بستیاں صحرا ہوگئیں

  کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیان

گھر کہیں گم ہوگیا دیوار و در کے درمیان

 کون اب اس شہر میں کس کی خبر گیری کرے؟

ہر کوئی گم اک ہجومِ بے خبر کے درمیان

 آتا رہتا ہے مری پہچان بن کر سامنے

ایک لمحہ ، ان گنت شام و سحر کے درمیان

 کیا کہے ؟ ہر دیکھنے والے کو آخر چپ لگی

گُم تھا منظر ، اختلافاتِ نظر کے درمیان

 کس کی آہٹ پر اندھیرے میں قدم بڑھتے گئے

رہنما تھا کون اِس اندھے سفر کے درمیان

 کچھ اندھیرا سا ، اُجالوں سے گلے ملتا ہوا

ہم نے اک منظر بنایا خیر و شر کے درمیان

 بستیاں ، مخمور یوں اُجڑیں کہ صحرا ہوگئیں

فاصلے بڑھنے لگے جب گھر سے گھر کے درمیان

(مخمور سعیدی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*