خواتین کے فرائض

                                          بشری ارشد تیمی

المرأة المسلمة ابتدائے آفرینش سے ہی مرداورعورت دونوں انسان کی معاشرتی وتہذیبی زندگی کی بنیادہیں ،ان دونوں سے کائنات میں رونق اورزندگی کے آثار ہیں ،اوریہی دونوں نوع انسانی کی بقاکاسبب ہیں ،معاشرہ کا توازن صحیح طورپربرقراررہے ،اس کے لیے مرداورعورت میں سے ہرایک کے اوپر کچھ فرائض اورذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،اوردراصل ان فرائض کی ادائیگی میں معاشرہ کی کامیابی وسکون کارازمضمرہے ،ان فرائض میں مردوں کی بہ نسبت عورتوں کے فرائض کوزیادہ اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ معاشرہ گھرسے شروع ہوتاہے ،اورگھرعورت سے ،گھرمیں عورتوں کومرکزی وکلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے ،اس لحاظ سے معاشرہ کے صلاح وفسادمیں خواتین کاکردارنسبتازیادہ اہم ہوتاہے ،آج جب ہم اپنے معاشرہ کی سنگین اوربدترین صورتحال کے اسباب کاپتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو “اپنے فرائض سے خواتین کی غفلت” ایک بڑی وجہ کی شکل میں سامنے آتی ہے ،حقیقت تویہ ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے خواتین کے حقوق اوران کی آزادی کے نعروں میں خواتین کے فرائض کی اہمیت دب کررہ گئی ہے حالاں کہ ضرورت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کوخواتین کی آزادی اوران کے حقوق کی بحالی سے کہیں زیادہ فرائض کی ادائیگی کے تئیں ان کی سنجیدگی اوراحساس ذمہ داری کی ضرورت ہے ۔

خواتین کے فرائض کیاہیں ؟ مخصوص حالات میں کون سی مخصوص ذمہ داریاں ان پہ عائد ہوں گی ؟ ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے ہم خواتین کے فرائض کوتین ذیلی عنوانات میں تقسیم کرسکتے ہیں :

(1) خواتین اپنی ذات کے دائرہ میں

( 2) خواتین اپنے گھرکے دائرہ میں

(3) خوتین اپنے سماج کے دائرہ میں

خواتین اپنی ذات کے دائرہ میں: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرد وعورت میں سے ہرانسان اپنے نفس کاذمہ دار ہوتاہے ،خواتین کے فرائض ان کے نفس کے تئیں دوطرح کے ہوسکتے ہیں ،

٭ بحیثیت  انسان

٭ بحیثیت عورت

٭ بحیثیت انسان : ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ہرعورت کافریضہ ہے کہ وہ اس مقصد کوسمجھے جس کے لیے اسے روئے زمین پرپیداکیاگیاہے ،اوروہ بلاشبہ رب العالمین کی عبادت واطاعت اوراس کے ذریعے رب کوراضی کرکے آخرت میں نجات اورجنت کاحصول ہے ،اس مقصدکوسامنے رکھتے ہوئے ہرعورت پرتمام اوامرکی بجاآوری اورتمام نواہی سے اجتناب لازم ہے ،انسان ہونے کی حیثیت سے خواتین ان تمام شرعی احکام کی مکلف ہیں جن کے مردمکلف ہیں الایہ کہ کوئی مسئلہ استثنائی ہو۔

٭ بحیثیت عورت : عورت ہونے کی حیثیت سے خواتین پر کچھ الگ قسم کے فرائض بھی عائد ہوتے ہیں ،مثلاگھرکواپنامستقل ٹھکانابنانا،پردہ کالزوم ،غیرمحرم مردوں سے عدم اختلاط وغیرہ ،یہ احکام اسلام نے خواتین کی بھلائی اوربہتری کے لیے دیئے ہیں ، ان میں کسی قسم کی زیادتی اورشخصی آزادی کااستحصال نہیں جیساکہ بعض کج فہم لوگ سمجھتے ہیں ،بہرحال خواتین کے فرائض میں ان احکامات کی پیروی بھی لازمی طور پر شامل ہے۔

خواتین کے فرائض اپنے گھرکے تئیں : گھرمیں خواتین کی تین بنیادی حیثیتیں ہوتی ہیں ،بیٹی ،بیوی ،اورماں کی ،اس لحاظ سے ان پر مخصوص فرائض عائد ہیں :

٭ بحیثیت بیٹی : بیٹی والدین کی عزت اوربھائی کاغرور ہوتی ہے ،اس ناطے اس پرفرض بنتاہے کہ وہ کوئی بھی ایسی حرکت نہ کرے جس سے اس کے والدین اورخاندان کی عزت پر حرف آئے ،ایک بیٹی کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ والدین اوربھائی بہنوں کے خیروصلاح کی فکرکرے ،والدین کی اطاعت وخدمت کواپنافرض جانے ،چھوٹے بھائی بہنوں کی تربیت میں اپنی خدمت پیش کرے اورجب تک والدین کے گھررہے ان کی عزت کوبرقرار رکھتے ہوئے ان کی منظورنظر اورسماج کے لیے مثال بن کررہے ۔

٭ بحیثیت بیوی : شادی ہوجانے کے بعد ایک عورت کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے، نئے لوگ،نیا ماحول اورنئی ذمہ داریاں اس کے سامنے آتی ہیں ،ایسے میں اس کے اوپرفرض ہے کہ وہ بردباری اورتحمل سے کام لیتے ہوئے شوہرکی اطاعت وخدمت اوراس کے گھروالوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے اوراپنی انتھک کوششوں اوربے پایہ محنتوں سے اپنے گھرکو محبت کاگہوارہ جنت نشاں بنائے ۔

٭ بحیثیت ماں : ایک عورت کی زندگی میں فرائض کے لحاظ سے سب سے اہم وقت تب آتاہے جب وہ ماں بنتی ہے ،کیوں کہ ما ں کی گود ہی وہ مقام ہوتی ہے ،جہاں معاشرہ کے افراد تیارہوتے ہیں ، اب اگر ماں اپنے بچوں کی تربیت اوردیگر فرائض کے تئیں سنجیدگی سے کام لے اوران کے اندر صالحیت کوپروان چڑھانے اورانہیں اچھا انسان بنانے کے لیے تمام اسالیب تربیت کو بروئے کارلائے تو معاشرہ کے لیے صالح افراد تیار ہوں گے اورایک صالح معاشرہ وجود میں آئے گا ،اس کے برخلاف اگرمائیں اپنے بچوں کی تربیت میں سستی وغفلت کا مظاہرہ کریں ،معاملے کی سنجیدگی ا وراہمیت کویکسر بھلاکر اپنے بچوں کویونہی چھوڑدیں کہ وہ کیسے ہی پل جائیں ،یاغلط اندازسے ان کی تربیت کریں ،توایسی صورت میں یہ بچے غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں اورمعاشرہ فساد وخرابیوں کاگہوارہ بن جاتاہے ۔

لہذاایک ماں ہوتے ہوئے عورت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پوری سنجیدگی ودلجمعی سے اپنے بچوں کی تربیت کاکام انجام دے ،تربیت کے معاملے میں جسمانی ،ذہنی ،اخلاقی اوردینی تربیت کے میادین کومدنظر رکھنانہایت ضروری ہے ،مکمل شخصی نمونے کے لیے خوداعتمادی ،صبروبرداشت ،حوصلہ وہمت ،صداقت وامانت ،دیانت داری اوراصول پسندی ،شجاعت وبہادری ،جرأت وبے باکی ودیگراعلی صفات بچوں میں پیداکرنا  نہایت ضروری ہے ،بچوں کی تعلیمی ارتقاءمیں بھی ماں کے اہم فرائض ہوتے ہیں ،غرض کہ ماں ہوتے ہوئے ایک عورت کے فرائض بہت زیادہ اورمحنت وتوجہ طلب ہوتے ہیں جن کی ادائیگی کے لیے عورت کوصبر ،مستقل مزاجی اورمحنت سے کام لیناچاہیے۔

خواتین کے فرائض اپنے سماج کے تئیں : معاشرہ مردوعورت سے مل کربنتاہے ،معاشرہ کے صلاح وفسادمیں مردوعورت دونوں کاہاتھ ہوتا ہے ،اورمعاشرہ کے صلاح وفساد کی فکر بھی مردوعورت دونوں کوہی کرنی چاہئے ،حالاں کہ جب عورت اپنے تئیں اپنی ذمہ داریوں کواداکرے گی توبہت حدتک وہ سماج کے تئیں بھی اپنے فرائض اداکرنے میں کامیاب ہوجائے گی ،کیوں کہ سماج گھر سے شروع ہوتا ہے اورگھرعورت سے ،لیکن اس کے باوجود سماج کے تئیں خواتین کے اوپر کچھ خاص قسم کے فرائض بھی عائد ہوتے ہیں ،جن سے کوئی بھی خاتون مبرانہیں ہوسکتی مثلاپڑوسیوں سے اچھے تعلقات ،رشتہ داروں میں محبت ومیل ملاپ ،ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہونا ،مصیبت کے وقت دوسروں کے کام آنا،شادی بیاہ وغیرہ کے موقعوں پر مل بانٹ کرذمہ داریوں کابوجھ ہلکاکرنا،ضرورت کے وقت دوسروں کی رہنمائی کرنا ،موقع کے لحاظ سے مفیدمشورہ دینا،اگرکوئی غلط راستہ پرچل رہاہوتوحکمت ودانائی سے اس کواچھائی کی طرف موڑناوغیرہ خواتین کے سماجی فرائض ہیں ۔

علاوہ ازیں تعلیم کے فروغ خصوصاتعلیم نسواں کے فروغ کے لیے کوشاں ہونا،حقوق انسانی بطورخاص تعلیم اورحقوق نسواں کی بحالی میں اپنی خدمت پیش کرنا ،سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکے غیرشرعی رسوم ورواج مثلا جہیز وغیرہ کے خلاف کوشش کرنا ،لوگوں میں خصوصاعورتوں میں دین کی صحیح سمجھ اوراسلام کی سچی تعلیمات پہنچانا اورخصوصاعورتوں کے بیچ اصلاح کی کوشش کرنا وغیرہ بھی خواتین کے سماجی فرائض ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*