باتيں! جن سے زندگى سنورتي ہے

انمول موتیاں

 (1)  ہم مدرسہ میں سبق پہلے سیکھتے ہیں پھر ہمارا امتحان سے سامنا ہوتا ہے جبکہ زندگی میں پہلے امتحان کا سامنا کرتے ہیں پھر اس سے سبق سیکھتے ہیں ۔

 (2)کسی حکیم انسان کے ساتھ معمولی گفتگو یا مختصر مباحثہ ایک ماہ کے مطالعہ کے برابر ہے ۔

(3)  انسان صحیح راستے پر کچھوا بن کر رہے اس سے بہتر ہے کہ وہ غلط راستے پر ہرن بن کر رہے ۔

 (4) علم سیکھنے والے تو بہت پائے جاتے ہیں لیکن تہذیب یافتہ بہت کم ہیں ۔

(5) ناکامی کی کنجی یہ ہے کہ ہر اس شخص کو راضی کرنے کی کوشش کرو جسے تم جانتے ہو

(6)  کامیابی ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ کامیابی کی خواہش سب کچھ ہے ۔

 (7)  جس چیز کو ہم ”بڑی “ سمجھتے ہیں اس کی شروعات ایک سوچ اور ”چھوٹی“ چیز سے ہوئی ۔

 (8) اپنی ذات سے مقابلہ دنیا کے سارے مقابلوں سے افضل ہے اور جب کبھی انسان اپنی ذات سے مقابلہ کرتا ہے تب اس میں ترقی ہوتی ہے ۔لہذا آج کا دن ایسانہ رہے جیسا کل کا دن تھا اور آئندہ کل ایسا نہ رہے جیسا آج کا دن ہے ۔

 (9) بہتر عمل بہتر گفتگو سے افضل ہے ۔

(10)  تمنائیں بغیر محنت وپریشانی کے بر نہیں آتیں ۔

(11) جس کے اندر تحمل وبرداشت کی طاقت ہے وہی آخر میں کماتا ہے ۔

 اپنے بچوں کو وقت کی قیمت کیسے سکھائیں ؟

بچے اگر وقت برباد کرتے ہوں تو انہیں وقت کی قیمت سمجھانے کے لیے اپنے ہاتھ میں ایک دینارلیں،(خیال رہے کہ دینارفرضی ہو اصلی نہ ہو) پھراپنے بچوں کوبلائیں اوران کے سامنے اس میں آگ لگادیں۔ بچے چلائیں گے کہ ”امی!ایسا مت کرو، امی !ایسا کرنا حرام ہے ، آپ دینار کیوں جلارہی ہیں، اس سے مٹھائیاں خرید سکتے تھے ،اچھا کھلونا لے سکتے ہیں،ابو کومعلوم ہوگا تو غصہ ہوں گے ، میں ابو کو بول دوں گا “ ۔ یہ عمل ہی کچھ ایسا ہے کہ آپ کے بچوںاور بچیوں کی پریشانی قابل دید ہوگی ۔ اب آپ ان سے کہیں ” بچو! تم سب کو ایک دینار جلنے پر اتنا افسوس ہے ،لیکن جانتے ہو تم لوگ ٹیلیویژن ،انٹرنیٹ اور کھیلوں میں کتنے دینار ضائع کررہے ہو، کیا معلوم نہیں کہ وقت ضائع کرنے کی وجہ سے تمہارے دینار ضائع ہورہے ہیں ، جانتے ہو ! یہ عمر اللہ کی امانت ہے جس کی بابت کل قیامت کے دن تم سے پوچھ گچھ ہوگی،اس لیے آج سے عہد کروکہ ہم وقت ہرگزبربا د نہ کریں گے۔ ہوم ورک میں لگ جاؤ ، اچھی کتابیں پڑھو، تاکہ اچھا سے اچھا انسان بن سکو “ ۔

  دیندار خواتین کی نظر میں مال کی حیثیت

جن خواتین کے دلو ں میں اللہ کی محبت اور ایمان کا نور راسخ ہوتا ہے ان کی نگاہوں میں مال ومتاعِ حیات اور لذاتِ دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ،وہ شاہی محلوں میں رہتے ہوئے بھی فقرودرویشی کا مزاج بنائے رہتی ہیں اور بسااوقات خستہ مکانوں اور پھوس کے جھونپڑوںمیں رہتے ہوئے بھی عالیشان کوٹھیوں کا لطف حاصل کرتی ہیں، آج امت کو انہیں خواتین کی ضرورت ہے جو اپنی جان ومال کو اللہ کی رضا اور اس کی جنت کے عوض فروخت کرچکی ہیں ، ایسی خواتین امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں،وہ ذاتی طور پر خود نصف بہتر ہیں اور اپنے بطن سے صالح اولاد پیدا کرکے دوسرا نصف بہتر‘ امت کو دیتی ہیں،اس طرح یہ باکمال صالح خواتین امت کا کامل ترین حصہ ہیں۔(مولانامحمد مختارندوی رحمه الله )

  تربیتِ اولاد

بعض لوگ اپنے نوجوان بچوں اور بچیوں کی عمر اور جسمانی ساخت کی پرواہ کیے بغیر انہیں بالکل آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کا کہاں اور کن کے ساتھ آنا جانا ہوتا ہے اس سے ان کو کوئی سروکارنہیں ہوتا ۔ بعض گھرانوں میں باپ بچیوں کی روحانی تربیت کی ساری ذمہ داری ماں کے سر ڈال کرخود کوان کی جسمانی آرام وراحت کے لیے وقف کردیتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بچی خود کو آزاد سمجھنے لگتی ہے ۔ ایسے حالات میں آوارہ لڑکوںکے لیے ایسی لڑکیوں کو اپنا شکار بنالینابہت آسان ہوجاتاہے ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی دستیابی مزید جلتے پر نمک کا کام کرتی ہے ۔

مربی کی ذمہ داری یہاں پرختم نہیں ہوتی کہ ”احمد! نماز پڑھو، فاطمہ ! نماز پڑھو “ بلکہ عملی نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے ، موقع اور مناسبت کو غنیمت جانتے ہوئے سنجیدگی سے سمجھانے اور مثالیں پیش کرکے تربیت کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*