ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

               حافظ عبدالحمید اظہر

quranوَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

ترجمہ : ” ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔”

تشریح : اس آیت کریمہ میں بندوں کو تلقین کی گئی ہے یعنی بغرض تعلیم یہ بات ان کی زبان سے کہلوائی گئی ہے کہ اے اللہ ،اے رب العالمین ،اے وہ جو رحمن اوررحیم ہے ،وہ جو مالک یوم الدین ہے ،ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اورصرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ گویاجس طرح عبادت کی کسی قسم میں کسی کو کسی بھی سطح پر شریک نہیں کیاجاسکتا ، کسی کو وسیلہ قرب الہی قرار دے کر اس کی عبادت نہیں کی جاسکتی کہ یہی تو ان لوگوں کا رویہ تھا جنہیں قرآن حکیم وفرقان کریم بنص قطعی مشرک قراردیتاہے ۔ چنانچہ فرمایا:

 وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ  (الزمر 3) “اورجن لوگوں نے اللہ کے سوا اورحمایتی قرار دے رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں ) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے نہایت قریب کردیں ۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں ، بیشک اللہ جھوٹے اورناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا “۔ اسی طرح جب یہ معلوم ہوچکا کہ حاجت روا اورمشکل کشا صرف ایک ذات اللہ رب العزت والجلال کی ہے تو عقل وشرع کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی تمام حاجات اسی کے سامنے پیش کی جائیں اورہر مشکل میں اسی کو پکارا جائے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل 62)

” کون ہے جو لاچار کی دعا قبول فرماتا جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف رفع اورمشکل کشائی فرماتا ہے اورتمہیں زمین کے جانشیں بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ ( ہرگز نہیں ) تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ “

نیز فرمایا: قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّـهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّـهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ، بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ (سورة الأنعام 40-41) ”  ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو ا س وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو ۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*