رسول اکرم صلى الله عليه وسلم پر درود وسلام کی فضیلت

 مولانامحمد انور محمد قاسم سلفی (کویت)

 رسول اﷲصلى الله عليه وسلم پر درود اور سلام بھيجنا فرض ہے

رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی اتباع ، اطاعت اور محبت کے علاوہ، وہ حقوق جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کی امت پر مشروع کیا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم پر درود وسلام بھیجیں ، جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

  اِنَّ اﷲ َ وَمَلَآئِکَتَہ یُصَلُّو نَ عَلَی النَّبِیِّ ےيآ اَےّيہَا الَّذِينَ آمَنُو ا صَلُّو ا عَلَیہِ وَسَلِّمُو ا تَسلِیمًا   ( الاحزاب : 56 ) 

 ترجمہ : ”بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو“۔

 اﷲ تعالیٰ کے درود کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے فرشتوں کی محفل میں آپ صلى الله عليه وسلم کی تعریف وتوصیف اور فضائل وکمالات کا تذکرہ فرماتا ہے اور فرشتوں کے درود کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے حق میں رحمت اور برکت کی دعا کرتے ہیں ، اور انسانوں کا درود یہ ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے رحمت ، برکت اور مغفرت طلب کرتے ہیں۔       ( بخاری عن ابی العالیة )

 اﷲ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں اپنے بندے اور رسول محمد اکی اپنے پاس ملا اعلیٰ میں قدر ومنزلت کی خبر دی ہے ، کہ وہ بذات خود اپنے مقرب فرشتوں میں آپ صلى الله عليه وسلم کی مدح وثنا،صفاتِ حمیدہ اور خصائلِ محمودہ کا تذکرہ فرماتا رہتا ہے ، اور فرشتے آپ  صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجتے ہیں ، پھر اس نے اہل دنیا کو آپ اپر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے ، تاکہ آپ صلى الله عليه وسلم کےلئے عالم علوی اور عالم سفلی کے رہنے والوں کی تعریف جمع ہوجائے ۔ وَسَلِّمُوا تَسلِیمًا   کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم پر اسلامی سلام بھیجو ۔اور آپ پر سلام کے الفاظ وہی ہیں جو نماز میں التحیات میں پڑھے جاتے ہیں ، یعنی : اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ترجمہ :”اے نبی(صلى الله عليه وسلم) آپ پر اللہ تعالی کی طرف سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں ہوں“۔

فضائل درود

سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضى الله عنه کہتے ہیں : میں نے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے ، اس پر اﷲ تعالیٰ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے “۔ ( مسلم :384)

ایک اور روایت میں ہے کہ :”آپ صلى الله عليه وسلم پر ايک مرتبہ درود پڑھنے سے اللہ تعالی کی دس رحمتيں حاصل ہوتی ہیں ، دس گناہ معاف ہوتے اور دس درجے بلند ہوتے ہيں“۔      ( صحيح الادب المفرد )

سیدنا عبد اللہ بن مسعو د رضى الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں “۔( ترمذی :484)

سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” میری قبر کو عبادت گاہ نہ بناؤ ، اور مجھ پر درود بھیجو ، بلا شبہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے ، چاہے تم جہاں رہو“۔    (ابوداؤد :2041)  

جمعہ کے دن درود پڑھنے کی فضیلت

جمعہ کا دن ہفتے کے ساتوں دنوں میں سب سے زیادہ افضل اور مبارک دن ہے ، جیسا کہ اس دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:” بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن حضرت آدم عليه السلام  پیدا کئے گئے ، اسی دن جنت میں داخل کئے گئے ، اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی“۔(مسلم )

اس دن خصوصی طور پر رسول اکرم  صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجنے کی کچھ اور ہی فضیلت ہے، جیسا کہ حضرت اوس بن اوس رضى الله عنه  روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :”جمعہ کا دن تمہارے تمام دنوں میں سب سے افضل دن ہے ، اس دن تم مجھ پر بکثرت درود بھیجو ، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ میں نے کہا : یا رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہوگا جبکہ آپ تو مٹی میں مل چکے ہوں گے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ نے انبیاءکے جسموں کو مٹی پر حرام قرار دیا ہے “۔ ( ابوداؤد :1047) 

درود پیش کئے جانے کی توضیح کرتے ہوئے علماءنے لکھا ہے کہ درود کے ساتھ اس امتی کا نام بھی رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پیش کیا جائے گا جس نے اس درود شریف کا ہدیہ آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا۔

درود نہ پڑھنے والے کی مذمت

رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کا نام نامی اسم گرامی سن کر درود نہ پڑھنا ازلی شقاوت وبد بختی کا باعث ہے ، ایسے شخص پر رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  نے اپنی کئی احادیث میں بددعا بھی کی ہے ، بخاری شریف کی وہ مشہور حدیث سبھی جانتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے منبر پرچڑھتے ہوئے تیں مرتبہ آمین فرمایا ، تو صحابہ کرام  رضى الله عنه  بے چین ہوگئے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ابھی میرے پاس جبریل عليه السلام  آئے تھے ، انہوں نے تین شخصوں کے حق میں بد دعا کی ، جن میں وہ شخص بھی ہے جس کے پاس میرا نام لیا گیا لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا ،اس پر میں نے آمین کہا“۔(رواہ ابن خزیمہ وابن حبان وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترھیب 997)

سیدنا ابوہریرہ  رضى الله عنه  سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم  نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ذلیل ورسوا ہو) جس کے پاس میرا نام لیا گیا لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا“۔(ترمذی :3539)

سیدنا علی بن ابی طالب رضى الله عنه  سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” حقیقی معنوں میں بخیل وہ شخص ہے ، جس کے پاس میرے نام کا تذکرہ ہوا ، لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا “۔(ترمذی :3545)

اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کا نام مبارک سن کر کم از کم صلّی اللہ علیہ وسلم کہے ۔

قبولیت دعا کے لیے درود شرط ہے

رب العالمین کے دربار میں وہ دعا بھی قبول نہیں ہوتی جس کے اول وآخر میں اس کے حبیب صلى الله عليه وسلم پر درود نہیں پڑھا جاتا ،جیسا کہ حدیث میں ہے :

حضرت فضالہ بن عبید رضى الله عنه کہتے ہیں :” رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے سنا ، جس نے اپنی دعا میں نہ تو اﷲ سبحانہ کی مدح وثناءکی اور نہ رسول پاک صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجا ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” اس بندے نے جلد بازی کی “۔پھر اسے بلایا اور فرمایا :” تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو سب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد وثناءبیان کرے ، پھر نبی صلى الله عليه وسلم  پر درود بھیجے ، اسکے بعد اپنے لیے جومانگنا ہو مانگے“ (ابوداؤد : 1481۔ترمذی : 3475)  

 سیدنا ابی بن کعب رضى الله عنه کہتے ہیں : ”میں نے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم سے کہا :یا رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم ! میں آپ پر زیادہ سے زیادہ درود پڑھتا ہوں ، ذرا بتلائیے ! اگر میں دعا کروں تو میں آپ پر کتنا درود بھیجوں ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : تم جتنا چاہو ۔ میں نے کہا : اگر ایک چوتھائی حصہ پڑھوں تو ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اور زیادہ کیا تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا ۔ میں نے کہا :آدھا ؟ آپ انے فرمایا : اگر تم اور زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہی ہے ۔ پھر میں نے کہا : اگر دو تہائی پڑھوں تو ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر میں نے کہا کہ میں اپنی ساری دعا میں صرف اور صرف آپ پر درود ہی بھیجتا رہوں گا ۔یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جب تو یہ تمہارے سارے غم اور پریشانیوں کے لیے کافی کردیاجائے گا اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی بن جائے گا ۔       (ترمذی :2381)

اس حدیث کی تشریح میں علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص اپنی دعا میں سوائے درود کے کچھ نہیں پڑھتا ، اﷲ تعالیٰ درود شریف پڑھنے کی برکت سے بغیر مانگے کے ہی اس کی ساری حاجات کو پوری کردیتا ہے ۔

 درود باعثِ شفاعت ہے

نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی امت پر شفقتيں اور دين کے لیے جد وجہد اور امت کی بخشش کے لیے محنت وکاوش کا تقاضہ يہ ہے کہ امت آپکی ذاتِ اقدس پر بکثرت درود وسلام بھيجے ، اورجو کوئی مومن وموحد جس قدر زيادہ درود پڑھے گا اسی قدر آپکی شفاعت کا مستحق ہوگا  ۔سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضى الله عنه کہتے ہیں : میں نے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم اذان سنو تو مؤذن جس طرح کہتا ہے اسی طرح کہو ، پھر مجھ پر درود بھیجو ، اس لیے کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے ، اس پر اﷲ تعالیٰ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لیے ”وسیلہ ،، مانگو ، یہ جنت میں ایک مقام ہے جو تمام بندوں میں صرف ایک ہی بندے کو عطا ہوگا ، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا ، جو شخص میرے لیے مانگتا ہے ، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے “۔ (مسلم :384)

 درود شریف کے الفاظ

کن الفاظ سے آپ پر درود بھیجا جائے اس کی تعلیم بھی سرور کائنات انے امت کو دی ہے ،سیدنا کعب بن عجرہ صسے مروی ہے کہ صحابہ کرام صلى الله عليه وسلم نے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا : ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن درود کیسے بھیجیں ؟تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس طرح پڑھو :

اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیتَ عَلٰی اِبرَاھِیمَ وَعَلٰی آلِ اِبرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمِید  مَجِید ۰ اَللَّھُمَّ بَارِک´ عَلی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَاھِیمَ وَ عَلٰی آلِ اِبرَاھِيمَ اِنَّکَ حَمِيد  مَجِید (بخاری)

 ترجمہ :”اے اللہ ! رحمت نازل فرما حضرت محمدصلى الله عليه وسلم پر اور آپکی آل پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی حضرت ابراہیم عليه السلام  اور آپکی آل پر، بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والاہے ۔ اے اللہ ! تو برکت نازل فرما حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر اور آپکی آل پر جیسا کہ تو نے برکت فرمائی ابراہیم عليه السلام اور انکی آل پر، بےشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے“ ۔

جب کوئی مسلمان آپ صلى الله عليه وسلم پر مختصر درود بھیجے تو درود اور سلام دونوں کو اکٹھے کرلے ، ان میں سے کسی ایک پر اکتفا نہ کرے ، جیسے : صرف ” صلّی اﷲ علیہ“ نہ کہے ، اور نہ ہی صرف ” علیہ السلام ،، کہے ، اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں کا حکم دیا ہے ، بلکہ صلّی اللہ علیہ وسلم یا صلّی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کہے ، جیسا کہ صحابہ کرام کہا کرتے تھے ، یہی وہ مسنون درود وسلام ہیں جو زمانہ نبوت سے آج تک امت کے علمی طبقے میں متداول ہیں ، البتہ عوامی سطح پر لوگوں نے قسمہا قسم کے درود ایجاد کرلیے ہیں جیسے:درودہزاری،درودتاج،درود لکھی وغیرہ اور بيچارے عام مسلمان کم علمی کی وجہ سے بڑی ہی عقیدت ومحبت سے ان درودوں کا ورد کرتے ہیں، ایسے بھائیوں سے عرض ہے کہ وہ ان تمام مصنوعی درودوں سے دامن جھاڑ کر اس مسنون درود کو حزر جان بنالیں ، جس کی تعلیم خود رسول مکرم انے امت کو دی ہے ۔

 درود شریف پڑھنے کے مقامات

آپ صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجنے کا حکم کئی ایسی جگہوں پر آیا ہے جس سے یہ بات متاکد ہوجاتی ہے کہ درود بھیجنا واجب ہے یا سنّت مو کدہ ۔امام ابن قیم رحمہ اﷲ نے اپنی کتاب جلاء الافہام میں اکتالیس (41) ایسے مقامات کا تذکرہ فرمایا ہے ، جہاں درود پڑھنا مسنون یا ضروری ہے ، اس کی تفصیل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں :  

پہلا مقام : جو سب سے زیادہ اہم ہے اور جس کی سب سے زیادہ تاکید ہے ، وہ ہے نماز کا آخری تشہد ۔ تمام مسلمانوں کا اس جگہ درود پڑھنے کے مسنون ہونے پر اتفاق ہے ، لیکن اس کے واجب ہونے کے متعلق اختلاف ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نماز کے آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے ، اگر کوئی شخص جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو اسکی نماز نہیں ہوگی۔

پھر دیگر مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ابن قیم  رحمه الله فرماتے ہیں : دعائے قنوت کے آخر میں ۔ خطبات ( جیسے خطبہ جمعہ ، عیدین اور استسقاء)میں، مؤذن کی اذان کا جواب دینے کے بعد، دعا کرتے وقت ، مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے وقت ، آپ صلى الله عليه وسلم کا نام نامی اسم گرامی سننے کے بعد ۔

 پھر امام موصوف درود پڑھنے سے حاصل ہونے والے چالیس فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

(1)  درود پڑھنے سے اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے ۔ (2) درود پڑھنے والے پر اﷲ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔ (3) دعا کرنے سے پہلے درود پڑھنے سے دعا کے قبول ہونے کی امید ہوتی ہے ۔ (4) درود کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کےلئے وسیلے کی دعا پڑھنا ، آپ صلى الله عليه وسلم کی شفاعت کا سبب بنتا ہے ۔ (5) یہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے – (6) آپ صلى الله عليه وسلم پردرود اور سلام بھیجنے والے کا ، رسول صلى الله عليه وسلم جواب دیتے ہیں اسطرح درود آپ صلى الله عليه وسلم کے جواب کا سبب بنتا ہے ۔

ہر مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ ہر دن بعد نماز صبح اور بعد نماز عصر یا مغرب کم از کم دس دس مرتبہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم پر درود پڑھنا اپنی زندگی کا وطیرہ اور وظیفہ بنالے ، اس سے رب العالمین کی رحمتوں اور مغفرتوں کے علاوہ بے شمار روحانی اور جسمانی فوائد بندہ مومن کو حاصل ہوتے ہیں ، بھلا اس ذات مبارک ومقدس پر ہم کیوں نہ درود بھیجیں ، جن کا کلمہ پڑھ کر ہم مسلمان ہوئے ، جن سے محبت ، اور جن کی اتباع واطاعت جزو ایمان ہے ، روزِ قیامت جنکی شفاعت کے ہم امیدوار ہیں ، اور جنکے دست مبارک سے جامِ کوثر کے ہم طلب گار ہیں ؟ ۔

 نبی کریم صلى الله عليه وسلم پربے شمار درود وسلام نازل ہوں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*