ہم اپنے بچوں كو بلند ہمت کیسے بنائیں ؟

 صفات عالم محمد زبير تيمي

हिम्मतاولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،اولاد کی صحیح اہمیت کا اندازہ لگا ناہو تو ان سے پوچھئے جو اس نعمت سے محروم ہیں، ہم عام طورپر اپنے بچوں کی طرف دھیان نہیں دے پاتے، ان کی کماحقہ تربیت  نہیں کرپاتے ۔ حالانکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں، انہیں کے لیے ہم نے پردیسی زندگی اختیار کی ہے ۔ کبھی آپ نے غورکیا کہ ایک ہی اسکول اورمدرسے میں تعلیم پانے والے بچوں میں سے کوئی ڈاکٹر بنتا ہے، کوئی انجینئر بنتا ہے، کوئی افسربنتاہے، کوئی ملک کے کسی اعلی عہدے پر فائز ہوتا ہے اورکوئی قوم کا قائد اوررہبر بنتا ہے جبکہ کچھ بچے پڑھنے لکھنے کے باوجود بیکار بیٹھے رہتے ہیں، وہ کوئی کام نہیں کرپاتے چہ جائیکہ معاشرے کی خدمت کرسکیں ۔اس کی بنیادی  وجہ یہ  ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اندر بچپن سے ہی بلند ہمتی کی روح  پهونك نہیں  پاتے، ان کو بات بات پر کوستے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، ان کے جذبات کو کچلتے ہیں، اس طرح ہمارے بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

 سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے بلند ہمت کیسے بنیں ؟ ہم اپنے بچوں کے اندر اونچی سوچ کیسے پیدا کریں؟ ہم کیا کریں کہ ہمارے بچے پختہ ارادہ کے مالک بن سکیں؟ ذیل کے سطور میں ہم  اس سلسلے میں چند گذارشات پیش کررہے ہیں:

 (1) اللہ پاک سے مددکی طلب اوردعا  کا اہتمام کریں: ہم جس قدربھی پلاننگ کریں اوراعلی سے اعلی خواب دیکھیں، اگرہمیں اللہ کی توفیق حاصل نہ ہوسکی تو ہم نا کام ہیں۔ کیوں کہ دلوں کا مالک اللہ ہے وہ جیسے چاہتا ہے انہیں  پھیرتا رہتا ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے  پلاننگ اورمنظم کوشش کےساتھ دعا  کا اہتمام نہایت ناگزیر ہے ۔

(2)  بچوں کو نیک صحبت فراہم کریں: کوئی بھی مثبت نتیجہ نیک صحبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ  اگرنیک صحبت حاصل ہو تو  بھولنے والے کی  یاد دہانی ہوتی ہے، پیش قدمی کرنے والے کی ہمت افزائی ہوتی ہےاورارادہ کرنے پر مدد کی جاتی ہے۔ اورایسی  صحبت انسان کے اندرخودبخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مربی کو چندوسائل اپنانے ہوتے ہیں :مثلاً بچپن سے بچے کو اچھا ماحول فراہم کرنا اورمسجد سے اس کا تعلق جوڑنا، اس کے اندرنیک لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی خواہش پیدا کرنا، بچوں کے دوست واحباب پركڑى نظر رکھنا کہ مبادا  بری صحبت کے شكار  ہوجائیں، اس سلسلے میں انہیں نصیحت کرنا، دوست کے انتخاب کا فن سکھانا، قریب سے ان کے دوستوں کو پہچاننا ،ان کے متعلق  معلومات رکھنا اور اس حوالے سےسستی اور لاپرواہی بالکل نہ کرنا۔ اسی طرح بچوں کے بعض پروگراموں میں بنفس نفیس  شریک ہونا۔یہ وہ وسائل ہیں جن کو اپنانے سے بچے بہت حد تک انحراف سے بچے رہیں گے ۔

(3)  نفس کا مجاہدہ اورمحاسبہ کرنا سکھائیں : انہیں بتائیں کہ بغیر محنت کے بلندیا ں حاصل نہیں ہوتیں  ، بڑے لوگوں کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے بچپن سے ہی محنت کی اور وقت لگایا، بلندیاں محنت وریاضت کی دین ہیں۔ کہتے ہیں : لولا المشقة ساد الناس کلھم۔”اگر مشقت نہ ہوتی تو ہر آدمی حاکم بن جاتا” ۔

امام ابن قیم ؒ  فرماتے ہیں: “ہرامت کے دانشمندوں کا اتفاق ہے کہ نعمتیں نعمتوں میں رہ کر حاصل نہیں کی جاسکتیں، اور جس نے راحت کو ترجیح دی وہ راحت سے محروم ہوگیا”۔امام مسلم ؒ  نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن کثیرؒ   کا یہ قول نقل کیا ہے : لاینال العلم براحة الجسد۔”جسمانی راحت کے ذریعہ  علم حاصل نہیں کیا جا سکتا” ۔چنانچہ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ اپنے روزانہ کے پروگراموں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہاں ان سے کیا کوتا ہی ہوئی ہے اور اس کی تلافی کیوں کر ممکن ہے۔ ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ مشکل سے مشکل کام کرنے کے لیے نفس کو تیار کریں ۔ کمال کی زندگی گذارنے کی بجاے مجاہدانہ زندگی گذاریں ،   اپنے بچے کے عزم اور اعلی سوچ کو جلا بخشیں، اس کی تعریف کریں اوراس کو حاصل کرنے کے وسائل فراہم کرنے میں لگ جائیں.

(4)  گھٹیا کاموں سے دور رہنے کی عادت ڈالیں : انہیں بتائیں کہ جو لوگ اعلی مقاصد رکھتے ہیں وہ گھٹیا اور معمولی کاموں میں نہیں لگتے بلکہ ان کی سوچ نہایت اعلی ہوتی ہے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: إن اللہ یحب معالی الأمور وأشرافھا ویکرہ سفسافھا (صحیح الجامع الصغیر)

”اللہ تعالی بلند اور اشرف کاموں کو پسند کرتا ہے اور گھٹیا  کاموں کو ناپسند کرتا ہے۔ “اس لیے انہیں اعلی مقاصد پر مبنی کاموں میں مشغول رکھیں اور گھٹیا  کاموں سے دور رکھیں۔ ان کے اندر ہمیشہ اونچی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اگران میں اونچی سوچ پیدانہ ہوگی تو گھٹیا سوچ خود بخود پیدا ہونے لگے گی ۔ امام شافعی ؒ نے بڑی پتے کی بات کہی ہے : اذا لم تشغل نفسک بالحق شغلتک بالباطل  ” اگر تم اپنے نفس کو حق میں مشغول نہیں کرتے تو باطل میں خودبخود مشغول ہوجائے گا۔”

 (5) پلاننگ کرنے میں ان کی مدد کریں : بہترین پلاننگ کا بہترین نتیجہ نکلتا ہے، اور ایک تجربہ کارمربی اس سلسلے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خودپلاننگ کریں اورانہيں پلاننگ کرنے کا گر سکھائیں۔ انہيں بتائیں کہ اپنی زندگی کے ہرمرحلہ کے لیے پلاننگ کريں ،بلکہ ان کے پاس 24 گھنٹے کے کاموں کی پہلے سے لسٹ ہو۔ لمبی چھٹیاں آرہی ہوں تو ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے خاص پلاننگ کریں۔ پلاننگ کرنے میں ان کا ساتھ دیں اور کچھ کاموں میں خود ان کے ساتھ شریک رہیں۔

(6)  خاندان کے مسائل میں انہیں شریک کریں : بچوں کے اندر ہمت پیدا کرنے کے لیے خاندانى مسائل  میں انہيں شریک كرنا چاہيے تاکہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ وہ  بهى خاندان کےا فرادمیں شامل ہیں،  اور ان کی رائے اور مشورے کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں وقفہ وقفہ کے ساتھ خاندان کے مسائل پر گفتگو کی جائے، خاندان میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے بچوں سے مشورہ کریں اور اس کو اہمیت دیں۔ اوراس سلسلے میں بچے جو بھی رول ادا کرسکتے ہوں تو بلا جھجھک ادا کرنے کی سہولت فراہم کریں۔

(7)  بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اولوالعزموں اور بلند ہمت لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کریں: اپنے  بچوں کوبلندہمت لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرنے پر ابھاریں ، بسا اوقات اس موضوع کی  کتابیں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں ،کھانے اورسونے کے اوقات کو امت کے سورماؤں کے قصے اور واقعات بیان کرنے میں لگائیں۔ انہیں سیرت نبوی ﷺ،انبیاءؑکے قصے، اور صحابہ وتابعین کے قصوں کا مطالعہ کرنے پر ابھاریں۔ سورماؤں کی زندگی پر بنائی گئی فلموں، ڈراموں اورسیریز بھی اپنے گھر لائیں اور بسااوقات انہیں بچوں کودکھائیں، اوربچوں کو ترغیب دلائیں کہ ان میں سے جن کو چاہیں اپنے لیے نمونہ بنائیں تاکہ ان کے جیسے خود کو ڈھال سکیں۔

(8)  بچوں کے اندرمقابلے کا جذبہ پیدا کریں: اعلی مقاصد کے حصول کے لیے بچوں کے اندر مقابلے کا جذبہ پروان چڑھانا نہایت ضروری ہے۔ اپنے بچوں اور آس پاس کے بچوں کے اندر مسابقت کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ وہ اپنے سے اونچے کے ساتھ مسابقے میں حصہ لیں ،چھوٹے بڑے ہرطرح کے مقابلوں میں شریک ہوں، ان کے اندرچیلنجز کو قبول کرنے کا  جذبہ پیداکریں چاہے بظاہر مشکل نظر آرہے ہوں۔ اس کام کے لیے کچھ مادی ومعنوی انعامات رکھیں تاکہ بچے اس کے لیے خودکوتیار کرسکیں۔

(9)  اپنی خفتہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا طریقہ سکھائیں : ہر انسان کے پاس ممکنہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو چھپی رہتی ہیں، جن تک خود اس کی پہنچ نہیں ہوتی۔ اس لیے اپنے بچوں کو پورا موقع فراہم کریں کہ وہ اپنے ذاتی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ہرممکنہ کوشش کریں۔ خطرے کے باوجود چیلنجزکوقبول کرنے کی عادت ڈالیں اورانہیں بتائیں کہ اپنے بارے میں جیسا خیال کروگے ویسا ہی بنوگے۔ اس لیے روزانہ اپنے کاموں کا جائزہ لینے کی تاکید کریں، واقعہ یہ ہے کہ ہرانسان روزانہ اپنی طاقت سے کم ہی کوشش کرتا ہے، اس لیے روزانہ اپنے نفس کو چست اور نشیط رکھنے کی ضرورت ہے۔

 (10) تاخیراورٹال مٹول پرقابو پانے میں ان کی مددکریں : ٹال مٹول مقاصد کے حصول کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، لہذا اپنے بچے کو وقت کی پابندی کا گر سکھائیں ،انہیں بتائیں کہ ہرکام کو ختم کرنے کا وقت خاص کرلیں ، انہیں سکھائیں کہ وہ اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہرگز ٹال مٹول نہ کریں گے۔ انہیں سکھائیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ ذہن نشین رکھیں اور انہیں نوٹ کرلیا کریں تاکہ انہیں مکمل کرسکیں۔ انہیں سکھائیں کہ کسی بھی کا م کے کرنے میں تردد نہ کریں اور فوراً ہاں یا نا کا فیصلہ لیں۔

یہ چند وسائل ہیں جن کو اگر ہم نے اپنایا اوران خطوط کی روشنی میں بچوں کی تربیت شروع کی تو ہمارے بچے اپنی زندگی میں اعلی سے اعلی مقاصد حاصل کرنے کے اہل  بن سکتے ہیں ۔ ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ اورآپ کے بچوں کے ساتھ ہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*