میرے قبول اسلام کی کہانی

                ترتیب و پیش کش:  اعجازالدین عمری    (کویت )

DSC02884الحمد للہ ، اللہ تعالی کا یہ بڑا فضل ہوا ہے کہ میں اپنے دل کی بات کروں ۔

میرا نام پرویز مسیح بابو مسیح ہے ، بابو مسیح میرے والد صاحب کا نام ہے ۔ میری پیدائش 1964ءمیں پاکستان کے سیالکوٹ میں ہوی ۔سیالکوٹ پاکستانی پنجاب میں واقع ہے ۔ہمارا پورا خاندان اسی خطے میں آباد ہے ۔ہم کل نو بہن بھائی ہیں جن میں میرا نمبر تیسرا ہے ۔ مجھ سے بڑے میرے ایک بھائی اور ایک بہن تھی ۔ اب وہ دونوں اس دنیا میں نہیں رہے ۔ میرا بچپن ، لڑکپن اور جوانی کا پہلا دور سیالکوٹ ہی میں گذرا ۔ میری ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد کے ایک مشنری سکول میں ہوی ۔ ایبٹ آباد ، اسلام آباد کے قریب قدرتی مناظر سے پر ایک خوبصورت علاقہ ہے ۔مجھے اس بات کا شدید افسوس رہا ہے کہ پرائمری سے آگے میں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکا ۔  میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہم نو بہن بھائی تھے اور مجھ پر ان کے نان ، نفقہ کی ذمے داری تھی ، لہذا میں نے تعلیم منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ۔پرائمری تعلیم کے دوران میں درزی کا کام سیکھنے جایا کرتا تھا پھر جب پڑھائی چھوٹ گئی تو میں نے تین چار سال تک محنت اور لگن سے اس کام کو سیکھا ۔1983ءمیں میری شادی ہوئی۔

میں ایک پروٹیسٹینٹ عیسائی تھا اور پاکستان میں عیسائی پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کا حق رکھتے ہیں ۔ وہاں کافی تعداد میں چرچ بنے ہوئے ہیں اور عیسائیوں کو وہاں مسلمانوں سے کسی قسم کا پرابلم نہیں ہے۔ میرے آ س پاس والے عیسائی بہت کم پڑھے لکھے ہیں۔ پاکستانی پروٹیسٹینٹ چرچوں میں نہیں جاتے بلکہ وہ اپنے گھروں میں ہی سارے رسوم ادا کرتے ہیں یا پھر چند مخصوص حالات میں کھلے میدانوں میں عبادت کے پروگرام کرتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں جو چرچ ہیں وہ کیتھولک طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیتھولک چرچوں میں دو مورتیاں بنی ہوتی ہیں ، ان میں سے ایک ماں مریم کی ہے تو دوسری حضرت عیسی علیہ السلام کی ۔ان دونوں کے آگے دعا کی جاتی ہے ۔ ان دونوں مورتیوں پر دوپٹے لگے ہوتے ہیں اور جب کوئی خاص دن آتا ہے تو وہ ان پر دو دوپٹے اور ڈال دیتے ہیں ۔کیتھولک مریم علیہا السلام کو ترجیح دیتے ہیں اور پہلے ان کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام ، مسیح علیہ السلام سے ان کی سفارش کریں گی ۔جبکہ پروٹیسٹینٹ مریم علیہا السلام کو مانتے ہی نہیں ۔ان کے نزدیک مریم علیہا السلام کا صرف اتنا کام تھا کہ وہ مسیح علیہ السلام کو جنم دیں پھر وہ دنیا داری میں لگ گئیں ، ان کے مطابق ان کی اور بھی اولاد تھی جن کی پرورش میں وہ مشغول ہوگئیں۔

 پروٹیسٹینٹ عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص خلوص دل سے خود کو جیسس کے سپرد کردے تو اس کو اپنے گناہوں سے توبہ کرلینا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ چرچ کا پاسٹر اور اس کے ذمہ داروں میں سے دو ایک کا ایک اجتماع رکھا جاتا ہےجس میں تمام تائبین کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور انہیں بہتے پانی میں لیجایا جاتا ہے جس میں انہیں سر تک یا کم از کم ناک تک تین بار ڈبویا جاتا ہے( اگر بہتا پانی میسرنہ ہو تو صاف و شفاف تالاب میں بھی یہ عمل ممکن ہے ) ۔ اس طرح کرنے سے ان کے عقیدہ کے مطابق ان کے پرانے گناہ دھل جاتے ہیں اور وہ باپ ،بیٹے اور روح القدس کے نام پر ایک نئی زندگی کا عہد کرتے ہیں ۔ اس عمل کو ’بپتسمہ‘ کہا جاتا ہے ۔ جوانی میں بپتسمہ لینے کو اچھا سمجھا جاتا ہے ورنہ پوری زندگی میں کم از کم ایک بار ہی سہی ان کے عقیدہ کے مطابق آدمی کو پانی سے بپتسمہ لینا چاہیے۔ 1982ءمیں میں نے بھی بپتسمہ لیا تھا ۔کیتھولک عیسائیوں کے پاس پانی میں بپتسمہ نہیں لیا جاتا بلکہ ان کا طریقہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اور اسے گود میں لیا جاتا ہے تب اسے چھوکر اس کا بپتسمہ لیا جاتا ہے ۔

پروٹیسٹینٹ کے پاس جو بائیبل ہے وہ نسبتا بہت چھوٹی اور بہت مختصرہے اس بائیبل سے جو کیتھولک فرقے کے پاس ہے ۔اس میں (جو کیتھولک کے پاس ہے ) اکبر بادشاہ اور سکندر اعظم کی بھی داستانیں درج ہیں ۔ پروٹیسٹینٹ کی بائیبل میں66 صحیفة الانبیاءاورباقی مشہور اناجیل ہیں۔

جہاں تک میں جانتا ہوں پروٹیسٹینٹ فرقے میں گروپ بندی اور پارٹی بازی زیادہ ہے ۔ادھر کویت میں بھی بہت ساری پروٹیسٹینٹ فیملی رہتی ہیں ، ان کی متعدد چرچ بھی یہاں موجود ہیں ، وہ بھی کئی ایک گروپ میں بٹے ہوے ہیں ۔

عیسائیوں میں عبادات کا وہ باقاعدہ نظام نہیں ہے جس کا تصور اسلام میں پنجوقتہ با جماعت نماز ، رمضان کے روزے ، زکاة اور حج کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔کتنا اچھا لگتا ہے جب آدمی عبادت کی تیاری کرتا ہے تو پہلے دل میں نیت کرتا ہے پھر پاک و صاف ہوکر باوضو ایک امام کے پیچھے صف باندھ کر اللہ تعالی کو یاد کرتا ہے ۔ ہر با ضمیر انسان ،جو دنیا کے مذاہب پر غور کرتا ہے یاملے جلے معاشرے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے جب ان کے طور طریقوں کا اسے علم ہوتا ہے تو اس کے اندر کا انسان ٹہوکا دیتا ہے اور اسے اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے خول سے باہر نکلے اور دل کے بند دروازے کھول کر باہر کی دنیا کا نظارہ کرے اور جان لے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے ؟ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے ؟ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ اس طرح سے غور و فکر کی دعوت ہر انسان کا ضمیر دیتا ہے ۔

 میری عمر اب تقریبا پچاس سال ہے ، یہ میرا اپنا تجربہ ہے میرے اندر کا انسان یعنی میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے اور جو انسان بھی صحیح ہوگا اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑے گا کہ اپنے دائرے سے نکل کر سچائی کی تلاش کرے، میرے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوا، آج سے تقریبا اکیس سال پہلے میں روزی روٹی کمانے کے سلسلے میں پہلی بار سعودی عرب کےپایہ تخت ریاض پہنچا۔ دو سال تک میں نے وہاں کام کیا ۔ جب تک میں سعودیہ میں تھا، میرے سارے ساتھی مسلمان تھے ، انہیں کے ساتھ میرا صبح شام اٹھنا بیٹھنا تھا اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ جمعہ کے دن مسجد میں حاضری دیتا ،      مجھے اس وقت بسم اللہ کے سوا کچھ نہیں آتا تھا ۔ لیکن میں نے اس سال اپنی پوری زندگی میں پہلی بار رمضان کے پورے تیس روزے بھی رکھے تھے ۔  جب تک سعودی عرب میں قیام رہا میری کبھی کسی عیسائی سے ملاقات نہیں ہوسکی اور نہ وہاں کوئی ایسا مکان مجھے نظر آیا جہاں عیسائی اپنی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہوں، یہ 1989ءکی بات ہے ۔میں اسلام سے قریب تھا لیکن میں نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا ۔ وہاں میرےکفیل مساعد محمد المدلج تھے ۔ یہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، غیرمسلم ہونے کے باوجود وہ میرا احترام کرتے ۔ جب بھی ملتے بڑی چاہت سے ملتے اور بڑی اپنائیت سے بات کرتے تھے ۔ وہ مجھے اسلام کی تعلیم دینے کی کوشش کرتے اور کبھی ایسا ہوتا کہ وہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے اور مجھے اسلام کی دعوت دیتے وہ مجھ سے کہا کرتے کہ پرویز تم اسلام قبول کرو، وہ کہا کرتے تھے کہ اس سلسلے میں تمہیں جو بھی مشکل درپیش ہوگی انہیں دور کرنے میں میں تمہاری مدد کرنے کے لیے تیار ہوں، مگر میں اس کی اس دعوت کو ٹالتا رہا، میرے دل میں آتا تھا کہ یہ مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں، پیسوں کا لالچ دے کر لوگوں کو مسلمان بنا لیتے ہیں مگر یہ بات بھی نہیں تھی کہ میں اس پہلو سے سوچا نہیں کرتا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں اسلام کی حقانیت کے بارے میں بہت سوچا کرتا تھا گھنٹوں غور و فکر کرتا تھا پھر جب میں کویت پہنچا تو یہاں بھی میرا اٹھنا بیٹھنا مسلمانوں ہی کے ساتھ رہا ہے ۔ وہ بھی مجھے اسلام کی دعوت دیتے رہے۔

میں نہیں جانتا کہ قبول اسلام سے پہلے میرے اندر جو تبدیلی رونما ہوی اورمیرے دل میں اپنے مذہب کے عقائد اور عبادات کے سلسلے میں جو منفی تاثر پیدا ہواہے ، وہ نفرت ہے یا کراہت ہے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انسان جب تک کسی چیز کی حقیقت کو جان نہیں لیتا تو وہ جانے انجانے اس میں ملوث رہتا ہے ۔اور انسان سچائی کو اسی وقت پاسکتا ہے جب اس کے دل کی آنکھ کھل جائے ۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ  سچائی اگرسمجھ میں آبھی جائے تو انسان ہزار کوشش کرلے لیکن جب تک اللہ تعالی کا حکم نہیں ہوتا اس وقت تک وہ اس کو قبول نہیں کرتا ۔ باوجود اس کے کہ میں اسلام اور مسلمانوں سے بہت قریب تھا مگر سچے دل سے میں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی کہ اسلام اللہ تعالی کا دین ہے جسے اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اپنے بندوں تک پہنچانے کا انتظام کیا تھا ۔

اسلام ایک صاف ستھرا دین ہے ۔ اس کی تعلیمات نہایت واضح ہیں ۔ اگر کوئی اسلام کو مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے سلوک سے جاننے کی کوشش کرے گا تو اسے مایوسی ہوگی ۔ کیونکہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میرا اٹھنا بیٹھنا زیادہ تر پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا ۔ لیکن میں ان کے کردار سے مطمئن نہیں تھا، اس لیے اگر کوئی اسلام کو جاننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی تعلیمات کی طرف توجہ کرلے ۔اسے اسلام کا حسن نمایاں طور پر نظر آئے گا ۔وہ اسلام کو اس کے اصل مآخذسے حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ حقیقی اسلام سے  روشناس ہوسکے ۔

جہاں تک اسلام قبول کرنے کا تعلق ہے ، میں اپنے دوستوں سے اس کے بارے میں سنا کرتا تھا ، کتابوں کا مطالعہ بھی کیا کرتا تھا۔ میرے دل میں تو اسلام گھر کرگیا تھا مگر مجھ میں ہمت نہیں ہو پارہی تھی کہ آگے بڑھ کر اس کو قبول بھی کرلوں ۔ میں ڈرتا تھا کہ میرے ماں باپ، بھائی بہن اوربیوی بچے ہیں اس لیے اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا تصور کرنا بھی میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔آخر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اتنے سارے بندھنوں کو توڑ کر میں ایک نیا رشتہ گلے سے لگا لیتا ۔لیکن اب سوچتاہوں تو تعجب ہوتا ہے کہ اب یہ میرے لیے ممکن کیسے ہوگیا ؟! یہ بھی اللہ تعالی کا ایک معجزہ ہے

بات یہ ہے کہ میں گردے کی شدید تکلیف میں مبتلا تھا، ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ حالت بہت نازک ہے ، لہذا آپریشن ضروری ہے پھر انہوں نے سیرئیس کنڈیشن کا حوالہ دے کر 6جون2013ء جمعرات کے دن مجھے ایڈمٹ کیا اور 12 جون کو میرا ایک میجر آپریشن عمل میں آیا ، ایڈمٹ کیے جانے کے بعد آٹھ سے دس دن تک مسلسل میں یہی سوچتا رہا ” کہ میری عمر اب کافی ہو چکی ہے، اگر میں پہلے ہی اسلام قبول کر لیتا تو کتنا اچھا ہوتا “ کیوں کہ پاکستان میں میرے بچے (دوبیٹے اوردو بیٹیاں) مجھے پیچھے چھوڑ تے ہوے پہلے ہی ا سلام کی آغوش میں آچکے تھے ۔بڑی بیٹی کی مسلمان گھرانے میں شادی ہو چکی ہے،چھوٹی بیٹی جامعہ میں تعلیم پا رہی ہے اور مزید دو سال اسلام کی تعلیم لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایک بیٹا بھی اسلامی کورس کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پہلے اسلام کی تعلیم تو حاصل ہو دنیا داری بعد میں دیکھی جائے گی ۔سکول میں دی جانے والی لازمی اسلامی تعلیم سے متاثر ہوکر انہوں نے اسلام قبول کر لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ ہم پاکستان میں جہاں رہتے ہیں وہ پورا محلہ مسلمانوں کا ہے، گھر کے پیچھے ہی مسجد ہے،میرے پڑوس میں رہنے والوں نے ہمیں کبھی تنگ نہیں کیا بلکہ خوشی اور غم میں وہ برابر شریک رہتے تھے ۔ جس کی وجہ سے اسلام کی جانب پہلے سے ان کا رجحان رہا ہے ۔

 بہت سال پہلے ہی میری بیوی اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکی ہے ، اس وقت میرے بچے بہت چھوٹے تھے ۔گھر کی خوشیاں انہیں کم ہی نصیب ہوئی ، اور پھر میں بھی روزی روٹی کے بہانے کئی سال سے گھر سے دور رہا ہوں۔ یہ اچھا ہوا کہ انہیں ایک معلم ملے جن کا نام قاری ریاض احمد ہے۔ انہوں نے میرے بچوں کی کافی حمایت کی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر تم گھر بار چھوڑکر میرے پاس آنا چاہو تو بھی آسکتے ہو ، میں(ان شاءاللہ) تمہاری ساری ضروریات پوری کروں گا ۔

بچوں کے قبول اسلام کی خبر مجھے ملی تو میں کشمکش میں مبتلا ہوگیا، ۔مجھے یہ بات نہ جانے کیوں نہیں پسند آئی ؟ اس سے میری طبیعت میں کڑواہٹ سی بھر گئی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں فون پر ہی انہیں کوستا اور برا بھلا کہتا۔ میں ان کے اس عمل سے اتنا ناراض تھا کہ دودو مہینے بات نہیں ہوتی تھی۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ میں نے اپنے بڑے بیٹے کو جان سے مار نے کی دھمکی بھی دی۔

 ایک طرف یہ حالات تھے اور دوسری جانب میں اپنے بارے میں سوچتا تھا کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں اور کبھی کبھی مجھے رونا بھی آتا تھا کہ آخر وہ میرے بچے ہیں، اگر انہوں نے اسلام قبول کر ہی لیا ہے تو کیا ہوا، میں بھی تو اسلام سے متاثر ہوں اور میں نے بھی تو اسلام کو اپنے دل میں جگہ دی تھی اور اسلام لانے کا ارادہ کیا تھا،  جب یہ خیال آیا تو میں چپ ہوگیا اور اسے تقدیر کا فیصلہ جان کر خاموش ہو رہا ۔

درحقیقت بچو ں کے اسلام لانے کے بعدمیرے اسلام کا راستہ اور آسان ہواتھا۔ ویسے تو میں مسجد یا اسلامی لیکچرس میں جاتا ہی تھا۔

 آپریشن کے بعد میرا اسلام لانے کاارادہ پختہ ہو گیا۔ ہسپتال میں رہ کر دس دن تک یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں مرگیا تو کہیں میرا حال حضور ﷺ کے چچا (ابو طالب) کا سا نہ ہوجائے، اسلام کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا اور سیرت نبوی ﷺ کے بارے میں بھی مجھے بہت کچھ پتا تھا لیکن مسلمان ہو نے کا دل نہیں ہو رہا تھا، شاید یہ بھی شیطان کا شکنجہ تھا یا دنیا کی مجبوری تھی۔ لوگوں کے طعنہ بازی کے ڈر سے مجھے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔مگر اب حالات بدل چکے تھے، میں نے اپنے ذہن سے سارے منفی اندیشے جھٹک دیے اور اپنے بیٹے سے کہا جو ہر روز مجھے فون کرکے میری خیر خیریت دریافت کیا کر تا تھا کہ‘بیٹے تمہیں اسلام لائے ہوئے دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور تم نے مجھے کبھی اسلام کی دعوت نہیں دی،لوگ تمہیں کیا کہیں گے کہ تمہارا باپ عیسائی ہے ؟۔بیٹے اب میں نے بھی مسلمان ہونے کا ارادہ کر لیا ہے اب تم مجھے بتاؤ کہ مسلمان ہو نے کے لیے میں کیا کرو ں؟ میری زبان سے یہ باتیں سن کر پہلے تو وہ بہت رویا اور پھر اس نے مجھے کلمہ پڑھایا۔ اور کہا کہ آپ کسی اسلامی مرکز سے رابطہ کریں وہ آپ کو اسلامی طور طریقے بتا دیں گے ۔ لہذا میں نے IPC میں فون کیا جہاں سے مجھے بتایا گیا کہ میں جمعہ سے دو گھنٹے پہلے وہاں پر حاضری دوں ۔لہذا 5جولائی بروز جمعہ، میں کویت سٹی میں موجود IPC کے مرکزی دفتر پہنچا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہاں میری بات سمجھنے والے بہت لوگ ہیں۔ اسلام لانے سے پہلے مجھے میرے والدین کی بہت یاد آرہی تھی اور میں سوچ رہا تھاکہ ان کو کیا جواب دوں گا، اس کے باوجود میں نے اسلام کی طرف پیش رفت کی اور اسے قبول کرلیا کیونکہ اس بار اللہ کی مشیت کو یہی منظور تھا اور میں نے بھی دل میں ٹھان رکھی تھی۔

میں نے اپنے قبول اسلام کی بات ایک بہن کے سوا کسی کو نہیں سنائی ۔اب تک دیگر خاندان والوں کو بھی اس کی اطلاع مل چکی ہوگی ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ سن کران کا تاثر کیا ہوگا ۔

جہاں تک میرا خیال ہے وہ اس بات سے ناراض ہوں گے اور جہاں تک مشکلات کی بات ہے یہ تو لازمی بات ہے ۔ مشکلات تو درپیش ہوں گی اور امکان یہی ہے کہ جب میں رشتہ داروں سے ملوں گا تووہ میرے اور بچوں کے ساتھ بدکلامی وبداخلاقی سے پیش آ ئیں گے۔ ایک طرح سے یہ ایک دراڑ ہے جو ہمارے رشتوں کے بیچ واقع ہوا ہے ۔ رشتے بہت نازک ہوا کرتے ہیں۔

میں مسلمان ہوچکاہوں اور چاہتا ہوں کہ میرے قریبی رشتہ داروں کوبھی اسلام کی دعوت دوں لیکن میں ابھی خودکو اس قابل نہیں سمجھتا ۔میری کوشش اب یہ ہے کہ سال دوسال اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کروں اور کچھ پختہ تر ہونے کے بعد انہیں اسلام کی دعوت دوں ۔ کیونکہ جب میرے پاس کچھ دلائل ہوں گے تو ہمت اور یقین کے ساتھ میں یہ کام کر سکتا ہوں ۔ پاکستان میں میرا خاندان عیسائیوں کی جس جماعت سے وابستہ ہے ان پر تو میرا یہ فیصلہ گراں ہی گزرے گا ۔ وہ میرے اور میرے بچوں کے اس فیصلے پر لعن طعن ضرورکریں گے۔مجھےشاید جان سے بھی مار ڈالیں اورمیرا گھر جلا ئیں (لیکن انہیں اس کی ہمت نہیں ہوگی کیونکہ میرے پڑوسی سب مسلمان ہیں)۔

غیر مسلموں میں یہ بات عام ہے کہ مسلمان سخت مزاج ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ ایک غلط دعوی ہے جو غلط فہمی کی بنیا دپر قائم ہے بلکہ حقیقت سے کنی کاٹنے کے لیے صرف ایک بہانہ ہے ۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ مسلمانوں کے درمیان ہی بسیرا کیا ہے اور میں نے بہت قریب سے انہیں دیکھا ہے وہ ایسے نہیں ہیں جیسے انہیں سمجھا جاتا ہے ۔ البتہ سب لوگوں کی طرح ان میں بھی اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔قبول اسلام کے بعد میں اپنے دل میں بڑی راحت محسوس کر رہا ہوں ، ایک انجانی خوشی میرے اندر سمو دی گئی ہے ۔اس نعمت پر میں اللہ کابہت شکر گزار ہو ں۔میں زیادہ تندرست نہیں ہوں لیکن اذان ہوتے ہی مسجدجاتا ہوں۔ٹھیک سے نمازنہیں آتی لیکن نماز کو جاتے جاتے اور مسجدمیں توبہ واستغفار کرتا رہتا ہوں۔ اسلام میں آنے کے بعد سے الحمدللہ میری زندگی میں بڑی برکت آئی ہے۔ میرے لیے دعا کرنا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*