دیوانوں کی دنیا میں

 اعجازالدین عمری (کویت )

amagz@ymail.com

 وہ ایک چھوٹا سا ننھا سا گاؤں تھا۔ وہاں ہرسو پیار تھا ، امن تھا۔ زندگی کسی پہاڑی جھرنے کی مانند سرگمی لہروں کے ساتھ گاہ اُلجھتی گاہ بل کھاتی جانب منزل تیز گام تھی۔ کسی نو مولود کی مسکان کی طرح معصوم تھی ان کی زندگیاں بھی اس گا ؤں کے ایک کنارے پر میٹھے پانی کی ایک نہر بھی بہتی تھیآئینہ کی طرح اس کا صاف و شفاف پانی دیکھنے والے کو دعوتِ نظارہ دیتاتھا۔اس گا ؤں کا ایک راجا بھی تھا رانی اور وزیر بھیپھر ایک دن کسی نے کہا کہ اس نہر کے پانی میں جنون کی وبا پڑ گئی ہے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جس نے بھی اس کا پانی پیا وہ پاگل ہوچلا یہ نہر سارے گا ؤں والوں کی پیاس بجھایا کرتی تھیاب سارے گا ؤں کے لوگ ’مرضِ جنون‘ میں مبتلا ہوگئے لوگوں کے رہن سہن کا انداز بدلنے لگا تھا لین دین کے طریقے بدلنے لگے تھے ان کی زبان تک بدل چکی تھیجب یہ زبان کھول کر کچھ کہتے تو گا ؤں کے کسی بھی دانا کو ان کی بات سمجھنا مشکل ہو رہاتھا بلکہ انہیں توکچھ سمجھ میں ہی نہیں آتاتھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔

بادشاہ کی پیشانی پر سلوٹیں پڑگئیں، وہ فکر مند ہوگیااوراس نے جنگی پیمانے پر اس وباسے نمٹنے کا تہیہ کرلیا دن گزرتے گئے اور ایک صبح جب اس نے آنکھیں کھولیں تو یہ دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا کہ خود اس کی اہلیہ پر جنون کا حملہ ہوچکا ہے!! رانی پاگل ہوچکی تھی مگر مگر تعجب کی بات تو یہ تھی کہ پاگلوں کی جھرمٹ میں کھڑی رانی خود بادشاہ پر جنون کا الزام دے رہی تھی !؟

بادشاہ نے وزیر کو طلب کیا اور اس سے کہنے لگا ”مہا منتری جی ! یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے !؟ گلی و کوچہ میں دیوانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اب تو یہ وبا محل میں بھی گھس آئی ہے ۔کہاں ہے ہماری فوج ؟ دربان و نگران کدھر گئے؟ وزیر نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا سرتاج! فوج پاگل ہوچکی ہے ، محافظ اور نگران بھی وبائے جنون کے شکار ہوچکے ہیں ۔

بادشاہ نے جھلاتے ہوے کہا ” پھر کیوں نہیں بلا لاتے طبیبوں کو؟ “ وزیر نے ہچکچاتے ہوے کہا حضوروالا! اس بلا سے کوئی طبیب اورحکیم بھی تو نہیں بچ سکے ہےں! بادشاہ کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے وہ سوچ رہا ہے کہ آخر یہ کیسی مصیبت نازل ہوی ہے یہ سب کیا ہورہا ہے!؟ اس نے منتری کی طرف توجہ کی اور آواز میں رعب طاری کرتے ہوے پوچھا ”آخر کوئی تو ہوگا جو اس وبا سے بچ گیا ہے ؟

وزیر ، بادشاہ کے غضب سے تلملا اُٹھا پھر دھیرے دھیرے کہنے لگا مولا! افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں صرف میں اور آپ ہی اس مرض سے بچ پائے ہیں، باقی سب تو اس وبائی جنون کا شکار ہوہی چکے ہیں ۔بادشاہ نے ہاتھ سے اپنا سر پیٹتے ہوے کہا ہم ”پاگل “ ہیں جو پاگلوں کی بستی پر حکومت کررہے ہیں !وزیر بادشاہ کو ٹوکااور معذرت کے ساتھ کہنے لگا در اصل سارے پاگلوں کا دعوی ہے کہ وہ عقلمند ہیں اور اب یہاں صرف میں اور آپ ہی پاگل ہیں ۔

یہ سن کر بادشاہ حیرت میں پڑ گیا اور کہنے لگا ،، یہ کیا بات ہوی! نہر کا پانی اُنہوں نے پیا اور مرض جنون میں مبتلا بھی وہی ہوے پھر ہمیں کیوں وہ مجنوں سمجھنے لگے؟

وزیر نے سمجھایا حقیقت میں اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے نہر کا پانی اس لیے پیا تھا کہ وہ ’جنون‘ سے بچ پائیں اس وجہ سے ہم دونوں پاگل ٹہرے جو نہر کا پانی نہیں پیا اب اُن کے مقابلہ میں ہماری حیثیت ریت کے ذرّوں کی ہے جسے ہوا اُڑا لے جائے گی ، وہ اکثریت میں ہیں طاقت بھی اُنہیں کے پاس ہے ، اس لیے سارے حقوق،عدل و انصاف اور مقام و مرتبہ کے وہی حقدار ہیں اب وہی ہیں جو ’خرد‘ اور’جنون‘ کا معیار مقرر کرنے کا کامل اختیار رکھتے ہیں ۔

اب بادشاہ کی بھی آنکھیں کھل گئیں اس نے وزیر سے کہا ” منتری جی! نہر کا ایک گلاس پانی مجھے بھی پلا دیجیے دیوانگی تو یہ ہے کہ دیوانوں کی دنیا میں ہم خود کو عقلمند سمجھیں“

آپ کیا سوچ رہے ہیں شاید آپ کو لگتا ہے کہ میں بھی کوئی دیوانہ ہوں جو ایک بے تُکی کہانی آپ کو سُنا رہا ہوں نہیں ! فیصلہ کرنے سے پہلے ذرا اپنے ارد گرد کی دنیا پر نظر ڈالیے کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم بھی دیوانوں کی دنیا میں بستے ہیں !؟ چند پاگلوں نے کس طرح پوری دنیا کو پاگل بنا رکھا ہے!کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہاں”ہر تہی مغز کو ہے غرّہ علم و تحقیق

 

ہر مہاجن کو یہاں دعوہ  رزّاقی ہے

کاسہ  سر سے بنا سکتا ہو جو ساغرِمے

ایسا ہرشخص یہاں اپنی جگہ ساقی ہے

طنز و تحقیر کے تیروں کا ہدف ہیں وہ لوگ

جن میں خود داری و غیرت کی رمق باقی ہے

فکرِ کوتاہ کو ملتے ہیں یہاں حور وقصور

اور معتوب ہے وہ فکر جو آفاقی ہے

 اور کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ” فہم و دانائی کے سرخیل بنے ہیں ناداں“!!!

کیا عجب تماشا ہے!؟ بزعمِ خود دنیا کی محفوظ تر   و مضبوط تریں ملک کی فلک بوس عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے آتشیں کھیل میںڈھے جاتی ہیں پھر طاقت بولنے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ’آشفتہ سری‘ کا الزام چند کے نام آتا ہے پھر چند دیوانے مل کر سب کو دیوانہ بنانے کی ’ مہم ‘ شروع کردیتے ہیں نا معلوموں کو معلوموں کا درجہ دیا جاتا ہے سر میں چڑھا ’خون‘ یا پھر’ جنون ‘ اسی بہانے ایک پورے ملک کو تہس نہس کردیتا ہے نہ تحقیق کی ضرورت سمجھی جاتی ہے نہ تفتیش کی نوبت آتی ہے نہ عدالت کی بات ہوتی ہے نہ جرم و سزا پر بحث ہوتی ہے ’نہر کا پانی‘ سب کو پلایا جاتا ہے اور سب سے جنون کا اقرار لیا جاتا ہے

پھر ایک دن یہ خبر بھی آتی ہے کہ

دیوانوں کو’ اک دیوانے‘ نے چوراہے پر سولی دی ہے

تھی یہ فردِ جرم کہ اس نے، فرزانوں پر کنکر پھینکا 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*