مومن کا آئینہ

مولاناصفی الرحمن مبارکپوری رحمه الله تعالى

 عَن ابِی ھُرَیرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم  : ”المُومِنُ مِرآةُ المُومِنِ “۔ (أخرجہ ابوداؤد باسناد حسن )

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے “ ۔(سنن ابی داود)

تشریح : مطلب یہ ہے کہ آئینہ جس طرح اپنے دیکھنے والے کے محاسن اور نقائص  بلا کم وکاست اس کے سامنے رکھ دیتا ہے اسی طرح ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے آئینہ کی طرح ہے کہ وہ اپنے بھائی کو عیوب اور نقائص پر متنبہ کرکے اسے خبردار کردیتا ہے کہ اپنی اصلاح کرلے۔

یہ کام آئینہ اپنے دیکھنے والے کوہی بتاتا ہے ‘ دوسرے کے روبرو چغلی نہیں کھاتا اور آئینہ اتنا عیب ونقص ہی بتاتا ہے جتنا دیکھنے والے کے چہرے مہرے میں ہوتا ہے اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہیں کرتا اور اس کے سامنے بیان کرتا ہے ‘اس کی عدم موجودگی اور پیٹھ پیچھے نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک مومن کو اپنے مومن بھائی کے سامنے اس کے عیوب بیان کرنے چاہئیں ‘اس کی غیرموجودگی میں نہیں اور اتنے عیوب ہی بیان کرنے چاہئیں جتنے حقیقت میں اس میں پائے جاتے ہوں ‘ اس میں اپنی جانب سے کمی بیشی نہ کرے ۔

آئینہ ٹکڑے ہوکر بھی اپنے دیکھنے والے کے عیوب ہر ٹکڑے میں وہی دکھاتا ہے جو اس میں پائے جاتے ہیں ‘اسی طرح مومن کو اپنے بھائی سے ناراض ہوکر بھی اپنے مومن بھائی کے عیوب اتنے ہی بیان کرنے چاہئیں جتنے فی الواقع اس میں پائے جاتے ہیں ۔

آئینہ ٹوٹ کراپنی اصلیت نہیں کھودیتا ‘ اسی طرح مومن کو اپنی اصلیت کھونہیںدینی چاہیے اورمومن کو اپنے عیوب پر تنبیہ کو اپنے لیے سچی خیرخواہی اور حقیقی ہمدردی سمجھنا چاہیے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*