اسلامی بت خانے

اکثر ”چھوٹے لوگ“ ملے ہیں، عالی شان ایوانوں میں

ہم نے نقلی پھول ہی دیکھے سونے کے گلدانوں میں

 بھینٹ چڑھادی ساری ہمت ساحل کی آسائش پر

طوفانوں میں لڑنے والے ڈوب گئے میدانوں میں

 میرے لیے حیرت کی اس سے بڑھ کر کوئی بات نہیں

فرزندانِ نور ملے ہیں ظلمت کے دربانوں میں

 اِک ملّت بن کر سب بھائی ایک ہی گھر میں رہتے تھے

بٹتے بٹتے، بٹتے بٹتے، بٹ گئے کتنے خانوں میں

 دونوں ہی شیطان ہیں لیکن لال بڑا ہے یا پیلا

سارا جھگڑا بس اس پر ہے، ان دنوں شیطانوں میں

 اندھیارے افسردہ گھروں کے دور بھی ہوں تو کیوں کر ہوں

سورج تو لپٹے رکھتے ہیں غفلت کے جزدانوں میں

 قبریں ایسی، جیسے دلہنیں چوتھی کی ہوں اے زاہد

کیا کیا زیب و زینت دیکھی ”اسلامی بت خانوں“ میں

 (ابوالمجاہد زاہد)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*