یہ کائنات کیا کہہ رہی ہے ؟

 محمدآصف ریاض (دہلی ) asif343@gmail.com

 میرا ایک بیٹا ہے ۔ وہ ابھی چل نہیں پا تا ہر چند کہ وہ چلنے کی کوشش کرتا ہے ۔وہ بول نہیں پا تا ہر چند کہ وہ بولنے کی کوشش کرتا ہے! وہ ابھی بہت چھوٹا ہے۔گزشتہ دنوں کسی بات پر اس کی ماں نے اس کی پٹائی کردی ۔ وہ اسے برداشت نہیں کر سکا اور زور زور سے رونے لگا۔ میں وہیں مطالعہ میں غرق تھا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر میں خاموش انداز میںپوری صورت حال کا مشاہدہ کرنے لگا۔اس دوران مجھے ایک حیرت انگیز تجربہ ہوا۔ ”میں کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ روتے روتے چپ ہوگیا اور پھر اپنی جگہ سے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور آگے بڑھ کر اس نے اپنی ماں کا ایک بوسہ لیا“۔

 اس کی ماں کے لیے یہ ایک حیرت ناک واقعہ تھا ۔وہ اس صورت حال کو برداشت نہ کر سکی اور رونے لگی۔اس نے خواب وخیال میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا بچہ اس کی پٹائی کے جواب میں اس کا بوسہ لے گا، اور اس کی برائی کو بھلائی سے بدلے گا!اس نے بچے کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور جواباًاسے کئی بار بوسہ لی۔ وہ بچہ اپنی ماں کے سامنے خداکے آفاقی پیغام کا زندہ اور عملی نمونہ بن گیا تھا ۔ وہ خاموش آواز میں اپنی ماں سے کہہ رہا تھا ،ماں! برائی کا جواب برائی نہیں ہوسکتا ۔تشدد کا جواب تشدد نہیں ہوسکتا ، نفرت کا جواب نفرت نہیں ہوسکتا۔تم لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی برائی کا جواب بھلائی سے دو ،لوگ تمہیں برا کہیں اور تم انھیں دعائیں دو، لوگ تمہاری راہوں میں کانٹے بچھائیں اور تم ان کی راہوں میں پھول برساﺅ ۔لوگ تمہارے ساتھ برائی کریں اور تم ان کا جواب بھلا ئی سے دو۔ وہ بچہ اپنی ماں کو خدائے بزرگ کا وہ پیغام یاد دلا رہا تھا، جسے قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ”برائی اور بھلائی برابر نہیں ہیں ۔تم برائی کا جواب بھلائی سے دو ،اگر تم ایسا کرو گے تو پاﺅ گے کہ جو تمہارا شدید دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا“ (حم سجدہ 34)

بچے کسی سے نفرت نہیں کرتے ۔وہ کسی کو دوست اور دشمن کے خانے میں رکھ کر نہیں دیکھتے ۔ آپ جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ وہ براہ ِراست اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ ابھی ان پر سماج کا اثر نہیں پڑا ہوتا ہے ۔ ابھی وہ اللہ کے سچے راستے پر ہوتے ہیں ۔ وہ دین الہی پر قائم رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:” ہر بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،بعد میں اس کے والدین اس کو یہودی،نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں‘ ‘ ۔(بخاری ومسلم)

یہ کائنات کیا کہہ رہی ہے!

آپ نے کبھی نظامِ کائنات پر غور کیا ہے؟آپ کے اوپر سورج ہے، یہ آگ کا گولا ہے، لیکن کیا کبھی یہ آپ کو جلاتا ہے ؟ نہیں۔ حالانکہ یہ آپ کو جلا سکتا ہے۔ آپ جس زمین پر چلتے پھرتے ہیں وہ لگاتار سورج کے گرد چکر کاٹ رہی ہے ، لیکن کیا کبھی یہ آپ کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے؟ نہیں ۔ آپ کے سر کے اوپر عظیم الشان آسمان ہے ،لیکن کیا کبھی یہ آپ کے سر پر گرتا ہے؟نہیں ۔آسمان سے آپ کے لیے پانی اترتا ہے ،لیکن کیا یہ آپ کے لیے پریشانی کا سبب بنتا ہے؟نہیں۔

آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ یہ تمام چیزیں براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہیں۔ اگریہ چیزیں کسی فرد یا کسی سماج کے زیر نگرانی   ہوتیں توضرورفساد پھیلاتیں۔ لیکن چونکہ یہ تمام چیزیں  براہ راست اللہ کے کنٹرول میں ہیں اس لیے پر امن طریقہ سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔یہی حال بچوں کا ہے ۔بچے چونکہ براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں اس لیے وہ شر اور فساد نہیں پھیلاتے ۔بعد میں سوسائٹی انھیں شر اور فساد پھیلانا سکھاتی ہے۔نظام کائنات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو چھوڑ کر کائنات کی تمام چیزیں اللہ کی فرماں برداری میں لگی ہیں۔پوری کائنات میں انسان وہ واحد مخلوق ہے جو اللہ کے مقابلہ میں سر کشی کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟

آزادی کا غلط استعمال

 اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ایک دائرے میں آزادی دے رکھی ہے،تاکہ وہ انھیں جانچے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خواہش سے اس کی فرماں برداری کرتا ہے ، اور کون ہے جو اپنے نفس کی آواز پر چل کر اس کے مقابلہ میں سرکشی کی روش اختیار کرتا ہے! انسان کو ایک محدود مدت تک حالت امتحان میں رکھا گیا ہے ،اس کے بعد اس مدت امتحان کو ختم کردیا جائے گا اور پھر انصاف کا دن قائم ہوگا اوراس دن انسان دیکھ لے گا جو وہ اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ اس دن اگر کسی نے ذر ہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، تو وہ اسے پالے گا، اور اگر کسی نے ذرہ برابر بھی شر کیا ہو گا تو وہ اسے پالے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*