مفلس کون ؟

سيد عبد السلام عمری (کویت)

 اسلام نماز،روزہ،زکوة حج وغیرہ زبانی ، جسمانی، مالی عبادتوں کے ذریعہ انسان کے دل میں خشیت الٰہی اور تقوی کی کیفیت پیدا کرناچاہتاہے۔ انسان میں نیکی، شرافت، عدل و انصاف ، ایثار وہمدردی اور محبت و بھائی چارگی جیسے اعلی اوصاف پیدا کرنا چاہتاہے اور اسی اعلی کردار کو امت مسلمہ کی فتح کا ضامن قرار دیتاہے، چنانچہ نبی رحمتانے فرمایا : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ والمھاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ ( متفق علیہ ) ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزو ں کو چھوڑدے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے ۔ “

  کہنے کو تو ہر وہ شخص مسلمان ہے جس نے کلمہ شہادت پڑھ کر توحید و رسالت محمدیہ کا اقرار کیا، لیکن کامل مسلمان وہ ہے جس کا کردار اتنا بلند ہو کہ اس کی زبان یا ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ کا ارشاد ہے :

 ” (یاد رکھو ) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کردیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے، اے ایمان والو ! کوئی جماعت کسی دوسری جماعت سے مسخراپن نہ کرے ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو، اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاﺅ اور نہ کسی کو برے لقب دو، ایمان کے بعد فسق برا نام ہے اور جو توجہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں“۔          ( الحجرات : 10، 11)

 معاشرے میں ایک ساتھ رہتے ہوے رنجشیں بھی ہوتی ہیں کسی کی طرف سے کوئی زیادتی بھی ہوجاتی ہے اور بعض اوقات زیادتی کرنے والے کو اپنی زیادتی کرنے کا احساس بھی ہوتاہے،ایسی حالت میں صاحبِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کی معافی قبول کرے اور اسے دل سے معاف کردے، قرآن مجید میں ہے :

”اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرجاﺅ اور بخش دو تو اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے“۔ ( التغابن : 14 )

  دو بچھڑے ہوﺅوں کو ملا دینا اور دو آدمیوں کی آپس میں صلح کرادینا اس کے بارے میں حضور اکرم  صلى الله عليه وسلم کا یہ ارشاد گرامی ایک اچھے معاشرے کے لےے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی رحمت انے ایک روز صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوے فرمایا :” کیا تم کو ایسی بات نہ بتادوں جس کا درجہ نفل روزے اور نماز سے بھی بڑھ کر ہے ، صحابہ کرام نے عرض کیا: جی ہاں! بتایاجائے،آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : باہم مصالحت کرادینا، اور فرمایا آپس کا بگاڑ دین کو مونڈ دینا ہے۔ یعنی دین کی برکتیں اور اثرات ختم ہوجاتے ہیں“ ۔        (ابوداﺅد،ترمذی )

  معاشرے میں سلام کا عام چلن بھی شریعت کی ان ہدایات میں سے ہے جس سے آپس میں بہتر تعلقات اور محبت و یگانگت کو فروغ ہوتاہے ۔حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم ایمان کے بغیر جنت میں داخل نہ ہوسکوگے اور باہمی محبت کے بغیر تمہیں ایمان حاصل نہیں ہوسکتا کیا تمہیںایسی بات نہ بتادوں جو تمہارے درمیان محبت کا باعث ہے سنو! آپس میں خوب سلام کیا کرو۔“(مسلم)

 سلام تعلقات کو توڑنے اور دلوں میں کینہ اور دشمنی کو ہوا دینے والے عناصر کی بیخ کنی کرتاہے ۔ ارشاد ربانی ہے :

” اے ایمان والو ! بہت بد گمانیوں سے بچو، یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے ؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔ “ ( الحجرات : 13) یعنی دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت ہمیشہ بدگمانی ہی سے ابتداءنہ کرو، اگر ظاہری طورپر ایک شخص نیک اور شریف ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے بارے میں بری رائے قائم کریں ، اور اگر کسی شخص کے قول اور فعل میں برائی اور بھلائی دونوں کا احتمال ہوتو کیا وجہ ہے کہ ہم برائی کے پہلو کو ترجیح دیں، بلکہ حکم یہاں تک ہے کہ تم لوگوں کی نجی زندگی میں جھانکنے اور ٹوہ لگانے کی کوشش مت کرو، اور بتاﺅ اگر اللہ تمہاری ٹوہ میں لگ جائے اور تمہیں ذلیل و رسوا کرنے پر اڑجائے تو کونسی ایسی طاقت ہے جو تمہیں اس ذلت سے بچائے ؟ چنانچہ ایک اچھے مسلمان کا شیوہ یہ ہو کہ اگر کسی کی خامی،کوتاہی اس کے علم میں آجائے تو اس کی پردہ پوشی کرے،نہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور نہ ہی جستجو کرکے عیب تلاش کرے، کیا ہمیں یہ پسند نہیں کہ اللہ ہماری ستر پوشی کرے اور ہمیں معاف کرے !!

  عرض مدعا یہ ہے کہ بندوں کے حقوق جن کا تعلق معاشرتی زندگی کے ساتھ ہے عبادت سے کم درجہ نہیں رکھتے بلکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا درجہ اور عمل کے لحاظ سے ان کا مرتبہ برابر ہے۔ اگر ہم عبادت کے پابند ہیں لیکن عبادت کے آثار بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی صورت میں زندگی کے دوسرے شعبوں میں نظر نہیں آئے تو ہمیں یقین کرنا چاہيے کہ یہ عبادتیں آخرت میں بھی ہمارے کام نہیں آسکیں گی، جب ان سے ہماری موجودہ زندگی متاثر نہیں ہوتی ہے اور ہمارے عادات و اطوار، اخلاق نہیں سدھرتے تو اخروی زندگی کیسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکتی ہے ؟ اسی حقیقت کو عیاں کرتے ہوے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

 ”بتاﺅ مفلس کون ہے ؟ صحابہ نے جواب دیا : ہمارے معاشرے میں مفلس اسے کہاجاتاہے جس کے پاس دینار و درہم اور سامانِ عشرت نہ ہو ، اس پر آپ انے فرمایا: حقیقت میں مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ،نماز، اور زکوة لے کر آئے گا مگر اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ کیاہوگا، کسی پر الزام لگایا ہوگا،کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا،تو اس کے بدلے میں اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، جب اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا تو ان سب کا گناہ اس پر ڈال دیا جائے گا، نتیجتاً وہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا“۔ ( مسلم )

 اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو امن و اخوت ، عدل و محبت کا پیکر بنائے ۔ آمین !

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*