آپ کے مسائل اور ان کا حل

 صفات عالم محمد زبير تيمي

سوال : میرے بھتیجے پر آسیب کا اثر ہوگیا تھا ،کیا واقعی ایسا ہوتا ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے ؟ ۔          ( محمد اکرام ۔ رقعی )

جواب: اللہ پاک نے جنوں اور شیاطین کو ایسی طاقتیں دے رکھی ہیں جس کی بدولت وہ لوگوں پر سوار ہو جاتے ہیں اور انہیںپریشان کرنے لگتے ہیں ۔ گویا آسیبی اثر حق ہے ، البتہ اس کے شکار وہی لوگ ہوتے ہیںجوبے احتیاطی برتتے ہیں مثلاً عورتوں کا گھر سے بے وقت نکلنا، بِل وغیرہ میں پیشاب کردینا ، شرعی اذکار کی پابندی نہ کرنا ۔گھروں میں موسیقی کے آلات رکھناوغیرہ یہ چند اہم اسباب ہیں جن کی وجہ سے بدمعاش جنات انسانوں کو پریشان کرتے ہیں ۔ آسیبی اثر سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت1- اللہ کا ذکر کریں، 2- اہل خانہ سے سلا م کریں 3- کھاتے اور پیتے وقت اللہ کا ذکر کریں 4- گھر میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کریں بالخصوص سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے سے جن وشیاطین دور رہتے ہیں ۔

سوال:کسی کے مرنے کی تاریخ پر ہرسال دعوت کی جائے تو کیا یہ جائز ہے-    ( شاہد ۔ شویخ )

جواب:کسی کے مرنے کی تاریخ پر ہرسال دعوت دے کر کھلانا پیارے نبی ا اور آپ کے پیارے ساتھیوںسے ثابت نہیں ۔ اللہ کے نبی  صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں آپ کے کتنے عزیز کی وفات ہوئی، آپ کی ہردلعزیز بیوی خدیجہ رضى الله عنها  بھی فوت پائیں ۔ لیکن آپ نے اُن کا فاتحہ یا چالیسواں یا دسواں یا ساتواں نہیںمنایا ۔ اللہ کے نبی ا نے زندگی کے سارے شعبے میں ہماری رہنمائی کردی ہے ۔ اب بتائیں کہ کیا یہ چیزیں اِتنی بڑی تھیں کہ قرآن وحدیث میں نہیں آسکتی تھیں ؟ اورہمارے لیے اسوہ حسنہ پیارے نبی ا ہیں  لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللَّہِ اسوَة حَسَنَة   (سورة احزاب 21) ” تمہارے لیے پیارے نبی کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ ۔اس لیے اگر ہم وہ کام کریں جسے پیارے حبیب نے نہیں کیا یا کرنے کا حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہوگا ۔اللہ کے رسول ا نے فرمایا : مَن احدَثَ فِی اَمرِنَا ھٰذَا مَالَیسَ مِنہُ فَھُوَ رَد (بخاری ومسلم )”جس نے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے“ ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے مَن عَمِلَ عَمَلاً لَیسَ عَلَیہ ِ اَمرُنَا فَھُوَ رَدّ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جوہماری شریعت کے مطابق نہیں وہ مردود ہے “۔ ہاں مردے کو ثواب پہنچانا ہے تو اُن کے لیے صدقہ وخیرات جتنا چاہیں کریں لیکن کوئی دن یا کوئی وقت خاص کرکے نہیں ۔ اسی طرح ان کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں بھی کریں ۔

سوال:کیا ایک مسلمان ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے منتر سیکھ سکتا ہے ؟ (عبداللہ ۔ کویت)

جواب: اگر مذہبی روادار ی کے نام پرمذہبی کتابوںکا مطالعہ کیاجائے تو ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے بعد اب کسی مذہبی کتاب کی ضرورت نہیں رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دن جب حضرت عمرفاروق ص نے تورات کا ایک نسخہ لاکر رسول اللہاکی خدمت میں پڑھنا شروع کیا تو آپ کا چہرہ غصہ سے بدلنے لگا، حضرت عمر ص نے حضور ا کے چہرئہ مبار ک کی طرف دوڑائی اور فورا بول اٹھے ” ہم راضی ہیں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو اپنا دین بنا کر اور حضرت محمدا کو نبی و رسول مان کر“ ۔ اس پر رسول اللہ ا نے فرمایا : ”سنو ! اگر موسی ں زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے “۔ ( مسند دارمی)

ہاں اگر دعوت کی غرض سے ان کی مذہبی کتابوںمیںپائی جانے والی توحید ،رسالت اور یوم آخرت پرمشتمل باتیں نوٹ کی جائیںتاکہ ان کے ذریعہ نقطہ اشتراک کے طورپر اسلام کے لیے ان کا ذہن ہموار کیا جاسکے تو ایسا کرناجائز ہے  ادعُ  اِلِی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ   (سورة النحل 125) ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دو“۔

 سوال: میں ہندو گھرانے میںپیدا ہوا ،تین دن کا تھا تو مجھے ایک مسلم فیملی نے گود لے کر میری تربیت کی، پھر میری شادی بھی مسلم لڑکی سے ہوئی، ابھی میری عمر45سال کی ہے ۔ میری پرورش کرنے والے والدین گذر چکے ، میں اُن کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہوں تاہم کیا میںاپنے غیرمسلم والدین جو میرے اصلی والدین ہیں اُن کے لیے بھی دعائیںکرسکتا ہوں؟ (مستان ۔کویت)

جواب: ایک بچے کی پیدائش دینِ فطرت ہی پرہوتی ہے خواہ وہ جس گھرانے میں بھی پیدا ہو  فِطرَةَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیہَ (سورة الروم 30) ”یہ اللہ تعالی کی فطرت (اسلام )ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا “۔

 اور پیارے نبی ا کا فرمان ہے کُلُّ مَولُودٍ یُولَدُ عَلٰی الفِطرَةِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہ اَویُنَصِّرَانِہ اَو یُمَجِّسَانِہ (بخاری ومسلم )”ہر بچہ دین اسلام پر پیدا ہوتاہے یہ الگ بات ہے کہ اس کے والدین اسے یہودی بنادیتے ہیں یا عیسائی بنادیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں“ ۔

بہرکیف یہ اللہ پاک کا بے انتہا کرم ہے کہ آپ جس دھرم پر پیدا ہوئے تھے مسلم گھرانے کی کفالت میں آنے کی وجہ سے اُس دھرم پر باقی رہے الحمد علی نعمة الاسلام

 آپ کی پیدائش کے وقت ہی کسی مسلم فیملی نے آپ کو گود لیا تو اِس میں کوئی حرج نہیںالبتہ گودلینے کی وجہ سے وہ آپ کے والدین نہیں بن سکتے، آپ نے اپنے پرورش کرنے والو ں کو ”والدین “ کہا تو حقیقت میں وہ آپ کے والدین نہیں آپ کے مربی ہیں، اُن کا آپ پر بہت احسان ہے ۔ اس لیے آپ کا حق بھی بنتا ہے کہ آپ اُن کے لیے دعائیں کرتے رہیں ۔

البتہ آپ نے اپنے اصل والدین کی بابت ذکرنہیں کیا کہ وہ فوت پاچکے یا زندہ ہیں ۔ اگر زندہ ہیں تو آپ کے لیے مناسب ہے کہ اُن سے ملیں ،اُن کے حالات جانیں اور اللہ پاک سے اُن کی ہدایت کے لیے دعا بھی کریں ۔ لیکن اگروہ مرچکے ہیں تو مرنے کے بعد اُن کی مغفرت کے لیے دعا نہیں کرسکتے ۔ اللہ پاک نے فرمایا مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اَن یَستَغفِرُوا لِلمُشرِکِینَ وَلَو کَانُوا اُولِی قُربَی مِن بَعدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُم اَنَّہُم اَصحَابُ الجَحِیم  (سورة التوبة 113)”پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کوجائز نہیںکہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ وہ دوزخی ہیں“۔

خود اللہ کے پیارے حبیب محمد صلى الله عليه وسلم  کے والدین حالتِ کفر میں مرے اور آپ کو والدین کی مغفرت کے لیے دعا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ایک آدمی اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  کے پاس آیا اور پوچھا :یا رسول اللہ! میرے باپ (جو حالتِ کفر میں مرے ہیں) ان کا کیا انجام ہوگا ؟۔ آپ نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گا ۔ جب وہ لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا: اِنَّ ابِی وَابَاکَ فِی النَّارِ ” صرف تیرے ہی باپ نہیں بلکہ میرے باپ بھی جہنم میں جائیں گے“ ۔(مسند احمد 11747)

 اسی طرح آپ  صلى الله عليه وسلم نے اللہ پاک سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی درخواست کی تو اللہ پاک نے آپ کو اجازت دے دی لیکن جب مغفرت کی دعا کے لیے سوال کیا تو اللہ پاک نے منع کردیا ۔ (مسلم 3/65)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*