ہزارعذرکے باوجود

039محمد آصف ریاض

ایک شب میرے بیٹے ’محمد یحی ‘ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی۔ وہ شدید بخارمیں مبتلاہوگیاتھا۔ اس کا ٹمپریچرایک سودواورتین تک پہنچ گیاتھا۔ میں اس کے سرہانے بیٹھ کراس کی پیشانی پرپٹی چڑھارہاتھا۔ بخارکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پیشانی پر پٹی رکھتے ہی پانی گویابھاپ بن جاتاتھا۔

رات کے دوبج رہے تھے۔ ہم لوگ بڑی بے صبری کے ساتھ صبح ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں بارباراپنی اہلیہ سے ٹائم پوچھ رہا تھا۔اس وقت میرا صرف ایک ہی کنسرن تھاوہ یہ کہ کسی طرح صبح ہواور میں اپنے بیٹے کو کسی اچھے ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروں۔

ایک اور خیال: 

اسی بے چینی کے درمیان میرے ذہن میں ایک اورخیال گزرا۔ وہ یہ کہ میری ہی طرح اس دنیا میں بہت سے لوگ ہوں گے جواپنے بیماربیٹا کے سرہانے بیٹھ کرصبح کاانتظارکررہے ہوں گے۔ لیکن ان کا مسئلہ میری طرح سادہ طور پر صبح ہونے کا مسئلہ نہیں ہوگا ۔ان کا مسئلہ بہت پیچیدہ اور پہلو دار ہوگا۔ ایک مسئلہ رات کی سیاہی کے چھٹنے کا اوردوسرامسئلہ علاج کے لئے پیسے کے بندو بست کا ہوگا۔ وہ اپنے بیٹا کے سرہانے بیٹھ کرایک ہی بارمیں کئی قسم کے خیالات سے ٹکرا رہے ہوں گے ۔مثلا یہ کہ کسی طرح صبح ہوجا تی اوریہ کہ صبح میں وہ کس کے آگے دست سوال درازکریں گے۔ وہ علاج کے لئے پیسہ کہاں سے لائیں گے؟کون انھیں پیسہ دے گا؟اوراگرکسی نے ان کی مدد نہیں کی توپھران کے بیٹے کاکیا ہوگاوغیرہ؟

یہ سوچ کرمیری آنکھوں سے بے اختیارآنسونکل پڑے۔ میری زبان سے نہا یت بے چینی کے عالم میں یہ الفاظ نکل آئے۔”خداوند توکسی کومحتاج نہ بنا۔ توکسی پراپنے فضل کادروازہ بند نہ کر۔ توہرشخص کواتنا ضروردے کہ وہ خود اپنا اوراپنے بچوں کی کفالت کرسکے اورتوسب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے”

اسی بے چینی کی حالت میں مجھے قرآن کی یہ آیت یادآگئی۔”یتیم پرسختی نہ کرو،اورسائل کونہ جھڑکو“ (93:10)

خداوند اپنے بندوں کونیکی کاحکم دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے مضبوط بندے اس کے کمزوربندوں کی اعانت کریں۔ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا وند کی دی ہوئی چیزکواپنی چیزسمجھتا ہے اوراسی لئے وہ اپنے مال میں سے کسی کوکچھ دینے کے لئے تیارنہیں ہوتا۔ وہ اپنے بچوں سے آگے نکل کرنہیں سوچ پاتا۔

ضرورت مندوں کے تئیں لوگوں کی روش

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں کچھ طلبا سے چند سوالات کئے گئے توان کاحال یہ تھا کہ ان میں کاہرایک اس مخصوص سوال کاجواب سوچنے کے بجائے گوگل کے بارے میں سوچ رہاتھا۔ یعنی ہرایک کے ذہن میں جوپہلاخیال گزراوہ یہ تھا کہ گوگل میں اس کا جواب کیا ہوگا۔ کسی نے بذات خود سوال پرسوچنا شروع نہیں کیا۔ سب کا ذہن گوگل میں اٹکا ہواتھا۔

یہی حال لوگوں کاہے۔ جب کوئی سائل لوگوں سے کوئی سوال کرتا ہے تولوگوں کے ذہن میں پہلا خیال یہ نہیں ابھرتا کہ وہ کس طرح حاجت مند کی حاجت پوری کر سکتے ہیں بلکہ ان میں کا ہرایک یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ کون سا خوبصورت عذرہے جس کہ ذریعہ حاجت مند کوٹال جا سکتا ہے۔ یعنی کسی حاجت مند کے سوال پرلوگوں کے ذہن میں پہلا خیال حاجت روائی کا نہیں آتا بلکہ حاجت مند کوٹالنے کے لئے خوبصورت عذرکی تلاش کاآتاہے۔ یعنی ادھر ضرورت مند نے اپنی حاجت پیش کی ادھر دماغ نے نئے عذرتلاش کرناشروع کردیا۔

ہزارعذر کے با وجود: 

آدمی کسی ضرورت مند کوخوبصورت بہانوں سے ٹالتا رہتا ہے اورسوچتا ہے کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔حالانکہ یہ بھی ایک اندازمیں سائل کوجھڑکناہے۔انسان سائل کوٹالنے کے لئے نئے نئے بہانے تلاش کرتاہے حالانکہ خدا وند چاہتا ہے کہ ایک آدمی کے پاس کسی سائل کوٹالنے کے لئے ہزاربہانے ہوں اورہربہانہ جائزہو تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی سائل کوٹال دے۔ اور خدا وند کسی کو نہیں ٹالتا۔

قرآن کا ارشاد ہے: “تم نے دیکھا اس شخص کوجوآخرت کی جزا وسزا کوجھٹلا تا ہے؟ وہی توہے جویتیم کودھکے دیتا ہے اورمسکین کوکھانا دینے پرنہیں ابھارتا” {107:1-3}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*