اسلام میں مہنگائی کا علاج

سعيدالرحمن نورالعين

 تاريخ واقعات کو دہراتی ہے۔ اشےائے خوردنی کی قےمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں،بلکہ ہر دور کے لوگوں کو اس مصیبت سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کی خدمت عالیہ میں بعض صحابہ کرام تشریف لائے اور آپ سے ضروری اشیاءکی قےمتوں کی گرانی کا شکوہ کیا، ساتھ ہی اشیائے خوردنی کے نرخ کی تعیین کی بھی بات کی۔ لیکن نبی صلى الله عليه وسلم  نے اس سے انکار کردیا اور ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ قیمتوں میں کمی اور بےشی کرتا ہے“۔

 (سنن ابوداود1543،سنن ترمذی4131 ، سنن ابن ماجہ 2200، شےخ البانی نے اس حديث کو صحيح قرار ديا ہے ۔)

عہدِ نبوی کے بعد بہت سارے خلفاء کے دور میں انسانيت کو قحط سالی ، بھوک مری اور مہنگائی جیسی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان سب میں عباسی دورِ حکومت کی مہنگائی سب سے خطرناک تھی۔جسے امام مقريزی نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے :” عہد عباسی میں قيمتوں میں اضافے کی وجہ سے عام استعمال کی چيزیں انسانی پہنچ سے باہر ہوگئيں۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ لوگ کتے اور بلیوں کو پکڑ پکڑ کر کھانے لگے۔جب شہر کے کتے اور بلیاں کم پڑ گئے، تو انہیں بھی پانچ پانچ درہم میں بیچا جانے لگا۔ بلکہ نوبت بایں جا رسيد کہ لوگ آدم خورہوگئے۔ اور باہم ایک دوسرے کو کھانا شروع کردیا۔ ایک جماعت نے یہ طريقہ اختيار کیا کہ وہ رسی اور آنکس لے کر گھر کے چھتوں پر جابےٹھتے اور گزرنے والے انسان کو رسی اور آنکس کی مدد سے اوپر اپنے پاس کھینچ کر کھاجاتے۔ حاکمِ وقت مستنصر کا حال یہ ہوگيا کہ اس نے اپنے دربار کے سارے سامان فروخت کردیئے اور چٹائی پر بيٹھنے لگا۔ ایک موقعے سے اس کا وزير گدھے پر سوار ہوکر اس کے پاس آیا ۔ لوگوں نے پہلے اس وزير کے گدھے کو پھر اس وزير کو کھاکر اپنی بھوک مٹائی۔“(اغاثة الامة بکشف الغمة:ص41)

مہنگائی کے اسباب

1- دين بےزاری اور معصيت کا ارتکاب:

آج ہم جس ماحول اور جس زمانے میں سانسیں لے رہے ہیں،وہ فتنوں کا دور ہے۔ ہرسوبے حيائیوں کا بازار گرم ہے۔ معاشرے پر برائیوں کی دبيز چادر اور موٹی پرت پڑی ہوئی ہے۔ قدم قدم پر فیشن کے نام پر دينی احکامات و تعلیمات کا خون ہو رہا ہے۔ قدریں نابود ہوچکی ہیں اور ایمان متزلزل ہے۔ نام ہی کے مسلمان رہ گئے ۔ نہ ایمان ہے اور نہ ہی اس کی روح۔ معاشرہ فحاشی اور ننگے پن جیسی برائیوں سے جوجھ رہا ہے جس نے انسانی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ انسان ، انسانیت کی صف سے نکل کر حيوانيت اور بہیمیت کے صف میں جا کھڑا ہے۔ معاشرے کی یہ تبديلی بھی فطرت کے عین موافق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ظَہَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحرِ بِمَا کَسَبَت ایدِی النَّاس  ترجمہ:”لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے سمندر اور خشکی میں فساد ظاہر ہوگيا۔“( سورة الروم41)

یہ بات صد فی صد درست ہے۔ ہر شخص دنیا کے پیچھے شترِ بے مہار بنا بھاگ رہا ہے۔ آخرت،حساب وکتاب اور موت کا چنداں احساس نہیں۔ نتيجہ سامنے ہے۔ انسانيت خاک وخون میں تڑپ رہی ہے۔ آہ و فغاں کی صدائے دلدوزاور بے چینی اندرونی کرب کا پتہ ديتے ہیں اور یہ سب کچھ یونہی نہیں! بلکہ پیش آنے والی بڑی قيامت کے چھوٹے چھوٹے مقدمات ہیں۔ جو الٰہی قانون کے مطابق روئے زمین پر بسنے والے سرکش افراد کو ہلاکت وبربادی سے دوچار کرتے ہیں۔ آپ قانونِ فطرت کا مطالعہ کريں! گذشتہ اقوام کی تاريخ پڑھيں اسے دہرائیں! ان کے زوال کے اسباب کو جاننے کی کوشش کريں!آپ ایک ہی نقطہ پر پہنچیں گے کہ اللہ کی نافرمانی، تکبر وسرکشی اور دولت کے بے جا غرور نے ان جيسی زورآور اقوام کو خاک میں ملا ديا۔

موجودہ حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں ،انسان شرعی احکامات کی پابندی سے بھاگ رہا ہے۔ ايسے میں انسانيت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے دوچار ہے اور مہنگائی جیسی مصيبت کی مار جھیل رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مہنگائی سے بڑی کسی مصيبت سے دوچار کرے، ہم اللہ کے حضور صدق دلی سے توبہ کريں۔ بے حیائیوں اورفحاشيوں سے بالکلیہ اجتناب کرنے کا عزم بالجزم کریں۔ تاکہ ہم اس مصيبت سے نجات پاسکیں۔

2- ضروری اشياءکی ذخيرہ اندوزی:

اسلام ایک مکمل ضابطہ حيات ہے۔ اس کا ہر ہر حکم انسانوں کی فلاح وبہبود کا ضامن اورعدل وانصاف پر مبنی ہے۔ اوریہ بات بھی معلوم ہے کہ اسلام نے تجارت کو ایک معزز پیشہ قرار ديا ہے۔ اب جبکہ اسلام کی نظر میں بہترين پےشہ تجارت ہے۔ اسلام نے” لاضررولا ضرار“کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے خريدو فروخت کے چند ايسے ضوابط مقرر کئے ہیں کہ جن کی بنياد پر تجارت کا فائدہ ساری انسانی برادری کو یکساں ملے اور کوئی نقصان نہ اٹھائے۔ جن میں سے ایک ضابطہ یہ ہے کہ انسان اشيائے ضروری کی ذخيرہ اندوزی سے بالکلیہ احتراز کرے۔ تاکہ ہر چيز بازار میں حسبِ معمول وافر مقدار میں پہنچ سکے اور قلت کی وجہ سے کسی سامان کا نرخ آسمان چھوئے ۔ آج اشيائے خوردنی کی قيمتوں کے اضافے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ تجارت پیشہ افراد ذاتی منفعت کی خاطر وافر مقدار میں خاص جنس کی اشياءکی ذخیرہ اندوزی کرکے بھاؤ چڑھنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اور نقصان عام انسانيت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اور ان مفاد پرستوں کی بيوقوفيوں کی وجہ سے پوری انسانيت غربت وافلاس سے دوچار ہوتی ہے۔ یہی وہ نقصان ہے جس سے خبردار کرتے ہوئے نبی گرامی صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:” ذخيرہ اندوزی صرف خطاکار اور گنہگار شخص ہی کرے گا“۔(صحيح مسلم9215061)

3- عام ضرورت کے سامان کی قلت:

قيمتوں کی مہنگائی اور گرانی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ عام ضرورت کے سامان وافر مقدار میں مارکیٹ میں نہیں پہنچتے۔ جب سامان کا مطالبہ زیادہ ہوتا ہے اور مقدار کم ہوتی ہے تو قیمتيں خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ قلتِ سامان کے بھی بہت سارے اسباب ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:

ا-قحط سالی اور بارش کی کمی                                       

 ب-سستی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی۔

ج-زراعت کے طريقوں سے ناآشنائی     

د- سود اور ديگر حرام کاروبار کا رواج۔

ھ- ضرورت کے سامان کی ذخيرہ اندوزی وغيرہ

4-فضول خرچی:

قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم سبب لوگوں میں بڑھتی فضول خرچی کے مظاہر بھی ہیں۔ آج دولت کے نشہ میں بدمست حضرات پیسہ خرچ کرنے میں دريغ نہیں کرتے۔ ہجوم کا ہجوم بازاروں میں داخل ہوتا ہے اور محض شوق اور لطائفِ طبع کے لیے بہت ساری غير ضروری چيزوں میں اپنی جیبیں خالی کر آتے ہیں۔ جبکہ ایک موقعے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما گوشت لیے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ کے قريب سے گزرے۔عمر رضى الله عنه نے پوچھا: اے جابر! ہاتھ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: گوشت ہے، اچھا لگ گيا تو میں نے اسے خريد لیا۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا جو چیز تمہیں بہتر لگ جائے گی تم اسے خريد ہی لوگے؟ کیا تم اس آیت کے مصداق قرار پانے سے نہیں ڈرتے؟    ترجمہ:” اور کہا جائے گا تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی ہی میں برباد کردیں اور ان سے فائدہ اٹھا چکے، پس آج تمہیںذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، اس باعث کہ تم زمین میںناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعث بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے۔“ (احقاف 20)

عمر رضى الله عنه نے اس فعل پر جابر رضى الله عنه کو محض اس لئے ٹوکا کہ اگر ہر شخص اپنی پسنديدہ چیزیں خريدنے لگے۔ خواہشاتِ نفس کا اسير بن جائے اور نفس پر کنٹرول کی کوشش نہ کرے، تو ايسی صورت میں قلتِ سامان کے باعث مہنگائی کا خدشہ مزيد بڑھ جائے گا۔ ساتھ ہی عمررضى الله عنه  نے یہ بھی احساس دلایا کہ ایک مسلمان طبيعت کا بندہ نہیں ہوتا، اس کا نصب العين آخرت کی سرخروئی ہوتی ہے اور وہ حساب وکتاب کو ہمہ وقت سامنے رکھ کر کوئی قدم بڑھاتا ہے۔

5- معاشرے سے تعاون کا فقدان:

کسی بھی ملک، معاشرہ اور سوسائٹی کی ترقی کے ضامن اس کے افراد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے معاشرے میں بسنے والے افراد کے باہمی تعاون پر بہت زور ديا ہے۔ اعزہ و اقرباء اور پڑوسيوں اور مہمانوں کے حقوق متعين کیے، زکوة اسی لیے واجب قرار پایا کہ اس سے غريبوں کی مدد ہو ان کی دیکھ ریکھ اور ان کا پالن پوسن ہو۔ اور معاشرے کے تمام افراد سکھ چين کی زندگی بسر کريں۔ کیونکہ آپسی تال میل ہی وہ سنہری اور بيش بہا اصول ہے، جس سے کوئی خاندان،معاشرہ اور تنظيم ترقی پاسکتی ہے۔ مشکلات اس کا بال بيکا نہیں کرسکتے ۔ مصائب ان میں گھر نہیں بناسکتے ۔ صحابہ کرام کے دور میں خوشحالی، آسودگی اور توانائی کا ہی راز تھا کہ ان کے اندر بھائی چارہ، خیرسگالی، تعاون اور الفت ومحبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مالدار حضرات فقراءکی مالی اعانت کیا کرتے تھے۔جس کی وجہ سے ان میں کوئی بھی فرد بھوکا نہیں رہتا۔ واقعہ مشہور ہے : سیدنا ابوبکر رضى الله عنه کے زمانہ خلافت میںقحط سالی کے وقت عثمان رضى الله عنه کا جو صحابہ کرام میں مالداری کی وجہ سے ”غنی“ کے لقب سے مشہور تھے، گندم اور دیگر غلوں سے لدا پھدا ہزار اونٹوں کا قافلہ مدؤنہ آیا۔ اصحابِ خیر عثمان رضى الله عنه کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ اس غلے کو خرید کر مدينے کے فقراءکے مابين تقسیم کرديں۔ لیکن سيدنا عثمان رضى الله عنه نے اس سے نفع لے کر بیچنے کے بجائے خود فقراءمیں تقسيم کردیا۔

یہ ہے صحابہ کرام کے باہمی تعاون کی مثال۔ اگر بھلائی اور خیر خواہی کا جذبہ آج بھی معاشرے کے افراد میں پيدا ہوجائے تو يقين جانئے کوئی بھی سماج مہنگائی جیسی مصیبت سے دوچار نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس قوم وسماج باہمی چپقلش، دشمنی ، انارکی اور خود غرضی جےسی مذموم خصلتوں کو اپنالے تو حقيقت یہی ہے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ايسا معاشرہ تمام برائیوں کی آماجگاہ بن کر رہ جائے گا۔ اور یہ غلط بیانی نہیں بلکہ ایک تلخ سچائی ہے۔

6-سستی اور اختيارِ پیشہ سےگریز

اسلا م نے ہر فرد کو ایک ذمہ دار فرد کی حيثيت سے متعارف کرايا ہے ۔ اور ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے بتايا ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی چيز کا مالک ہے۔جس سے اس کی ملکیت کی بابت باز پرس ہوگا۔ اسی طرح اسلام نے ہر فرد کو اپنی خدمات، سہولیات اور تعاون فراہم کرنے پربھی ابھارا ہے،تاکہ معاشرے میں امن وامان، خوش حالی اور فارغ البالی کی فضا قائم ہو۔ لیکن موجودہ سماج کی حالت بڑی ناگفتہ بہ ہے۔ قوم کی اکثريت پیشے سے دور اور ہنر سے ناآشناہے ۔ دستکاری کا ہنر ان کے یہاں سے معدوم ہوچکا ہے۔ غير کی نوکری اور غلامی کو خود کے پيشے پر ترجیح ديتے ہیں۔چھوٹی تجارت کو يا تو حقير سمجھتے ہیں يا محنت سے جی چراتے ہوئے اسے اختيار نہیں کرتے ، جبکہ اسلام میں بہترين کمائی ہاتھ کی کمائی ہے اس میں برکت ہے ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:”سب سے بہتر کمائی وہ ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے کماتاہے۔ “       (صحيح بخاری 2702)

ماہرينِ اقتصاديات، اسکالرس اور دانشورانِ امت عموماََ بڑھتی آبادی کو مہنگائی کا سبب بتلاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ۔ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی روزی رساں ہے۔ وہ جتنے نفوس پيدا فرماتا ہے اسے روزی عطا کرنا بھی اسی کے ذمہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہر پیدا ہونے والا بچہ کوئی ہنر سیکھے اور کوئی پیشہ اختيار کرے،تو یہ ایک موٹی سی بات ہے جو کم فہم انسان کے بھی پلے پڑ سکتی ہے کہ افراد کی زیادتی سے اشیاء میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی۔ لہذا اسے مہنگائی کا سبب قرار دينا اسلامی اصولوں سے ناآشنائی کا بین ثبوت ہے۔

مہنگائی کا علاج

1- انسان اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار کرے:

فارسی کا یہ مقولہ یاد رکھنے کا ہے کہ ”خود کردہ را علاجے نےست“ ےعنی اپنے کیے کا مداوا نہیں، الا یہ کہ انسان اس سے باز آجائے اور اپنی حالت سدھار لے اور صحےح راہ پرلگ جائے۔ تارےخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم کسی مصیبت سے دوچار ہوئی تو وہ خود اپنے کردہ گناہوں کی وجہ سے۔ آج پوری دنیا جس مصےبت سے گرفتار ہے، اس سے خلاصی کا سب سے پہلا حل یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ کوتاہیوں اور  سیہ کارےوں پر نادم ہو۔زندگی میں اسلامی احکامات کو نافذ کرے اور حرام کاموں کے ارتکاب سے بالکلیہ احتراز کرے۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے خوش ہوکر اپنی رحمتوں کا نزول فرماتا ہے ۔ جیسا کہ نوح ںکی زبانی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ترجمہ :”اور میں نے کہا :اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو) وہ ےقےنا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہو اچھوڑ دے گا۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گااور تمہارے لیے نہريں نکال دے گا“۔ (سورة نوح 10-12)

2- تجارت کے اسلامی اصول کی پابندی:

انسانی زندگی کے دےگر شعبے کی طرح خرےد و فروخت کے سلسلے میں بھی اسلام کا بڑا انوکھا نظریہ ہے جسے اپنا کر اور اپنی زندگی میں نافذ کرکے بلاشبہ مہنگائی جیسی مصےبت سے عافيت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ذیل میں بعض اصول ذکر کئے جاتے ہيں:

ا- دھوکہ دہی سے ممانعت:

موجودہ تجارت کی بنياد ہی دھوکہ دہی پر ہے۔اشيائے خوردونوش ہوکہ لباس اور آرائش وزيبائش کی خريداری ، تاجر پیشہ حضرات فريب دينے سے باز نہیں رہتے۔ سامان کا عیب پوشيدہ رکھ کر چار آنے قيمت کا منافع چوگنا لیا جاتا ہے اور ايسا کرنے میں انہیں عار نہیں ہوتا بلکہ تجارت کی منڈی میں یہ بنظرِ تحسين ہنر، آرٹ اور فن تصور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے اس حرکت سے بڑی سختی سے روکا ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضى الله عنه  سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  کا گزر ایک ايسے شخص کے پاس سے ہوا، جو غلہ بيچ رہا تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس غلے میں داخل کیا تو اسے اندر سے بھیگا پایا۔ یہ دےکھ کر اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا:” جو کوئی بھی دھوکہ دہی کرے گا، وہ ہمارے طريقے پر نہیں ہے“۔ (صحيح مسلم461201)

ب- بغير خريداری کے ارادے سے قیمت بڑھانے کی ممانعت:

آپ کسی دوکان پر جائیں،کبھی مشاہدہ ہوگا کہ اس دوکان پر آپ کے علاوہ ديگر کئی لوگ بھی پہنچتے ہیں۔ اور جس چیز کو آپ خريدنا چاہتے ہیں، وہ افراد خريدار بن کر اس کی قیمت بڑھانے لگتے ہیں اس عمل کو شريعت کی اصطلاح میں ”نجش “ کہتے ہیں۔ درحقيقت یہ دوکانداروں کی سازش ہوتی ہے، تاکہ آپ مطلوب سامان کو زیادہ قیمت دے کر خريد لیں حالانکہ اس حرکت سے اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا ہے۔(بخاری2412)

ج – تلقی رکبان يعنی بازار میں پہنچنے سے پہلے قافلہ والوں کے سامان کو خریدنے کی ممانعت:

اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:” تم قافلے والوں کے سامان کو بازار کے پہلے بڑھ کر مت خريدو، جس کسی نے ایسی بيع کی تو سامان والاجب بازار پہنچے گاتو وہ نفاذِ بيع اور فسخ کے مابين مخير ہوگا“۔(صحيح مسلم 3283 سنن ابوداؤد 8343 سنن ترمذی 1221سنن نسائی 1054)

علمائے کرام اس ممانعت کی حکمت یہ بيان کرتے ہیں کہ یہ فعل بازارمیں اس خاص سامان کی قلت کا سبب بنتا ہے اور وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔

 د- ذخیرہ اندوزی کی ممانعت:

سابقہ سطور میں گزراکہ مہنگائی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ضرورت کے سامانوں کی ذخيرہ اندوزی بھی ہے جس سے شريعت نے تاجروں کوروکا ہے۔

اس کے علاوہ بھی اسلام میں دیگر تجارتی اخلاقيات ہیں، جن کی پابندی اور نفاذ سے ہم مہنگائی جیسی مصیبت سے نجات پاسکتے ہیں۔

3- حصولِ برکت کے آداب وذرائع کی پاسداری:

بلاشبہ شريعتِ اسلامیہ نے حصولِ برکت کے بہت سے آداب وذرائع متعين کیے ہیں۔ ایک انسان جن کو بروئے کار لاکر برکت جيسی نعمت سے محظوظ ہوسکتا ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ اگر آج بھی برکتوں کا نزول ہو تو ملک ، صوبہ اور شہر غربت و افلاس اور مہنگائی و بھکمری جیسی مصيبتوں سے محفوظ ہوجائے گا اور ہر شخص آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے لگے گا اور برکت کی وجہ سے اس کے مال ودولت ہی اس کے لیے کافی ہوں گے اور دردرہاتھ پھیلانے سے محفوظ ہوگا۔ لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ جن افعال کو شريعت میں باعث برکت قرار ديا گيا ہے ان کی پابندی کرے اور ان کی انجام دہی کی کوششیں کرے۔

4- جس سامان کی قبمت میں اضافہ ہو، اس کا بدل تلاش کیا جائے:

سيدنا علی بن ابی طالب رضى الله عنه کے زمانہ خلافت میں مکے کے اندر کسی موقعے سے زبيب (کشمش) کی قیمت بڑھ گئی۔ لوگوں نے خط لکھ کر کوفے میں موجود علی بن ابی طالب رضى الله عنه  سے اس کا شکوہ کیا۔ تو انہوں نے یہ رائے تجويز فرمائی کہ تم لوگ کشمش کے بدلے کھجور استعمال کیا کرو کیونکہ جب ايسا کروگے تو مانگ کی کمی سے کشمش کی قیمت گرجائے گی اور وہ سستی ہوجائے گی۔ اگر سستی نہ بھی ہوتو کھجور اس کا بہترين متبادل ہے۔(تاريخ ابن معين 168 التاريخ الکبير للبخاری3523)

5- جس چیز کی قیمت میں اضافہ ہو انسان اس کے استعمال کو بند کردے:

ایک بار سبدنا عمر بن خطاب رضى الله عنه کے دورِ خلافت میں گوشت کی قیمت میں حد درجہ اضافہ ہوگيا۔ لوگ گوشت کی گرانی کی شکايت لے کر عمر فاروق رضى الله عنه کی خدمت میں پہنچے۔ عمررضى الله عنه نے ان کی بات سننے کے بعد کہا: اگر اس کا بھاؤ چڑھ گياہے تو کم کردو۔ لوگوں نے کہا: ہم تو ضرورت مند ہیں، گوشت ہمارے پاس کہاں ہے کہ ہم اس کی قيمت کم کرديں؟ عمر رضى الله عنه  نے کہا کہ دراصل مبرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس کا استعمال کم کردو، کیونکہ جب اس کا استعمال کم ہوجائے گا تو اس کی قیمت بذاتِ خود کم ہوجائے گی۔ (ملاحظہ ہو: تاريخ دمشق6282، حلیة الاولیاء823)

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*