ساری دنیا ان کے زیرسایہ آجائے گی

ملکہ وکٹوریہ دنیا کے پانچویں حصے پر حکمراں تھی۔ ایک روز اس نے اپنے اتالیق اور وزیراعظم لارڈ میلبورن سے دریافت کیا:

”آپ نے تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ کیا ہے، اس میں آپ کو سب سے زیادہ حیرت انگیز بات کیا نظر آئی“؟

وزیراعظم لارڈ میلبورن نے بلا تا مل جواب دیا:

”اسلام کا عروج“

اس پر ملکہ وکٹوریہ نے سوال کیا : ”آپ نے اس کے اسباب پر بھی غورکیا “؟

لارڈ میلبورن نے کہا:

 ”میر ی سمجھ میں تو ایک ہی بات آتی ہے، وہ یہ کہ ان کے پیغمبر نے انہیں ہدایت کے لیے ایک کتاب (قرآن مجید) دی تھی۔ جب تک وہ اس پر عمل پیرا رہے ترقی کی تمام راہیں ان پر کھلی رہیں۔ پھر جیسے جیسے انہوں نے اس کتاب سے بے اعتنائی برتنا شروع کی ان کا زوال ہونے لگا“۔

آگے اس نے کہا:

اگر کسی زمانے میں تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اورمسلمانوں نے   من حیث القوم پھر قرآن کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی انفرادی اور قومی زندگی قرآن کے مطابق بنالی، تو پھر ہم کیا ساری دنیا ان کے زیرسایہ آجائے گی “۔

    (’اردو ڈائجسٹ‘ لاھور،اگست 1991 ص:37۔ بحوالہ’ راہ اعتدال‘ اکتوبر 2010”آخری صفحہ“)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*