رسم ورواج کی پاسداری اور اسلامی شریعت

 فاطمہ جلیل فلاحی

رسم و رواجرسم ورواج کی اہمیت:

رسم ورواج سماجی زندگی کی علامت ہواکرتے ہیں اور تہذیب کے اجتماعی پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہرقوم کی انفرادی واجتماعی زندگی میں ان رسوم ورواج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور تہذیب وثقافت، اخلاق وعادات، مذہبی عقائد، ذہنی رجحانات اور طرز معاشرت پر ان کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ ’’یہ رسوم درحقیقت مختلف اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ان کے اسباب میں ملک یا علاقے کے مخصوص حالات، جغرافیائی کیفیت، باشندوں کی ذہنی وجسمانی خصوصیات، مذہبی عقائد، تاریخی وسیاسی ارتقاء، اقتصادی حالت اور تہذیبی اثرات کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے‘‘۔)پاکستانی مسلمانوں کے رسوم ورواج:  شاہد حسین رزّاقی،   ص 26)

رسمیں کیسے وجود میں آتی ہیں:

رسمیں بالعموم دو طریقوں سے پروان چڑھتی ہیں۔ ایک معاشرتی دباؤ اور دوسرے مذہبی جذبات۔ بعض دفعہ کسی خاص حالت میں اور کسی خاص ضرورت کے تحت ایک کا م کیا جاتا ہے اور لوگ اسے حالات وضروریات کے مطابق مفید پاکر اس پر عمل کرنے لگتے ہیں۔ یہ عمل رفتہ رفتہ اجتماعی اور پھر روایتی شکل اختیار کرلیتا ہے اور آخر کار معاشرہ کی اجتماعی قوت کی بدولت اس کو رسم یا رواج کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کچھ مذہبی افراد دوسرے مذاہب کے پیرو کا روں کی دیکھا دیکھی اپنے مذہبی جذبات کی تسکین کے لیے کچھ ایسے کام شروع کرلیتے ہیں جو بظاہر دینی اقدار کو جلا بخشنے والے ہوتے ہیں۔پھر دھیرے دھیرے ان کو ایسی مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے کہ وہ رسم کا درجہ پاجاتے ہیں اور ان کے حسن وقبح پر غور کیے بغیر ان کی پاس داری کو ضروری سمجھا جانے لگتا ہے۔ مذہبی ومعاشرتی ہر دو طرح کی رسوم میں بظاہر کچھ خیر کا پہلو ہوتا ہے اور کچھ شرکا۔ معاشرہ بالعموم خیر وشر میں تمیز کئے بغیر پورے کا پورا اختیار کرلیتا ہے اور ان کی پاسداری کو ہر حال میں ضروری سمجھتا ہے۔ یہی اس کا سب سے تاریک پہلو ہے۔

تاریخ کا کوئی زمانہ رسوم ورواج کے اثرات سے خالی نہیں رہا ہے۔ بلکہ ہر قبیلہ، ہرقوم اور ہر تہذیب میں اسے عمومی دستور العمل کی حیثیت حاصل رہی ہے، انبیاء کرام ؑنے جن شریعتوں کو متعارف کرایا، ان کا بنیادی مقصد انسانی معاشرہ کی تہذیب تھا۔ ان شریعتوں میں بھی مروجہ رسومات کی قبولیت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے(سیرۃ النبی: علامہ سید سلیمان ندوی ، جلد چہارم، ص234)۔ یہاں تک کہ آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جو آخری شریعت متعارف کرائی، ان میں بھی عرب کی متعدد پاکیزہ روایات کو شریعت اسلامی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اور ان کی پاسداری کو موجبِ اجر وثواب بتایا گیا ہے۔

اسلام کا نقطہ ٔنظر:

اس سلسلے میں اسلام کا نقطہ ٔ نظر بالکل واضح ہے، جو رسمیں انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے موزوں ومفید ہیں۔ اسلام نے انہیں اختیار کیا ہے اور ان پر عمل آوری کی ترغیب دی ہے۔ اور جو رسمیں اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور انسانی معاشرہ کے لیے مضرہیں۔ اسلام نے ان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اور ان کے خاتمے کے لیے تدابیر کی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒنے مکارم اخلاق کی تکمیل اور مزامیر کی تکسیر والی احادیث کے حوالے سے تہذیب اسلامی کی تشکیل کے اس بنیادی اصول کو واضح کیا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ  جلد اول ص 49  )

اس بنیادی اصول کی تطبیق کی بہترین مثال خطبہ حجۃ الوداع ہے جس میں آپ نے بیک وقت کئی جاہلی رسومات کی بیخ کنی کی اورکئی نئی رسموں کی بنیاد ڈالی اور تابندگی بخشی۔ ایک طرف آپ نے عرصہ دراز سے چلی آرہی سماجی تفریق، انتقامی کارروائی اورسودی لین دین کے یکسر خاتمے کا اعلان کیا تو دوسری طرف جاہلی نظام میں غلام، یتامیٰ اور خواتین جیسے معاشرے کے کمزور طبقات جو اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم تھے، ان کے حقوق متعین کرکے ان کے وقار کو بلند کیا، آخر میں آپ نے تمسک بالکتاب والسنۃ کی تلقین کرکے یہ بات اچھی طرح واضح کردی کہ جو کام یا رسوم ورواج قرآن وسنت کے مطابق اور انسانی معاشرے کے لیے مفید ہوں گے، صرف انہیں اختیار کیا جائے گا باقی تمام معمولات ورسومات کو اسی معیار پر پرکھ کر ان کے رد وقبول کا فیصلہ کیا جائے گا(اصلاح الرسوم وتقویۃ الایمان)۔ علماء نے قرآن وسنت کی روشنی میں کچھ اصول ومعیار مقرر کردیئے ہیں۔ ان کی روشنی میں مروجہ رسومات کا آسانی سے تجزیہ کیا جاسکتا ہے، جو رسمیں زمانہ بعید سے چلی آرہی ہیں اور جن میں خیر کا پہلو نمایاں ہے، وہ باقی رکھی جائیں گی۔ اسی حوالہ سے ’’عرف وعادت‘‘ کو فقہاء نے شریعت اسلامی کے ضمنی مآخذ میں شمار کیا ہے اور اس سے کئی اہم مسائل حل کیے ہیں۔ مثلاً لباس کا مسئلہ ہے جو لباس ساتر ہو اور معاشرے کے شرفاء نے جسے اختیار کرلیا ہو وہی شرعی لباس کہلائے گا۔ ہر ملک، علاقہ اور خطے کا الگ الگ لباس ہوسکتا ہے۔ اور جو رسومات مذہبی عقائد کے خلاف ہوں، یا جن میں اسراف، تفاخر، تکاثر، ریا، تکلیف مالا یطاق، کفار سے مشابہت اور معصیت میں تعاون کا پہلو پایا جاتا ہو، ان سے بہرحال چھٹکارا حاصل کیا جائے گا۔

رسوم کے خاتمہ میں تعلیم وتہذیب کا کردار:

رسم ورواج کی پاسداری یا اس کی خلاف ورزی میں معاشرے کے تعلیمی اور تہذیبی معیار کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں جہالت اور لا شعوری کا غلبہ ہوتا ہے، وہاں رسومات کا اثر سرچڑھ کر بولتا ہے اور جس معاشرے میں بیداری، شعور اور تعلیم وتہذیب کا فروغ ہوتا ہے، وہاں رسمیں اپنے آپ دم توڑنے لگتی ہیں۔ یہ اصول تاریخ کے ہر دور میں کام کرتا رہا ہے، ہندوستانی پس منظر میں ماضی قریب کا جائزہ لیا جائے تو بے شمار ایسی رسومات کا حوالہ ملے گا جو تعلیمی بیداری اور شعور کی پختگی کی وجہ سے مٹتی جارہی ہیں۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنے زمانے میں مروج صرف پیدائش، شادی اور وفات کی رسومات کا جائزہ لیا ہے جن کی تعداد سو تک پہونچ گئی۔(اصلاح الرسوم، ص 106)۔ ڈاکٹر محمد عمر نے عہد سلطنت کے جائزہ میں کئی سو رسومات گنوائی ہیں(ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر:  ڈاکٹر محمد عمر۱۹۷۵)۔ ان تاریخی حوالوں کے بالمقابل موجودہ زمانے میں الحمد للہ حالات بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ رسومات کا طلسم آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہے۔ ان کی جگہ اسلامی قدریں فروغ پارہی ہیں۔ اور قرآن وسنت کی پروردہ تہذیب تیزی کے ساتھ اپنے بال وپر پھیلا رہی ہے۔ ان رسومات کے سد باب کی تدابیر سے پہلے مروجہ رسومات کا مقررہ معیار پر جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے کیوں کہ موجودہ زمانے میں بہت سی سماجی ومذہبی رسموں کا خاتمہ ہوگیا ہے توکچھ نئی رسمیں وجود میں آگئی ہیں جو رسومات اسلام نے متعارف کرائی ہیں وہ اپنا صحیح مقام نہیں پارہی ہیں۔ غور وفکر کے ہر پہلو کوپیش نظر رکھتے ہوئے ایک واضح نقطۂ نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مروجہ رسومات کا اسی اعتبار سے ایک تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔

پیدائش کے وقت:

بچے کی پیدائش خاندان کے لیے عزت وافتخار کا باعث ہوتی ہے۔ اس موقع پر اسلام نے پانچ باتوں کی ترغیب دی ہے۔ بچے کے کان میں اذان، تحنیک، عقیقہ، عقیقے کے دن بال منڈواکر اس کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا اور اچھا نام رکھنا، ان تمام رسومات میں نومولود اور خاندان کی بہتری کے عوامل کار فرماہیں۔ اور ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سارے کام تعمیل سنت میں خاموشی کے ساتھ انجام دیے جاسکتے ہیں۔ مگر بالعموم دیکھا یہ جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان رسومات کو کماحقہٗ اہمیت نہیں دی جاتی، اذان اور عقیقہ کی رسم تو دیر سویر ادا ہوجاتی ہے، باقی رسومات کی جگہ نئی چیزوں نے لے لی ہے۔ مثلاً چھٹی، چلّہ دھوم دھام سے کیا جاتا ہے۔ پیدائشی کا سامان جمع کرنے میں تکلیف مالایطاق میں مبتلا ہونا ایک فطری امر ہے۔ TV کی نقالی میں مہمل نام رکھ کر خوشی محسوس کی جاتی ہے اور اس کی تلاش میں مہینوں تاخیر کردی جاتی ہے۔ عقیقہ کی دعوت اور پیدائشی کا سامان جمع کرنے اور پہونچانے میں جو شور وغل، دھوم دھام اور لین دین کی خرافات ہوتی ہے، اس سے بیک وقت کئی اسلامی قدریں پامال ہوتی ہیں۔ سنت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دولت کے مظاہرے میں تفاخر کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اس کے بڑھتے چلن سے غریب بے چارہ بھی تکلیف مالا یطاق میں مبتلا ہوتا ہے۔

شادی کے وقت:

شادی زندگی کا اہم پڑا ؤ ہے۔ بہت سے لوگ اسے امنگوں اور آرزوؤں کی تکمیل کا موقع سمجھتے ہیں۔ جس کے لیے طرح طرح کی رسمیں ایجاد کی گئی ہیں۔ منگنی، مانجھا، مہندی، بارات، مڑوا، سلامی، نویداور جہیز وغیرہ جیسی رسموں کو مختلف علاقوں میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اور ان کی ادائیگی میں کافی وقت اور خطیر سرمایہ صرف کیا جاتا ہے۔ ان رسموں کا سب سے قبیح پہلو یہ ہے کہ یہ سب ہندوانہ رسمیں ہیں۔ اس کا اسلامی تہذیب سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے اور ان میں مردوزن کا بے محابہ اختلاط بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ اور معاشرے میں فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اس میں نوید، بارات اور جہیزجیسی رسمیں آج بھی تقریباً ہرجگہ رائج ہیں۔ ان رسومات کی ایجاد کا پس منظر بظاہر بہت ہمدردانہ ہے۔ کسی زمانے میں یہ معاشرے کی ضرورت ہوا کرتی تھیں۔ نوید باہمی تعاون کا مظہر تھا، بارات دولہا اور اس کے ساز وسامان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی جاتی تھی اور جہیز کو وراثت کا بدل سمجھا جاتا ہے(پاکستانی مسلمانوں کے رسوم ورواج)۔ موجودہ زمانے میں نوید اور بارات کی ضرورت یکسر ختم ہوگئی۔ نوید محض نامطلوب قرض بنتاہے۔ دولہے کو اب تحفظ کی ضرورت نہیں رہی، بارات محض شان وشوکت کے اظہار کے لیے ہوتی ہے اور میز بان کو اذیتوں میں مبتلا کرتی ہے۔ اور جہاں تک جہیز کو وراثت کا بدل سمجھنے کا مسئلہ ہے تو یہ صریحاً اسلام کی خلاف ورزی ہے(اسلام کا نظام وراثت)۔ شادی کے موقع پرجاہلانہ تحائف دے کر بیٹیوں کو اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

شادی ایک سماجی ضرورت ہے۔ اور ساتھ ہی ایک عبادت بھی۔ اسلام نے شادی کی ترغیب دی ہے اور اس موقع پر خوشی منانے کی اجازت بھی دی ہے۔ مگر شادی کے جو طور طریقے ہمارے معاشرہ میں رائج ہیں۔ اور جن رسومات کی جی جان سے پاسداری کی جاتی ہے، ان میں اکثر تعلیمات اسلام سے متصادم ہیں۔ اسلام رشتوں کے انتخابات میں دین داری کو معیار بنانے ، مجمع عام میں نکاح کرنے اور نکاح کے وقت اسلامی احکام کی تلقین کرنے، مہر اداکرنے اور ولیمہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔اور ان سب میں سادگی اور کفایت شعاری کی خاص طور پر تاکید کی ہے۔ ان اعظم النکاح برکۃ ایسرہ مؤنۃ(مسند احمد بن حنبل )۔ (سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ میں ہو) اسی معیار پر رسول اکرم ﷺ کے متعدد نکاح ہوئے۔ آپ کی چار بیٹیوں کی شادی ہوئی، تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اسی اسوہ پر قائم رہے۔ اس زمانے کی کسی بھی شادی میں دھوم دھام، فضول خرچی، بے جا نمائش کی ایک نظیر بھی نہیں ملتی۔ اسی اُسوہ کی تقلید پر آج بھی شرفاء کے یہاں سادگی ومؤنت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مگر معاشرے میں عام افراد بالخصوص مالدار طبقہ رسوم کی پاسداری اور فضول خرچی میں روز بروز آگے بڑھ رہا ہے۔ اور ان امور میں جن روایات کی پاس داری کا اسلام نے خاص طور سے حکم دیا ہے وہ نظر انداز ہوجاتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کے انتخاب میں دین داری کو معیار بنانا، ایجاب وقبول کے وقت بنیادی احکام کی یاد دہانی یعنی خطبۂ نکاح کا اہتمام اور مناسب مقدار میں مہر کی تعیین اور فوری ادائیگی کی تدابیر۔ موجودہ زمانے میں ان باتوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے جب کہ رشتوں میں استحکام کی یہی اصل بنیاد ہیں۔

موت کے بعد :

کسی بھی عزیز یا رفیق کا انتقال پسماندگان کے لیے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر مختلف مذاہب اور مختلف علاقوں میں الگ الگ رسمیں رائج ہیں، ان رسموں کی نگہبانی میں لوگ طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسلام میں میت کی تجہیز وتکفین کا بہت سادہ طریقہ بتایا گیا ہے جس میں میت کا پورا احترام ہے اور پسماندگان کے لیے تسلی کا سامان بھی۔ برادران وطن سے متأثر ہوکر کچھ لوگوں نے چند رسمیں اس موقع پر بھی گھڑلی ہیں۔ مثلاً سوئم، تیرہویںچہلم اور برسی وغیرہ۔ اگرچہ یہ رسمیں ایک مخصوص طبقہ تک محدود ہیں مگر قرآن خوانی کا رواج تقریباً ہرجگہ پایا جاتا ہے اور بڑی عقیدت سے اس کا اہتمام ہوتا ہے، جس میں میت کے انتقال پر محلہ پڑوس یا مدرسے کے بچوں کو بلاکر قرآن مجید پڑھوایا جاتا ہے اور اس موقع پر ان کے لیے ناشتہ وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس اہتمام سے پسماندگان کو تسلی ہوجاتی ہے کہ انہوں نے میت کے ایصال ثواب کے لیے کچھ کوشش کرلی اور رشتے وتعلق کا کسی قدر حق ادا ہوگیا، مگر یہ امر قابل غور ہے کہ پسماندگان اگر خود قرآن پڑھنا نہیں جانتے، ان کی زندگیاں قرآن سے دور ہیں تو کرایہ کے مہمان ان کا یا پسماندگان کا بوجھ کو کچھ بھی ہلکا نہیں کراسکتے، قرآن مجید کا جو مقام ومرتبہ ہے اور اس کے استعمال واستفادے کے جو طریقے بتائے گئے ہیں صرف انہی مواقع اور طریقوں سے اس کا استعمال ہونا چاہیے۔قرآن شادی وغمی کے مواقع کی زینت بننے کے لیے نہیں نازل ہواہے۔

مذہبی رسومات:

شریعت اسلامی میں صرف دو تہوار مشروع ہیں۔ ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی مگر برادران وطن وقفہ وقفہ سے آئے روز تہوار مناتے رہتے ہیں۔ غالباً اسی کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے بھی ۱۵؍ شعبان، ۱۲؍ ربیع الاول اور دسویں محرم کو تہوار کا دن مان کر بہت سی رسمیں ایجاد کرلی ہیں۔ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت میں بلاشبہ کچھ احادیث وارد ہوئی ہیں اور ان کا تعلق، ذکر، دعا، استغفار اور زیارت قبور سے ہے۔ مگر مسلمانوں نے اسے دیپاولی کا متبادل سمجھ کر کھیل تماشہ، آتش بازی اور طرح طرح کے حلوے ملیدہ بنانے اور کھلانے کا دن بنادیا ہے جو سراسر شریعت اسلامی کے منافی ہے۔ اور کار اجر وثواب کے بجائے قابل مواخذہ جرم ہے۔

اسی طرح احادیث میں عاشورہ محرم کے روزہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول پاک ﷺ کا معمول تھا کہ پابندی سے اس دن روزہ رکھتے تھے۔ احادیث میں اس کے کئی سبب بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اسی دن اپنے دشمن سے نجات دی۔ اس لیے بنی اسرائیل روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اکرم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ’’ہم لوگ موسیٰ کی پیروی کے زیادہ حقدار ہیں‘‘(بخاری)۔ مگر اب یوم عاشورہ کی پوری تاریخ بدل دی گئی ہے۔ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جلسہ جلوس، نعرہ بازی، سینہ کوبی، تعزیہ داری اور متعدد رسوم انجام دی جاتی ہیں۔ اور ان کا سلسلہ چالیس روز تک دراز رہتا ہے۔ یہ رسومات زیادہ تر اہل تشیع انجام دیتے ہیں، مگر سنی حضرات کی سرگرم شرکت اس کو کافی تقویت پہنچاتی ہے۔ یوم عاشورہ کی حقیقی عظمت کو بدل کر شہادت یوم حسین کے حوالے سے جو کچھ کیا جاتا ہے، اس کا اسلامی اقدار وروایات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

12؍ ربیع الاول یوم ولادت نبوی ﷺ کو کرسمس کے طرز پر منانا، جلوس نکالنا، علم بلند کرنا،  سڑکوں پر چراغاں کرنا بھی صحابہ کرامؓ اور اکابرین امت کے عمل سے ثابت نہیں ہے۔ حضور مقبول ﷺ سے سال میں صرف ایک دن عقیدت ومحبت کا اظہار کرنا اور اس کے لیے دولت و صلاحیت کا بے جا استعمال کرنا مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آپ سے محبت وتعلق اور عقیدت کا اظہار ہردن اور ہروقت ہونا چاہیے۔ آپ سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ اور ہر مرحلہ میں آپ کی مکمل تابع داری ہو۔ رسومات کو چھوڑ کر سنتوں کو زندہ کرنے کا رواج ہو۔ اور بدعات ورسومات کی بیخ کنی کرنے والے کے ساتھ نئی رسوم منسوب کرنا ظلم کی ایک شکل ہے۔

انسدادی تدابیر:

مختلف مواقع پر جن معیوب اور مضر رسموں کا اوپر تذکرہ آیا وہ اسلامی معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ ان رسومات کی پاسداری سے اسلامی تہذیب اور مسلم معاشرہ کی رسوائی ہوتی ہے۔ اسلام نے جن بلند قدروں کو پروان چڑھانے کی ترغیب دی ہے، وہ نظر انداز ہوجاتی ہیں۔ بعض دفعہ دینی عقائد واحکام کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اسراف وفضول خرچی سے جو مالی خسارہ ہوتا ہے، وہ بہت ہی تباہ کن ہوتا ہے، اصحاب ثروت کی قائم کردہ روایات پر غرباء بھی تقلید کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلاہوکر عزت وآبرو تک داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ ان رسومات کی خطرناکی جگ ظاہر ہے۔ اور ان کے سد باب کے لیے کئی طرح سے کوششیں جاری ہیں۔ حکومتیں قانون سازی کررہی ہیں، اخبارات ورسائل مضامین وتجزیے شائع کررہے ہیں۔ ٹی وی سیریل اورسوشل نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر اس کے خلاف برابر مواد آتارہتا ہے۔ تعلیمی ادارے اپنے نصاب تعلیم اور تربیتی پروگراموں میں خاص توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے خاتمے میں سب سے اہم کردار دینی تحریکوں اور جماعتوں کا ہے، یہ باقاعدہ اس کے خلاف صف آرا ہیں۔ لٹریچر تیار کررہی ہیں اور عمومی بیداری کی مہم چلارہی ہیں۔ الحمد للہ ان سب کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بے شمار رسومات کے نام تک مٹ گئے ہیں۔ جو رسمیں باقی ہیں یا چلائی جارہی ہیں۔ ان میں جہالت، ماضی پرستی اور نمود ونمائش کی خواہش کا زیادہ دخل ہے۔ ان کے انسداد کے لیے اس تحریک کو مزید مہمیزدینے کی ضرورت ہے۔ تمام شعبہائے زندگی کے لوگ اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس میں خواتین کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار پیش کرنا چاہیے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ رسموں کے بقا اور پاسداری میں خواتین کی خواہش اور اصرار کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ خواتین جب اس کے خلاف صف آرا ہوجائیں گی تو انشاء اللہ بہت جلد مذموم رسومات سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ اور معاشرہ صحیح اسلامی خطوط پر پروان چڑھنے لگے گا۔ خواتین اس بُرائی کے سدّباب کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرسکتی ہیں۔ ٭اپنی ذات اور اپنے گھر سے مذموم روایات کے خاتمہ کا اعلان کریں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں۔ ممکن ہے شیطان ورغلائے، معاشرہ کی مخالفت کا خوف دلائے، اعزاء واقارب کچھ رسموں کی پاسداری پر اصرار کریں۔ حکمت کے ساتھ اپنے عزم پر قائم رہ کر ان کا خاتمہ کریں اور دوسروں کے لیے نظیر قائم کریں۔٭اپنے گھر اور حلقہ اثر میں بیداری کے لیے کوشش کریں۔ ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ اجتماع کریں۔ ان رسومات کے نقصانات کو بتائیں۔ اور ان کی جگہ سنتوں کو زندہ کرنے کے فائدے بتائیں۔٭اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں تعلیم دلائیں جو اس کے مفاسد کا ادراک رکھتے ہیں۔ ٭اس سلسلے میں سب سے بڑا کردار گھرکے ماحول اور بزرگوں کی تربیت کا ہوتا ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پسند کے طریقہ زندگی کو متعارف کرانے، رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنے اور مضر رسومات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*