نوواردانِ اسلام کے تئیں دل میں جگہ پیدا کریں

خلیجی ممالک میں ملازمت پیشہ غیرمسلم تارکین وطن کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، ان میں سے ایک بڑی تعداد نے یہاں کے اسلامی روایات اوردینی اقدار سے متاثر ہوکر اسلام کے سایہ میں پناہ لی ہے اور تاہنوز لے رہے ہیں۔ الحمدللہ ان ممالک میں تارکین وطن کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے باضابطہ دعوتی کمیٹیاں قائم ہیں اور انہیں معیاری دعاة کی خدمات حاصل ہیں جو تعارفِ اسلام کے لیے ہرممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کا دینی ماحول عام مسلمانوں کو بھی دعوت کے لیے متحرک اور فعال رکھتا ہے ۔ البتہ جولوگ اسلام کی آفاقیت سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگاتے ہیں ان کے تئیں مسلم معاشرہ کی بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جن کا صدحیف ہماری اکثریت کواب تک صحیح شعور حاصل نہ ہوسکا ہے ۔ یہ امرخوش آئندہے کہ کسی غیرمسلم کے قبولِ اسلام کا منظر ایک عام مسلمان کے لیے بھی نہایت ایمان افروز ، روح پرور اور مسرت آمیز ہوتا ہے۔ فوراً اس کے دل میں اپنے نومسلم بھائی کے تئیں محبت اور عقیدت کاجذبہ امڈ پڑتاہے ۔ لیکن جب اس سے معاملہ کرنے کی بات آتی ہے تو زمینی حقائق گواہ ہیں کہ ہماری اکثریت ایسے نومسلموں کو پہلے دن سے ہی اسلام کا نمونہ دیکھنا چاہتی ہے اور اگر کسی طرح کی اس سے کوتا ہی ہوگئی تو فوراً اس کا مواخذہ ہوتا ہے حالانکہ کتنے مسلمان خود طرح طرح کی برائی میں لت پت ہیں، ظاہر ہے کہ جس شخص کو چند دنوں قبل ہدایت ملی ہے اس کی تربیت کے لیے ایک مدت درکار ہے بالخصوص جبکہ ایک شخص نے عمر کا اچھا خاصا وقت غیر اسلامی ماحول میں گزارا ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس نووارد سے نرمی کا معاملہ کیا جاتا، اسے مسلم معاشرے کا ایک فرد سمجھا جاتا، دوسرے مسلمانوں کے جیسے اسے معاشرے میں سارے حقوق حاصل ہوتے ، شروع میں اس کی معمولی کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جاتا اورپیار اورمحبت کے ساتھ اس کے سامنے دین کے احکامات رکھے جاتے لیکن افسوس کہ جہالت اور دعوتی ذوق کے فقدان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان امور کی رعایت کرنے والے افراد خال خال ہی پائے جاتے ہیں ۔ کتنے تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نومسلم نے اسلام قبول کرکے گویا مسلمانوں کے آبائی دین کو ہڑپ لیا ہے اور اس میںایک نیا حصہ دار بن بیٹھا ہے ،تجربہ بتاتاہے کہ کتنے سادہ لوح مسلمان جب غیرمسلموں کو تعارفِ اسلام پر مشتمل کتابیں دیتے دیکھتے ہیں تو جہالت میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ” اسلامی کتاب…. آپ غیرمسلم کو دے رہے ہیں….؟“ حالانکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے ،اس کے مخاطب دنیاکے سارے انسان ہیں ۔

اسلام قبول کرنے کے بعد اکثر نومسلموں کی شکایت ہوتی ہے کہ انہیں مسلم معاشرے کا تعاون حاصل نہیں ہوتا اور یہ شکایت بجا ہے ،شادی بیاہ میں لڑکا اور لڑکی دینے کی بات تو درکنار ان سے معاملہ کرتے وقت بھی اپنے ذہن میں مختلف طرح کے تحفظات رکھے جاتے ہیں۔ راقم سطور ایک عرصہ سے غیرمسلموں کے بیچ کام کرتا آرہا ہے ،اس دوران اس قبیل کے متعددواقعات پیش آئے۔

ایک مرتبہ IPC میں میرے پاس ایک صاحب کسی غیرمسلم عیسائی کولے کر آئے اورمجھ سے طلب کیا کہ انہیں اسلام کی دعوت دوں ،دونوں تعلیم یافتہ تھے ،چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد میں انہیں اسلام کی دعوت دینے لگا ۔ جب وہ اسلام سمجھ چکے اور اسلام لانے کے لیے تیار ہوئے تو لانے والے نے مجھ سے ایک سوال کیا جسے میں پیدائشی مسلمان سمجھ رہا تھا:

” اسلام میں مرتد کا کیاحکم ہے ؟“ میں نے سوال کے بے محل ہونے کی وجہ سے  حکمتِ دعوت کے پیش نظر صراحت سے اس کا جواب نہیں دیا کہ مرتد کی سزا قتل ہے بلکہ کہاکہ” ایک سچے مسلمان کے تئیں ارتداد کا تصور نہیں کیا جاسکتا ،جو حقیقی معنوں میں مسلمان ہوگا وہ مرتد نہیں ہوسکتا، اس پر محمد صلى الله عليه وسلم  کے اصحاب کی درخشندہ زندگی گواہ ہے کہ انہیں انسانیت سوز تکلیفیں دی گئیں تاہم ان کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر تزلزل پیدا نہ ہوا ….کیونکہ اسلام میں جبر واکراہ نہیں،یہ انسان کا اپنا دھرم ہے جسے وہ قناعت سے اختیار کرتا ہے “۔ پھرمیں نے انتظار کیا تاکہ ان کا ردعمل دیکھوں….انہوں نے جواب کو  نظر انداز کرتے ہوئے حقیقت حال سے آگاہ کیا :”میں نے آپ سے یہ سوال اس لیے پوچھا ہے کہ پانچ سال قبل میں نے اسلام قبول کیا تھا تاہم اس پرقائم نہ رہ سکا ،البتہ جب میں نے اپنے دوست کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کیں توانہوں نے اسلام کو جاننے کی خواہش ظاہر کی،اسی لیے میں آج انہیں لے کر آپ کے پاس آیاہوں“۔

میں نے پوچھا: ”آپ کے اسلام پرقائم نہ رہنے کی وجہ ؟“ اس کا جواب تھا :” جب میں نے اسلام قبول کیا تو میرے منیجر نے سارے ملازمین کے سامنے خوشی سے کچھ رقم دی جو ایک مسلمان بھائی کے بیل مونڈھے نہ چڑھ سکا ، ایک روز جبکہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اس نے مجھے بحالتِ سجدہ پیچھے سے ایک لات مارا اوربڑی جرأ ت سے کہا:” لالچی کہیں کے …. پیسہ کے لیے اسلام لایا ہے “ (حالانکہ اللہ شاہد ہے کہ میں نے پورے شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کیاتھا) جب پیچھے مڑکر دیکھا توغصہ توبہت آیا،پرمیں نے بروقت جذبات پرقابوپایا اور اس سے الجھے بغیر مسجد سے نکل بھاگا ۔ اس دن سے مجھے مسلمان سے نفرت سی ہوگئی ہے، لیکن آج بھی مجھے اسلام سے محبت ہے ،میری خواہش ہے کہ دوبارہ اپنے دوست کے ساتھ اسلام میں آجاؤں، کیا ایسا ممکن ہے ؟ “۔

یہ قصہ سن کر تھوڑی دیر کے لیے حواس باختہ ہوگیا ،دانتوں تلے انگلی آگئی اور سوچنے لگا کہ کیا آج بھی ہمارے مسلم معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو اسلام کے راستے میں کانٹے بنے ہوئے ہیں ۔ پھر دفعةً اس سے مخاطب ہوا:”پیارے بھائی ! میں آپ کے درد کو سمجھ رہاہوں ، لیکن وہ جاہل تھا ، اورجاہل اپنے نفس کا دشمن ہوتا ہے چہ جائیکہ غیرکا دوست بن سکے ،پھر آپ نے اس جاہل کا دین تو قبول نہیں کیا تھا بلکہ آپ نے اپنے مالکِ ارض وسماکے دین کی معرفت حاصل کی تھی جو آپ کا اور ساری انسانیت کا دین ہے ۔ یہ تو آپ کی گم شدہ نعمت ہے جسے ایک عرصہ پہلے کھو چکے تھے اب جبکہ اسے پالیا ہے توکیایہ مناسب ہے کہ کسی احمق کی بات پر اپنی نعمت گم گشتہ سے دست بردار ہوجائیں ….؟ “اس طرح اسے مختلف مثالیں دے کر سمجھایا چنانچہ دونوں نے کلمہ  لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا اور کلاس میں حاضر ہونے لگے ۔

یہ اور اس طرح کے درجنوں واقعات ابھی ذہن کے پردے پرمرتسم ہیں جنہیں بیان کرنے کا یہ موقع نہیں البتہ اس کے ذریعہ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم میں سے ہرشخص نومسلم بھائیو اور بہنوں کے تئیں سنجید ہ ہو،ان کے مسئلے پر دھیان دے اور ان کے لیے اپنے دل میں جگہ پیدا کرے کیونکہ مستقبل اسلام ہی کا ہے ۔ ان شاءالله

                                      صفات عالم محمدزبیر تیمی

safatalam12@yahoo.co.in      

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*