خاص کی خاص بات

      

                                         شیخ مقصودالحسن فیضی

दुआعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاثٍ : صِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى , وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ .( بخاري و مسلم)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل نے مجھےتین باتوں کی وصیت فرمائی : ۱- ہر مہینے تین دین کے روزے رکھنے کی، ۲- چاشت کی دو رکعتیں نماز پڑھنے کی ، ۳- اور یہ کہ سونے سےقبل وتر پڑھ لیا کروں ۔{ بخاری و مسلم }

تشریح : اللہ تعالی نے فرائض کے ساتھ ساتھ کچھ نوافل کا بھی حکم دیا ہے جن کا مقصد تربیت ، تزکیہ نفس ، فرض عبادات کیلئے نشاط ، فرض نمازو روزہ میں وارد نقص کی تکمیل اور بعض مشکل اور غیرمقدور عبادات جیسے جہاد و صدقہ وغیرہ میں تقصیر و عدم امکان کا کفارہ ہے ۔زیر بحث حدیث میں نبیﷺ نے اپنے پیارے صحابی حضرت ہریرہ رضی اللہ عنہ ، اسی طرح حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ [مسلم] اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ [سنن النسائی ] کو ایسی ہی تین باتوں کی خصوصی وصیت فرمائی ہے اور ان کے ذریعہ امت کے ہر فرد کو یہ وصیت ہے ۔

[۱] ہر ماہ تین دن کا روزہ : نبی ﷺ کی اپنے صحابہ کو خصوصی ہدایات تھی کہ وہ بکثرت روزہ رکھا کریں اوراگربکثرت روزہ نہیں رکھ سکتے تو ہر ماہ تین دن کا روزہ تو نہ چھوڑیں کیونکہ اللہ تعالی کے فضل سے ایک نیکی کا اجر دس کے برابر ہے، اس طرح گویا تین دن روزہ رکھنے کے عوض بندے کو تیس دن یعنی پورے ماہ روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا ، جیسا کہ ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا : ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا سارا  سال روزہ رکھنے کے برابر ہے ۔{ بخاری و مسلم } ۔

بہتر تو یہ ہے کہ یہ تین دن ہر ماہ کے 13، 14 ، 15 ، تاریخوں میں رکھے جائیں جنہیں ایام بیض کہا جاتا ہے، کیونکہ نبی ﷺ نےان تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے اور خودبھی ان تاریخوں میں روزہ رکھنے کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے ۔{ سنن الترمذی : 1761  – سنن ابو داود : 2449 } ۔

 [۲] چاشت کی نماز : نبی ﷺ کا ارشاد ہے : تم میں سے ہر آدمی اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے ذمے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے، پس ہر ایک بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے ، ہر مرتبہ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ، ہر مرتبہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے اور برائی  سے روکنا صدقہ ہے اور ان کے مقابلہ میں چاشت کی دو رکعتیں بھی کفایت کرتی جاتی ہیں ۔{  مسلم } ۔چاشت کی نماز کم از کم دو رکعت ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیثوں میں ہے اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت ثابت ہے ،جیسا کہ صحیحین میں حضرت ام ہانی کی روایت ہے۔ {بخاری ومسلم }البتہ نبی ﷺ عام طور پر کم از کم چار رکعت پڑھتے تھے،چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی چار رکعت  پڑھتے تھے اور جو اللہ چاہتا تو زیادہ بھی ادا کرلیتے تھے ۔ {  مسلم } ۔

[۳] سونے سے قبل وتر : وتر کی نماز سنت مؤکدہ ہے ،نبی ﷺ نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے ، وتر کی نماز کا وقت نماز عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے ، البتہ اگر کوئی شخص تہجد پڑھنا چاہتا ہے اور غالب گمان ہے کہ وہ آخری شب میں بیدار ہوگا تو اسے وتر کی نماز تہجد کے بعد پڑھنی چاہئے اور جو شخص تہجد نہیں پڑھنا چاہتا یا گہری نیند والا ہونے کی وجہ سے رات میں بیدار ہونے کی امید کم ہے تو اسےسونے سے قبل وتر کی نماز پڑھ لینی چاہئے،

وتر کی نماز کم از کم ایک رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت نبی ﷺسے ثابت ہے۔ وتر کا طریقہ یہ ہے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جائے اور آخر میں ایک رکعت پڑھی جائے ، نیز تین رکعتیں اور پانچ رکعتیں ایک تشہد اور ایک سلام سے بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*