اﷲ سے مدد مانگنے والے

محمد انور محمد قاسم سلفی (کویت)

 imagesﷲ رب العالمین صرف انسانوں کا ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کا خالق ، مالک، رازق ، پالنہار، مشکل کشا ، معبود ، مسجود ہے، انسان سے لیکر جن تک چیونٹی سے لیکر ہاتھی تک ،سمندروں ، فضاؤں،اور آسمان وزمین کی ساری مخلوق اسی کی محتاج اورا سی کے در کی بھکاری ہے اور وہی سب کا حقیقی پالنہار ہے :

 وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ  إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ   ( الذاریات:56-58 )

 ترجمہ : میں نے جن اور انس کو محض اس لیے پیدا کیا کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں، نہ میں اُن سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ میری یہ چاہت ہے کہ وہ مجھے کھلائیں بلا شبہ اللہ، وہی تو رزق دینے والا زور آور مضبوط ہے۔

اور اس نے ساری کائنات کو روئے زمین پر بسنے والی ذی روح مخلوق کی خدمت پر لگا رکھا ہے ، اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق صرف اسی کی عبادت کرے اور اسکی عبادت میں کسی کوشریک نہ ٹھہرائے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:

 ياأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖفَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ : اے لوگو ! اپنے اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ‘ وہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بنایا اور آسمان کا چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے (مختلف قسم کے )پھل تمہارے لیے بطورِ رزق نکالے‘ پھر تم جانتے بوجھتے کسی کو اللہ کے مدّ مقابل نہ بناؤ ۔( البقرة :21-22)

انسان کی ابتدا ایک نطفہ سے ہے جو رحم مادر میں ٹپکایا جاتا ہے،دیکھنے میں وہ کیڑا نما ایک مخلوق ہوتا ہے جسے خورد بین سے بھی بڑی مشکل سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن احسن الخالقین اسے رحم مادر میں کئی حالات سے گزار کر بہترین شکل میں انسان بناکر پیدا کرتے ہیں ، اس عالم گیتی میں قدم رکھنے کے بعد ماں کے سینے سے اس کے لیے رزق کا سر چشمہ بہایا جاتا ہے

اگر کوئی کسان ایک بیج زمین میں بوتا ہے تو بادلوں کو اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسے سیراب کرے، سورج کو حکم ہوتا کہ اسے گرمی پہنچائے، زمین اس کے لیے اپنا سینہ چاک کردیتی ہے، فصل جب پروان چڑھتی ہے تو چاند کو حکم ہوتا ہے کہ اس میں وہ دودھ بھرے،سورج کی تپش اسے دانہ بنا دیتی ہے اور وہ دانہ پھر غذا بن کر اس شخص کے مونہہ تک پہنچتا ہے جس کے لیے رزاق کا حکم ہوتا ہے۔

اس خالق حقیقی اور مالک ارض وسماءکے جب اتنے سارے احسانات حضرت انسان پر ہیں تو پھر وہی رب العالمین اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور دنیا اور آخرت کی جو بھی ضرورت ہو اسی سے مانگی جائے ، اس لیے کہ وہی مسبب الاسباب ،محول الاحوال اور مقلب القلوب ہے، وہ اپنی قدرت سے کسی بھی طرح اپنی مرضی کے مطابق اپنی مخلوق کی ضرورتوں کوپوری کرتا اور کراتا ہے ، اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کو اسی کی بارگاہ میں پیش کریں ، اور اپنی مصیبتوں میں صرف اسی سے مدد مانگیں:

 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ   (غافر:60)

ترجمہ : اور تمہارے رب کا فرمان ہے مجھ سے مانگو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں مبتلا ہوکر مجھ سے دعا نہیں کرتے، وہ بے شک ذلیل وبے آبرو ہوکر دوزخ میں جائیں گے

حدیث قدسی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ اپنے رب سے روایت فرماتے ہیں: “اے میرے بندو! تم میں سے ہرشخص گمراہ ہے، سوائے اس کے جسے میں نے ہدایت عطا کی، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم میں سے ہرشخص بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں نے کھلایا ، تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا ۔  اے میرے بندو! تم میں سے ہرشخص ننگا ہے، سوائے اس کے جسے میں نے پہنایا، تم مجھ سے لباس طلب کرو ، میں تمہیں کپڑے پہناؤں گا ۔ اے میرے بندو!تم صبح شام گناہ پر گناہ کئے جاتے ہو اور میں تمہارے سارے گناہوں کو بخشتا رہتا ہوں، تم مجھ سے معافی طلب کرو، میں تمہارے گناہوں کو بخش دوں گا ۔ اے میرے بندو! تم نہ تو اس بات پر قادر ہوکہ کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو ۔ اے میرے بندو! تمہارے اول سے لے کر آخر تک، انسان سے لیکر جن تک، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ اے میرے بندو! تمہارے اول سے لے کر آخر تک، انسان سے لیکر جن تک، تمام کے تمام اس کائنات کے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔  اے میرے بندو! تمہارے اول سے لے کر آخر تک، انسان سے لیکر جن تک، تمام کے تمام ایک میدان میں جمع ہوجائیں، اور مجھ سے مانگتے جائیں اور میں ہر شخص کی دلی مرادیں پوری کردوں، اس سے میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنا کہ سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں کمی ہوتی ہے ” ( مسلم :6737)

جیسا کہ رسول اﷲ ﷺنے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : تر جمہ : حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کہتے ہیں : ” میں ایک دن رسول اﷲﷺکے پیچھے تھا ، آپ ﷺنے فرمایا :اے لڑکے ! میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں : تم اﷲ تعالی کو یاد رکھو( اس کے حقوق اور احکامات پر عمل کرکے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچ کر ) تو وہ تمہیں یاد رکھے گا ، تم اﷲ کو یاد رکھو تو اسے اپنے سامنے پاؤگے ۔ جب تم کچھ مانگو تو اﷲ تعالی سے ہی مانگو ، جب مدد طلب کرو تو اﷲ ہی سے مدد طلب کرو ۔  یہ بات اچھی طرح جان لو کہ اگر ساری قوم مل کر بھی تمہیں کسی چیز کا فائدہ کرنا چاہے تو تمہارا اتنا ہی فائدہ کرسکتی ہے جتنا کہ اﷲ نے تمہارے لیے مقرّر کر رکھا ہے۔ اگر ساری قوم مل کر بھی تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو اتنا ہی پہنچا سکتی ہے جتنا کہ اﷲ نے تمہاری قسمت میں لکھ رکھا ہے، تقدیر لکھنے والے قلم اٹھالے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے ۔( جو ہونا تھا وہ لکھ دیا گیا اب اس میں ادل بدل نہیں ہوسکتا ) دوسری روايت ميں يوں ہے : تم اﷲ کو ياد رکھو تو اسے اپنے سامنے پاؤگے ۔ آرام اور راحت کے زمانے ميں اﷲ سے جان پہچان رکھو تو تمہیں مصیبت کے زمانے میں پہچانے گا ۔ ياد رکھو ! تم سے جو چُوک گيا وہ کبھی تمہيں ملنے والا نہ تھا ، جو تمہيں ملا ہے وہ کبھی چوکنے والا نہ تھا ۔ ياد رکھو ! اﷲ کی مدد صبر کے ساتھ ہے ، اور کشادگی مصیبت کے ساتھ ہے اور یہ بھی یقین جانو کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔

 ایک بدو عورت کا رب کی رزاقیت پر ایمان :

ابو عبد اﷲ جعفر برقی کہتے ہیں : میں نے ایک بیابان میں ایک بدو خاتون کو دیکھا جس کی کھیتی کڑاکے کی سردی ، زوردار آندھی اور موسلادھار بارش کے سبب تباہ ہوچکی تھی لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے اور اس کی فصل تباہ ہونے پر اسے دلاسا دے رہے تھے. اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہنے لگی :

“اَللّٰھُمَّ اَنتَ المَامُولُ لِاَحسَنِ الخَلَفِ، وَبِیَدِکَ التَّعوِیضُ عَمَّا تَلَفَ ، فَاحکُم بِشَانِکَ بِمَا اَنتَ اَھلُہُ ، فَاِنَّ اَرزَاقَنَا عَلَیکَ، وَآمَالُنَا مَردُودَة ِالَیکَ”

ترجمہ: اے پروردگار ! پسماندگان کی عمدہ دیکھ بھال کے لیے تجھ ہی سے امید وابستہ کی جاتی ہے ، جو کچھ تباہ وبرباد ہوگیا اس کی تلافی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، اس لیے تو اپنی نرالی شان کے مطابق ہمارے ساتھ معاملہ فرما ، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری روزی کا بندوبست تیرے ہی ذمہ ہے اور ہماری آرزوئیں اور تمنائیں تجھ ہی سے وابستہ ہیں.

ابو عبد اﷲ جعفر برقی کہتے ہیں کہ میں ابھی اس خاتون کے پاس ہی تھا کہ ایک آدمی وہاں آ پہنچا ، ہمیں اسکے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ کہاں سے آیا ہے ؟ مقصد کیا ہے ؟ جب اسے اس عورت کے عقیدے، منہج اور اﷲ تعالیٰ سے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے 500 دینار نکالے اور اس عورت کی خدمت میں پیش کرکے اپنی راہ چلتا بنا۔ (نساءذکیات جدّا :44)

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک فقیر محتاج، بادیہ نشین عورت جنگل میں خیمہ لگائے ہوئے تھی ، اپنی ضروریات کے لیے اس نے ارد گرد کھیتی کر رکھی تھی ، گذر اوقات اسی سے کرتی تھی ، ایک دن طوفان آیا ، بجلی چمکی اور کڑکی اور آسمان سے ژالہ باری ہوئی اور کھیتی تباہ وبرباد ہوگئی ۔ جب طوفان تھم گیا ، اس عورت نے خیمہ سے سر نکالا ، اپنی کھیتی کو دیکھا ، ہر چیز تباہ وبرباد ہوچکی تھی ، اس نے حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہنے لگی :

  یَا رَبِّی! اصنَع بِی مَا تَشَاء ، فَانَّ رِزقِی عَلَیکَ اے میرے پرور دگار ! جو جی چاہے کر ( تجھ کو کون پوچھنے والا ہے ) ( ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ) میرا رزق تو تیرے ہی ذمہ ہے (سنہری کرنیں : عبد المالک مجاہد)

اسحاق بن عباد بصری رحمہ اﷲ اپنے وقت کے نیک اور عابد وزاہد بزرگ تھے ، ایک مرتبہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ان سے کہہ رہا ہے : “اَغِثِ المَلہُوفَ” مجبور کی مدد کرو وہ نیند سے بیدار ہوئے اور اپنے پڑوسیوں سے دریافت کیا کہ کوئی محتاج تو نہیں ہے ؟انہوں نے جواب دیا : ہمیں پتہ نہیں ہے پھر وہ آکر بستر پر لیٹ گئے ، پھر انہیں وہی خواب آیا ، پھر انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا ، انہوں نے وہی جواب دیا ،پھر بستر پر دراز ہوگئے تو خواب میں دیکھتے ہیں کہ وہی شخص انہیں ڈانٹتے ہوئے کہہ رہا ہے :تم اس مجبور کی مدد کئے بغیر ہی سو رہے ہو ؟ اب وہ بیدار ہوئے اور اپنے ساتھ تین سو درہم لیا اور خچر پر سوار ہوئے اور بصره کی گلیوں کا گشت کرتے ہوئے ایک ایسی مسجد کے دروازے پر پہنچے جس میں مُردوں پر نمازِ جنازہ پڑھی جاتی تھی ، اس نے دیکھا کہ مسجد میں ایک شخص نماز اور دعا میں مشغول ہے جب دعا کرنے والے نے کسی کی آمد کو محسوس کیا تو دعا ختم کرکے اس کی طرف متوجہ ہوا، اسحاق بن عباد نے اس سے پوچھا: اے اﷲ کے بندے! اس وقت اور اس مقام پر تجھے کوئی ضرورت تو نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا کل سرمایہ ایک سو درہم تھا، وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا، پھر مجھ پر دو سو درہم کا قرض بھی چڑھ گیا، جس کے لیے اﷲ تعالیٰ سے فریاد کر رہا تھا انہوں نے اس کی یہ بات سن کر اپنے جیب سے تین سو درہم کی تھیلی نکالی اور اسے پیش کرتے ہوئے کہا : کیا آپ کو پتہ ہے کہ میں کون ہوں؟اس نے کہا : نہیں انہوں نے کہا: مجھے اسحاق بن عباد کہتے ہیں اور میں بصرہ میں فلاں جگہ رہتا ہوں، اگر آپ کو کبھی کوئی ضرورت پیش آجائے تو میرے گھر پر چلے آنا اس شخص نے جواب دیا : اﷲ آپ پر رحم کرے ! جب ہمیں کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو اس رب العالمین کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں جس نے رات کے اس حصے میں جس میں کہ لوگ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ،آپ کو اپنے بستر سے اٹھا کر ، اور گھر سے نکال کر ہم تک پہنچایا ۔ (نور الاقتباس فی مشکاة وصیة النبی لابن عباس لابن رجب الحنبلی :87)

عبد الرحمن بن زید بن اسلم کہتے ہیں : ایک دن میری والدہ نے میرے والدِ محترم سے کہا : آج گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے کھا کر کوئی ذی روح گذارہ کرے،میرے والد یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وضو کرکے کپڑے پہنے اور نماز پڑھنے لگے، میری والدہ نے یہ دیکھ کر مجھ سے کہا: تمہارے باپ اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے جو تم ابھی دیکھ رہے ہو، جاؤ تم ہی کچھ ہاتھ پیر مارو، میں گھر سے نکلا تو میرے دل میں میرے ایک دوست کا خیال آیا جو کھجوروں کا کاروبار کرتا تھا، میں اس نیت سے اس کے پاس گیا کہ کم از کم قرض لیکر ہی کچھ گزارہ کروں، اس نے جونہی مجھے دیکھا تو پرجوش استقبال کیا ، گھر لے گیا اور کھانا کھلا کر تیس دینار کی ایک تھیلی میرے حوالے کی اور کہا : تمہارے والد کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور انہیں یہ بتلانا کہ ہم نے انہیں اپنی تجارت میں شریک بنالیا ہے اور یہ ان کا حصہ ہے حالانکہ میں نے اس سے اپنے گھر کی حالت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اسے ہماری خستہ حالی کا کوئی پتہ تھا ( یہ سب میرے والد کی نماز اور دعا کا کرشمہ تھا)

مشہور تابعی اور سید الزہاد حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اﷲ کے متعلق آتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جہاد میں نکلے، تمام نے اخراجات سفر کے لیے ایک ایک دینار جمع کرنے کا قصد کیا ، ان کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی، وہ اسی سوچ میں پڑ گئے کہ میں اپنے ساتھیوں میں کس سے قرض مانگوں؟ پھر ان کے ضمیر نے انہیں ملامت کیا کہ مجھے کیا ہوگیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو چھوڑ کر بندوں سے مانگتا ہوں؟ جو یہ کہہ رہا ہے کہ میرے بندے ! جس سے مانگا جائے اس کا کون مستحق ہے، میں یا میرے بندے۔ جب انہوں نے یہ سوچا تو خوب روئے اور وضو کرکے نماز پڑھی اور سجدے میں سر رکھ کر گڑگڑایا: اے میرے رب! غلطی اور جہالت کی وجہ سے جو خطا مجھ سے ہوگئی اگر تو اس پر مجھے سزا دینا چاہے تو میں اس کا مستحق ہوں، اگر تو مجھے معاف کردے تو یہ تیری شایانِ شان ہے۔ یا الہٰی ! تجھے میری حاجت کا پتہ ہے، تو اسے اپنے فضل وکرم سے پوری کردے، جس وقت انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو دیکھا کہ چار سو دینار سامنے ہیں، ان میں سے اپنی ضرورت کا صرف ایک دینار لیا اور وہاں سے اٹھ کر چلتے بنے (حوالہءمذکور :89)

امام اوزاعی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : “میں نے حالت طواف میں ایک شخص کو دیکھا جو غلاف کعبہ کو تھام کر یہ کہہ رہا تھا : “الٰہی ! تجھے پتہ ہے کہ میں محتاج ہوں ، تو یہ بھی جانتا ہے کہ میرے بچوں کے پاس پہننے کے کپڑے بھی نہیں ہیں اور تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری اونٹنی تھکی ماندی ہے، اے میرے وہ رب جو سب دیکھتا ہے لیکن تجھے کوئی نہیں دیکھتا، میرا حال دیکھ” وہ ابھی اپنی دعا پوری بھی کر نہ پایا تھا کہ کسی نے اسے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا: اے عاصم!اے عاصم! تو فورًا اپنے چچا کے پاس طائف پہنچ جا، اس لیے کہ وہ ابھی فوت ہوا ہے، اس نے ایک ہزار بکریاں، تین سو اونٹ اونٹنیاں، چار سو دینار، چار غلام، تین یمنی تلواریں چھوڑی ہیں اور اس کا تیرے سوا کوئی وارث نہیں ہے۔ امام اوزاعی نے اس سے پوچھا :اے عاصم! تو جسے پکار رہا تھا کہیں وہ تیرے قریب ہی تو نہیں تھا ؟ اس نے کہا : اے آدمی ! کیا تم نے اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا :

ترجمہ : “جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ میرے احکام کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں”۔( البقرة:186)

اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رزاقیت اور مدد ونصرت پر ہمارے ایمان وایقان کواور زیادہ مضبوط اور پائیدار کرتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ ہم اس سے اسی طرح مانگیں جس طرح مانگا جاتا ہے اور اس پر اسی طرح یقین رکھیں جس طرح رکھنا چاہئے ، اگر ہم نے ایسا کیا تو وہ بھی ہماری ضرورتوں کو ضرور پوری کرے گا ، اور ہماری ہر دعا کو ضرور شرف قبولیت عطا کرے گا ۔

 سچی بات تو یہ ہے کہ ہر جگہ مانگنے سے انسان ذلیل ہوجاتا ہے لیکن رب کے سامنے ہاتھ پھیلانے والے کی عزت وقدر دو چند ہوجاتی ہے ۔ بقول اکبر الہ آبادی :

رب سے مانگ لے جو مانگنا ہو اے اکبر

یہی وہ در ہے جہاں ذلت نہیں سوال کے بعد

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*