یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے ؟

 محمد آصف ریاض (دہلی)asif343@gmail.com

  آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے پودا نکل آتاہے ! وہ پودا سورج سے توانائی حاصل کرتا ہے اور زمین سے پانی لے کر اپنے آپ کو ایک تنا ور درخت میں تبدیل کر لیتا ہے۔کیا یہ سب اتفاقاً ہو جا تا ہے؟

آسمان پانی برسا تا ہے اور انسان کو پانی کی طلب ہوتی ہے۔ زمین اناج اگاتی ہے اور انسان کو بھوک لگتی ہے،تو کیا یہ سب اتفاقی طور پر ہوتا ہے؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ پانی کا برسنا ایک اتفاقی واقعہ ہے تو کیا پیاس کے احساس کا جاگ اٹھنا بھی اتفاقی واقعہ ہے؟

مان لیا جائے کہ زمین نے اتفاقی طور پر اناج پیدا کر دیا تو کیا انسان کے اندر بھوک بھی اتفاقی طور پر پیدا ہوجاتی ہے؟ اگر زمین نے اتفاقی طور پر پھول کھلا ئے تو کیا انسان کے اندر خوشبو کی طلب اور پھولوں کی چاہت بھی اتفاقاً پیدا ہوگئی ؟

مردو خواتین کی تخلیق اگر اتفاقی ہے، تو کیا دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی چاہت کا پیدا ہو جانا بھی ایک اتفاقی واقعہ ہے،اور پھر دونوں کے ملاپ سے ایک نئی تخلیق کا وجود میں آجا نابھی اتفاقی نتیجہ کہلائے گا؟ نہیں ،بالکل نہیں ۔ جو لوگ بھی یہ بتا تے ہیں کہ زمین اورآسمان کا وجود اتفاقی ہے، در اصل وہ جاہل ہیں،   وہ کائنات کو ایک اتفاقی وجود بتا کر خود اپنی جہالت کا اعلان کرتے ہیں۔

کائنات میں جو تنظیم کاری (Design)ہے وہ بتاتی ہے کہ یہاں ہر چیز منصوبہ کے تحت بنائی گئی ہے۔انسان کی ناک ہمیشہ پیشانی کے نیچے کیوں ہوتی ہے ؟اس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی کیوں ہوتی ہیں ؟انسان کے کان کی بنا وٹ ایسی کیوں ہے کہ کوئی چیز اڑکر اس کے اندر نہ چلی جائے؟ وہ سیدھی اور سپاٹ کیوں نہیں  ہو تی ؟ وہ نہایت حفاظتی منصوبہ کے تحت کیوں بنائی جاتی ہے؟ کیا یہ سب اتفاقی طور پر ہوجاتاہے؟ اگر یہ تمام واقعات اتفاقی طور پر ہوجاتے ہیں تو کبھی ایسا بھی ہونا چاہئے تھا کہ کسی انسان کی آنکھیں پیشانی کے نیچے ہوتیں اور کسی کی ناک کے اوپر !کسی انسان کا دماغ اس کے سر کے اندر ہوتا اورکسی کا اس کے گھٹنے کے اندر ؟ لیکن ایساکیوں ہے کہ جسم کے تمام اعضاءلاکھوں سالوں سے ایک متعینہ مقام پر ہی وجود میں آرہے ہیں !

یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے گریٹر اسکیم کے تحت وجود میں آرہی ہے، اور زمین پر انسانوں کا آباد ہونا بھی اسی گریٹر منصوبہ کا حصہ ہے۔اللہ نے آدم کو جنت سے نکال کر ایک مخصوص مدت کے لیے زمین پر بسا یا ہے تا کہ وہ اس کی آزمائش کر لے۔آزمائش کی گھڑی ختم ہوتے ہی وہ تمام مخلوقات کو ختم کردے گا اور پھر سب کو زندہ کرکے فیصلے کا دن قائم کرے گا۔ اس دن جو لوگ کامیاب ہوں گے وہ آسائش وآرام میں ہوں گے ۔انھیں کوئی غم اور ملال نہ ہوگا۔ ان سے کہا جائے گا کہ وہ ہمیشہ کے لیے جنت،امن کے مقام میں داخل ہوجائیں ۔ اس کے بر عکس امتحان میں ناکام ہونے والوں سے کہا جا ئے گا کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جہاں انھیں عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں”ہمیشہ کے لیے رونااور دانت پیسنا ہوگا“۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*