ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے

                                    صفات عالم محمد زبیرتیمی                                                                                                                                                                       

मख्खीيَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوب (سورة الحج 73 )

ترجمہ: ” لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو، جن معبودوں کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ،بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور” –

تشریح: اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں انسان کی عقل کو خطاب کیا ہے کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو،ان کی تمہارے دلوں میں عزت ہے، ان کے لیے تم اپنی قیمتی سے قیمتی شے قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہو، محض اس لیے کہ تم خود پر ان کا احسان محسوس کرتے ہو یا یہ سمجھتے ہوکہ وہ تمہارے نفع اورنقصان کے مالک ہیں، اور ظاہر ہے کہ تم کوئی عام مخلوقات کے جیسے نہیں ، تم معزز اورمکرم انسان ہو، ساری مخلوق تمہاری خدمت کے لیے مسخر کی گئی ہے ، تمہیں سب پر فضیلت حاصل ہے، تم جس کے سامنے اپنی پیشانی جھکاؤ گے اس کی کم سے کم صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ تمہارے لیے ایسی چیز پیدا کرسکے جو تمہیں فائدہ پہنچانے والی ہو یا ایسی چیز کو تم سے دورکرسکے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہو، اب تصور کروکہ وہ معبود جن کے سامنے تم اپنی پیشانیاں جھکاتے ہو کیا واقعی اس کا حق رکھتے ہیں ؟ تم کسی ایک یا کچھ معبودوں کی پوجا کرتے ہوگے، بات کسی ایک یا کچھ معبودوں کی نہیں ہے ،اگر وہ سارے معبودجن کی دنیا میں پوجاکی جاتی ہے ان سب کو ایک میدان میں اکٹھا کرو، وہ سب ایک دوسرے کی مدد کریں اوران سے کہا جائے کہ انسان نہیں ، جانورنہیں بلکہ  ایک مکھی جو ایک معمولی اورحقیر مخلوق ہے جوتمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی،  بنا کرپیش کردیں اور اس کے لیے سب ایک دوسرے کی مدد کریں ۔اللہ نے کہا کہ وہ ایسا  ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے جس کا تمہیں خود علم ہے ، بلکہ مکھی بنا لینا تو دور کی بات ہے ان معبودوں پر جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ان پر مکھیاں آکر بیٹھ جاتی ہیں ان کے اندر اتنی بھی طاقت نہیں کہ ان بیٹھی ہوئی مکھیوں کو وہاں سے بھگا سکیں ۔اب ذرا تصور کروکہ تمہارے معبود اتنے کمزور ہیں کہ ایک مکھی  بنانے کی طاقت رکھنا تودورکی بات ہے اپنے کھانوں پر بیٹھی مکھیاں بھی بھگانے کی طاقت نہیں رکھتے تو تمہیں آخر کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ پھراللہ نے کہا کہ واقعی جو مانگنے والا ہے وہ بھی کمزوراورجس سے مانگا جارہا ہے وہ بھی کمزور، تم اورتمہارے معبود دونوں کمزور ہو۔

تم فطری جذبات سے مجبور ہوکر پوجا تو کرتے ہو تاہم جس کی پوجا ہونی چاہیے اسے پہچانتے نہیں ،اس لیے ایرے غیرے سب کے سامنے تمہاری پیشانی جھک رہی ہے ،اورایسا کرکے تم اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہو ، کہ یہ اپنے خالق ومالک اورمنعم حقیقی سے بغاوت ہے ،اس لیے تمہیں اپنے خالق ومالک کا عرفان حاصل کرنا چاہیے، تمہارا مالک وہ نہیں جس کے لیے تم شب وروز ریاضتیں کررہے ہو بلکہ وہ ہے جو تمہارا خالق ہے، تمہارے آباءواجداد کا خالق ہے ،جس نے تمہیں انمول جسم عطا فرمایا، تم پرہر طرح کی نعمتیں كیں، تمہارے ليےآسمان کو چھت بنایا، زمین کو فرش بنایا، زمین سے غلے اگائے ، انواع و اقسام کى سبزياں ، رنگ برنگ کے میوے اور بھانت بھانت کے پھول پیدا کئے ، جس كى عنایتيں ہر وقت جاری ہیں اورصبح قیامت تک جاری رہیں گی، توپھر تجھے کیسے زیب دیتا ہے کہ اپنے خالق ومالک کو چھوڑ کرکسی کمزور مخلوق کی پوجا کرو : فلا تجعلوا للہ أندادا وأنتم تعلمون ۔ ( سورہ بقرہ 22)  ”جب تم یہ سارے احسانات کو جانتے ہو تو پھراللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریک مت ٹھہراؤ ۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*