سیرت طیبہ کی جھلکیاں

آٹھویں قسط                                                                                                                                                                                                                      صفات عالم تیمی

 imagesجب کھلے عام دعوت کی گنجائش نکلتی نظر آئی تواللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمادی : وأنذر عشیرتک الأقربین ”اب آپ اپنے نزدیکی رشتے داروں کو ڈرائیں ۔ یہ حکم ملتے ہی آپ ﷺ نے اپنے نزدیکی قرابت داروں، بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اکٹھا کیا، یہ کل 45 لوگ تھے ،اوران کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی ، وحدانیت کے ثبوت فراہم کئے ،آپ نے فرمایا:

“رہنما اپنے گھر کے لوگوں سے جھوٹ نہیں بول سکتا ،اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، میں سارے انسانوں کی طرف اور خاص کر تمہاری طرف اللہ کا بھیجا گیا رسول ہوں۔اللہ کی قسم ! تم اسی طرح موت سے دوچار ہوگے جیسے سوجاتے ہو،اوراسی طرح اُٹھائے جاؤگے جیسے سوکر جاگتے ہو،پھر جوکچھ تم کرتے ہواس کا تم سے حساب لیاجائے گا،اس کے بعد یاتو ہمیشہ کے لیے جنت ہے ،یاہمیشہ کے لیے جہنم “۔

 یہ سن کر اور لوگوں نے توکوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ابولہب جو آپ کا چچا تھا،وہ سب کومخاطب کرکے کہنے لگا کہ دیکھو! اِس کی زبان پر ابھی ہی لگام کس دو، ورنہ بعدمیں ذلت اُٹھانی پڑے گی ۔ ابوطالب وہاں پر موجودتھے ، ابولہب کی یہ باتیں ابوطالب کو خراب لگیں ، ابوطالب نے آپ کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا کہ بھتیجے! تم کو جس کام کا حکم ملا ہے اسے کر گذرو، میں تمہاری مسلسل حفاظت کرتا  رہوں گا۔البتہ مجھے عبدالمطلب کے دین پر رہنے دو ۔

انہیں دنوں اللہ پاک نے ایک دوسری آیت بھی اتاردی جس میں کہا گیاتھا کہ: فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ”تمہیں جس بات کا حکم دیاجارہا ہے اسے کھلم کھلا بیان کردو،اورمشرکوں سے منہ پھیر لو۔ اس حکم کا آنا تھا کہ آپ ﷺ کوہ صفاپر جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں: یا صباحاہ ۔ اے لوگو دوڑو،یہ پکار اس بات کی علامت تھی کہ دشمن سر پر ہے یا حملہ کرنے کی تیاری میں ہے ۔اس کے بعد آپ قریش کے ایک ایک خاندان اور کنبے کا نام پکارنے لگے ،لوگوں نے پوچھا : کون پکار لگا رہا ہے ۔ بتایاگیا کہ : محمد ہیں ۔ اس پر سب لوگ اکٹھا ہو گئے ،جو نہ آسکتا تھا کسی آدمی کو بھیج دیاکہ دیکھ کر آئے کہ آخر بات کیا ہے ۔

جب سب اکٹھا ہوگئے تو آپ نے فرمایا: یہ بتاؤ اگرمیں یہ کہوں کہ اِس پہاڑ کے پیچھے وادی میں گھڑسواروں کی ایک جماعت ہے جو تم پر حملہ آورہوا چاہتی ہے تو کیاتم سچا مانوگے ۔ لوگوں نے کہا : ہاں بالکل کیوں نہیں ہم نے تو ہمیشہ آ پ کو سچا ہی پایاہے ۔ تب آپﷺ نے فرمایا:ہاں تو میں آپ سب کو ایک سخت عذاب کے دن سے ڈرا رہا ہوں۔ پھر آپ نے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر انہیں پکارا کہ اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچالو ۔ اس بیان کے بعد لوگ اِدھر اُدھربکھرگئے، نہ کسی نے اِس کی تائید کی اور نہ مخالفت سوائے ابولہب کے ،اس نے کہا : تباً لک الھذا جمعتنا  تیری ہلاکت ہو  ، کیا اسی لیے تونے ہم سب کو اکٹھا کیاتھا ۔اللہ پاک کو اس خبیث کی ادا بہت خراب لگی اور فوراً سورہ لہب نازل فرمائی: تبت یداابی لہب وتب ،جس میں بتایا گیا کہ وہ اور اس کی بیوی اوراس کا مال سب غارت ہوجائیں گے ۔

یہ دعوت کیاتھی گویاایک بجلی کا کڑکا تھا جس نے ان کے سکون کو ہلاکر رکھ دیاتھا،وہ دیکھ رہے تھے کہ اس سے تو ہماری خاندانی روایت کا صفایاہواچاہتاہے ، ہمارے بتوں کی تذلیل ہورہی ہے ، اونچ نیچ کے فاصلے مٹ جائیں گے اور ہماری چودھراہٹ جاتی رہے گی۔سارے لوگوں کے اندر یہی کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ اس دعوت کا کیاکیاجائے ، اس سے کیسے مقابلہ کیاجائے ،ان کی پریشانی اس بات سے بھی دوگنی ہورہی تھی کہ ابھی حج کا موسم آرہا ہے ،ٹھیک ہے مکہ والوں کو سمجھا بجھاکر محمد سے دور رکھیں گے لیکن باہرسے آنے والے حاجیوں کو محمد ﷺسے دور کیسے رکھاجائے ۔

اسی ایجنڈاکو لے کر قریش کی ایک بیٹھک ہوئی ولید بن مغیرہ کے ساتھ جو ان میں عمردراز بھی تھا اور صاحب مرتبہ بھی ،اس نے لوگوں کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو: محمدﷺکے پیغام سے مکہ کے لوگوں کو تو کسی طرح ہم دور رکھ سکتے ہیں لیکن باہر سے جو لوگ مکہ میں حج کرنے آئیں گے ان کو محمد ﷺسے دور رکھنے کے لیے ابھی ہی سےکوئی پلان بنالو ۔ تاکہ سب ان سے ایک ہی بات کہواور اس طرح محمدﷺ کا جادو کسی پر نہ چل سکے ۔ چنانچہ لوگوں نے کہا کہ ہم اسے کاہن کہیں گے،لیکن ولید نے اِس تجویز کو رد کر دیا اورکہا کہ نہیں اس کے اندر کاہنوں کی سی حرکت نہیں پائی جاتی ۔ لوگوں نے کہا کہ اچھا تو ہم اسے پاگل کہیں گے ۔ لیکن ولید نے اس تجویز کو بھی رد کردیا کہ وہ پاگلوں کی سی باتیں تو نہیں کہتا، لوگوں نے کہا : تب ہم کہیں گے کہ وہ شاعرہے ،لیکن اسے بھی رد کردیاکہ اس کی باتوںمیں شاعری کی جھلک بالکل نہیں پائی جاتی،لوگوں نے کہا کہ اچھا تو ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے ، لیکن ولید نے اسے بھی رد کردیاکہ محمدﷺجادوگروں کا سا کام نہیں کرتا ۔ تھک ہار کر لوگوں نے ولید سے کہا :: اب آپ ہی بتائیے کہ اسے ہم کیا کہیں کہ لوگ اس کے پیغام سے دور ہوجائیں ۔ یہاں ولید نے حق کا اعتراف کیا: ولید نے کہا : اللہ کی قسم! اس کی بات میں مٹھاس ہے ،اس میں تازگی اور رونق ہے ،اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جس کا نچلا حصہ مضبوط اور اوپری حصہ پھلدا رہے ،یہ کسی انسان کا کلام ہوہی نہیں سکتا ۔تم جو بھی کہو واضح ہوجائے گا کہ وہ باطل ہے ۔لیکن باطل کی تائید تو کرنی تھی اس لیے اعلان کردیا کہ چلو اسے جادوگر ہی کہہ کر پکارو ، دیکھتے ہی دیکھتے حج کا موسم آگیا، اتفاق کے مطابق یہ لوگ حج کے لیے آنے والوں کے راستے میں بیٹھنے لگے ،جو بھی ان کے پاس سے گذرتا اسے محمدﷺ سے ڈراتے ،اللہ کے رسول ﷺ حاجیوں کے مجمع اورڈیروںمیں جاجاکر انہیں اسلام کی طرف بلاتے اورکہتے :یا أیھالناس قولوا  لا الہ الا اللہ تفلحو ا ”اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ لو کامیاب ہوجاؤگے “لیکن پیچھے سے بدبخت ابولہب پتھر مارتا اورکہتا کہ یہ پاگل اور دیوانہ ہے اس کی بات مت سنو۔

عزیز قاری!پھر کیاہوا،کس کس طرح انہوں نے پیغام محمدی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں اور محاذآرائی کی کیا کیا شکلیں اپنائی، اس کی تفصیل ہم اگلی قسط میں پیش  کریں  گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*