اللہ پر ایمان : معنی ، مفہوم اور تقاضے

 ثناء اللہ صادق تیمی

sagartaimi@gmail.com

3-2یہ کائنات اور اس کی ہر ایک ہستی ، چھوٹی ہو یا بڑی اس بات کا کھلا اعلان کرتی ہے کہ کوئی ہے جو اسے چلا رہا ہے۔ ورنہ بغیر چلائے یہ چل نہیں سکتی۔ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ یہ دنیا اللہ چلاتا ہے، میں نہیں مانتا۔ امام صاحب نے کہا کہ میں فلاں دریا سے ہو کر آرہا ہوں۔  وہاں پر ایک کشتی خود بخود آگئی اور جب میں اس پر سوار ہو گیا تو مجھے اس نے ساحل تک پہنچا دیا۔ سائل نے کہا: ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ یقینا جھوٹ بول رہے ہیں۔ کشتیاں ملاحوں سے چلتی ہیں خود بخود نہیں چل سکتیں۔ امام صاحب نے فرمایا: میرے بھائی جب معمولی کشتی بغیر ملاح کے نہیں چلتی تو سوچو یہ پوری کائنات اپنے آپ کیسے چل سکتی ہے ؟ اور اس آدمی کے دماغ میں بات آگئی۔

عجیب بات ہے کہ آج کی پڑھی لکھی دنیا میں چند پڑھے لکھے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دنیا خود بخود وجود میں آگئی۔ سائندانوں کی مانیں تو پوری کائنات در اصل ایک غیر معمولی لیکن خود بخود رونما ہونے والے حادثے سے وجود میں آئی جو ان کی اصطلاح میں” بگ بینگ” کہلاتا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ آخر یہ حادثہ اس متعین وقت پر ہی کیوں ہوا ؟ دنیا اگر حادثاتی ہے تو اتنی منظم کیوں ہے ؟ کیا دنیا کا کوئی بھی حادثاتی واقعہ اتنا منظم ہو سکتاہے ؟ اگر یہ نیچر کا قانون ہے تو سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ یہ نیچر خاص طرز و انداز میں کیوں چلتا ہے ؟ بارش خاص موسم میں ہی کیوں ہوتی ہے ؟ گرمی خاص وقت میں کیوں آتی ہے ؟ موت و حیات کا پورا فلسفہ کیا ہے ؟ وغیرہ۔ کمال تو یہ ہے کہ وہ سائنسداں جو ہر بات کو ثابت کرنے کے بعد ماننے کو اصل اصول بتاتے ہیں اس معاملے میں مان لیتے ہیں کہ ایسا ہوا ہوگا۔

جب خدا نہیں موجود کائنات چہ معنی ؟

یہ زمین یہ سورج چل رہی ہوا کیا ہے ؟

خدا رہے نہ رہے کائنات چلتی ہے

عجیب بات ہے لیکن یہ بات چلتی ہے

اللہ پر ایمان لانے کا سب سے پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کے وجود پر ایمان لایا جائے کہ ایک ذات ہے جو اللہ ہے۔ یہ کوئی خیالی پلاؤ نہیں اور نہ ہی انسانی ذہن کی اپج ہے بلکہ وہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ احساس بھی نہیں بلکہ ایک ذات ہے۔ تنہا ، بے نیاز، نہ کسی کا بیٹا نہ کسی کا باپ، ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ اور پورے یقین واعتماد کے ساتھ اس بات کا انکار کہ یہ دنیا ایسے ہی وجود میں آگئی۔ اردو کے شاعر جناب بشیر بدر صاحب کا یہ شعر ایک ناقص اور کم ترین علم کا عکاس ہے۔

خدا ایسے احساس کا نام ہے

سامنے بھی رہے اور دکھائی نہ دے

اللہ صرف احساس نہیں مستقل وجود ہے جسے دیکھنے کی انسانی آنکھوں میں رہتی دنیا تک تاب نہیں۔ رؤیت الہی کا شرف مومنوں کو جنت میں دخول کے بعد حاصل ہوگا۔

ایک صحیح حدیث کے مطابق ایک لونڈی اللہ کے رسولﷺ کے حضور پیش کی گئی تو آپ نے پوچھا: اللہ کہاں ہے اور میں کون ہوں؟ اس نے کہا: اللہ آسمان پر ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ھو اللہ فی السماء و الارض (آسمان و زمین کا اللہ وہی ہے )

اللہ پر ایمان کا دوسرامرحلہ یہ ہے کہ یہ ایمان رکھا جائے کہ اس پوری کائنات کا خالق ، مالک ، چلانے والا اور اس پر پوری طرح حکمرانی کرنے والا ایک اللہ ہے۔ وہی رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہی مارتاہے ، وہی جلاتاہے ، وہی ہوا چلاتا ہے ، وہی بارش برساتا ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کا غلام ہے۔ اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ وہ مالک ہے سب مملوک۔ وہ رب ہے سب محتاج۔ وہ حاکم ہے سب محکوم۔ اس کے کسی کام میں کوئی نقص نہیں۔ وہ پاک اور بے عیب ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

 ترجمہ : “اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ،تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن سکو۔ وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کیے جو تمہارے لیے روزی ہیں”۔(البقرۃ: 21-22 ) ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے:

 ترجمہ : “یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا۔ بابرکت ہے وہ اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے”۔ (الاعراف: 54 ) ایک اور جگہ پر اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : “زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندارہیں سب کارزق اللہ کے ذمہ ہے۔ وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی۔ سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے”۔ (ھود :6 ) اسی طرح اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : “آپ کہہ دیجیے کہ اے اللہ ! تمام بادشاہت کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتاہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں۔ تو بےشک ہر چیز پر قادر ہے”۔ (آل عمران : 26 )

           اللہ پر ایمان لانے کا تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ عبادت کی تمام قسموں کو اسی کے لیے خاص کیا جائے۔اللہ اس جہان کا خالق ہے، مالک ہے ، دنیا اسی کی ہے اور وہی اس کائنات کا پالنہار ہے تو عباد ت بھی اسی کی ہوگی۔ اسی کام کے لیے اللہ نے تمام انبیا ءکو مبعوث کیا۔ انسانوں اور جنات کو پیدا کیا اور یہی وہ بڑی سچائی ہے جس میں لوگوں نے زیادہ سے زیادہ گمراہیاں پیدا کیں اور راہ راست سے بھٹک گئے۔ ہوا یہ کہ لوگوں نے اللہ کو یا تو مانا نہیں اور اگر مانا تو یہ مان لیا کہ کوئی ہے جو اس دنیا کو چلا رہا ہے اور بس۔ عبادت نہ جانے کیسی کیسی چیزوں کی کرتے رہے۔ اور اگر کسی نے اللہ کی عبادت کی بھی تو اس کے ساتھ نہ جانے کس کس طرح سے شرک کا بازار گرم کیے رکھا۔ اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : اور یقینا ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ( لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو (النحل : 36 ) ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : تم ایک اللہ کی عبادت کرو ، اس کے علاوہ تمہار کوئی معبود نہیں۔ (الاعراف : 59 ) اسی طرح اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : یہ سب اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ وہ جس کو پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور بے شک اللہ ہی بڑائی والا کبریائی والا ہے۔(الحج : 62 ) اور اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ : آپ کہہ دیجیے کہ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردارہو ں۔ (الانعام :162-163 )

اللہ پر ایمان کا چوتھا مطلب اور مرحلہ یہ ہے کہ آدمی اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ کے اچھے نام ہیں اور وہ جملہ صفات کمال سے متصف ہے۔ وہ تمام اسماء جو اس نے قرآن کے اندر یا اس کے نبی نے احادیث کے اندر بیان فرمائے ہیں وہ بر حق ہیں۔ اللہ تعالی عمدہ اور بے نظیر صفات کمال سے متصف ہے۔  ہر وہ ذاتی یا فعلی صفت جو اللہ اپنے لیے ثابت کرتا ہے وہ ثابت ہے بغیر تعطیل ، تحریف ، تشبیہ ، تمثیل اور تفویض کے۔ یعنی یہ ایمان رکھا جائے کہ اگر اللہ یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس ہاتھ ہے تو ہے اب یہ ہاتھ کیسا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں اللہ کے ہاتھ کے ثابت ہونے پر ایمان رکھنا ہے اس اعتماد اور یقین کے ساتھ کہ وہ انسانوں کے جیسے ہاتھ والا نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہ سمجھا جائے کہ ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس قدرت ہے یا پھر یہ کہ اس کے ہنسنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہوتا ہے۔ در اصل یہ اللہ کے صفات کے اندر انحراف کا چور دروازہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ “اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے”۔ (الشوری : 11 )

   یاد رہے کہ اللہ کے صفات کے باب میں بہت سے لوگ بھٹک گئے۔ جن لوگوں نے اللہ کو تمام صفات سے عاری قرار دیا وہ بھی گمراہ ہوئے حالانکہ انہوں نے سوچا اس سے وہ اللہ تعالی کو انسانوں کے جیسا ہونے سے بچا لیں گے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی گمراہ ہوئے جنہوں نے اللہ تعالی کی صفتوں کو انسانوں کی صفتوں کے جیسا سمجھ لیا۔ اسی طرح وہ بھی گمراہ ہوے جنہوں نے غلط سلط تاویلات سے کام لیا۔ اس معاملے میں حق وہی ہے جس کا اظہار اللہ نے مذکورہ آیت میں فرمایا اور جس کا بیان امام دار الھجرہ مالک بن انس ؒکے یہاں ہوا کہ استوا معلوم ہے ، اس کی کیفیت مجہول ہے ، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سلسلے میں سوال کرنا بدعت ہے۔

 اللہ پر اس انداز میں ایمان لانے سے سب سے بڑا فائدہ تو یہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کائنات کی معقول توجیہ ہو جاتی ہے ورنہ آدمی بھول بھلیوں میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں سکون اور آخرت میں دخول جنت سے سرفرازی حاصل ہوگی۔ انسان کسی بھی مرحلے میں ناامید نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ چوکنا اور خبر دار رہتا ہے۔ وہ مصیبت اور خوشی ہر دو گھڑی میں اللہ کے حکم کے مطابق چلتا ہے اور راضی و صابر رہتا ہے۔ اندھیرے اجالے کے فرق کے بغیر بھلائی کی طرف راغب ہوتا ہے اور برائی سے دامن بچائے رہتا ہے۔اس کی زندگی میں سب کچھ بامقصد ہوتا ہے۔ وہ ایک لمحہ بھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن یہ سب تب ہوتا ہے جب اللہ پر یہ ایمان پورے شعور اور دل کی گہرائیوں سے ہو ورنہ کہنے کو تو آج ایمان والوں کی کمی نہیں۔ ایسے ایمان والوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہوں سے حالا ت بدل جاتے ہیں۔ ہوا کا رخ بدل جاتا ہے۔ ناممکن ممکن بن جاتا ہے اور دنیا حیران و پریشان رہ جاتی ہے۔ تین سو تیرہ ایک ہزار پر بھاری پڑتے ہیں۔ چراغ بجھا کر ضیافت کی جاتی ہے۔ دشمن کے سامنے جاکر بر ملا اپنے ایمان کا اظہار کیا جاتاہے، ہر چند کہ ایسا کرنا موت کو دعوت دینے جیسا ہو۔ ایک لمحہ کو بھی ضائع کیے بغیر مال غنیمت تقسیم کی جاتی ہے کہ مبادا کہیں دیر ہو جائے اور اللہ کے دربار میں پوچھ گچھ ہو جائے۔ فرمانروا اپنے پیٹھ پر آٹے کی بوری ڈھو کر ضرورت مند تک پہنچاتاہے۔ جرنیل کو معزول کیا جاتا ہے اور وہ کوئی واویلا نہیں مچاتا جبکہ وہ کسی جنگ میں ہارنے کا کوئی ریکارڈ رکھتا ہی نہیں۔ تیر آکر لگتا ہے اور بولا جاتا ہے کہ اللہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ سوائے اللہ کے کسی کے آگے جھکا نہیں جاتا ، سوائے اس کے کسی سے مانگا نہیں جاتا ، وہ سمیع ہے تو وہی سنے گا ، وہ بصیر ہے تو دیکھے گا وہی ، شافی ہے تو اچھا وہی کرے گا۔ کیا آج مسلمانوں کو اللہ پر ایسے ایمان کی ضرورت نہیں ہے ؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*