حسد کیوں؟

طاہرہ بیگم سید کریم (کویت)

اللہ پاک نے ابلیس کو کیوں راندہ درگاہ کیا ؟ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو کیوں قتل کیا ؟ اور یوسف ں کے بھائیوں نے انہیں اندھیرے کنویں میں کیوں ڈالا ؟ جواب ظاہر ہے کہ حسد ،رقابت ،عداوت اورنفرت جیسے خسیس جذبات کی بنیاد پر….دنیا کا یہ چلن اس وقت کا تھا جبکہ ابھی دنیا ترقی اور ارتقاءکے موڑ سے ہو کر بھی نہیں گذری تھی، آج جبکہ دنیا ترقی پذیر ہے ، انسان آفاقی چیزوں پر بھی دسترس حاصل کرنے لگا ہے ، جس تیزی سے وہ ارتقاءکی منازل طے کررہا ہے اسی تیزی سے اخلاقی پستی کی طرف گامزن ہے۔ اس اخلاقی زوال کی جڑ دراصل حسد ہے ۔

حسد‘ کسی کی دولت،حشمت ،جاہ و منصب، علم، ذہانت اور چاہتوں کو دیکھ کر دل میں پنپتا ہے ،دل کی تنگی کا باعث ہوتا ہے،چنانچہ حاسد‘ ان اوصاف کے حامل لوگوں سے ان اوصاف کے چھن جانے کا متمنی ہوتا ہے۔ان خوبیوں کو پامال کرنے یا مٹانے کے در پے ہوتا ہے، اپنی محرومیاں ، حسرتیں اور ناکامیوں کا ماتم کسی اور کی خوشیوںپر کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اس کائنات کی کسی شئے کو ایک نہج یا ایک فطرت پر نہیںپیدا کیا ۔سب کی صورت الگ، خاصیت جدا، غرض و غایت میں فرق۔ مادی سے ماورائی سبھی چیزیں مختلف ۔ دنیا میں یہ اختلافات نہ ہوتیں تو نہ دنیا اتنی رنگین ہوتی اور نہ انسان اس دنیا میں اتنی دلچسپی لیتا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

”یہ اللہ کا فضل ہے جسکو چاہے دے گا “ (المائدہ: 54)

 چیزوں کی طرح اللہ تعالی نے انسانوں کوبھی یکساں نہیں پیدا کیا ان میں بے شمار حیثیتوں سے فرق پیدا کیا ہے، کوئی خوبصورتی و حسن کا شاہکار تو کوئی بد صورتی کا نمونہ، کوئی خوبیوں کا مرجع تو کوئی خامیوں کا پیکر،کوئی علم کا سمندر تو کوئی قطرے سے بھی خالی،کوئی صنعت و حرفت میں ماہر تو کوئی کامل اناڑی، کوئی خوش الحان تو کوئی بھونڈا، کوئی سلیم الاعضاءتو کوئی اپنگ، کوئی ذہنی قوت کا حامل تو کوئی جسمانی ۔غرض اسی فرق و امتیازپر انسانی تمدن کی ساری گوناگونی قائم ہے۔ کسی بھی طرح کے مساوات کی ان میںاللہ تعالی نے کوئی گنجائش نہیں رکھی ۔ جو بھی اللہ کے اس نظام کو بدلنا چاہے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

”کیا آپکے رب کی رحمت تقسیم کرنے والے یہ لوگ ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کاسامانِ حیات ان کے درمیان ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں۔ اور آپکے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں“ (زخرف:32)

اللہ تعالی نے فرمایا:”اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اسکی تمنا نہ کرو ، جو مردوں نے کمایاہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اسکے مطابق ان کا حصہ ہے ۔ ہاں اللہ سے اسکے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے“ (النساء: 23)

اللہ تعالی نے واضح طور پر بتادیا کہ ایک کو دوسرے پر فوقیت دی گئی ہے توپھراس فوقیت پر واویلا کیسا؟ اور حسد کیسا؟کیا حسدکرنے سے بد صورت انسان خوبصورت ہوسکتا ہے ؟ فقیر امیر بن سکتا ہے؟ یا نیچ ذات اعلی ہو سکتی ہے؟ یا بھونڈا خوش الحان ہو سکتا ہے؟ نا ممکن ! پھر کیا وجہ ہے کہ انسان کسی کو آگے بڑھتا دیکھ نہیں سکتا؟ کیوں کسی کی نعمتوں کی پامالی کا خواہاںہوتا ہے؟ کیوں حسد جیسے خطرناک مرض کو اپنے اندر جگہ دیتا ہے جو خود اسکا ہی نہیں اس سے متصل سارے لوگوں کی تباہ کاری کا موجب بنتا ہے؟ کیوں نہیں انکی بھلائی اور ترقی کے لیے دعاگو ہو تاکہ اللہ تعالی اس کے لیے بھی شاید ویسی ہی بھلائیاں مقدر کردے۔

انس بن مالکص روایت کرتے ہیں کہ نبی انے فرمایا” حسد انسان کی بھلائیوں کو اس طرح خاکستر کرتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ دوزخ کی آگ کے لیے ڈھال کا کام کرتاہے۔“ (ابن ماجہ) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کسی سے حسد کرنے لگے تو اسکو چاہیے کہ صدقہ، نماز اور روزہ جیسے اعمال کرے جس کی وجہ سے اس سے سرزد گناہ کی تلافی ہو۔

ایک اور دفعہ نبی انے فرمایا ”ایمان اور حسد بندہ کے دل میں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے “ (بیہقی وابن حبان)۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنے ایمان کاجائزہ لیناچاہیے کہ آیا ہمارا ایمان صحیح و سالم ہے بھی یا نہیں۔

 ایک مومن کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ کسی کی نعمتوںکودیکھ کر جلے،ہاںیہ گنجائش ضرورہے کہ کسی کی صلاحیت وقابلیت اورنعمت کودیکھ کراس جیسی صلاحیت وقابلیت اورنعمت کی تمنا کر ے اوراسکے حصول کے لیے دن رات محنت اور دوڑ دھوپ کرے نیز اپنی ساری خوبیوں اور توانائےوں کو بروئے کار لائے ۔ایسا جذبہ قابل قدر ہے اسمیں کوئی حرج نہیں۔ اس جذ بہ میں دوسروںکی بربادی کی خواہش نہیںہوتی اور نہ ہی اوروں کے محلوں کو چکنا چور کرنے کی تڑپ ہوتی ہے بلکہ خود کو اونچا اٹھانے کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے خوابوں کوشرمندہ تعبیر کرنے کا شوق ہوتا ہے، اسکے لیے اسلام مانع نہیں ہے۔ اسلام میں ممانعت ہے تو بس حسد کی۔

حسد آگ ہے نیکیوں کو کھاجاتا ہے،ایمان کو کمزور کرتاہے، فسق و فجور پیدا کرتا ہے،خصومتیںپالتا ہے،صلہ رحمی کا خاتمہ کردیتا ہے، حسد کبیرہ گناہوںمیں سے ایک ہے اور ایسا شر ہےجس سے اللہ تعالی نے پناہ مانگنے کو کہا ہے، یہ ایک تخریبی جذبہ ہے لہذا ہمیں اس سے بچے رہنا چاہیے ۔ اسکے لیے تھوڑی سی محنت درکار ہے ، تھوڑی سی سوجھ بوجھ اور صبر کی ضرورت ہے ۔ حسد کا جذبہ اگر غالب آجائے تو صحابہ کرام کی زندگیوں کی مثال اپنے سامنے رکھیں۔

 اگر جنت کا حقدار بننا ہے تو دل کو حسد سے بچاناہوگا۔ اپنی قدر پر راضی بہ رضا اور شاکر رہناہوگا،اس بات پریقین رکھنا ہوگاکہ نعمتیں اور محرومیاں اللہ ہی کی طرف سے ہیں،ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں کی طرف دیکھ کر اللہ کا شکر بجا لاناہوگا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ”اگر تم شکر ادا کروگے تو میں تمہیں مزید دوںگا “

 اللہ تعالی ہم سب کو حسد جیسی بیماری سے بچائے (آمین)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*