قانونِ عروج وزوال

 مولانا محمد ثناءاللہ عمری ( ایم اے )

اِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِہِم وَذَا اَرَادَ اللّہُ بِقَومٍ سُوءاً فَلاَ مَرَدَّ لَہُ وَمَا لَہُم مِّن دُونِہِ مِن وَال﴿ (سورة رعد 11)

ترجمہ: ”بلاشبہ اللہ تعالی کبھی اس حالت کو نہیں بدلتا جوکسی گروہ کو حاصل ہوتی ہے جب تک کہ وہ خودہی اپنی صلاحیت نہ بدل ڈالے اور پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کسی گروہ کو(اس کی تغیر صلاحیت کی پاداش میں ) مصیبت پہنچے تو (مصیبت پہنچ کرہی رہتی ہے ) وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور اللہ کے سواکوئی نہیں جو اس کا کارساز ہو“۔

تشریح : اس آیت میں قوموں کے عروج کا راز اور ان کے زوال کا حال بیان ہوا ہے ۔

دنیا عالم اسباب ہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہنے سے کسی کو کچھ نہیں ملتا، نتائج جدوجہد کی رہین منت ہیں۔ قوموں کو اپنی زبوںحالی کا احساس ہو اور وہ اسے خوش طالعی سے بدل دینے کا عزم بالجزم کرلیں اور صحیح خطوط پر جہد مسلسل کرتے رہیں تو اللہ تعالی جو کارساز حقیقی ہے انہیں عزت وسربلندی سے ہمکنار کردے گا جو اس کی نعمت ہے، انعام ہے ۔ اسی طرح جو قومیں ان نعمتوں اور انعاموں سے سرفراز ہونے کے بعد منعم حقیقی کو بھول جاتی اورکفران نعمت کرنے لگتی ہیں تو جس دربار سے ان کی عزت وسربلندی کا فرمان صادر ہوا تھا اسی دربار سے ان کی ذلت وخواری کے احکام بھی جاری اور نافذ ہوتے ہیں ۔ مولانا آزاد رحمه الله نے اس ضمن میں کیسا بلیغ اور جامع جملہ لکھا ہے : ”ہرقوم خودہی اپنی زندگی کا گہوارہ بناتی ہے اور پھراپنے ہاتھوں سے اپنی قبر بھی کھودتی ہے ۔“

جو شخص قوموں اور ملکوں کی تاریخ کا جتنا زیادہ اور جس قدر بامقصد مطالعہ کرے گا اسی تناسب سے وہ قرآن کے اس بیان کی صداقت معلوم کرلے گا ، تاریخ سے ہٹ کر حالات حاضرہ کی بھی زبان سے ہم اس حقیقت کا اعلان سن لے سکتے ہیں ۔ مذکورہ بالا آیت سورہ رعد کی ہے، اس آیت میں جس بجلی (یہاں لفظ رعد ذہن میں رکھئے ) کے چمکنے اور قوموں کو پستی سے نکالنے اور جس بجلی کے گرنے اور مغرور قوموں کو جلاکر خاکستر بنادینے کی بات کہی گئی ہے وہ ایک اصول کے طور پر کہی گئی ہے ۔ یعنی تریاق حیات بخش اور سنکھیا قاتل ہے ۔

لیکن سورہ انفال کی ایک آیت اس اصول کی نشاندہی کے ساتھ ایک تاریخی مثال بھی پیش کرتی ہے ۔ ارشاد ہے : ذَلِکَ بِاَنَّ اللّہَ لَم یَکُ مُغَیِّراً نِّعمَةً انعَمَہَا عَلَی قَومٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِہِم وَاَنَّ اللّہَ سَمِیع عَلِیم  (سورہ انفال 53)

”(اور)یہ بات اس لیے ہوئی کہ اللہ کا مقررہ قانون ہے کہ جو نعمت وہ کسی گروہ کو عطا فرماتا ہے اسے پھر کبھی نہیں بدلتا جب تک کہ خود اسی گروہ کے افراد اپنی حالت نہ بدل لیں ۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ (سب کی ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے۔“

رعد والی آیت میں ادبار سے اقبال اور اقبال سے ادبار دونوں حالتوں کا ذکر تھا مگر یہاں صرف دوسری حالت کا ذکر ہے اور مثال فرعون اور آل فرعون کی ہلاکت وغرقابی کی ہے جو اس آیت سے پہلے اور اس کے بعد دو دو بار بیان ہوئی ہے ۔

فراعنہ کا مصر بڑی شان وشوکت اور بڑے کروفر کا ملک تھا، اسی لیے مصر کے فراعنہ بڑے باغی اورمغرور ہوگئے تھے ۔ مثل مشہور ہے ”ہرفرعونے را موسی “ چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کا ظہور ہوا پھر وہ وقت آیا کہ عصائے موسی نے فرعون کے عصائے سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے ۔ اس طرح ان کے ہاتھو ںصدیوں پرانی اور وقت کی غالباً سب سے بڑی سلطنت کے وارث اور جھوٹی خدائی کے دعویدار کا قصہ تمام ہوا ۔ اس قدر بڑی پرانی اور طاقتور سلطنت ضرب کلیمی کے مقابلے میں مٹی کا گھروندا ثابت ہوئی اور بنی اسرائیل کی آزادی کا علم بلند ہوا ۔

ان آیتوں میں سارے جہانوں کے مالک ومدبر کے اسی قانون عروج وزوال امم کا ذکر کیا گیا ہے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*