سیرت طیبہ کی جھلکیاں

 نویں قسط                                                                                                  صفات عالم تیمی

imagesقریش مکہ نے اس دین کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالیں اس ارادے سے کہ اس کا کام تمام ہوجائے ،یہ دعوت مٹ جائے اور اس کا نام لینے والا باقی نہ رہے لیکن اس وقت قریش کے ان فقیروں کو کیا پتہ تھا کہ یہ ایک آفاقی دعوت ہےجو پوری دنیا میں عام ہونے کے لیے آئی ہے  مٹنے کے لیے نہیں،چنانچہ وہ پوری پلاننگ کے ساتھ اس پیغام کے پیچھے لگ گئے ۔اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لانے والوں کا ٹٹھا کرتے ،ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ،آپﷺ کے بارے میں کہتے کہ اس پر جادو کردیاگیاہے ،شاعر ہے،پاگل ہے ،کاہن ہے ،جادوگرہے ،جھوٹا ہے ، عجیب عجیب طرح کی باتیں بناکر پھیلاتے ،کبھی کمزورمسلمانوں پر طنز کرتے ہوئے کہتے : یہ دیکھو! زمین کے بادشاہ آگئے ۔ اللہ کے رسول ﷺ بھی ہمارے اورآپ کے جیسے دل رکھتے تھے ،آپ کو یہ باتیں سن کرسخت تکلیف ہوتی تھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ( سورہ الحجر 97) ”ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا سینہ تنگ ہورہا ہے “۔ پھر آپ کو تسلی دی : إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ( سورہ الحجر 95) ”استہزاءکرنے والوں کے معاملے میں ہم آپ کے لیے کافی ہیں ۔

عزیز قاری! کیاآپ نے دیکھا نہیں کہ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ یہ قریش آپ ﷺ کی امانت داری اور راست بازی کی قسمیں کھاتے تھے ، لیکن جب آپ  حق کا اعلان کرتے ہیں  تو آپ کو پاگل اور دیوانہ کہنے لگے ،جی ہاں! یہی دنیا کی ریت ہے کہ سماج کے غلط رسم ورواج کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں ۔

دعوت محمدی کے خلاف محاذآرائی کی ایک تدبیر یہ تھی کہ نبی ﷺ جب لوگوں کے بیچ دعوت پیش کرتے تو یہ لوگ خوب شور ہنگامہ مچاتے تھے اور لوگوں کو دوربھگادیتے تھے تاکہ محمدﷺ کی باتیں سننے کا انہیں  موقع ہی نہ مل سکے ۔ اوراس تدبیر پر وہ سختی کے ساتھ عمل پیرا  تھے ،اللہ کے رسول ﷺ کو ،قرآن کو اور اس کے اتارنے والے کو گالیاں تک دیاکرتے تھے ۔

دعوت محمدی کے خلاف محاذآرائی کی ایک شکل یہ بھی اپنائی گئی کہ جب کسی کو اس  کی طرف مائل دیکھتے اس کو مختلف قصوں اور کہانیوںمیں پھانسنے کی کوشش کرتے تھے ۔ قریش کا ایک بدبخت نضربن حارث اسی مقصد سے حیرہ اورشام گیا ،اور وہاں سے لوک کہانیاں اور سکندر ورستم کے قصے سیکھ کر آیا،اورجہاں اللہ کے رسول ﷺ کو چند لوگوں کے ساتھ دیکھتا وہاں یہ قصے شروع کردیتا کہ لوگ محمد ﷺ کی باتیں نہ سن سکیں ۔

اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ باضابطہ گانے بجانے والی لونڈیاں خرید لائیں،جس کسی کے بارے میں سنتا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہے اس کے پاس لونڈی کو لے جاتا اوراسے تاکید کرتا کہ اسے اپنی محبت میں پھانسے رکھو،خوب کھلاؤپلاؤ ،گانے سناؤ اور محمد (ﷺ) سے دور رکھو ۔

دعوت محمدی کے خلاف محاذآرائی کی ایک شکل یہ تھی کہ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ قرآن محمد (ﷺ)کے خوابوں کی اوٹ پٹانگ باتیں ہیں، کبھی کہتے کہ محمد (ﷺ) اپنی طرف سے بناکر پیش کرتے ہیں ، کبھی کہتے کہ ان کے پاس ایک شیطان ہے جو ان کو سکھاتا ہے ، کبھی کہتے کہ محمد(ﷺ) جنون میں اس طرح کی بکواس کررہے ہیں ۔

عزیز قاری!یہ دین جو ہم تک پہنچا ہے اس کے راستے میں بے پناہ قربانیاں دی گئی ہیں ،اللہ کے رسول ﷺاورآپ کے صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے طرح طرح کی تکلیفیں جھیلیں ۔ایسی ایسی تکلیفیں کہ ان کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل پھٹنے لگتا ہے ۔آئیے! ذرا ہم آپ کوان آزمائشوں کی ایک جھلک دکھاتے ہیں:

یہ حبشہ کے بلال ؓ ہیں جن کے گلے میں امیہ بن خلف رسی ڈال کرانہیں بچوں کے حوالے کردیتا ہے جو انہیں جانوروں کے جیسے کھینچتے پھرتے ہیں، دوپہر کی چلچلاتی دھوپ ،جی ہاں! وہی دھوپ جس کا احساس ہمیں خلیجی ممالک میں ایئرکنڈیشن سے نکلنے کے بعد ہوتا ہے، ایسی  چلچلاتی دھوپ میں  جلتی ریت یا پتھر پر سلادیتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا کہ ہل بھی نہ سکیں ۔ اورکہتا کہ” یاتو محمدکا انکار کر یا اسی حالت میں مرجا”لیکن بلال ہیں کہ زبان سے ایک ہی لفظ نکل رہا ہے: احد احد ،”اللہ ایک ہے ،اللہ ایک ہے” ۔

یہ عامر بن فہیرہ ؓ  ہیں جن کو اس قد ر مارا جاتا ہے کہ عقل کھودیتے ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔

یہ ابوفکیہہ ؓ ہیں جوبنو عبدالدار کے غلام تھے ،ان کو بھی پیر میں لوہے کی زنجیریں پہناکر دوپہر کی دھوپ میں لٹا دیاجاتا ،کپڑے اتا ردیئے جاتے ،اورظالم تپتے پتھر پر یا ریت پر لٹاکر بھاری پتھر رکھ دیتے  اور اتنی دیر چھوڑ تے کہ عقل کھوجاتی ۔خباب بن ارت ؓ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوتا ہے ،کبھی دہکتے ہوئے لوہے سے پیٹھ داغاجاتا ہے توکبھی جلتے ہوئے کوئلے پر لٹادیاجاتا ہے اوراوپر سے بھاری پتھر رکھ دیاجاتا ہے ۔لیکن اللہ کی رحمت ہو سیدناابوبکرصدیق ؓ  پرکہ انہوں نے منہ مانگی قیمت دے کر ان سارے غلاموں اورکئی لونڈیوں کو خرید ااورانہیں اللہ کی رضا کے لیے آزاد کردیا۔

آل یاسر کو دیکھیں کہ عماربن یاسر اور ان کے والدین کو ابطح میں لے جایا جاتا اوران سب کو چلچلاتی دھوپ میں تپایاجاتاتھا،اللہ کے رسول ﷺ کا ان کے پاس سے گذرہوتا ہے تودل پھٹ کر رہ جاتا ہے لیکن زبان پر یہی الفاظ آتے ہیں: صبرا آل یاسر فان موعدکم الجنة ”آل یاسر صبر کرنا تمہارا ٹھکانہ جنت ہے “ عذاب کی تاب نہ لاکرعمارکے والد یاسر دنیا سے چل بستے ہیں اوروالدہ سمیہ کی شرمگاہ میں کمبخت ابوجہل نیزہ مارتا ہے جس سے شہید ہوجاتی ہیں ، یہ اسلام کی سب سے پہلی شہید ہیں ۔ والد بھی چلے گئے ،   والدہ بھی چلی گئیں،باقی رہے عمار ،مشرکین سخت گرمی کے دنوںمیں کبھی ان کولوہے کی زرہ پہنادیتے ،کبھی سینے پر بھاری پتھررکھ دیتے ، کبھی پانی میں ڈبودیتے ۔ عذاب برداشت سے باہر ہوا تو ایک روز مجبوراان کے مطلب کی بات کہہ دی ،لیکن دل مطمئن تھا ايمان سے،فورااحساس ہوتا ہے اورگھبراہٹ شروع ہوجاتی ہے تو اللہ پاک نے یہ آیت اتاردی : إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ  ( سورہ النحل 106 ) اے عمار !گھبرانے کی ضرورت نہیں توہمارا محبوب ہے،جسے کفر پر مجبورکیاگیاحالانکہ دل ایمان سے لبریز ہے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ صہیب رومی ؓ   کو اس قدر تکلیف دی گئی کہ عقل کھو بیٹھے ،عثمان بن عفان ؓ   کو ان کا چچا کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھونی دیتا تھا ۔

سوال یہ ہے کہ کیسے ان مظلوم صحابہ نے اِن ساری تکلیفوں کو برداشت کرلیا، ایسا کیسے ان کے لیے ممکن ہوسکا ؟ تو اِس میں اللہ کے رسول ﷺ کا ان کے بیچ وجود، آپ کے سامنے میں معجزات کا ظاہر ہونا اور رسول پاک ﷺ کے ذریعہ ان کی ایمانی تربیت ہونا یہ وہ اسباب تھے جو ان کی ثبات قدمی میں مددگار ثابت ہوئے ۔(جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*