’سوشیلا‘ سے ’سمیرہ‘ بننے تک

صفات عالم محمد زبیرتیمی (کویت)

ملک نیپال کے مشرقی حصہ میں واقع ضلع مورنگ کی رہنے والی 28 سالہ خاتون ’سوشیلا‘ تین سال قبل روزگارکی تلاش میںکویت آئیں، اس عرصہ میں شاید معاشی حالت کوئی خاص بہتر نہ ہوسکی تاہم ایمان کی گرانمایہ دولت سے ضرور مالا مال ہوئی ہیں۔ماہ رواں کے اوائل میں انہوںنے اسلام قبول کیا ہے، اور اپنا نام’ سوشیلا ‘سے ’سمیرہ ‘ منتخب کیا ہے ،قبول اسلام کے وقت ان کا ایمانی جذبہ ،دینی حمیت اور دعوتی رغبت دیکھ کرایسا محسوس ہورہا تھا گویا یہ کوئی دینی گھرانے کی پروردہ خاتون ہے ، ناچیز کے لیے ان کے قبولِ اسلام کا منظربیحد ایمان افزا تھا ۔ قبول ِ اسلام کے فوراً بعد اس نومسلمہ کے کیسے دینی جذبات تھے‘ اسے جاننے کے لیے ہم ذیل کے سطور میں ان سے کی گئی گفتگو کا خلاصہ پیش کررہے ہیں ۔

سوال :آپ اپنے خاندانی پس منظر کی بابت کچھ بتائیں گی ۔

جواب: میں ہندوگھرانے میں پیدا ہوئی ،میرے ماں باپ ہندو ہیں، باپ کی مذہبی رسوم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تاہم ماں پابندی سے ”مہیش “ کی پوجا کرتی تھیں ، پر شروع سے ہی میری طبیعت ایسی واقع ہوئی کہ میں نے پوجا وغیرہ سے بالکل رغبت نہیں رکھا ۔

سوال :کیسے آپ اسلام سے متعارف ہوئیں ؟

جواب : جب میں پہلی بار کویت آئی توجس آفس نے مجھے بلایا تھا وہاں کچھ مسلمان کام کرتے تھے،ان کے واسطے سے مجھے نیپالی زبان میں IPCکی دعوتی مطبوعات ملیں ، میں نے پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ اسلام بہت اچھا دھرم ہے ،اس میں ساری عبادتیں محض ایک اللہ کے لیے انجام دی جاتی ہیں ۔ میں نے نیپالی زبان میں ”جزءعم“ اور” قرآن کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب طرح کا سکون ملنے لگا ۔

سوال : آپ نے گویا قرآن کا بھی مطالعہ کیا ہے ؟

جواب : صرف تیسواں پارہ کا مطالعہ اب تک کرسکی ہوں، البتہ میری خواہش ہے کہ مکمل قرآن کا مطالعہ کروں ، کاش کہ نیپالی زبان میں بھی قرآن دستیاب ہوتا۔چھ ماہ قبل میں ایک مسلمان سے گذارش کی تھی کہ مجھے نیپالی زبان میں قرآن چاہیے، اس نے کہا : چھ دینار میں ملے گا ، میں نے کہا: کوئی بات نہیں تم مجھے لاکر دو۔ لیکن پھر بھی وہ نہ لاسکا اور اب تک میںقرآن سے محروم ہوں ۔

(ابھی میں آپ کو قرآن لاکر دیتا ہوں،میں اٹھا اور فوراً نیپالی زبان میں ترجمہ قرآن لاکر اس کے ہاتھ میں تھمادیا ، قرآن پاتے ہی ایسا لگا جیسے اسے اپنی کوئی گم شدہ چیز مل گئی ہو۔ خوشی سے اس کا چہرہ دمکنے لگا، عالم بے خودی میں قرآن کو لے کر چومنے لگی،ایسا کرتے ہوئے سمیرہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور زبان پر ’تھینک یو ، تھینک یو ‘کے الفاظ جاری ہوگئے ،” آپ کی میں بہت بہت شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے قرآن دیا“سمیرہ نے کہا ۔سمیرہ کے یہ الفاظ کیا تھے گویامیرے لیے تازیانہ عبرت ،میں تھوڑی دیر کے لیے سکتے میں پڑگیا اور قرآن کے تئیں اپنے معاملے پر نظر ثانی کرنے لگا ،پھر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اس سے پوچھا 🙂

سوال : آپ نے ابھی چند منٹوں قبل اسلام قبول کیا ہے ، آپ کے پاس اسلام کی معلومات بھی زیادہ نہیں ہے پھربھی آپ کے دل میں قرآن کے تئیں ایسی محبت وعقیدت ؟

جواب:جہاںتک میرے اسلام کی بات ہے تو کلمہ اگرچہ ابھی پڑھی ہوں تاہم دل میں اسلام دوسال سے بیٹھا ہوا ہے۔گویامیںدوسال سے مسلمان ہوں، میںنے گذشتہ رمضان میںروزے بھی رکھنا شروع کیا تھا لیکن میری کفیلہ مجھے منع کرتی رہی کہ تم مسلمان نہیں ہوروزہ مت رکھو ، چنانچہ میں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ قرآن میرے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہواہے، قرآن کی آیتوں سے میں بیحد متاثر ہوئی ہوں ،جب کبھی مجھے گھریلو ٹینشن ہوتا ہے تیسواں پارہ کا ترجمہ پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں جس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے ۔

سوال : آپ نے اسلام قبول کرلیا اور آپ ماشاءاللہ اسلام کے تئیں اچھا جذبہ رکھتی ہیں تو کیا آپ کی خواہش نہیں ہوتی کہ آپ کے گھر والے بھی اسلام اپنائیں ۔

جواب : جہاں تک میرے والدین کی بات ہے تو میری پوری تمنا ہے کہ والدین اسلام قبول کرلیں ،ابھی میں اسلام کے متعلق ان کو نہ بتائی ہوں البتہ میں نے اپنے شوہر سے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس بات کو سن کر انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسلام قبول کرلی تو نیپال میں لوٹ کر نہیں آسکتی ۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ،اللہ پاک نے مجھے نرک (جہنم ) سے بچالیا ہے ،اس لیے اب میں ہرطرح کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

سوال :آپ کی کیا خواہش ہے ؟

جواب :میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں قرآن عربی زبان میں پڑھنا سیکھ جاؤں ،میں سمجھتی ہوں کہ شاید آپ لوگ اس سلسلے میں میرا تعاون ضرور کریں گے،اگر مجھے بھی عربی پڑھنا سکھادیں تو میں اپنے رب کے کلام کو عربی زبان میں پڑھ سکتی ہوں ۔

سوال : اور بھی کوئی خواہش ہے آپ کی ؟

جواب : میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک مجھے جنت میں جگہ دے ۔ اگر وہ مجھے جہنم میں ڈال دے تو میں کچھ اعتراض نہیں کرسکتی لیکن مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ مجھے جنت میں ضرورداخل کرے گا ۔

سوال: آپ کی دوستی کیسی عورتوں سے ہے ؟

جواب : میری کچھ نیپالی سہیلیاں اسلام قبول کر چکی ہیں ،ان کو میں پسند کرتی ہوں ۔ اور جولڑکیاں مسلم نہیں ہوتی ہیں ان سے مجھے کراہیت سی محسوس ہوتی ہے ۔میں کبھی کبھی اپنی سہیلیوں کو اسلام کی دعوت دیتی ہوں اور کہتی ہوں کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ،یہاںتک کہ دعوتی کتابیں بھی پڑھ کر سناتی ہوں ۔ ان میں سے کچھ تو دلچسپی لیتی ہیں جب کہ اکثر مذاق اڑانے لگتی ہیں ایسی لڑکیوں کو میں سخت ناپسند کرتی ہوں ۔

عزیز قاری ! اسلام کے تئیں ےہ جذبات ہیں ایسی خاتون کے جس نے اب تک اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کیا ہے،ہم نے اس کی باتوں کو بلاکم وکاست آپ کے سامنے پیش کردیا ہے اب اپنا احتساب کریں کہ اسلام کے تئیں ہم نے کیا کیا ؟ قرآن سے ہمارا کیسا لگاؤ ہے ؟ غیروں تک ہم نے کس حد تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے ؟ کل قیامت کے دن یہ کفار ومشرکین جب ہمارا دامن پکڑیں گے تو اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا۔ ؟

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*