امن عالم توفقط دامن اسلام میں ہے

                                ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

peaceworldpeace944489419201200پوری دنیااضطراری کیفیت سے دوچارہے، ہرچہارجانب بدامنی اوربے اطمینانی پھیلی ہوئی ہے ،امن وامان غارت ہے ،اوردنیاکاہر امن پسندانسان اس کے لیے فکر منددکھائی دیتاہے ،لیکن یہ امن وسکون کیسے حاصل ہو؟ یہ ایک بڑاسوال ہے ،اوراس سوال کاجواب تلاش کرنے کے لیے ہرجگہ بڑی بڑی کانفرنسیں ہورہی ہیں ،تنظیمی سطح پراوربین الاقوامی سطح پر اس کام کے لیے لاکھوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں ، مفکرین اوردانشوران اس کے خاتمہ کے لیے مختلف تجاویز پیش کررہے ہیں ،لیکن ان تمام کوششوں کاحاصل کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہاہے ،بلکہ یوں کہاجاسکتاہے ،کہ ”مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی “اوراس کی وجہ یہ ہے کہ بیماری کاعلاج بیماری کے حقیقی اسباب کاپتہ کئے بغیر ہورہاہے ۔

مذہب اسلام کی بنیاد ہی امن وامان پرہے ،اورسکون وشانتی جس کی خمیرمیں داخل ہے ،تشدداورظلم وزیادتی کے واقعات کواس مذہب سے منسوب کرنا،اوراس مذہب کے ماننے والوں پربدامنی اورقتل وغارت پھیلانے کا الزام لگانا،درحقیقت مذہب اسلام اورمسلمان کوبدنام کرنے کے ساتھ اس بیماری کے حقیقی اسباب سے چشم پوشی کے مترادف ہے ،اورجب تک یہ سلسلہ بندنہیں کیاجاتا،دنیااسی کرب واضطراب میں مبتلارہے گی ،یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جومذہب ایک انسان کے قتل کوپوری انسانیت کاقتل قراردیتاہے ،اس مذہب کوخونریزکہاجاتاہے ،اللہ تعالی فرماتاہے : مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ”جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا“ (سورہ مائدہ آیت نمبر 32 ) ایسی پاکیزہ اورپرامن تعلیم پرایمان رکھنے والاایک سچامسلمان ،کسی تشدد،دہشت گردی یاخونرریزی میں ملوث ہونہیں سکتا ،اوراگربالفرض وہ اس طرح کی حرکتوں کامرتکب ہوتابھی ہے تو اس کے ذاتی عمل کی بنیادپرمذہب اسلام کوبدنام کرناکہاں کاانصاف ہے ؟

اسلام امن وامان قائم کرنے کے لیے یہ تعلیم دیتاہے کہ اگرشرپسندعناصر کسی سماج اورمعاشرہ کے امن وسکون کوپراگندہ کرنے پرآمادہ ہوں ،ڈاکہ زنی ،قتل وغارت گری یادہشت گردی کے ذریعہ بدامنی پھیلارہے ہوں ،جن کی وجہ سے لوگوں کی عزت وآبرومحفوظ نہ ہو،لوگوں کی جانیں ضائع ہورہی ہوں ،ایسے سماج دشمن اورغلط عناصرکی سزاقتل ،یاسولی یاجلاوطنی ہے ،تاکہ سماج کے دوسرے ایسے عناصردوبارہ ایسی حرکتوں کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں ،اللہ تعالی کاحکم ہے : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (سورہ المائدہ آیت نمبر33) ”جولوگ اللہ اوراس کے رسو ل سے جنگ کرتے ہیں ،اورزمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزایہی ہے کہ ان کواذیت دے کرقتل کیاجائے ،یاسولی پرلٹکایاجائے یاان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یاانہیں جلاوطن کردیاجائے ،ان کے لیے یہ ذلت دنیامیں ہے ،اورآخرت میں بھی انہیں بہت بڑاعذاب ہوگا “۔

جرائم کے سدباب کے لیے اسلام نے ایسی سزاؤں کے ساتھ امن وامان کے قیام کے لیے کچھ رہنمااصول بھی بنایاہے ،دنیاکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ان اصولوں پر عمل کرکے انسانیت کئی بار امن وامان کا ایسا مظاہرہ کرچکی ہے جس کی مثال نہیں ملتی :

(1) اسلام یہ بتاتاہے کہ اگر دنیامیں امن وسکون چاہتے ہوتوایک اللہ پرایمان لے آؤ،اپنی اصلاح کرلو،اوراچھے کام کرو ،قرآن مجید میں اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ  (سورہ انعام آیت نمبر48 ) ”یعنی جوشخص ایمان لے آیااوراپنی اصلاح کرلی توایسے لوگوں پر نہ خوف ہوگا اورنہ وہ غم زدہ ہوں گے “ ایمان اورامن دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اورملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں ،دنیامیں ایمان کے بغیر امن کاقیام ناممکن ہے۔

(2) قیام امن کادوسرا اسلامی اصول یہ ہے کہ عبادت اورپوجا صرف اللہ کی ہونی چاہئے اس میں کسی طرح کی ملاوٹ ،بت پرستی ،قبرپرستی ،شخصیت پرستی ،اوراس طرح کی تمام آلائشوں سے پاک عبادت کے نتیجہ میں امن وامان قائم ہوگا،اللہ کافرمان ہے : الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ (سورہ انعام آیت نمبر82) ”جولوگ ایمان لے آئے پھراپنے ایمان کوظلم یعنی شرک سے آلودہ نہیں کیا ،انہیں لوگوں کے لیے امن وامان ہے اوریہی لوگ راہ راست پرہیں “۔

(3) امن وامان کے قیام کے لیے اسلام نے تیسرااصول یہ بتایاکہ انسانی سماج میں اخوت وہمدردی اوربھائی چارہ کوفراغ دیاجائے ،ہرشخص دوسرے کاخیرخواہ ہو ،اس کی عزت وآبروکامحافظ ہو ،اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ہے : لایومن احد کم حتی یحب لا خیہ مایحب لنفسہ (بخاری 13) ”تم میں سے کوئی شحص ایمان والانہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیزپسندنہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے “ اس اصول کی روشنی میں جب سماج کاہرفرد اپنے پڑوسی ،اپنے شہری اوراپنے ملکی بھائی کے لیے خیراوربھلائی کا جذبہ رکھے گا ،توفتنہ وفساد ،خانہ جنگی اوردہشت گردی خودبخود ختم ہوجائے گی اورپوراسماج ،پوراملک امن وامان کاگہوارہ بن جائے گا۔

اسلام نے جرائم کوجڑ سے ختم کرنے کے لیے جوسزائیں تجویزکی ہیں ،بظاہروہ ”سنگین “ اور”حقوق انسانی “کے خلاف نظرآتی ہیں ،لیکن جرائم کی کثرت اوران کی سنگین نوعیت نے اب یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کے سدباب کے لیے ہمارے بنائے ہوئے قوانین اورہماری عدالتوں کے فیصلے کسی کام کے نہیں ہیں ،اگرہم ایمانداری کے ساتھ ،زناکاری ،بدعنوانی ،اورقتل وغارت گری کو ہمیشہ کے لیے سماج سے ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کے بتائے ہوئے اس اصول کواپناناہوگا کہ” سزاکی نوعیت جرم کے اعتبار سے اتنی موثر اوربرسر عام ہونی چاہئے کہ دیکھنے والاہمیشہ کے لیے جرم سے توبہ کرلے “ مثال کے طورپر اگر ناحق قتل کرنے والے شخص کوسرعام قتل کیاجائے تویقینا بہت ساری جانیں قتل ہونے سے بچ جائیں گی ،اگرشادی شدہ زناکار مردوعورت کوپتھر وں سے مارمارکر ہلاک کردیاجائے اورغیرشادی شدہ زناکاروں کوسرعام کوڑے لگائے جائیں تو اس برائی کاہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے اورلوگ اپنی عزت وآبروکے لیے فکرمندہوناچھوڑدیں ۔

دنیامیں امن وامان کے قیام کے لیے یہ چند باتیں سرسری طور پرلکھ دی گئی ہیں ،اس موضوع پراسلام کے موقف کواگر تفصیل کے ساتھ اورمنظم اندازمیں بیان کیاجائے ،تومزید تشفی بخش باتیں دنیاکے سامنے رکھی جاسکتی ہیں ،لیکن جہاں پرذہنوں میں تعصب اورجانبداری بھری پڑی ہو،اوراس کے نتیجہ میں اسلام جیسے پاکیزہ دین کوبدنام کرنے کی لت پڑگئی ہو ،ایسی صورت میں سب سے پہلے اس ذہنیت کوبدلنے کی ضرورت ہے ،پھرغیرجانبداری اورایمانداری کے ساتھ اسلام کی ان تعلیمات کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ،اورایساکرنے والاہرشخص بلاشبہ اسی نتیجہ پرپہنچے گاکہ :

                     مزدگی ہو کہ فرنگی مس خام میں ہے

                     امن عالم توفقط دامن اسلام میں ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*