نقاب پر عتاب

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

 مغرب کو اس بات پر ناز ہے کہ اس نے دنیا کو جمہوریت اور سیکولرزم کا تحفہ دیا ہے ،جس میں ہرشخص کو اظہارِخیال کی ،اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور کسی پر کوئی رائے تھوپی نہیں جاسکتی ، عالم اسلام پر دباؤ ہے کہ وہ خواتین کو اپنے خیال کے مطابق زندگی گذارنے کی اجازت دیں ،ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار دیں اوراس میں جبر اور زور زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں ، مگر شاید مغرب میں آزادی کا حقیقی مقصد انسان کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے ،نہ کہ آزادی سے ہمکنارکر نا ،اسی لیے فرانس ….جہاں بعض ایسے مقامات بھی موجودہیں ،جن میں انسان کو کوئی پوشاک پہننے کی اجازت نہیں ….کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی نے فرانس میں آباد چالیس لاکھ مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے کی اور مسلمان خواتین کو نقاب سے روکنے کی ایک پرجوش مہم شروع کررکھی ہے اور برقعہ پر پابندی کا قانون بنا دیا گیا ہے اور اس سے پہلے بھی اسکولوں اور سرکاری اداروں میں سکھوں کے لیے پگڑی ، مسلمان خواتین کے لیے اسکارف ،یہودیوں کے لیے ان کی مخصوص ٹوپی اور عیسائیوں کے لیے صلیب رکھنے کی ممانعت کی جاچکی ہے ۔

 ظاہر ہے کہ یہ جمہوریت کہ اس تصور کے بالکل مغائر ہے جس میں تمام لوگوں کو یکساں حقوق دینے اور اپنی سوچ کے مطابق عمل کا حق دینے کا دعوی کیا جاتا ہے ، سیکولرزم کامطلب یہی ہے کہ ایک شخص کو جانوروں کی طرح بے لباس رہنے کی اجازت ہو لیکن اگر وہ اپنی خوشی اور خواہش سے ساتر لباس پہننا چاہے تو اس پر پابندی ہو ؟ ۔

اللہ کا نظام یہ ہے کہ جوچیز اہم بھی ہوتی ہے اور نازک بھی ، اسے حفاظتی حصار میں رکھاجاتاہے ،انسان کے ہاتھ پاؤں پر کوئی حصار نہیں رکھا گیا ؛لیکن دماغ کو سخت ہڈیوں والی کھوپڑی کے اندر رکھاگیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کا تحفظ ہوسکے ،دل کی جگہ سینہ کی لچک دار ہڈیوںکے بیچ رکھی گئی؛تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کی حفاظت ہوسکے ، آنکھوں پر پلکوں کا پہرہ بٹھایاگیا ، یہ ان اعضاءکی تحقیر ہے یا ان کی حفاظت ؛ بلکہ ان کا اعزاز ؟….نباتات ہی کو دیکھئے ،اگر آم پر دبیز چھلکوں کا لباس نہ ہوتا تو کیا مکھیوں اوربھڑوں سے بچ کر وہ انسانوں کے ہاتھ آسکتا ؟ اگر چاول گیہوں کے دانوں پر ان کی حفاظت کے لیے چھلکے نہ ہوتے توانسان انہیں اپنی خوراک بنابھی سکتا ؟ خودانسانی معاشرہ میں دیکھئے ملک کا ایک عام شہری کھلے عام ہرجگہ آمدورفت کرتا ہے ،نہ اس کے ساتھ سیکورٹی گارڈ ہے ،نہ اس کی رہائش گاہ پر پہرہ دار ہیں ،جبکہ اہم شخصیتوں کے لیے تحفظ کا خصوصی نظم کیاجاتا ہے ۔

 مردوں اور عورتوںمیں عورتیں حفاظت کی زیادہ محتاج ہیں ،اللہ نے ان کو مردوں کے لیے وجہ کشش بنایاہے ؛ اسی لیے ان کی تراش وخراش میں حسن کاری اور لطافت کو قدم قدم پر ملحوظ رکھاگیا ہے ،اور لطافت ’نزاکت‘ کو چاہتی ہیں،اسی لیے بھینس اور بیل تو لطافت سے خالی ہیں ،مگر اللہ تعالی نے ہرن کونازک اندام اور سبک خرام بنایا ہے ، عورتوں کے اس تخلیقی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے وہ حفاظت کی زیادہ محتاج ہوتی ہیں ،اگر کسی کا لڑکا شہر جائے ، اسے چاربجے شام کو آنا چاہیے تھا ؛ لیکن وہ رات کے دس بجے لوٹے تو اس سے گھبراہٹ نہیں ہوتی ؛لیکن اگر یہی واقعہ کسی لڑکی کے ساتھ پیش آئے،تودل کا قرار چھن جاتاہے ، اور ماں باپ کی کروٹیں بے سکون ہوجاتی ہیں ، اسی کو دیکھئے کہ پوری دنیامیں اور ہندوستان میں بھی مردوں اور عورتوں کے عددی تناسب میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے ، اللہ نے ان دونوں صنفوںکو ایک توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے ؛تاکہ دونوں طبقات کی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ پوری دنیامیں سوسال سے زیادہ عرصہ سے جمہوریت سکہ رائج الوقت بنی ہوئی ہے ،جس کا ایک نعرہ عوررتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دینا بھی ہے ؛لیکن اس کے باوجودآج بھی عورتیں حقوق مانگتی ہیں اور مرد انہیں حقوق واختیارات دیتے ہیں ،یہ فرق کیوں ہے ؟ کیوں امریکہ اور روس میں آج تک کوئی خاتون صدرنہیں بن سکی اور یورپ میں مارگریٹ تھیچر اور انجیلا مرکل کے علاوہ خاتون سربراہ حکومت کے عہدہ پر نہیں پہنچ سکی ؟ یہ ظلم وحق تلفی کا معاملہ نہیں ہے ؛ بلکہ قانونِ فطرت کا فیصلہ ہے ، قدرت نے خود دونوںکی صلاحیتوںمیں فرق رکھاہے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے دائرہ کار متعین کیا ہے۔

 پردہ بھی اسی فرق کا ایک حصہ ہے ،جانور بھی کھاتے پیتے ہیں اور شہوانی جذبات رکھتے ہیں ؛ لیکن ان کی فطرت لباس کے تصور سے عاری ہے ،انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو عریانیت سے بچائے اور لباس زیب تن کرے ،وہی فطرت اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ ڈھکی چھپی ہوں، فرض کیجئے دو لڑکیاں راستہ سے گذر رہی ہیں ،ایک لڑکی کا لباس چست اور شوخ ہو ،اس کا سر کھلاہو،اس کے بازو کھلے ہوں،اس کا پیٹ نگاہِ ہوس کو دعوتِ نظارہ دیتاہواور اس کا کساہوا لباس جسم کے نشیب وفراز کو نمایاں کرتا ہو، دوسری لڑکی سرتاپا نقاب میں ہو یاکم سے کم ڈھیلا ڈھالا لباس اور سرپر دوپٹہ ہو ،تو اوباش قسم کے لڑکے ان میں سے کس کوچھیڑنے کی کوشش کریں گے ،ہوسناک نگاہوں کا تیر کس کی طرف متوجہ ہوگا ،برائی کے جذبات ان میں سے کس کی طرف دلوں میں کروٹ لیں گے ؟ یقیناً بے پردہ لڑکی اس کا نشانہ بنے گی ۔

چند سال پہلے جب دہلی میں لڑکیوں کو چھیڑنے اور جنسی طورپر ہراساں کرنے کے واقعات کی کثرت ہوگئی،تو پولیس کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ لڑکیاں چست اور نیم عریاں لباس پہن کر بازاروں اور تعلیم گاہوں میں نہ جائیں؛کیونکہ اس سے جرم کی تحریک پیدا ہوتی ہے مگر افسوس کہ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے اس معقول تجویز کے خلاف ایسا شور برپا کیاکہ تجویز واپس لینی پڑی ۔

پردہ کے بارے میں اسلامی تعلیمات تو بالکل واضح ہیں۔ قرآن کریم نے عورتوں کو پورے جسم کے علاوہ چہرہ پر بھی گھونگھٹ ڈالنے کا حکم دیا ہے (سورة الاحزاب 59) خواتین کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے مسجد میں پیچھے صف رکھی اور یہ بھی فرمایاکہ ان کا مسجد میں نماز پڑھنے سے گھر میں نماز ادا کرنا بہتر ہے۔ (ابوداؤد ،حدیث نمبر570،678)  

ان سے بنیادی طورپر ایسی ذمہ داریاں متعلق کی گئیں ،جو اندرونِ خانہ کی ہیں ،اور انہیں شمعِ محفل بنانے کی بجائے گھر کی ملکہ بنایاگیا۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی پردہ کا تصور رہا ہے ، بائبل میں کئی خواتین کا ذکر ملتا ہے جو کپڑوں میں لپٹی ہوئی تھیں بلکہ بعض وہ ہیں جو پردے کی وجہ سے پہچانی نہیں گئیں ،آج بھی چرچوں میں حضرت مریم علیھا الصلاة والسلام کا جو فرضی مجسمہ بنایاجاتا ہے ، اس میں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکاہوتا ہے ، حالانکہ رومن تہذیب اور اس کے بعد یورپ میں عورتوں کے عریاں مجسمے بنانے اور جسم کے ایک ایک نشیب و فراز اور خط و خال کو نمایاں کرنے کا رواج عام ہے، گویا جو لوگ عریانیت اور بے پردگی کے مبلغ ہیں وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عورتوں کا تقدس باپردہ رہنے ہی میں ہے ۔

 ہندو مذہب میں بھی قدیم عہد سے پردہ کی اہمیت رہی ہے ، سیتا جی کا مشہور واقعہ ہے کہ جب راون نے انہیں اغوا کیا، تو شری رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن جی انہیں پہچان بھی نہیں سکے، اور انہوں نے کہا کہ ایک ہی جگہ رہنے کے باوجود ہم نے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی اور جب شری رام جی نے سیتا کے ليے ہار بھیجے،تو سیتا جی مختلف عورتوں کے درمیان بیٹھی ہوی تھیں،اس ليے لکشمن انہیں پہچاننے سے قاصر رہے، یہ واقعات جن کا برادران وطن کی کتابوں میں آج بھی ذکر موجود ہے ، واضح کرتے ہیں کہ ہندو مذہب میں عورتوں کی عفت و عصمت ، شرم و حیا اور پردہ وغیرہ کو کتنی اہمیت حاصل تھی،یہی وجہ ہے کہ ہندو سماج میں اکثر اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں، اب بھی مارواڑیوں، کائستوں اور پرانی وضع کے حامل برہمن خاندانوں میں عورتوں کے باپردہ رہنے کا رواج ہے ،گو ان کے ہاں برقعہ کا استعمال نہیں ہوتا، لیکن گھونگھٹ لٹکاکر رکھنے کا رواج پایاجاتاہے ۔

پردہ نہ ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اورنہ اس سے ترقی کے مواقع ختم ہوتے ہیں، اسلامی تاریخ میں بہت سی باکمال خواتین پیدا ہوئی ہیں، جن کے حالات پر کئی کئی جلدیں لکھی گئی ہیں، اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی علم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے، وہ معلم ہوسکتی ہیں، وہ طبیب ہوسکتی ہیں، وہ شرعی اصولوں کے مطابق تجارت کر سکتی ہیں ، وہ کار ِافتاء انجام دے سکتی ہیں، وہ حدود و قصاص کے علاوہ دوسرے مقدمات میں جج بن سکتی ہیں ، اگر مردوں اور عورتوں کے ليے جداگانہ ضروریات کا نظم کیا جائے،الگ الگ اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہوں، الگ الگ ہاسپٹل ہوں،عورتوں کے ليے مخصوص مارکیٹ ہوں ، وغیرہ تو خواتین کے ليے معاشی تگ و دو کے بھی اتنے مواقع پیدا ہوجائیں گے، جو انہیں اس وقت میسر نہیں ہیں اور وہ آزادانہ ماحول میں بہتر طورپر کام کرسکیں گی، اگر ٹرین میں خواتین کے ليے مخصوص کوچ ہوسکتے ہیں،بسوں میں ان کے ليے محفوظ سیٹیں ہوسکتی ہیں، ہسپتالوں میں ان کے وارڈ الگ رکھے جاسکتے ہیں تو زندگی کے دوسرے شعبوں میں خواتین کے ليے علیحدہ اور مستقل انتظام ہو تو اس میں کیا دشواری یا برائی ہے ؟

 پس، پردہ خواتین کو مجرمانہ ذہن سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کا مقصد حفاظت ہے، اگر معاشرہ میں پردہ کا رواج ہوجائے اور خواتین کے ليے ایسا نظم کیا جائے کہ وہ زندگی کے مختلف میدانوں میں مردوں سے الگ رہتے ہوے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں تو یہ عورتوں کو بے پردہ کرنے،مخلوط ماحول میں انہیں تناﺅ کا شکار بنانے اور مردوں کی نگاہ ہوس کو ٹھنڈی کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے سے کہیں بہتر ہوگا، کاش ! اہل مغرب عورتوں کے حقیقی مسائل کو سمجھ سکیں اور ان کے دکھ کا مداوا کرسکیں ۔

  یہ تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک حضرت مریم علیہا السلام ایک مقدس ترین شخصیت کی مالک ہیں،بلکہ بعض تو انہیں عیسائی عقیدہ کے مطابق تین خداﺅں میں ایک خیال کرتے ہیں ،ان کی زندگی کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ وہ کنواری تھیں،انہیں کسی مرد نے ہاتھ بھی نہ لگایا تھا اور اللہ تعالی کے خصوصی حکم کی بناءپر وہ حاملہ ہوئیں ، لیکن عجیب بات ہے کہ جس عورت کو نکاح کے ذریعہ بھی نہ چھوا گیا ہو، آج انہیں پر ایمان رکھنے والی عیسائی قوم دامن عفت تارتار کرنے کو بے قرار ہے ،لباس ان کے ليے ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے اور چاہتی ہے کہ جسم پر ایک تار لباس بھی باقی نہ رہے، دنیا میں شاید ہی اس سے بڑھ کرکوئی حیرت انگیز تضاد موجود ہوگا ، فیا عجباہ و یا اسفاہ !

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*