تھکاوٹ کا نبوی علاج

                                       شیخ مقصودالحسن فیضی

sote waqtعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ قِيلَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ. (صحيح البخاري3113 ، صحيح مسلم:2727)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار کسی خادم کی طلب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ عمل نہ  بتلاؤں  جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہو ، [ ایسا کرو کہ ] سونے سے قبل 33 بار سبحان اللہ ، 33 بار الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ۔ { صحیح بخاری و مسلم } ۔

تشریح :  جب حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی ہوئی تو ان کے پاس کوئی غلام نہیں تھا جو گھریلو کاموں میں ان کی مدد کرتے ، چنانچہ حضرت  فاطمہ رضی اللہ عنہا خودہی  چکی پیستیں ، گھر کی صفائی کرتیں ، باہر سے اپنے کندھے پر رکھ کر پانی لاتیں، جس سے ان کے کندھے ، ہاتھ وغیرہ پر نشان پڑ گئے ، گھر میں جھاڑو  لگانے کی وجہ سے چہرے اور کپڑے گرد سے اٹ جاتے تھے ۔

ایک بار آپ ﷺکے پاس کئی قیدی لائے گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اس کی اطلاع ملی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ آپ ﷺ سے کسی  لونڈی کا مطالبہ کریں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر لی اور خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں ، اس وقت آپ ﷺلوگوں کی بھیڑ میں تھے ، اور ضروتمندوں پر غلام او رلونڈی تقسیم کرنے میں مصروف تھے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس بھیڑ میں کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور اندر جاکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی آمد کا مقصد بتلایا ، اللہ کے رسول ﷺشام کو جب گھر میں داخل ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آمد کا مقصد سنا تو آپ سیدھے حضرت علی و فاطمہ کے یہاں تشریف لے گئے ، یہ وقت عشا کے بعد کا وقت تھا اورحضرت علی و فاطمہ اپنے بستر پر جاچکے تھے، آپ ﷺ نے دروازے پر دستک دی اور اندر آنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوگئے ، حضرت فاطمہ اپنے بستر سے اٹھنا چاہیں لیکن آپ نے انہیں روکا اور فرمایا : جیسی ہو ویسی ہی بیٹھی رہو ، پھر آپ ﷺ خود بھی اسی بستر پر حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھ گئے ، بیٹھنے کے بعد آپ نے حضرت فاطمہ سے ان کے جانے کا مقصد دریافت فرمایا ، حضرت فاطمہ خاموش رہیں اور شرم سے بات نہ کرسکیں ، آپ نے یہی سوال دوبارہ دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول اصل بات یہ ہے کہ پانی ڈھوتے ڈھوتے ان کے کندھے اور پہلو میں نشان پڑگئے ہیں ، چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں گھٹے پڑگئے ہیں ، چنانچہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی خادمہ مل جائے جوا ن کاموں میں ان کی مدد کرسکے ۔

یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل بدر کے یتیموں اور اہل صفہ کو چھوڑ کرتو تمہیں کچھ نہیں دے سکتا ، البتہ تمہیں وہ عمل بتلاتا ہوں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ، ایسا کرو کہ جب سونے کے ليے بستر پر جاؤ تو 33 بار سبحان اللہ ، 33 بار الحمد للہ ، اور 34 بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہوگا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن سے ہم نے اب تک اس ذکر کو کسی رات نہیں چھوڑا حتی کہ صفین کی رات  بھی نہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*