شریعت اسلامیہ میں جرم وسزا اور نفاذِ حدود (آخري قسط)

 پروفيسرڈاکٹر فريدالدين رحمه الله سابق استاذ الحديث جامعہ نعمانيہ ڈی آئی خان پاکستان

تلخیص :حافظ امداداللہ بن فريدالدين(کویت)

پچھلے شمارہ میں ہم نے اسلامی سزاو ں کی حکمتیں ،حدود کے اقسام اور بعض حدود اوران پر مقررہ سزاؤں کا ذکر کیا تھا ، ذیل کے سطور میں ان حدود کا تتمہ نیز شریعت میں نفاذ ِحدود کی شرائط کا ذکر کیا جارہا ہے

 رہزنی کی حد

چوری کی طرح رہزنی بھی قابل حد جرم ہے جس سے معاشرہ کا امن تہ وبالا ہو جاتا ہے اورسلطنت کا نظم ونسق تباہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دیگر تمام سزاﺅں کے مقابلہ میں اسکی سزا بھی انتہائی شدید مقرر فرمائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

ترجمہ:جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرانے کو دوڑ دھوپ کرتے ہیں ایسے لوگوں کی پس یہی سزا ہے۔ کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھا دیئے جائیں یا ان میں سے ہر ایک کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاﺅں کاٹ دیا جائے یا شہر بدر کر دیئے جائیں یہ سزا ان کے لیے دنیا میں سخت رسوائی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ﴿سورة المائدة آیت نمبر 34 )

 جمہور فقہاءکے نزدیک یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور رہزنی کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (فتح الباری ج 15ص119)

شراب پےنے پر حد

شراب چونکہ عقل کو پراگندہ اور ماﺅف کردےتی ہے۔ انسان کی انسانیت چونکہ عقل پر موقوف ہے،شراب انسان کو انسانیت ہی سے نہیں بلکہ حیوان سے بھی بدتر بنا کر دیوانہ کتے کی طرح بنا دیتی ہے۔ اس لیے کتاب وسنت اور اجماع ِ امت سے شراب کی حرمت قطعےت سے ثابت ہے۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: ” جو شخص شراب پئے اسکو درے مارو ،پھر اگر دوبارہ پئے پھر دُرے مارو،پھر اگر تیسری بار پئے پھر درے مارو، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسکو قتل کر دو“ ۔ ( رواہ ابن حبان والحاکم وابو داﺅد والنسائی وابن ماجہ)

پس چوتھی بار اس ارتکا بِ جرم پر قتل کرنا اس امر پر محمول ہے کہ وہ اسکی حرمت کا قائل نہےں رہا بلکہ حلال سمجھتے ہوئے اس شراب کو پی رہا ہے۔ليکن ابن حبان رحمه الله کی روایت میں مصرّح ہے اور حضرت معاویہ رضى الله عنه  سے مرفوعاً روایت ہے کہ ایک شخص حضور علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آنحضرت انے اسکو حد ماری اور قتل نہیں فرمایا،چنانچہ علماءسلف وخلف نے اتفاق کیا ہے کہ چوتھی بار شراب پینے میں قتل نہ کیا جائے۔      ( عین الھدایہ۔ ج 2ص 473)

 شریعت میں حد کے نفاذ کی شرائط

.1نصابِ شہادت اورثبوت ِشہادت میں گواہوں کی کيفيت:

اسلامی قانون میں جس جرم کی سزا سخت ہے اسکے ثبوت کے لیے شرائط بھی سخت رکھی گئی ہیں۔ اور ان سزاﺅں کے اجراءمیں انتہائی احتیاط برتنے کا حکم ہے۔ چونکہ زنا کی سزا اسلام میں انتہائی سخت ہے چنانچہ ثبوتِ زنا کے لیے سخت ترین شراط عائد کی گئی ہیں۔ اس ليے  صرف معمولی سا شبہ پیدا ہو جانے کی بناءپر حد ساقط ہو جاتی ہے۔ صرف تعزےری سزا بقدرجرم باقی رہ جاتی ہے کےونکہ عام معاملات میں دو مردوں کی گواہی يا ايک مرد اوردو عورتوں کی شہادت ثبوت کے لیے کافی ہے لیکن اسلام نے حدِ زنا کے ثبوت کے ليے شہادت کا باقاعدہ نصاب مقرر کيا ہے اور حد زنا کے لیے چار مرد گواہوں کی عینی شہادت کی شرط اس قدر ضروری ہے کہ جس میں کوئی التباس نہ ہو ۔چنانچہ فقہائے امت نے قرآن وسنت کی روشنی میںعےنی شھادت کے ضمن میں اس قدر سختی کی ہے کہ زنا پر گواہی دےنے والے عاد ل چار ايسے شخص ہوں جو فاعل ومفعول کواس حالت میں دےکھيںجيسے سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔چنانچہ شريعت محمديہ امیں زنا کے گواہوں میں گواہی کی کيفيت اور اس کے اظہار کے وقت بھی اس قدر احتياط ہے کہ”اگر چاروں گواہ يکے بعد ديگر ے آکر مجلسِ قضا میں بےٹھیں اور ايک ايک نے اٹھ اٹھ کر قاضی کے سامنے شہادت دی تو گواہی قبول کر دی جائے گی اور اگر دارالقضا کے باہر سب مجتمع تھے اور وہاں سے ايک ايک نے آکر گواہی دی تو گواہی مقبول نہیں ہو گی اور ان گواہوں پر تہمت کی حد لگائی جائے گی ۔   (ردالمختار)

 اگر شہادتِ زنا کی کوئی شرط مفقود ہونے کی بناءپر شہادت رد کی گئی ہو توپھر شہادت دینے والوں کی خیر نہیں ان پر حد قذف اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔     (معارف القرآن۔ ج 6 ص348)

اسی طرح گواہوں کی عدم موجودگی کی صورت میں اگر خود مجرم اقرار کرے تو اےسی صورت میں بھی اسلام نے احترام ِ انسانيت کے پيش نظر اس قدر احتياط کے پہلو کو مد نظر رکھا ہے کہ زانی اقبالِ جرم کرنے کی صورت میںجب گناہ کا اقرار کرے تواس کے ليے يہ شرط ہے ۔کہ وہ قاضی کے سا منے چار بار چار مجلسوں میں ہوش کی حالت میں صرےح لفظ میں زنا کا اقرار کرے اور تےن بار تک قاضی اس کے اقرار کو رد کرے جب چوتھی بار وہ اقرار کرے تو اب قاضی اس سے پانچ سوال کرے کہ زنا کس کو کہتے ہیں ،کس کے ساتھ کيا، کب کیا، کہاں کيا اور کس طرح کيا “۔  (در مختار،عالمگيری)

تب جاکر قاضی حد کا نفاذ کرے اور باوجود حد کے نفاذکے دوران ايسے شخص کے حق میں شرےعت نے ايسے اقبالی زانی کو اس قدر اختيار دے رکھاہے کہ” اقرار کرچکنے کے باوجود اب اگر( ےہی زانی)انکار کرتا ہے تو حد قائم کرنے سے پہلے يا درميا ن حد میں اثنائے حد میں بھاگنے لگا يا کہتا ہے کہ میں نے اقرار ہی نہ کيا تھا تو اسے چھوڑ ديں حد قائم نہ کريں گے اور اگر شہادت سے زنا ثابت ہوا تو رجوع يا انکار يا بھاگنے سے حد موقوف نہ کريں گے اور اگر اپنے محصن(عاقل بالغ شادی شدہ)ہونے کااقرار کيا تھا پھر اس سے رجوع کرگيا تو رجم (سنگسار) نہ کریں گے“ ۔          (در مختار)

 معلوم ہوااسلام میں احترامِ انسانيت کے حق میں کس قدر احتياط کا پہلو نماياں ہے کہ مذکورہ بالا شرائط کے ثبوت کے بعد قاضی حد کا اطلاق کرے پھر بھی اگرکوئی شخص حدوداللہ کو ظالمانہ يا وحشےانہ قرار دے تو وہ دراصل انسانيت کی عفت وعصمت کا دشمن ہے۔

.2           صحیح العقل ہونا ضروری ہے:

                اجرائے حد يعنی حد کے جاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس پر حد واقع ہو رہی ہے وہ صاحب ِعقل ہو دیوانہ، مجنون او رپاگل نہ ہو۔ کيونکہ يہ سزاحصولِ عبرت کے لیے ہے اس ليے اس مجرم کے پاس عقل ،احساس اور ادراک کاہوناشرط ہے۔ جیسے حضرت جابر رضى الله عنه سے روایت ہے کہ ماعز اسلمی  رضى الله عنه نے نبی پاک ا کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہو کر زنا کا اعتراف کیا تو آپ  صلى الله عليه وسلم نے اس سے رُخ مبارک پھیر لیا۔ وہ اعتراف کرتا رہا آپ صلى الله عليه وسلم رخ انور پھیرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اپنے گناہ پر چار مرتبہ شہادت دی۔ تب آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا:کیا تو پاگل ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں،پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا :ہاں۔ تب آپ  صلى الله عليه وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔(بخاری۔ ج 2 حدیث نمبر 1007)

اس حدیث سے صاف معلوم ہوا جس پر حد جاری کی جارہی ہو وہ صحیح العقل ہوناچاہیے۔ جیسے آپ صلى الله عليه وسلم نے حد جاری کرنے سے پہلے تحقیق فرمالی۔

 .3          تندرست اور سلیم البدن ہونا ضروری ہے:

جس پر حد جاری ہو اسے صحت مند ہونا ضروری ہے۔ بیمار اور کمزور پر حد جاری نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے کہ وہ تندرست اور قوی البدن ہو جائے اوراس میں حد کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ حضرت سعد بن عباد رضى الله عنه روایت کرتے ہیں کہ ایک دن وہ ایک ایسے شخص کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں لائے جو ناقص الخلقت اور بیمار شخص تھا ایسا بیمار تھا کہ اچھے ہونے کی اُمید نہ تھی اس شخص کو اہل محلہ کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسکے بارے میں حکم فرمایا کہ کھجور کی ایک ایسی بڑی ٹہنی لو جس میں سو چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں ہوں۔پھر اس ٹہنی سے اس شخص کو ایک دفعہ مارو۔(مظاہر حق شرح مشکوٰة ج ۳ص 614)

                بقول قاضی عیاض رحمه الله اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام المسلمین کے لیے مناسب ہے کہ جس پر تازیانہ لگایا جائیگا اس کا لحاظ کرے اور اسکی حیات پر محافظت کرے کیونکہ کوڑا مارنے میں قتل کرنا مقصود نہیں ہے۔ یوں قاضی عياض رحمه الله نے کہا ہے کہ حمل کی صورت میں تو اقامت ِحدکے اندر تاخیرکی جائیگی۔ لیکن دوسرے امراض کے اندر تاخیر نہیں ہے جیسے کہ حدیث بالا سے واضح ہے کہ جس میں بحالت مرض نبی پاک صلى الله عليه وسلم نے حدجاری فرمادی (چونکہ اس حد میں مرےض کے تندرست ہونے کی امید نہ تھی ليکن صاحبِ شريعت نے سزا کے نفاذ میں اس کی جسمانی صحت کا خصوصی خيال رکھاجو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے ليے حقوق انسانی کے عالمی علمبردار ہونے کی واضح دليل ہے ) ۔

                اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک غامدیہ عورت کو اعترافِ جرم پر لوٹاتے رہے ۔ یہانتک کہ وہ تیسر ی بارحاضر ہوئی توآپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا جب بچے کی ولادت ہو جائے تو آنا۔وہ عورت ولادت کے بعد نومولود بچے کو لے کر حاضر ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جب یہ بچہ کھانے پینے کے قابل ہو جائے تو لے کر آنا۔ وہ دودھ پلانے کی مدت گزارنے کے بعد پھر بچے کو لیکر حاضر ہوئی تو تب آپ صلى الله عليه وسلم نے رجم (سنگسار)کرنے کا حکم صادر فرمایا۔     (سنن ابو داﺅد ج 4 ص205 )

حضرت علی رضى الله عنه سے ایک حدیث مروی ہے کہ ایک لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیاتو نبی کریم انے حد جاری کرنے کا حکم دیا حضرت علی رضى الله عنه کہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ حال ہی میں اسکے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے تومجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اسے پچاس کوڑے مارتا ہوں تو وہ مر جائیگی۔ چنانچہ میں نے نبی کریم ا سے اسکا ذکر کیا۔ تو آپ ا نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا کہ اس حالت میں اس پر حد جاری نہ کی۔(مظاہر حق ج 3ص409)

تو ان احادیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوا کہ مریض کو اسکے اچھا ہونے تک مہلت دینی چاہیے۔

                ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مریض زنا کا مرتکب ہو اور شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اسکو رجم کا سزا وار گردانا جا چکا ہو تو اسکواسی مرض کی حالت میں رجم کيا جائے اور غير شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اسے اگر کوڑے مارے جانے کا سزاوار گردانا جاچکا ہوتو پھر اس کو اس وقت تک کوڑے نہ مارے جائیں جب تک کہ وہ اچھا نہ ہو جائے۔ ہاں اگر وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جس سے اچھا ہونے کی امید نہ ہو جیسے دِق ،سِل وغیرہ یا وہ ناقص الخلقت ہو تو اس صورت میں امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام شافعی رحمه الله کے نزدیک سزا پوری کرنے کے لیے اسکو کھجور کی ایک ایسی بڑی شاخ سے ماراجائے جس میں چھوٹی چھوٹی سو ٹہنیاں ہوں،ان سے اس کواس طرح مارا جائے کہ اسکی ایک ایک ٹہنی اسکے بدن پر لگ جائے۔(مظاہر حق ج 3ص409)

حاملہ عورت کے حمل کا انتظار کيا جائے

 حديثِ بالا میں جس غامدیہ عورت کے حق میں رجم کی سزا گردانی جا چکی تھی اوراسے جو مہلت دی گئی وہ دراصل اس کے حاملہ ہونے کی وجہ سے تھی ۔ لہذا حاملہ عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد حد جاری کیجائے۔ چنانچہ ا س حکم ِنبوی صلى الله عليه وسلم  میں بچہ کی ولادت کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔ اگر بچے کی ولادت کے بعد اس کی پرورش کا کوئی معقول انتظام نہیں تو رضاعت کی مدت تک مزید دو سال کی مہلت دی جائیگی۔

حدود کی گواہی میں چشم پوشی کا حکم

ترمذی شریف سے ام المومنين عائشہ صدیقہ رضى الله عنها سے رواےت ہے کہ حضور ِاقدس صلى الله عليه وسلم نے فرمايا جہاں تک ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو رفع کیا کرو اگر اس بات کی ذرا بھی گنجائش ہو کہ ملزم سزا سے بچ جائے تو اسے بچ جانے دو۔ کیونکہ معاف کر دینے میں اگر حاکم سے غلطی سرزد ہو جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں وہ غلطی کرے۔(سلامی حدود ،مولانا سید محمد متین ہاشمی ص 18 )

اسلامی سزائیں اگرچہ عبرتناک سزائیں ہیں لیکن ان سزاﺅں کے اجراءمیں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجرائے سزا میں شک سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس پر دال ہے ۔ حضرت ماعز اسلمی رضى الله عنه خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے ۔ اعتراف ِزنا کيا۔ تو آپ  صلى الله عليه وسلم نے حضرت ماعز رضى الله عنه کو ٹالنے کی کوشش کی ۔ لیکن جب حضر ت ماعز رضى الله عنه نے چار مرتبہ صریحا ًاپنے گناہ کا اعتراف کیا تو آپ  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کیا تو پاگل ہے۔ عرض کیا نہیں کیا تو شادی شدہ ہے عرض کیا نہیں تب آپ  صلى الله عليه وسلم کے حکم سے اسے رجم کر دیا گیا۔    (صحیح البخاری ج 2حدیث نمبر 1007 )

ایک روایت میں کہ اسکے اہل وعیال کے پس بھیجا کہ تم لوگ اسکی عقل میں کچھ فتور سمجھتے ہو تو انہوں نے کہا نہیں۔(عین الھدایہ ج 2ص 444 ) 

رجم کرنے کی ترتيب میں حکمت ِنبوی  

 حد ِرجم میں سب سے پہلے گواہ پتھر ماریں پھر امام پھر دوسرے لوگ۔ کیونکہ گواہ کبھی جھوٹی گواہی دینے پر جرأ ت کرتا ہے پھر اسکے قتل کا مرتکب ہونے سے ڈر کر گواہی سے پھر جاتا ہے۔ تو گویا گواہ سے شروع کرانے میں حد دور کرنے کا حیلہ نکلتا ہے۔ اگر گواہوں نے ابتداء کرنے سے انکار کیا تو حد ساقط ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر گواہ مر گئے یا غائب ہو گئے تو بھی ظاہر روایت میں حد ساقط ہو جائیگی۔ کیونکہ حد مارے جانے کی شرط جاتی رہی۔ابو داﺅد کی روایت ہے کہ جب حضرت ماعزرضى الله عنه کو پتھر کی سخت چوٹ لگی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے لیکن عبداللہ بن انیس رضى الله عنه نے انہیں اونٹ کی ایک ہڈی سے ایسا مارا کہ وہ ہلاک ہو گئے۔ جب آپ  صلى الله عليه وسلم کو بتلایا گیا تو آپ نے فرمایا۔” ھلَاّ تَرَکتُمُوہُ لَعَلَّہ یَتُوبُ فَیَتُوبَ اللّٰہُ عَلَیہِ“۔(سنن ابو داﺅد“ ج 4ص205 ) ترجمہ: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔ ہو سکتا تھا کہ وہ توبہ کر لیتا اللہ تعالیٰ اسکی توبہ کو قبول فرما لیتے“۔

 نیز جب تک مجرم کا معاملہ عدالت تک نہ پہنچے اسکی پردہ پوشی کا حکم ہے لیکن جب قبضہ عدالت میں آجائے اور تحقیق وتفتیش کے بعد جرم ثابت ہو جائے تو حد کا نفاذ ناگزیر ہو جاتا ہے چنانچہ حضرت ماعز اسلمی رضى الله عنه کے اقرار پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے اُن کے سنگسار کرنے کا حکم فرمایا مگر حضرت ہزال رضى الله عنه جنہوں نے حضرت ماعز رضى الله عنه کو بارگاہ نبوت میں حاضر ہونے اور اقرارِ جرم کا مشورہ دیا تھا ان سے فرمایا: یَا ھَزَّال لَو اِستَرتَہُ بِرَدائِکَ فَکانَ خَیراً لَّک (ابو داﺅد۔ ج 2ص245 ) ترجمہ: ”ہزال اگر تم اس پر پردہ ڈال دیتے تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا۔“

ایک طرف آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی شفقت کا یہ عالم کہ مشورہ دینے والے کو پردہ پوشی کا حکم فرماتے ہیں او ردوسری طرف حد کے نافذ کرنے میں کوئی رو رعایت نہیںفرمائی ۔

 اسلام نے اجرائے حد میں یہاں تک حکم دیا ہے کہ جس شخص پر زنا اسکے اپنے اقرار سے ثابت ہوا ہے اور پھراگراقرار کرنے والے پر حد جاری ہو رہی ہو تو وہ اپنے اقرار سے رجوع کرلے تو فوراً کوڑے مارنا یا رجم کرنا موقوف کر دیا جائیگا کیونکہ اسکے اقرار میں شبہ پیدا ہو گیا ہے اور شبہ کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ (بدائع الصنائع ج 7، ص 61)

چور کی حدکے ليے شرائط

چوری پر سزاکی تنفیذ کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔

(1) مالِ مسروق مال منقول ہو(يعنی چوری کا مال منتقل ہونے کے قابل ہو) ۔

(2) شرعاً مال متقوم ہو(ےعنی قےمت رکھنے والا مال ہو)۔ ۹مال محرز ہو (جومال حفاظت میں ہو )۔ 

(3) بقدر نصاب ہو(يعنی جس مال پرنصاب پورا ہونے کی وجہ سے زکوٰة واجب ہو)۔ (التشریع الجنائی 2/ 543)

يعنی وہ مال جس کواٹھانے کی طاقت رکھتے ہوئے قےمتی بھی ہو اور جس کے بچنے پر فائدہ بھی ہوسکے اورچوری کرتے وقت وہ مال کھلا ہو،کسی باڑ يا تالا شدہ مکان يا چوکيدارہ میں نہ ہو، ان میں سے اگرایک شرط نہ پائی گئی تو حد ساقط ہو جائیگی۔

(4) حاکم کویہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چوری کا مال ایسا مال غنیمت نہ ہو جس میں چور کا بھی حصہ تھا یا مال بیت المال کا نہ ہو۔ اس لیے کہ بیت المال میں سارق کا بھی حصہ ہے۔

 حضرت علی رضى الله عنه  نے مال خمس (زمین سے نکلے ہوئے خزانہ اور مال غنيمت)میں چوری کرنے والے کے لیے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا کہ اسمیں اسکا بھی حصہ ہے۔ (5)  جبر کی صورت میں بھی سارق کا فعل موجب حد نہیں متصور ہوگا۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ۔ 5 /155)

شبہات سے حدود ساقط ہو جاتی ہیں

 شریعت اسلامیہ کا عام قاعدہ ہے کہ شبہات سے حدود ساقط ہو جاتی ہیں تاہم اس قاعدہ کا کلی اطلاق تعزیرات پر نہیں ہوتا۔

علامہ فرید وجدی لکھتے ہیں کہ علمائے اسلام نے فرمایا ہے کہ قاضی کو تو اس بات کی طرف مائل کیا گیا ہے کہ وہ حد کو دفع کرنے کے لیے راستے پیدا کرے۔ جدید قانون میں بھی شک کا فائدہ ملزم کو بطور استحقاق حاصل ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدالتو ں کے نظام اس اصول کو بطور قانون پیش کرتے ہیں۔

 تعزير کی تعريف اور اسکی سزا کا شرعی تعين

کسی گناہ پر بغرض ِ تاديب جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزير کہتے ہیں شارع نے اس کے ليے کوئی مقدار معين نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جيسا موقع ہو اس کے مطابق عمل کرے تعزير کا اختيار صرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بیوی کو ، آقا غلام کو ،ماں باپ اپنی اولاد کو ،استاد شاگرد کو تعزير کر سکتا ہے ۔(ردالمحتار وغيرہ) تعزير دينے کی بعض صورتيں يہ ہیں:

(1) قيدکرنا(2) کوڑے مارنا (3) گو شمالی کرنا (کانوں کو مروڑنا)(4) تر ش روئی سے اس کی طرف غصہ کی نظر کرنا۔

اجرائے حد میں شک کا فائدہ

شک وشبہ کی حالت میں حد کا اجراءنہیں ہو سکتا مثلاً ممکن ہے کہ یہ شک وشبہ شرعی احکام کو مقدمہ کے خاص حالات سے متعلق کرنے یا شہادت کی نوعیت یا ملزم کی دماغی حالت کی نسبت پیدا ہو۔

اگر کسی مسلّم حکم کے مقابلہ میں جو کہ کسی خاص فعل کو قابل اجرائے حدود قرار دیتا ہواور اس میں کوئی ظاہری ضعیف حکم بھی پایا جائے تو وہ بطور شبہ متصور ہو کر مانع اجرائے حدقرار پائیگا۔ اگرچہ خود ملزم کو اس بارہ میں کوئی شبہ نہ رہا ہو۔

 اگر ملزم کو احکام شریعت میں ایسی صورت میں بھی غلط فہمی واقع ہوئی جس میں ایسی غلط فہمی کی کوئی وجہ نہ تھی اور اس نے حقیقی طور سے یہ باور کیا کہ جو کچھ وہ کر رہاتھا وہ جرم نہ تھا تب بھی اس پر حد جاری نہ کی جائیگی ۔

 مقدمات زنا میں بعض فقہاءنے اس حد تک مبالغہ کیا ہے کہ وہ زنا کے عمل کو دیکھنے والوںکو اطلاع یا شہادت نہ دینے کی صلاح دیتے ہیں۔ اگرچہ انکی شہادت قابل قبول ہوگی اگر وہ گواہی دینا چاہیں بشرطیکہ وہ عادل ہوں۔

 اس جرم کے متعلق شریعت کی مصلحت یہ ہے کہ سزا اُنہی مجرموں کو ملنی چاہیے جو تہذیب عام کی خلاف ورزی کرکے اپنے معاصی کا عام طورسے اظہار کرتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اسکے ثبوت کے لیے چار ایسے مردوں کی ضرورت ہے جنہوںنے اس عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اول تو ایسے چار آدمیوں کا ملنا ہی مشکل ہے، اگر وہ مل جائیں تو قاضی کو ہدایت ہے کہ وہ ان کی شہادت نہاےت غور سے جانچ کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان کو کوئی دھوکہ تو نہیں ہوا اور انکو اپنی شہادت سے رجوع کرنے کا موقع دے۔ مزید برآں اگر گواہوں نے فوراً حاضر ہو کر گواہی دینے میں تعویق کی تویہی واقعہ شبہ پیداکرنے کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔

  ( اصول فقہ اسلام ص 403 ۔ 404 ،جسٹس سر عبدالرحیم )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*