آخرت پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے

ثناءاللہ صادق تیمی  

02ایمان کا پانچواں رکن یہ ہے کہ یہ ایمان لایا جائے کہ ایک دن ایسا ضرور آنے والا ہے جب یہ پوری دنیا ختم ہوجائیگی ۔ سارے کے سارے انسان ،جانور اور کائنات کی تمام دوسری چیزیں پہلے تو موت سے ہمکنار ہوںگی اور پھر انہيں دوبارہ زندہ اٹھاکر حساب لیاجائیگا اور پھر انسان اپنے اعمال و عقیدے کے مطابق جنت یا جہنم کا مستحق ہوگا ۔ یہ زندگی ابدی ہوگی اور کبھی ختم نہ ہوگی ۔ اصلا اس کی شروعات انسان کی موت کے بعد قبر کی زندگی سے ہی ہو جاتی ہے ۔ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے ۔ یوم آخر کو میزان قائم ہوگا ، پل صراط سے گزرنا ہوگا ، انسان اپنے گناہوں کے بقدر پسینوں میں ڈوبا ہوگا ، کوئي کسی کو پہچان نہ رہا ہوگا ، باپ بیٹے سے بیٹا باپ سے ماں بیٹی سے بیٹی ماں سے بھائی بھائی سے بھاگ رہا ہوگا ۔ عجیب نفسا نفسی کا عالم ہوگا ۔ کوئی کسی کا نہ ہوگا ۔ اللہ کے تمام رسول بشمول نوح ، ابراہیم ، موسی اور عیسی علیہم السلام سفارش سے معذرت کردینگے ، ہمارے رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسفارش کی اجازت ہوگی ، آپ اسی دن حوض کوثر پر پلائینگے ۔ اس دن موت کو موت آجائيگی ۔ پھر یا تو جنت ہوگی ، نعمتوں ، آسائشوں اور باغوں والی یا پھر جہنم آگ ، پیپ ، زخم اور تکلیفوں والی ۔
اوپر جتنی باتیں لکھی گئیں ہیں ان تمام کی تفصیلات قرآن و سنت کے واضح نصوص میں موجود ہیں اور ان پر ان تفاصیل کی روشنی مین ایمان لانا ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے ۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔
دنیا نے یوں تو ہر ایک چیز کی دوا ڈھونڈ لی ہے لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کی کوئی دوا کسی کے پاس نہیں ہے ۔ موت در اصل ہر انسان کے لیے ایک معلوم واقعہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس لیے موت کا انکار ممکن نہيں ۔ لیکن آخرت کی زندگی کے بارے میں بہت سے لوگ شکوک شبہات میں جیتے ہیں ۔ بہت سے روشن خیالان امت مرحومہ کویہ لگتا ہے کہ یہ اصل یا حقیقت نہيں صرف تمثیل ہے تاکہ انسان نیک عمل کرے اور برائیوں سے رکا رہے ۔ اس کے پیچھے در اصل وہی بودی ذہنیت کام کرتی ہے کہ جو چیز ناقابل مشاہدہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہیں ہے ۔ سائنس و علم کی اس ترقی یافتہ دنیا میں یہ دلیل اتنی کمزور اور بودی ہے کہ اس پر سرے سے بات کرنا ہی فضول ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس آخرت کی زندگی کا امکان ہے بھی یا نہیں ۔ اگر ہم اسے جدید سائنس کی روشنی میں دیکھیں تو یہ حقیقت اوربھی روشن ہوجائیگی ۔
1۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اس دنیا میں بہت سے لوگ ظالم ہيں اوربہت سے مظلوم ۔ ظالم کو اس دنیا میں اس کا بدلہ نہیں ملتا اور مظلوم بے چارہ صرف ظلم سہتا رہ جاتا ہے ۔ اب اگر مظلوم کوبدلہ نہ ملے تواس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا ادھوری ہے اور اس کی تکمیل تب ہوگی جب سب کو اس کا واقعی حق مل جائے اور اس کے لیے دوسری ایسی زندگی کا ہونا ضروری ہے جس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کیا جاسکے ۔
2 ۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہماری خواہشیں بے شمار ہیں اور یہ دنیا جو ہمیں عنایت کی گئی ہے وہ ہماری تمام خواہشات کی تکمیل کا سامان پیدا نہیں کرپاتی ۔ اس اعتبار سے خاص طورسے خواہشات سے متعلق ہماری یہ دنیا ادھوری دنیا ہے اور س کی تکمیل ایک ایسی مکمل دنیا ہی کرسکتی ہے جہاں انسان کی خواہشات پوری ہو سکیں کہ وہ بھی اسی انسان کا حصہ ہیں ۔ اللہ فرماتا ہے ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون ( اس میں وہ سب کچھ ملے گا جسے تم چاہوگے اور وہ تمام چیزیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے )۔
3 ۔ انسان کی نفسیات کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ اس کے اندر ایک مکمل اور پائيدار دنیا کا تصور پایا جاتا ہے ۔ اور ظا ہر ہے کہ انسان کی نفسیات کا یہ تصور سرے سے خارج از عقل و قیاس ہو تو ایسا بھی نہيں ۔ اگرانسانی تاریخ کے ہر دور میں یہ نفسیات انسان کی رہی ہے اور یقینا رہی ہے تو اسے غیر معمولی واقعہ ہی سمجھا جائيگا ۔ ایک بے حقیقت چیز کا اتنے تواتر اور تسلسل سے پایا جانا اسے کہیں نہ کہیں اعبتار عطا کرتا ہے ۔
4 ۔ انسان کے خلیوں کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ انسان ایک ناقابل فنا وجود ہے ۔ یعنی انسان مرنے کے باوجود اصلا وہ ختم نہيں ہوجاتا بلکہ وہ باقی رہتا ہے ۔ اگر انسان غیر فانی ہے تو اس کے لیے ایک غیر فانی جگہ کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر ہے کہ یہ دنیا نہیں ۔ اردو کا شاعر کہتا ہے ۔

موت اک زندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلین گے دم لے کر

5 ۔ سائنس کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ سورج کی قوت بقا دن بدن کم ہوتی جارہی ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے جب یہ سرے سے ختم ہوجائیگی اور پھر یہ کائنات نہیں بچیگی ۔ قرآن وحدیث کے اندر اس کی پوری تفصیل آئی ہے ۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو بھی یہ دنیا ختم ہو نے جارہی ہے ۔
6 ۔ سائنس کا ہی مطالعہ بتلاتا ہے سارے سیارےایک منزل کی جانب بڑھ رہے ہيں اور ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب وہ اس منزل کو پالینگے اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد ان کے وجود کا کوئی معنی نہيں رہ جائیگا ۔
قرآن و سنت کے متواتر دلائل ، انسانی مشاہدے اور سائنس کی تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ یوم آخرت پر ایمان لانا کوئی اندھ وشواس نہیں بلکہ اللہ کی بتلائی ہوئی ان سچائیوں پر ایمان لانا ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ وہ تمام کے تمام لوگ اس معاملے میں راہ راست سے بھٹک گئے ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اپنی ناقص عقل سے قرآن وسنت کو تولنے کا کام کرنا شروع کردیا ۔ ظاہر ہے نتیجہ وہی آنا تھا جو آیا لیکن سمجھدار اور راسخ ایمان والے پہلے اللہ کی بتلائی ہوئی باتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ آخرت پر ایمان لانا در اصل ان امور میں سے ہے جن میں عقل کی رسائی اتنی پختہ نہیں ، اس لیے عقلمندی کا راستہ تویہی ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے اور جب علم و شعور کی روشنی میں وہ اور بھی واضح ہو جائے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے انسان یک گونہ سکون اور اطمینان سے مالامال ہوجائے ۔ در اصل مومن بندوں کا یہی کردار ہوتا ہے ۔
آخرت پر ایمان کے بہت سے فوائد ہیں ۔ برائی سے بچنا ، نیکیوں پر قدم آگے بڑھانا ، خلوت و جلوت میں یکساں اللہ سے خوف کھانا ، اپنی زندگی کا مقصد پالینا ، جنت کے حصول کے لیے کمر بستہ ہونا اور جہنم سے بچنے کے جتن کرنا ۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کہا کرتے تھے کہ میں مذہب میں یقین نہیں کرتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ جرائم کے سد باب کے لیے مذہب سے کارگر کوئی اور نسخہ نہیں اور آخرت پر ایمان مذہب کے اس گوشے کو اور بھی مضبوط کرتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*