مردوں کو فائدہ پہنچانے والے اعمال

فضیلة الشیخ صفی الرحمن مبارکپورى رحمه الله

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (( إذا مَات الإنسَانٌ انقطعَ عمَلُه إلا مِن ثلاثْ : صدَقة جاريَة ، أوْ عِلم ينتفِعُ به ، أوْ ولدٌ صالِحٌ يدعوُ له )) رواه مسلم

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جب انسان وفات پاجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا اجروثواب اسے مرنے کے بعدبھی ملتا رہتا ہے ۔ صدقہ جاریہ،علم جس سے فائدہ اٹھایاجاتا ہو،صالح اولاد جو مرنے والے کے لیے دعا کرے ۔“ (صحیح مسلم)

تشریح : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی مرنے والے کو بعض اعمال کا ثواب پہنچتا ہے ۔ اس حدیث میں تین چیزوں کا ذکر ہے ۔

(1) صدقہ جاریہ: ایسا صدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کردیا جائے مثلاً سرائے تعمیر کرنا ‘ کنواں‘نل وغیرہ لگوانا ‘ مساجدکی تعمیر کروانا، کوئی ہسپتال تعمیر کروانا ‘ پل سڑک بنوانا‘ ان میں سے جوکام بھی وہ اپنی زندگی میں کرجائے یا اس کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو‘ وہ سب صدقہ جاریہ شمار ہوںگے ۔

(2) علم میں لوگوں کو دینی تعلیم دینا،دلوانا،طلباءکے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ، تصنیف وتالیف اور درس وتدریس کا سلسلہ قائم کرجانا، مدارس کی تعمیر، دینی کتب کی طباعت ونشر واشاعت کا بندوبست کرنا وغیرہ ۔

(3) صالح اولاد میں بیٹا‘بیٹی‘پوتا‘پوتی‘نواسا‘نواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہوسکتی ہے جسے علم دین سے آراستہ کیا ہو ۔ ان کو راہ راست اور صراط مستقیم کی روشنی دکھائی اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں گرفتار ہونے سے بچا لیا ۔ صالح اولاد مرنے والے کو اپنے نیک وصالح عمل کے ذریعہ اور نمازوںکی دعاؤں میں یاد رکھتی ہے ۔ اس کے لیے گناہوں کی معافی اور بلندی درجات کی دعا کرتی ہے ۔یہ دراصل مرنے والے کے اپنے عمل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جو اسے مرنے کے بعد بھی ملتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*