چشمِ باطن جس سے کھل جائے وہ جلوہ چاہیے

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ کا ملعون پادری جوایک عرصہ سے قرآن سوزی کامنصوبہ بنارہاتھا بالآخرگذشتہ دنوں مجمع عام میں قرآن سوزی کی حرکت کرہی گذرا، اس پر طرہ یہ کہ اسی مجلس میں بڑی بے باکی کے ساتھ آئندہ رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کا مجرمانہ اعلان بھی کردیا۔ پھر اس کے بعد عیسائی مشنری چینل ’الحقیقة‘ پر قرآن کریم کے تئیں عالمی محاکمہ کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ملعون پادری اوراس کے ہمنواؤں نے قرآن، اسلام اورصاحب قرآن کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا اور ہماری پوری قوم خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی ۔

 ادھرمغرب نے اس شیطانی حرکت کو آزادی رائے کانام دے کرملعون پادری سے کوئی تعرض نہیں کیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کومجروح کرنے کی کھلی آزادی دے دی ، حدتویہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کے خلاف زبانیں کھولیں اورمظاہرے کیے انہیں بنیاد پرست کے نام سے مطعون کیا گیا۔

 اسلام اوراہل اسلام کے تئیں مغرب کے دلوں میں بغض وحسد کی جو چنگاریاں بھڑک رہی ہیں اس کی وجہ ظاہروباہرہے، آج مغربی ممالک میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، گذشتہ بارہ سال کے اندر صرف ریاستہائے امریکہ میں بارہ ہزار مساجد کی تعمیرعمل میں آچکی ہے، ایک اعدادوشمار کے مطابق 11ستمبر کے بعد سے سالانہ بیس ہزار سے زائد امریکی حلقہ بگوش اسلام ہوے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ نوواردان اسلام‘ اسلامی تعلیمات کا بیحد التزام کرتے ہیں اورداعی کی حیثیت سے معاشرے میں ابھر کر آتے ہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو ملعون پادری اورعالمی صہیونیت کی نیند حرام کیے ہوئی ہے کہ وہ اپنی پیشانی کی آنکھوں سے اپنے گھرمیں اسلام کی بالادستی دیکھ رہے ہیں۔ اسلام اوراہل اسلام کے تئیں اگرمغرب کی یہی ایک کارستانی ہوتی تو مسلمانوں کو صبرکی تلقین کرکے معاملے کو نظرانداز کرنے کا مشورہ دیا جاتا جبکہ یہاں صورتحال تو یہ ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا ان کے بنیادی اہداف میں شامل ہے ۔

 اس لیے آج ضرورت ہے کہ صہیونیت کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھایا جائے جو ہر زمانے میں نیا چولا بدلتی رہی ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب اس نے مستشرقین کی کھیپ تیار کرکے اسلام اوراس کی تعلیمات پر رکیک حملے کیے ، پھر استعماری منصوبہ کے تحت اسلامی ملکوں میں قدم رکھا،جب عالم اسلام میں بیداری کی تحریک شروع ہوئی تو ”پھوٹ ڈالوحکومت کرو“کی پالیسی اپنائی،اورجب مشرق وسطی میں پٹرول کے ذخائر سامنے آئے توان پر للچائی نگاہ ڈالتے ہوئے اپناتسلط جمانے کے لیے سارے حربے استعمال کئے اورتاہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیبیاکی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے ۔

 ایک طرف مشرق وسطی کوسیاسی ،جغرافیائی ،اورمذہبی سطح پر بیرونی مداخلت کا سامنا ہے تو دوسری طرف اس کی داخلی سلامتی خطرے میں ہے۔ ابھی گذشتہ دوماہ قبل عالم عرب میں احتجاج کی جو لہرچلی تھی جس کے ذریعہ متعددآمراور ڈکٹیٹرحکمرانوں کو قصر اقتدار چھوڑ کربھاگنا پڑاتھا اب اس کے پس پردہ کتنے ناگ ہیں جو پہلے بل میں گھسے تھے،موقع سے فائدہ اٹھاکر پھن پھیلائے ڈسنے کوتیار ہیں۔ حالات بہت سنگین ہیں اوردشمن بڑے شاطر اورچالباز ہیں، ایسی نازک صورتحال میں جہاں خلیجی ممالک کے حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے حقیقی دوست اوردشمن کی شناخت کریں، آئندہ کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ہرمیدان میں افرادسازی کا کام شروع کریں، سائنس وٹیکنالوجی اورعصری علوم کے معیاری مراکز قائم کریں اورنئی نسل کو حریف کے شانہ بشانہ چلنے کا گر سکھائیں تاکہ ہمیں دشمن سے استغنا حاصل ہوسکے ۔ اسی طرح دینی مراکز، دعوتی اداروں اور مسلم تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ آپس میں متحد ہوکر قرآن وسنت کی صحیح تعلیمات کی روشنی میں دعوت اوراصلاح دونوں محاذوں پر منظم طریقے سے کام کا آغازکریں مبادا کہ دین کے بازار میں کھوٹے سکوں کی تشہیر کرنے والے نام نہاد دھرم پرچارک ہماری نئی نسل کے ذہن کو پراگندہ کردیں ۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، اب غفلت کا وقت نہیں رہا، اگرآج غفلت کی توکل تاریخ ہمیں ہرگز معاف نہ کرے گی ۔

 ہماری ایک بہت بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم دوسروں کوفوراً موردالزام ٹھہراتے ہیں”حکومتیں خاموش ہیں،جماعتیں کوئی کام نہیں کرتیں، مسلمان ایسے ہیں‘ مسلمان ویسے ہیں“ یہ اور اس طرح کی بیشمار باتیں ہماری مجلسوں کی زینت ہواکرتی ہیں، لیکن کبھی ہمیں توفیق نہیں ملتی کہ خود اپنے آپ میں جھانک کردیکھیں ،اپنا احتساب کریں ،قرآن پاک کی بے حرمتی کا مسئلہ ہو یا رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کاقضیہ‘ ایسے حالات میں ہم ضرور احتجاج کرتے ہیں اوراپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں لیکن کیا واقعی قرآن کریم کے ساتھ ہمارا سلوک اور پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات کے ساتھ ہمارا رویہ اطمینان بخش ہے ، یہ ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ، جب تک ہم اصلاح کا کام اپنی ذات سے شروع نہ کریں گے تب تک اسلام کی سربلندی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ قرآن کو اپنا حرزجان بنائیں، اُس کی تلاوت اورفہم وتدبر ہمارے روزانہ کے معمولات میں شامل ہوجائے، پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کی سیرت کا مطالعہ ہماری زندگی کا لازمی عنصر بن جائے ، قرآن وحدیث کی تعلیم کو اپنے گھر میں عام کریں، اس کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کریں، اِن تعلیمات کی روشنی میں اپنے معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیں اورجولوگ اب تک ان آفاقی تعلیمات سے محروم ہیں ان تک اللہ کا پیغام پہنچائیں ۔ایسا کرکے ہی ہم حقیقی معنوں میں قرآن کی عظمت کو بحال کرسکتے ہیں اورنبی پاک صلى الله عليه وسلم کے شیدائی ہونے کا حق ادا کرسکتے ہیں۔

 اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین

 صفات عالم محمدزبیر تیمی

 safatalam12yahoo.co.in 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*