بچیوں کی اسلامی تربیت ، جنت میں داخلے کا سبب

مولانا محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت)

اسلام سے قبل صنفِ نازک کی حالت زار

انسانوں نے ہميشہ صنفِ نازک پر ظلم کيا ، يہوديوں نے عورت کو گناہ کی ماں ، بدی کی جڑ اور انسانيت کے ماتھے پر ايک کلنک قرار ديا تو عيسائيوں نے اسے انسان تسليم کرنے سے ہی انکار کرديا ،روم میں کئی سال کے بحث ومباحثے کے بعد پادریوں نے عورت کو انسان نما ايک چڑيل قرار ديا، جو نسل انسانی کو دوزخ میں پہنچانے کے لیے انسان کے بھیس میں آئی ہوئی ہے ۔ ہندو مت ميں بچی کی پيدائش کو منحوس سمجھا جاتا ، شادی کے بعد بد قسمتی سے اگر اس کا شوہر انتقال کرجاتا تو اسے دو راہوں ميں سے کسی ايک کو اختيار کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی ہی نہيں رہ جاتا ، يا تو وہ اپنے لیے موت سے بدتر زندگی کا انتخاب کرلے ۔ يا شوہر کی چتا کے ساتھ ہی زندہ آگ ميں جل کر راکھ کا ڈھير ہوجائے ۔ عرب ميں بچی کی پيدائش کو ذلّت سمجھا جاتا، کچھ تو اس حیثیت سے کہ لڑکوں کے مقابل ،حصول ِ روزگار کے سلسلے میں بچیوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا، اور نہ ہی وہ میدانِ جنگ میں بہادری کے کرتب دکھاسکتی ہے ، بچیوں کو پیدائش کے ساتھ ہی زمین میں زندہ در گور کردیتے ، اور کچھ اس جھوٹی غیرت کی بنا پر بچیوں کو قتل کردیتے کہ میری بچی کسی شخص کی زوجیت میں نہیں جاسکتی ۔اگر کسی کے گھر میں لڑکی پيدا ہوتی تووہ مارے شرم کے لوگوں سے نظريں بچا بچا کر پھرتا ، جيسا کہ ارشادِ ربّانی ہے :

 ترجمہ :”جب ان ميں سے کسی کو بيٹی پيدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر سياہی چھا جاتی ہے ، اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ، اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (کہ اس کے بعد کيا منہ دکھائے ) (منصوبے بناتا ہے کہ ) اس بيٹی کو ذلّت کے ساتھ لیے رہے يا زمين ميں دبا دے ( زندہ در گور کردے ) يہ لوگ کيا ہی بُرے فيصلے کرتے ہيں “۔      ( النحل : 58/59)

علاوہ ازيں وضعِ حمل کے وقت گھر میں ایک گڑھا کھود کر تیار رکھا جاتا ، اگر نو مولود لڑکا ہو تو اسے گڑھے سے نکال لیا جاتا، اگر بچی ہو تو اسے اسی گڑھے میں رکھ کر زندہ زمين ميں دفن کرديا جاتا اور قساوت قلبی کا عالم یہ ہوتا کہ اس پر فخر بھی کيا جاتا ، ايک جاہلی شاعر کہتا ہے :

 تَھوِی حَيَاتِی وَأَھوِی مَوتَھَا شَفَقًا

 وَالمَوتُ   کرَمُ   نُزُلاً   لِلكرَمِ

 ترجمہ :”ميری بچی ميری زندگی چاہتی ہے اور ميں اس پر شفقت کی وجہ سے اس کی موت چاہتا ہوں اور عورتوں کے لیے موت ہی سب سے بہترين تحفہ ہے “۔

عورت اسلام کے دامنِ شفقت میں

 ايسے زمانے اور ايسے ماحول ميں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمارے پيغمبر جناب محمد رسول اللہ کو رحمة للعالمين بنا کر مبعوث کيا ، آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی رحمت کے خزانے جہاں ساری انسانيت پر لٹائے ، وہيں آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی شفقتوں سے صنفِ نازک کو بھی نہال کرديا، اور بچيوں اور عورتوں کے لیے خصوصی احکامات عطا فرمائے ،کمانے کی ذمہ داری مرد پرڈال کر عورت کو فکر ِمعاش سے آزاد کردیا ، تاکہ وہ کسب معاش کے سنگلاخ میدان میں ماری ماری نہ پھرے، ممتا اپنے بچوں پر نچھاور کرے ، اپنی عفت اور شوہر کے گھر کی حفاظت کرے ،اسے شرم وحیا کی چادر دی، تاکہ وہ اپنے گھر کی چہار دیواری میںرہ کر،آوارہ عاشقوں اور پرستاران حسن کی ہوسناک نگاہوںسے اپنے تقدس اور لطافت کی حفاظت کرے، اس لیے کہ :

نہ رکھ سکے گی لطافت جو زن ہے بے پردہ

سبب یہ ہے کہ نگاہوں کی مار پڑتی ہے

-1عورت جب ماں بنتی ہے تو اﷲ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے حق کے بعد اس کائنات میں سب سے پہلا حق ماں کا بتلایاگیا،حضرت ابو ہریرہ رضي لله عنه سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ایک شخص رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا : اے اﷲ کے رسول صلى الله عليه وسلم  ! کونسی ہستی میرے حُسنِ سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔اس شخص نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا : پھر کون ؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس شخص نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلى الله عليه سلم  نے ارشاد فرمایا : تمہارا باپ ۔“(بخاری)

نیز یہ فرماتے ہوئے انسانوں کو اپنی ماں کی خدمت پر ابھارا کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت ماں کے قدموں کے نیچے رکھا ہے ۔ ( صحیح الجامع الصغیر:1249)

-2عورت جب بیوی ہو، تو نیک بیوی کو اس کائنات کی بہترین متاع قرار دیتے ہوئے فرمایا :”دنيا ساری کی ساری سامانِ زندگی ہے اور اس متاعِ دنيا ميں سب سے بہترين چيز نيک عورت ہے”۔(مسلم: 1467)

 ایک اور حدیث میں مومن کے لیے تقویٰ کے بعد سب سے بہتر چیز نیک بیوی کو قرار دیا :”مومن نے اللہ تعالی کے تقوی کے بعد نيک بيوی سے زيادہ بہتر چيز حاصل نہيں کيا، اگر وہ اسے حکم ديتا ہے تو اس کی اطاعت کرتی ہے ، اگر اس کی طرف ديکھتا ہے تو اسے خوش کرديتی ہے ، جب وہ اس پر قسم کھا بيٹھتا ہے تو اسکی قسم کو پوری کرنے ميں مدد کرتی ہے ، اور جب وہ اس سے غير حاضر ہو تو اسکے مال کی بھی حفاظت کرتی ہے اور اپنی آبرو کی بھی “۔(ابن ماجہ)

-3عورت جب بیٹی ہو توبیٹیوں سے آپ صلى الله عليه وسلم کی محبت کا عالم یہ تھا کہ جب بھی کسی غزوہ یا سفر سے لوٹتے تو سب سے پہلے مسجد آتے پھر اپنی لختِ جگر نورِ نظر حضرت فاطمہ رضي الله عنها  کے پاس تشریف لے جاتے ۔ (مسند احمد)

 ایک مرتبہ حضرت علی رضي الله عنه  نے جب ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا:

”بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اپنی بیٹی کا علی بن ابی طالب سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی ہے ، میں انہیں اس کی کبھی اجازت نہیں دے سکتا، کیا ابو طالب کا بیٹا پسند کرے گا کہ وہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے شادی کرلے ؟ فاطمہ رضي الله عنهامیرے جگر کا ٹکڑا ہے ، جوچیز اسے شک میں ڈالتی ہے وہ مجھے بھی مشکوک ہے ، اور جو چیزاسے تکلیف پہنچاتی ہے وہ میرے لیے بھی اذیّت ناک ہے “۔     ( مسلم / حدیث نمبر2449 )

چنانچہ حضرت فاطمہ رضي الله عنها  کی ناراضگی کے ڈر سے ہی حضرت علی رضي الله عنه  نے ان کی زندگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا ۔

بچیوں کی تربیت پر جنت کی بشارت

رسول اﷲصلى الله عليه وسلم  نے بچيوں کو پالنے پوسنے اور ان کی اچھی تربيت پر والدین کو جنت کی خوش خبری عطا فرمائی ہے، بچیوں کو دوزخ سے آڑ کا باعث قرار دیا، نیز انہیں کھلانے پلانے کو جنت میں دخول کا سبب قرار دیا :

-1حضرت انس رضي الله عنه سے روايت ہے ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا: ”جس نے دو بچيوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، وہ قيامت کے دن اس حال ميں آئے گا ميں اس کے ساتھ ان انگليوں کی طرح رہوں گا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم  نے اپنی دونوں انگليوں (انگشتِ شہادت اور درميانی انگلی ) کو ملا يا“ ۔( رواہ مسلم )

 -2 حضرت عائشہ رضي الله عنها  فرماتی ہيں :” ايک مرتبہ ايک عورت اپنی دو بچيوں کے ساتھ کچھ مانگنے کے لیے ميرے گھر ميں آئی ، اس نے ميرے پاس ايک کھجور کے سوا کچھ نہيں پايا ، ميں نے وہی اسے دے ديا ، اس نے خود تو اس ميں سے کچھ نہيں کھايا،بلکہ اس کھجور کو دونوں بچيوں ميں برابر بانٹ ديا، پھر نکل کھڑی ہوئی، پھر ميرے پاس رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  تشريف لائے ، ميں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا : ”جو شخص ان بچيوں کے ذريعے مصائب سے آزمايا جائے ، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، تو ےہ بچياں اس کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائيں گی ۔“ ( متفق عليہ )

بچیوں کی شادی میں جلدی

بچیاں جب جوان ہوجائیں تو ان کی شادی کرنے میں خواہ مخواہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، بالخصوص دور حاضر میں جب کہ فتنے عام ہیں اور برائی پر ابھارنے والے اسباب بے شمار ہیں ، اگر اﷲ تعالیٰ نے اسباب مہیا فرمادیے ہوں تو ایک مسلمان کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بچی کی شادی کے فریضے سے سبکدوش ہوجائے ، رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  نے اپنی کئی احادیث میں اس پر زور دیا ہے :

حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہےکہ رسول اﷲ صلى الله عليه سلم نے فرمایا : ”جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی جانب سے پیغام ِنکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو ، تو اس کے ساتھ (اپنی بچی کا) نکاح کردو ، اگر تم نے یہ نہیں کیا تو پھر زمین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا“۔ (ترمذی)

عموماً لوگ شادی کے لیے دین دار سے زیادہ مالدار لڑکے لڑکیوں کی تلاش میں رہتے ہیں ، جب کہ دین دار لڑکیوں کے مقابلے میں مالدار لڑکیوں کی شادیاں عمومًا غیر پائیدار ثابت ہوتی ہیں ، کامیاب زندگی گذارنے کے لیے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  نے دین دار لڑکیوں سے شادی کرنے کی وصیت فرمائی :

” عورت سے چار چيزوں کی بنا پر شادی کی جاتی ہے ، اسکے مال کی وجہ سے ، خاندان کی وجہ سے ،حُسن اور دين کے سبب سے، تم دين والی کا انتخاب کرلو ، تمہارے ہاتھوں کو مٹی لگے “۔( متفق عليہ )

عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ غریب افراد اپنی بچیوں کی شادیاں جلد کردیتے ہیں ، اگر کسی کے پاس اسباب نہ بھی ہوں تو وہ صاحبِ خیر حضرات کے تعاون سے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، جب کہ خوشحال خاندان کے لوگ ڈاکٹر، انجنئیر، تاجر ، ملازم پیشہ ،گاڑی کوٹھی کے چکر میں اپنی بچیوں کی شادیوں میں کافی تاخیر سے کام لیتے ہیں ،حتی کہ ہزاروں بچیاں سن یاس کو پہنچ جاتی ہیں ، ایسے ماں باپ سے عرض ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے متعلق اﷲ تعالیٰ سے ڈریں اور شادی کی عمر کو پہنچنے کے بعد بچیوں کی شادی میں دیر نہ کریں ، اس لیے کہ بعض اوقات اس کے بڑے ہی برے اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیںاور آگ کے لگنے سے پہلے ہی اس کی تدبیر کرنا ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے ، اس لیے کہ :

اے چشم اعتبار ذرا دیکھ تو سہی         یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو

 معاشرے کا افسوسناک پہلو

 ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹوں اور بیٹیوں میں تفریق اور بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے کی وہی جہالت موجود ہے جو کبھی عربوں میں تھی ،کتنے لوگ ایسے ہیں کہ بیٹے کی پیدائش پر تو‘ لڈّو بانٹتے پھرتے ہیں لیکن لڑکی کی پیدائش پر ان کا منہ لٹک جاتا ہے ، بیویوں سے روٹھ جاتے ہیں ، نہ صرف روٹھتے ہیں بلکہ کئی ایسے اشخاص ہیں جنہوں نے لڑکیوں کی پیدائش پر اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ،اور سینکڑوں ایسے ہیں کہ انہوں نے پیدائش کے بعد اپنی بچی کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا ، ہزاروں وہ ہیں جنہوں نے حالتِ حمل میں اپنی بیویوں کی طبّی جانچ کروائی اور جب انہیں یہ پتہ چلا کہ آنے والا مہمان لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہے ، توانہوں نے اپنی قساوتِ قلبی سے بیوی کو یہاں تک مجبور کیا کہ اسے اپنا حمل ساقط کروانا پڑا ، ایسے کئی واقعات ہیں جن میں اسقاط کے وقت ان گنت عورتوں کی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوگئیں، یہ بالکل وہی جہالتِ کبریٰ ہے جس میں ایامِ بعثت سے پہلے عرب قوم گرفتار تھی کہ وہ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ۔ جیسا کہ فرمانِ الہی ہے :

” جب کہ زندہ در گور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں مار دیا گیا ؟“۔( تکوير : 8-9 )

اس لیے ہر مسلمان کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ضروری ہے کہ وہ بچہ ہو یا بچی ہر ایک کو اللہ کی امانت اور اس کا تحفہ سمجھتے ہوئے قبول کرلے ، کیونکہ وہی قادرِ مطلق ہے ، وہی جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، فرمان الٰہی ہے :

 ”اللہ آسمانوں اور زمين کی بادشاہت کا مالک ہے ، جو کچھ چاہتا ہے پيدا کرتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکياں ديتا ہے اور جسے چاہے لڑکے ، جسے چاہتا ہے لڑکے لڑکياں ملا جُلا کر ديتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کرديتا ہے ، بے شک وہ ہر چيز کو جاننے والا اور ہر چيز پر قادر ہے۔“         (الشوری : 49/50)

اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام کے بچوں اور بچیوں کو نیک بنائے ، ان کے لیے نیک رشتے پیدا کرے ، جن کے گھروں میں جوان بچیاں بیٹھی ہوئی ہیں، ان کی شادی کا غیب سے بندوبست فرمائے اور جنہیں بچیاں عطا فرمائی ہیں انہیں ان کی نیک تعلیم وتربیت کی توفیق عطا فرمائے۔          آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*