اور فرشتوں کی تشویش صحیح ثابت ہوئی

محمد آصف ریاض (دہلی)

asif343@gmail.com

 اللہ تعالی نے جب انسان کی تخلیق کا ارادہ کیا تو فرشتوں کو بتا یا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والاہوں۔یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ تو ایسے شخص کوکیوں پیدا کرتا ہے ’جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے‘؟ اور ہم تیری تسبیح ،حمد اور پاکیزگی بیان کر نے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے(سورہ البقرہ آیت 3)

 فرشتوں نے جب آدم کی تخلیق کے بارے میں یہ تشویش ظاہر کی کہ وہ زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر آدم کی فضیلت قائم کرنے کے لیے یہ کیا کہ آدم کو زمین پر موجود تمام چیزوں کے نام سے واقف کرا دیا اور ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے ان سے پوچھا کہ وہ ان اشیا کے نام بتا ئیں اگر وہ سچے ہیں ؟ فرشتوں نے یہ کہہ کر اپنی معذوری ظاہر کی کہ ”ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا کہ ہمیں بتا یا جا تا ہے“ ۔ اللہ نے آدم سے فرما یا: تم ان کے نام بتا دو، جب انھوں نے بتا دیا، تو فرما یا کہ میں نے تم کو پہلے ہی کہا تھا کہ زمین وآسمان کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو“۔ (البقرہ)

آدم کے اندر اپنا کوئی کمال نہیں تھا ۔اللہ نے پیشگی طور پر انھیں وہ نام بتا دیا تھا جسے آدم نے فرشتوں کے سامنے بیان کردیا۔فرشتے اشیا کے نام نہیں بتا سکے کیوں کہ اللہ نے انھیں نہیں بتا یا تھا ۔

اللہ نے جب آدم کی تخلیق کی تو ملا ئکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں سبھوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔اللہ نے اس سے پو چھا کہ تمہیں آدم کو سجدہ کر نے سے کس چیز نے روکا؟ ابلیس نے جواب دیا کہ اللہ نے آدم کو حقیر مٹی سے پیدا کیا جب کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں۔اللہ نے اس سے کہا کہ تو یہاں سے نکل جا ۔ ابلیس نے معافی مانگنے کے بجائے یہ کہا کہ میں تیرے بندے کو ہر حال میں بہکاﺅں گااور تیری راہ سے لوگوں کو روکوں گا۔

آدم کی تخلیق سے پہلے دو کمیونیٹیاں بستی تھیں) (1 فرشتے (2) جنات ۔ابلیس جنات کا سردار تھا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ’ فرشتے اور جنات ‘دو نوں نے آدم کی تخلیق کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا اور ان کی تخلیق کی مخالفت کی ۔البتہ دونوں نے اپنے ریجکشن کے حق میں مختلف جوازفراہم کئے ۔ ابلیس نے کہا کہ آدم حقیر مٹی سے بنا ہے اس لیے ذلیل ہے ۔ فرشتے نے کہا کہ یہ زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔آدم کے تعلق سے شیطان کا معاملہ ذاتی انا کا معاملہ تھا۔جب کہ فرشتوں کا معاملہ اصولی تھا۔اللہ نے جب فرشتوں کے کنفیوژن کو دور کردیا تو فرشتوں نے فوراً آدم کی فضیلت تسلیم کرلی ۔ ابلیس نے اپنے وعدہ کے مطابق آدم کو بہکا یا اور جنت سے نکلوا دیا ۔ اور جب آدم زمین پر آ بسے تو یہاں ان کی اولاد نے خون بہا یا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،یعنی فرشتوں کی تشویش صحیح ثابت ہوئی اور ہو رہی ہے۔

انسان اپنے عمل سے خدا کو تکلیف پہنچا رہا ہے ۔اللہ نے فرشتوں اور ابلیس کی مخالفت کے باوجود انسان کی تخلیق کی اور اس سے یہ وعدہ لیا کہ وہ زمین پر خیر کا علمبردار بن کر رہے گا لیکن انسان یہاں آکر شر کا علمبردار بنا ۔شیطان نے کہا کہ یہ حقیر ہے تو انسان کو یہ ثابت کر نا تھا کہ اس کے متعلق شیطان کا اندازہ غلط تھا لیکن انسان خود کو پستی کے سمندر میں غرق کرتا جا رہا ہے اور شیطان کی بات کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔اسی طرح فرشتے نے کہا تھا کہ انسان خون خرابہ کرے گا تو انسان کو امن کا علمبردار بن کر یہ ثابت کرنا تھا کہ فرشتوں کا اندازہ غلط تھا لیکن انسان اپنے عمل سے فرشتوں کے اندازے کو صحیح ثابت کر کے اللہ کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی اللہ انسان کے ساتھ در گزر کا معاملہ کر رہا ہے۔اس لیے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر بھاری ہے۔لیکن یہ ہمیشہ نہیں چلے گا ایک دن انصاف کا قائم ہو گا اور اس روز انسان کو اپنے کئے پر پچتانا ہوگا۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*