موبائل فون اور رِنگ ٹونز شرعی نقطہ نظر سے

عبدالجلیل منشی ۔ کویت

سائنسکی ترقی نے جہاں انسانوں کے لیے بےشمار آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں کئی فتنوں کو بھی جنم دیا ہے اورامت مسلمہ ان فتنوں کا خصوصیت کے ساتھ شکار بنی ہے۔ ان بےشمار فتنوں میں سے ایک موبائل رنگ ٹون کا فتنہ ہے جس نے اچھے خاصے باشعور اور دینی رجحان رکھنے والے لوگوں کوبھی اپنی گرفت میں جکڑرکھا ہے۔موبائل فون ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی بےشمار کمپنیوں نے طر ح طرح کے رنگ ٹون متعارف کرائے جن میںعام گھنٹی کی جگہ فلمی گانوں اور موسیقی کے سر فون یا پیغام کی آمد کی اطلاع دینے لگے اور دن بدن اس قسم کی ٹونز میں جدت اور تبدیلی آتی چلی گئی۔

  دوسری جانب جب دینی حلقوں میں اس قسم کی رنگ ٹونز کی مخالفت شروع ہوئی تو ان کمپنیوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کا ایک اور نادر موقع ہاتھ لگا اور انہوں نے اس طبقے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسلامی رنگ ٹونزکے نام پر اک نئے فتنے کو جنم دیاجس کے سبب مختلف قاری حضرات کی آواز میں قرآن کریم کی آیات کی تلاوت،کہیں اسلامی ترانے تو کہیں حمد و نعت کی گونج موبائل فونوں سے گونجنے لگیںتو کسی کے موبائل فون میںحرم مکی و مدنی میں مانگی گئیںدعائیںرنگ ٹون کی شکل اختیار کر گئیں اور اسطرح دین دار طبقہ اپنے تئیں مطمئن ہوگیا کہ وہ اپنے موبائلوں میںاسلامی ٹونزکا استعمال کرکے ایک طرف تو اجر و ثواب کا مستحق بنا تو دوسری جانب غیر اسلامی ٹونز سے بچ کر گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رہا

 پہلے مساجد میں نماز کے دوران سادہ ٹونز بجا کرتی تھی پھر موبائل ٹکنالوجی میں ترقی کے ساتھ بدقسمتی سے اللہ کے گھر میں دوران نماز موسیقی گونجنے لگی اور اسی دوران اسلامی ٹونز کی آمد کے ساتھ مختلف اسلامی ٹونز نمازیوں کے خشوع و استغراق میں خلل پیدا کرنے کا سبب بننا شروع ہو گئیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جاہل ، ناسمجھ اور دین سے دور مسلمانوں نے تواپنے فونوں میں مشرقی اور مغربی موسیقی اور گانے رنگ ٹونز کی جگہ سیٹ کرہی رکھے ہیں مگرحیرت ان مسلمان بھائیوں پر ہوتی ہے جو پنجگانہ نماز اللہ کے گھر میں ادا کرتے ہیںاور انکے موبائلوں سے بھی مساجدمیں موسیقی ابھرتی ہے اور انہیں اس بات کا قطعا احساس نہیں کہ موسیقی ہمارے دین اسلام میں حرام قرار دی گئی ہے اور موبائلوں سے موسیقی اور گانوں کی بازگشت جہاں اللہ کے گھر کے احترام کومجروح کرنے کا باعث بنتی ہے تو دوسری جانب نمازیوں کی عبادات اور خشوع وخضوع میں خلل انداز ہوتی ہے۔ جبکہ گانے بجانے اور موسیقی سننے سنانے کا مطلق حرام ہونا نبی اکی احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے مگر اسکے باوجود انہوں نے اپنے موبائل فونوں میں فلمی گانے او ر موسیقی بطور رنگ ٹون سیٹ کر رکھی ہے اور جب قرآن مجید کی تلاوت یاباجماعت نماز کے دوران بیک وقت کئی کئی فونوں سے موسیقی اور فلمی گانے گونجنے لگتے ہیںتو اللہ کی عبادت یا قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول نمازیوں کو شدید دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  عام مساجد کے علاوہ حرمین شریفین میں بھی یہ بات دیکھی گئی ہے کہ مکة المکرمة میں دوران طواف یا ادائیگی عمرہ سے متعلق دیگر مناسک کے دوران اور مسجد نبوی امیں بھی رنگ ٹون اور خصوصاموسیقی اورگانے والے رنگ ٹون معتمرین اور مصلین کے موبائلوں سے بجتے سنے گئے ہیں جو کہ یقینا ایک گناہ کبیرہ اور حرام کے درجے میں آتا ہے اورجو مسلمانوں کے سب سے زیادہ مقدس اور محترم مقامات کے تقدس اوراحترام کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

   اس سلسلے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مساجد کے باہر نمازیوں کے لیے واضح ہدایات تحریر ہوتی ہیں کہ ازراہ کرم مسجد میں داخل ہونے سے پیشتر اپنے موبائل فون بند کردیںمگر نمازی دیدہ و دانستہ یا نادانستگی میں ان ہدایات پر عمل پیراں نہیں ہوتے ۔ بعض بھائی اپنے فون کو وائبریشن پر سیٹ کردیتے ہیں۔ فون کووائبریشن پر رکھنے میںیہ قباحت ہے کہ فون یا پیغام آنے کی صورت میں نمازی کی توجہ نماز سے بھٹک کر آنے والی کال کی جانب مبذول ہوجائے گی اور اس طرح عبادت کی روح متاثر  ہوگی۔لہذاتمام مسلمانوں اور خصوصاً نمازی حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے موبائلوں میں عام سادہ سی رنگ ٹون سیٹ کرلیںتاکہ ا گر وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت اپنے موبائل بند کرنا بھول بھی جائیں تب بھی ان سے موسیقی کی بجائے عام سی تنبیہی ٹون برآمد ہوگی اور وہ مسجد میں موسیقی اور فلمی گانے نشر کرنے کے گناہ عظیم سے محفوظ رہ سکیں گے اور عام زندگی میں بھی فون کی آمد پر موسیقی اور گانے سننے سے بچ پائیں گے

  میوزیکل اور اسلامی فون ٹونز کے بارے میں علمائے دین نے فتوے بھی جاری کئے ہیں جن پر عمل کرکے مسلمان بھائی اور بہنیںنہ صرف یہ کہ گناہوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ اس سہولت سے باحسن طریقے سے مستفید بھی ہوسکیں گے۔اس بات پر تو یقینا ہر مکتبہ فکر کے علماءکرام کا اجمالی اتفاق ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ عام زندگی میں عموما ًاور مساجد اور مقامات مقدسہ میں خصوصاً میوزیکل اور گانوں پرمشتمل رنگ ٹونزکا استعمال حرام ہونے کے ساتھ ساتھ گناہ کبیرہ کا موجب بھی ہے اس لیے مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔ اب جس بات پرعام مسلمانوںمیں اختلاف پایا جاتا ہے وہ ہے اسلامی رنگ ٹونز ۔مسلمانوں کا ایک طبقہ علمائے کرام کی رائے کے احترام میں اسلامی رنگ ٹونز کو بھی درست نہیں سمجھتا جبکہ دوسرا طبقہ اسے باعث برکت و اجر و ثواب سمجھتا ہے۔

 اسی لیے یہاںعلمائے کرام کے فتاوی کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیا جائےگا کہ اسلامی رنگ ٹون کا استعمال جائز اور مناسب ہے یا نہیں۔

  سعودی عربیہ کی علماءکونسل نے اپنے متفقہ فتوے میں قرآنی آیات کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرنا حرام قرار دیا ہے۔کیونکہ انکا موقف یہ ہے کہ جب قرآنی آیات پر مبنی رنگ ٹون بجتی ہے تو فون کا جواب دینے کے لیے کال وصول کرنے والا فوراً رنگ ٹون کاٹ کر کال وصول کرلیتا ہے جس کی وجہ سے آیت مکمل نہیں ہوپاتی اور ادھوری اور غیر مکمل آیت کے معنی بدل جاتے ہیں۔ویسے بھی قرآن کا نزول انسانیت کی بھلائی اور راہنمائی کے لیے کیا گیا ہے نہ کہ اسکی آیات مقدسہ کو رنگ ٹون کے طو ر پر استعمال کرنے کے لیے

  مصر کے مفتی اعظم مفتی علی جمعہ نے اسلامی رنگ ٹون کی مخالفت میں فتوی صادر کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قرآنی آیات، اذان، ادعیہ اور احادیث کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قسم کی رنگ ٹون  غیر مناسب اور گمراہ کن ہیں اور اللہ کے نازل کردہ قرآن کے الفاظ کے معنی تبدیل کرنے کا سبب بنتی ہیں۔اللہ کے نازل کردہ کلمات مقدس ہیں اور اللہ نے ہمیں انکی تلاوت اورتسبیح کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ انہیںاجر و ثواب کی نیت سے فون رنگ کے طور پر استعمال کرنے کا۔

  مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کو پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کرنی چاہیے اور نماز کے لیے اذان صرف مساجد سے اور اپنے وقت پر دی جانی چاہیے۔ موبائل فون سے سنائی دینے والی اذان نمازیوں کے لیے پریشانی اور الجھن کا سبب بنتی ہے اور ایک گمراہ کن بات ہے۔

  بحرین کے ممتاز عالم شیخ عصام اسحاق نے مسلمانوں کوتنبیہ کی ہے کہ وہ قرآنی آیات کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ عام مسلمان قرآنی آیا ت کو بطور رنگ ٹون اجر و ثواب اور مذہب کی تعظیم کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر عوام الناس دین سے نابلد ہونے کے باعث نادانستگی میں اجر و ثواب کی بجائے گناہ سمیٹتے ہیں اور دین کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔قرآن رشد وہدایت کا ذریعہ ہے ،اسے رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 

اسلامی رنگ ٹون کی شرعی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے دارالعلوم کراچی سے جو فتوی صادر ہوا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ: 

 فقہی عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی آیات، ذکر و تسبیح، درود شریف وغیرہ کے کلمات اور ایسی نظمیں یا نعتیںجو ذکر اللہ پر مشتمل ہوںاور ان سے مقصود ذکراللہ ہو، مثلااسمائے حسنی پر مشتمل نظم وغیرہ ایسی تمام چیزوں کو ذکر کے علاوہ کسی اور جائز مقصد کے لیے استعمال کرنے کے جواز اور عدم جواز کا مداراغراض ومقاصد پر ہے، اگر مقصد شرعاً درست ہوتو اس مقصد کے لیے انکا استعمال جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔ مثلا مقاصد دو قسم کے ہوسکتے ہیں: (1) تذکیرلذکر اللہ (2) اعلام

 مذکورہ بالا مقدس کلمات کوفون سننے کی گھنٹی کی جگہ استعمال کرنے سے اگر یہ مقصد ہو کہ کوئی شخص فون کرے توجب تک فون نہ اٹھایا جائے اس وقت تک وہ اللہ کے مقدس کلام، ذکراللہ یادینی یا اصلاحی مضامین پر مشتمل نظموں یا نعتوں سے مستفیض ہوتا رہے تو اس مقصد کے لیے مذکورہ بالا مقدس کلمات کوفون سننے کی گھنٹی کی جگہ استعمال کرنے کی فی نفسہ گنجائش معلوم ہوتی ہے، لیکن چونکہ مذکورہ بالامقصد کے حصول میںشرعا ًدرج ذیل دو خرابیاں لازم آسکتی ہیں، اس لیے ان سے بچنا ضروری ہوگا:

 1۔ پہلی خرابی یہ لازم آتی ہے کہ اچانک درمیان میں فون اٹھانے کی صورت میں قرآنی آیات درمیان میں کٹ جائےں گی، جس سے ان آیات کی بے ادبی لازم آتی ہے، لہذا قرآنی آیات اس مقصد کے لیے استعمال نہ کی جائیں، نہ سننے میں نہ سنانے میں۔

 2۔ دوسری خرابی یہ لازم آتی ہے کہ جس شخص کو فون کیا گیا ہے بعض اوقات وہ بیت الخلاءمیں ہوتا ہے تو فون آنے پر ایسی حالت میںمذکورہ مقدس کلمات کے موبائل فون پر جاری ہونے میں بے ادبی ہوگی، لہذا مقدس کلمات فون سننے کی گھنٹی کی جگہ استعمال نہ کئے جائیں۔

اور اگر دوسرامقصد یعنی “اعلام” پیش نظر ہویعنی مذکورہ مقدس کلمات کو اس لیے موبائل فون میں مقرر کیا جائے تاکہ اسکے ذریعے فون آنے کی اطلاع ملنے کا فائدہ حاصل ہوتو اس مقصد کے لیے مذکورہ بالاکلمات کو استعمال کرنادرست نہیں، مکروہ ہے۔

 3 ۔ فون کرنے والا اگر کسی شخص کو فون کرے اور اس نے اپنے موبائل میںقرآنی آیات کی ریکارڈنگ لگا رکھی ہواور اسکے فون اٹھانے کی صورت میںآیت درمیان میں کٹ جاتی ہے تو اس کی ذمے داری اس شخص پر ہے جس نے اپنے فون میں اس قسم کی ریکارڈنگ لگا ئی ہے۔

 اگر کسی شخص نے گانے کی ریکارڈنگ اپنے فون میں مقرر کر رکھی ہے اور فون کرنے والے شخص کے کان میں اس گانے کی آواز بلا اختیار آئے تو اس صورت میں وہ فون کرنے والا شخص گناہ گار نہ ہوگا، ہاں قصدا ًسننے سے وہ گناہ گار ہوگا، اس لیے حتی الامکان سننے سے اجتناب ضروری ہے۔

 4۔ گاڑی کی اسٹارٹنگ میںمقرر کی گئی “دعائے سفر”کی ریکارڈنگ اگر گاڑی سٹارٹ ہونے کے بعدمکمل ہو کر ختم ہوتی ہے، درمیان میں ناتمام طور پر نہیں کٹتی تو اس کے مقررکرنے میں کوئی حرج نہیں، کیوںکہ اس صورت میں دعائے سفر کی تذکیر پائی جاتی ہے، جو ایک نیک مقصد ہے۔

 مندرجہ بالا فتاوی کی روشنی میں ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اجر و ثواب اور دین سے محبت کے اظہار کے لیے کیا جانے والا عمل علم کی کمی کے سبب کہیں ہمیں اللہ کی رحمت و مغفرت کی بجائے اسکے غضب اور ناراضگی کا سزاوار ٹھہرانے کا سبب نہ بن جائے۔ہر مسلمان کو دین کا اتنا بنیادی علم تو ضرورہونا ہی چاہیے کہ جس کی بنیاد پر وہ نیک اور بد عمل کا فرق سمجھ سکے اورلا علمی کے سبب نیکی کے بجائے معصیت کا ارتکاب نہ کر بیٹھے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*