بدگمانی سے بچو

فضیلة الشیخ صفی الرحمن مبارکپورى رحمه الله

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ….(متفق علیہ )

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچوکیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے ۔“ (بخاری ومسلم)

تشریح:

(1) ظن سے مراد براگمان ہے اور یہ قابل مذمت ہے اوراطلاق کے وقت مذمت کا پہلو ہی ذہن میں آتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اچھے گمان کا حکم فرمایا ہے جیساکہ ارشاد ہے : ”جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا اور کیوں نہ کہاکہ یہ صریح طوفان ہے “(سورة النور 12)

(2) ظن کو بہت بڑا جھوٹ اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان اپنے دل ہی دل میں گمان وظن کی پرورش کرتا رہتا ہے ۔پھر اسے زبان پر لاتا ہے جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی ۔ اس لیے علماءنے اسے تہمت قرار دیا ہے اور تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے ۔گویا ظن کا دوسرا نام تہمت ہے اور تہمت کبیرہ گناہ ہے اور گناہ کبیرہ توبہ کے بغیر قابل معافی نہیں ہوتا ۔ اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ جس معاشرے میں بدگمانیاں پرورش پائیںگی وہاں حسن ظن نام کی کوئی چیز پنپ نہیں سکتی ۔ اس معاشرے کے افراد کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوسکتی ۔ ایک دوسرے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جائے گا ۔ یہ معاشرے کی تعمیر وترقی کی علامت نہیں بلکہ زوال وتخریب کی نشانی ہے ۔ صالح معاشرہ میں بدگمانی کے جراثیم کو پنپنے نہیں دیاجانا چاہیے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*