تربیت اولاد سے متعلق کچھ باتیں

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

  Minfo-140113061410BtG0          اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں، نوازشوں اور احسانات میں سے ایک عظیم نعمت اولاد اور بچے ہیں ۔اس نعمت کی قدر ذرا ان لوگوں سے پوچھ کر دیکھئے جو اس سے محروم ہیں۔ وہ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنا کتنا قیمتی وقت اور کتنی دولت ومحنت صرف کرچکے ہیں اور ابھی مزید خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

            اولاد اللہ تعالی کی امانت ہیں ۔ قیامت کے دن والدین سے ان کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔آیا انھوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کرکے اس امانت کی حفاظت کی تھی یا  اسے برباد کردیا تھا ۔

            یہی اولاد جو ہمارے لیے زینت ہیں اگر دین اسلام پر ان کی تعلیم و تربیت نہ کی جائے اور انھیں اچھے اخلاق نہ سکھائے جائیں تو یہ رونق وجمال بننے کے بجائے دنیا وآخرت میں وبال بن جاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :  «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ». ”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی ۔ حاکم ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا”( متفق علیہ)  ۔

            یہ امانت ایک عظیم ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کرنے یا ضائع کرنے سے اللہ تعالی نے خبردار فرمایا ہے ۔ارشاد باری ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ} [التحريم: 6] ( اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں )۔

             اپنے بچوں کی مفید دینی تعلیم وتربیت کے بارے میں غفلت ولاپرواہی برتنے والے اور انھیں بے مقصد چھوڑ دینے والے والدین انتہائی برے انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔کیونکہ اکثر اولاد اسی طرح خراب ہوتی اور بگڑتی ہے ۔ لوگ انھیں بچپن میں دین کے فرائض واحکام اور سنن وواجبات نہیں سکھاتے چنانچہ وہ بڑے ہوکر خود بھی کسی لائق نہیں رہتے اور اپنے والدین کو بھی کسی طرح کا فائدہ نہیں پہنچاسکتے بلکہ ان کے لیے الٹا دردِ سر بن جاتے ہیں ۔

            قابل مبارکباد اور لائق ستائش ہیں وہ والدین جو اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کی اصلاح وتربیت پر صرف کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کی اسلام سے بھرپور وابستگی کی خاطر اپنے گھروں میں قرآن و حدیث اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے درمیان حفظ قرآن کے مقابلے نیز دیگر اسلامی ، ثقافتی اور تعلىمی مقابلے رکھتے اور عمدہ کارکردگی کی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور انھیں قیمتی انعامات سے نوازتے ہیں ۔

            جو بدنصیب والدین اپنے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کررہے ہیں بعد میں انھیں اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہوگا لیکن اس وقت ندامت اور پچھتاوے کا کوئی حاصل نہ ہوگا،لہٰذا ابھی سے انھیں ہوش کے ناخن لینا چاہئے اور اپنے بچوں کے روشن اورتابناک مستقبل کے لیے ہمہ تن لگ جانا چاہئے ۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو صالح اولاد عطا فرمائے اور انھیں اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔آمین

            آئندہ سطروں میں تربیت اولاد سے متعلق کچھ باتیں ذکر کی جارہی ہیں  تاکہ اس ضمن میں ان سے فائدہ اٹھایاجاسکے۔

            1۔ اولاد کی تربیت میں سب سے اہم اور قابل لحاظ نکتہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ کی توحید اور فقط اسی کی عبادت و بندگی کا شعور پیدا کرنا چاہئے جو انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے ۔ یوں تو ہربچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس فطرت کو انحراف اور ضلالت سے بچانے پر توجہ دینے اور اس کی مستقل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔

            2۔ اللہ کی تعظیم، اس کی محبت اور اس کے احسانات کے تئیں شکر کے جذبات، نیز اس کا خوف  اور اس سے امیدیں  اپنے بچوں کے دلوں میں موجزن کرنا چاہئے۔ انھیں صحیح عقیدہ کی تعلیم دینا چاہئے نیز عقیدہ کی غلطیوں پر ٹوک کر ان کی اصلاح کرنی  چاہئے، شرک وکفر اور بدعات ومعصیت سے ان کے دلوں میں نفرت وکراہت پیدا کرنی چاہئے نیز امربالمعروف اور نہی عن المنکرکی ترغیب دیتے ہوئے اس کی عادت ڈالنی چاہئے ۔ اس طرح انھیں دین پر استقامت نصیب ہوگی۔ اس سلسلہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہمارے لیے مشعل راہ ہے جس میں وہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک روز وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مخاطب ہوکے فرمایا: «اے بچے! میں تجھے چند کلمات کی تعلیم دیتا ہوں: اللہ کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کر اس کو اپنے سامنے پائے گا۔ جب تجھے مانگنا ہو  تو اللہ سے مانگو, اور جب  مدد طلب کرنا ہو تو اللہ سے ہی مدد طلب کرو۔ یقین جان لوکہ اگر ساری امت اکٹھا ہوجائے کہ تجھے کچھ نفع پہنچادے تو نفع نہیں پہنچاسکتی مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے, اور اگر ساری امت اکٹھا ہوجائے کہ تجھے کچھ ضرر پہنچادے تو ضرر نہیں پہنچاسکتی مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ نے تیرے خلاف لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں» (ترمذی :2516) ۔

            3۔کلمۂ شہادت کے بعد سب سے اہم فریضہ پنجوقتہ صلاة ہے۔ بچہ کے دل میں اس کی اہمیت اور قدر ومنزلت کا شعور واحساس بٹھانا چاہئے ۔ سات سال کا ہوتے ہی اسے صلاة کا حکم دینا چاہئے اور دس سال کا ہوجانے کے بعد کوتاہی کرنے پر سزا دینی چاہئے جیسا کہ حدیث میں موجود ہے( ابوداود:495)۔ اس عمر میں بچہ باپ کے ساتھ مسجد جاتے ہوئے بہت خوش ہوتا ہے ۔ جو بچہ اس عمر میں صلاة کا پابند ہوجائے گا وہ بعد میں ان شاء الله کبھی صلاة نہیں چھوڑسکتا ہے۔

             سات سال سے دس سال کی عمر یعنی تین سال کی مدت میں تقریباً پانچ ہزار مرتبہ سے زیادہ صلاة کا وقت آتا ہے ۔ بھلا وہ بچہ جو پانچ ہزار صلاة پابندی سے پڑھ چکا ہو بعد میں اسے کیسے چھوڑسکتا ہے !!

            4۔ بچہ کی تعلیم وتربیت ، اس کی خاطر شب بیداری ، نگرانی وتوجہ ، اس کے اخراجات ، اس کو خوش رکھنا اور اس سے دل لگی کی باتیں کرنا سب عبادت میں داخل ہیں بشرطیکہ آدمی ان سب پر اللہ سے اجر وثواب کی نیت اور امید رکھے۔ اولاد پر خرچ کرنا تو باعث اجروثواب ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ»( متفق علیہ)  ”آدمی اپنے اہل وعیال پر اجر وثواب کی نیت سے جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے”۔ یعنی اس میں صدقہ کا ثواب ہے ۔

            نیز ارشاد ہے :  «دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ» ( مسلم)”ایک دینار تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار تم نے غلام آزاد کرنے میں خرچ کیا، ایک دینار تم نے مسکین پر صدقہ کیا، ایک دینار تم نے اپنے بیوی بچے پر خرچ کیا، اس میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تم نے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا”۔

            5۔تربیت کے معاملے میں اخلاص انتہائی ضروری ہے ۔ بچوں کی تربیت سے ہمارا مقصود ومطلوب اللہ کی رضا اور خوشنودی ہونا چاہیے، اگر تربیت سے دنیا مقصود ہے تو پھر ساری محنت وتوجہ ثواب سے خالی ہونے کی وجہ سے اکارت اور رائیگاں ہوجاتی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھرپور توجہ دیتے ہیں لیکن ان کا مقصد نیک نامی، مدح وثنا یا پھر ڈگریوں اور عہدوں کا حصول ہوتا ہے ۔ بے شک اچھی تعلیم سے ان کو یہ چیزیں حاصل ہوجاتی ہیں لیکن یہ ثانوی چیزیں ہیں، اصل چیز تو اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہے۔

            بعض دین فراموش دنیا دار لوگ خالص دنیوی تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں نیز اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی نیت ان کے دل میں کبھی نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف ایک دیندار انسان ڈاکٹری کی ڈگری بھی حاصل کرنے کی اگر کوشش کرتا ہے تو اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا علاج کرے گا جس سے ان کو کافر ڈاکٹروں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں کی نیتوں کے فرق کے اعتبار سے دونوں کے ثواب میں بھی فرق ہوگا۔

             اسی طرح بعض والدین اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک صرف اس نیت سے کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بچے ان کو دیکھیں پھر ان کے بڑھاپے میں اسی طرح ان کے کام آئیں اور ان کی خدمت کریں۔ اس سے دنیا کی محبت ظاہر ہوتی ہےاور ایسی فکر اخلاص کے منافی ہے۔ درحقیقت ایک صاحبِ ایمان اپنے والدین کے ساتھ نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ کے حکم کی اطاعت سمجھ کر اور ثواب کی لالچ میں حسن سلوک کرتا ہے ۔ دنیاوی اور نفسانی اغراض ومقاصد اس کے پیشِ نظر نہیں ہوتے ۔ تعلیم وتربیت، نان ونفقہ، ہنسانا کھلانا اور بچوں کو خوش رکھنا ہرایک معاملہ اگر اخلاص کے ساتھ ہے تو ان شاء اﷲ اجر وثواب کا باعث ہے لیکن اخلاص کے بغیر کسی قسم کے اجر کی توقع رکھنا فضول ہے۔

            6۔ اپنی محنت وکاوش اور عملی جد وجہد کے ساتھ ساتھ رب کریم سے دعائیں بھی کرنا چاہئے جیسا کہ انبیا ء کی سنت رہی ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا مذکور ہے کہ انھوں نے اپنی اولاد کے لیے شرک سے حفاظت کی دعا فرمائی ۔ ارشاد ہے : {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ}  [إبراهيم: 35] ( اور  [یاد کرو] جب ابراہیم نے دعا کی تھی : اے میرے رب اس شہر [مکہ] کو پرامن بنادے اور مجھے اور میری اولادکو بھی [اس بات سے]  بچائے رکھنا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں ۔)

            اسی طرح سورہ فرقان میں رحمان کے حقیقی بندوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے : {وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا } [الفرقان: 74] (اور جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقین کا امام بنا۔)

            دعائیں وہ قیمتی ہتھیار ہیں جس سے گمراہ ہدایت یاب ہوتے اور بگڑے ہوئے سدھر جاتے ہیں۔ آدمی کی محنت اور لگن کے ساتھ جب اللہ کی توفیق و نصرت شامل حال ہوجائے تو منزل بہت قریب ہوجاتی ہے۔

            7۔ اپنی اولاد کے لیے رزق حلال کا اہتمام کرنا چاہیے, شبہات اور حرام سے بچنا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “كل جسد نبت من سحت فالنار أولى به”( صحیح الجامع للالبانی/ 4519) ”ہروہ جسم جس کی پرورش حرام سے ہوئی اس کا زیادہ حقدار جہنم ہے”۔

            والدین کو اس غلط فہمی میں نہیں مبتلا رہنا چاہیے کہ صرف سود ورشوت اور چوری وڈکیتی ہی سے آیا ہوا مال حرام ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے مال ناحق کھانا اور ان کے حقوق ہڑپ کرجانا بھی حرام ہے ۔ جوا اور لاٹری سے آیا ہوا مال بھی حرام ہے ۔ لہذا ہر مسلمان کو اس بات سے سختی سے بچنا چاہئے اور اکل حلال کی کوشش میں رہنا چاہئے ۔ حلال تھوڑا  ہونے کے باوجود بڑا بابرکت ہوتا ہے ۔

            8۔ خود عملی نمونہ پیش کرنا تربیت کے لوازم میں سے ہے۔ اگر بچہ اپنے باپ کو بے نمازی دیکھے گا تو وہ خود نمازکی پابندی کیونکر کرے گا؟ اگر بچی اپنی ماں کو فلمی گانے سنتے ہوئے پائے گی تو وہ خود اس سے کیونکر بچے گی ؟ اگر ماں باپ نیک اور صالح ہوتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی زندگی میں بھی اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے ۔ چنانچہ سورہ کہف میں اللہ تعالی نے موسیٰ اور خضر علیہ السلام کے قصہ میں بیان فرمایا ہے کہ خضر علیہ السلام نے ایک گرتی ہوئی دیوار کو اجرت کے بغیر ٹھیک کردی ، وجہ یہ تھی کہ وہ دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی ، اس دیوار کے نیچے ان کے لیے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ نکال لیں ( سورہ کہف : 82)

          یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ باپ ایک صالح انسان تھا جس کی نیکی کا فائدہ اس کی وفات کے بعد اس کے بچوں کو حاصل ہوا ۔

            9۔جس طرح ایک آدمی اپنے دنیاوی معاملات کی باریکیوں کے جاننے کا نہ صرف حریص ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے بھر پور کوششیں کرتا ہے اسی طرح والدین کو  تربیت کے عمدہ اصولوں اور طریقوں کی معرفت کے لیے بھی محنت کرنی چاہیے ۔ باصلاحیت افراد سے مشورہ لینا چاہیے ۔ تربیت سے متعلق کتابیں اور کیسٹس تلاش کرکے ان سے استفادہ کرنا چاہیے ۔

            10۔ تربیت کی کامیابی کا ایک اہم عامل صبر ہے ۔ بچہ کی رہنمائی پر صبر ،اس کے سوالات اور چیخ وپکار پر صبر ،اس کی بیماری پر صبر،اسے کامیاب مدرسہ تک پہنچانے میں صبرجہاں قابل اور باصلاحیت اساتذہ پائے جاتے ہوں بھلے ہی گھر سے کتنا دور ہو، مسجد تک نمازکے لیے لے جانے پر صبر، بچہ کو ازخود تعلیم وتربیت دینے کے لیے کچھ وقت نکالنے پر صبر۔ واضح رہے کہ صبر اور کلیجہ پر پتھر باندھے بغیر کوئی قیمتی اور اہم چیز  حاصل نہیں ہوسکتی۔

            11۔ بچوں کی خصوصی صلاحیتوں اور انفرادی امتیازات کی رعایت ضروری ہے ۔ کچھ والدین بچوں کی ذہنی  صلاحیت، دلچسپی اور مہارت کا نہ ہی اندازہ لگاتے ہیں اور نہ ہی انھیں مفید جگہ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ انھیں بیکار ضائع ہونے دیتے ہیں جبکہ بعض بچے بڑے ذہین اور قوی حافظہ کے مالک ہوتے ہیں ،دیکھتے ہی دیکھتے مختلف نظمیں اور اشعار بلکہ اشتہارات کے نعرے وغیرہ جیسی لغو اور فضول چیزیں تک یاد کرلیتے ہیں اگر ان کی اسی صلاحیت کو کسی کارآمد چیز مثلا حفظ قرآن اورحفظ حدیث وغیرہ میں استعمال کیا جائے تو یہ عمل دنیا وآخرت دونوں جگہ سودمند ، کارآمد اور نفع بخش ہوگا۔

            12 ۔ بچہ کی تربیت کرنے والے پر لازم ہے کہ غصہ پر قابو رکھے ۔ بچہ کو باادب بنانا ضروری ہے لیکن اس کے لیے شرعی اور طبعی اصولوں کی رعایت بھی ضروری ہے۔ جب تک بچہ دس سال کا نہ ہوجائے تب تک اسے کوئی سخت سزا نہیں دینی چاہیے ۔اگر کبھی مارنے کی ضرورت پڑے تو مسواک یا چھوٹی چھڑی کا استعمال کیا جائے۔ دس چھڑی سے زیادہ نہ مارا جائے۔ چہرہ یا شرمگاہ پر نہ مارا جائے ۔ مارتے ہوئے کسی قسم کا نام نکالنے یا کوئی برا کلمہ مثلا کتا یا گدھا وغیرہ کہنے سے قطعی پرہیز کیا جائے ۔

            تربیت کا بہتر انداز یہ ہے کہ آدمی انعامات کا طریقہ اپنائے۔ بچہ کے کردار کے مطابق اسے یا تو انعام سے نوازے یا انعام سے محروم کردے ۔ بچہ کے اچھے عمل پر مناسب انداز میں اس کی تعریف ہونی چاہیے،  نیکی پر قائم رہنے بلکہ آگے بڑھنے کے لیے عمدہ  طریقہ پر حوصلہ افزائی  کا بڑا اہم کردار ہے۔

            13۔ اپنے بچوں کو اچھے دوستوں کی رہنمائی کرنی چاہیے اور برے دوستوں سے بچانا چاہیے ۔ان کو وقت برباد کرنے والی جگہوں اور بری تفریح گاہوں میں نہیں لے جانا چاہیے۔ بچوں کے دلوں میں شجاعت و بہادری جیسے مردانہ اوصاف اور بچیوں کے دلوں میں عفت وحیاجیسی زنانہ خوبیوں  کا شعور پیدا کرنا چاہیے۔ اس حماقت میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیے کہ اسلامی تعلیمات سے دوری اور کنارہ کشی ہی تہذیب و تمدن ہے ۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رہے کہ آدمی کی پشت سے پیدا ہونے والی اولاداور اس کی پیٹھ سے جنم لینے والا کوئی بچہ اپنے قول وکردار کے ذریعہ اللہ اور اس کے دین سے جنگ کرنے والاہرگز نہ ہونے پائے ۔

            14۔اولاد کی تربیت کے لیے والدین کو مل کر ایک متفقہ منصوبہ اور متحدہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ ان میں سے کسی ایک کو بچوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے بچہ کو یہ احساس ہو کہ ماں باپ میں  اختلاف ہے۔ مثلاًجس وقت باپ بچوں کو سزا دے رہا ہو یا ان کی تنبیہ کررہا ہو اس وقت ماں  بچوں کے سامنے اس پر اعتراض نہ کرے ۔ اگر باپ کی تنبیہ نامناسب ہو تو بچوں کی غیرموجودگی میں اس سے بات کرے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*