا پٹنہ چھوڑ کردربھنگہ چلے گئے اور وہاں سے1960ءمیں MBBS کی ڈگری حاصل کی ، مزید سرجری میں اسپسلائزیشن کے لیے ایم ایس میں داخلہ لیا اورایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔ٍ ذ یل کے سطورمیں موصوف سے لیاگیا تحریری مکالمہ پیش خدمت ہے :

سوال۔پہلی مرتبہ آپ نے بیرون ملک کا سفرکب اور کس غرض سے کیا؟

جواب۔ MSکرنے کے بعدپہلی مرتبہ ملازمت کی غرض سے1964ءمیں سعودی عرب کی ہیلتھ منسٹری کی طرف سے جیزان گیاجوابہاکے قریب واقع ہے، عجیب اتفاق کہ وہاں میں ہی اکیلا سرجن تھا، دوسالوں تک وہاں ملازمت کرنے کے بعد مزیدحصول تعلیم اوراسپسلائزیشن کے لیے 1967ءمیں نارتھ امریکاچلاگیاجہاں شکاگوکو وطن ثانی بنایا اور اس وقت سے لے کر اب تک وہیں مقیم ہوں۔

سوال۔ آپ کا میدان اور اسپسلائزیشن کیا ہے؟

جواب۔پیشے سے میں ایک سرجن ڈاکٹرہوں لہذااسی میدان کو اختیار کیاکیونکہ اس میدان میں لوگوں کی کافی قلت تھی،جب میں امریکا گیا تو شکاگو سٹی میں یورولوجی کی ٹریننگ حاصل کی اور امریکن یورولوجی بورڈ سے سرجن ہوکر پرائیویٹ پریکٹس شروع کردی ، ساتھ ہی شکاگو کے کوک کاؤنٹی اسپتال کے یورولوجی شعبہ میں اسسٹنٹ پروفیسرمقررہوااور2010ءمیں وہاں سے میں نے ریٹائرمنٹ لینے کے ساتھ ساتھ اپنی پرائیویٹ پریکٹس بھی بند کردی۔

سوال۔ آپ کن کن اداروں کے ممبر یاذمہ دارہیں اورکیا مشغولیت ہے ؟

جواب۔اللہ کے فضل وکرم سے شکاگومیں 1968ءکے بعد جتنی بھی سماجی، دینی وملی تنظیمیں وجود میں آئیں ہیں ان تمام سے میراتعلق ہے۔اس کے علاوہ 1979ءمیں قائم ہونے والی ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے نام سے ایک ادارہ چند دوستوں کی مدد سے بنانے کا فخر حاصل ہے ۔ اس ادارے کافاونڈرممبر، بورڈ کا ڈائرکٹر، چیئرمین اور اس یونیورسٹی کا دوسالوں سے صدربھی ہوں۔اور1984تا2003ءاسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا کا اعزازی ڈائرکٹرتھا۔ امریکن مسلم فیزیشن آف انڈین اوریجن( American Muslim Physician Of Indian Origin)کا فاؤنڈرہوں جس کا قیام2007ءمیں عمل میں آیا۔اور1999ءسے انڈین مسلم ایجوکیشن فاؤنڈیشن آف نارتھ امریکا کا فاؤنڈر اور اعزازی صدرہوں اوربلامعاوضہ خدمات انجام دے رہا ہوں۔

آج کل میں انڈین مسلم ایجوکیشن فاؤنڈیشن آف نارتھ امریکاکے بینرتلے ہندوستان میں مقیم مسلم بچوں اورنوجوانوں میں تعلیمی بیداری لانے کے لئے مختلف وسائل وذرائع کااستعمال کرکے ان میں تعلیمی شعور بیدارکررہاہوں، اوران کے لیے اسکالرشپ کاانتظام کرنا چنداہم مقاصدمیں سے ایک ہے۔

سوال۔ جب پہلی مرتبہ شکاگوتشریف لے گئے تووہاں کی کیاصورتحال تھی؟

جواب۔ جب1967ءمیں پہلی مرتبہ شکاگوگیاتووہاں صرف چندسوکے قریب مسلمان اور ایک اسلامی سنٹر تھاجہاں نمازجمعہ ہوتی تھی اب الحمد للہ150تا200کے قریب اسلامی سنٹرس ہیں جس میں پنج وقتہ نماز کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ کابھی اہتمام ہوتا ہے۔

سوال: شکاگومیں مسلم تعلیمی اداروں کا کیاحال ہے؟

جواب: شکاگومیں دوکالج اورفل ٹائم ہائی اسکول تقريبا 6 ہے اورایک اسکول صرف بچیوں کی تعلیم کے لیے مخصوص ہے اللہ کا شکر ہے کہ ان اداروں میں تمام مسلمانوں کا مشترکہ تعاون ہے۔اوراس کے اچھے نتائج نکل رہے ہیں۔

سوال: امریکہ جیسے مادہ پرستانہ ماحول میں رفاہی کام کرنے کاجذبہ کیسے پیداہوا؟

جواب : عمر كى رفتار كے ساتھ میرے اندر خدمت خلق اوررفاہی کاموں کا جذبہ پیدا ہوتا گیا اور میں دوسروں کے کام آنے لگا مزید رفاہی کام میں دلچسپی پیداہوتی گئی اورجب میں نے لوگوں کی صورتحال قریب سے دیکھی تواحساس ذمہ داری بھی بڑھی اورکام کرنے کاجذبہ بھی اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ چند اچھے احباب کی صحبت اورتعاون ملا جس سے صراط مسقیم پرچلنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ یہ سب اللہ کا خاص فضل وکرم اوردوستوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ میں اس لائق ہوا۔

سوال: ہندوستان میں رفاہی کام کرنے میں کسی طرح کی کوئی دشواری؟

جواب: مجھے کوئی خاص دشواری محسوس نہیں ہورہی ہے کیونکہ میں یہ کام اللہ کے لیے کررہاہوں۔اس لئے اللہ تعالی كى خاص مدد حاصل ہے کسی بھی کام کی کامیابی کے لیے اخلاص شرط اول ہے۔

سوال: مسلمانوں میں آپسی اختلافات کیوں پیداہوئے ہیں اورانہیں کیسے دور کیاجاسکتاہے؟

جواب: حقیقت میں آپسی اختلافات قرآن وسنت سے دورہونے کی وجہ سے پیداہوئے ہیں اگرہم چاہتے ہیں کہ یہ دور ہوجائیں تو قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہونا ہوگا پھر بآسانی یہ سارے اختلافات ختم ہوسکتے ہیں اوردوسروں کوالزام دینے سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں تو شاید یہ چیزیں بہت جلد دور ہوسکتی ہیں                                                                            پڑی جب اپنی برائیوں پر نظر

                                        تونظرمیں کوئی برانہ رہا

سوال : دعوتی سرگرمیوں کا کیا حال ہے ؟

جواب : دعوتی سرگرمیوں کو احترام کی نظروں سے دیکھتا ہوں اورجولوگ اس میدان میں کام کررہے ہیں اوراس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں ایسے لوگوں کا ہرطرح سے تعاون کرتاہوں، اللہ کا شکر ہے کہ شکاگومیں ہمارے سنٹرس ہیں وہاں دعوت کا کام ( Islamic Circle Of North America) کی سرپرستی میں چل رہاہے ۔وہاں ان لوگوں کے کام کرنے کا انداز نرالا ہے پوسٹرس سڑکوں کے کنارے لگاتے ہیں ریڈیواسلام ہے جو تین چار سالوں سے مستقل شام6بجے سے ۷ بجے تک مسلم اورغیرمسلموں کو مدعو کرکے اسلام کے متعلق معلومات بتائی جاتی ہے ۔

سوال : آپ خلیج میں مقیم پردیسیوں کو کیاپیغام دیناچاہیں گے؟

جواب: بحیثیت مسلم ہم جہاں بھی جائیں اپنا اسلام پیش کریں اور کسی طرح کی غلط فہمیاں پیدانہ ہونے دیں، اورباشندگان کویت کویہ احساس بھی دلائیں کہ ہم صرف آپ کے ملک میں لینے کے لیے نہیں بلکہ کچھ دینے کے لیے بھی آئے ہیں، اوراللہ کانظام بھی یہی ہے کہ لین دین کے ذریعہ ہی باہمی ترقی ممکن ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*