عقیدہ ہی اصل ہے

سید عبدالسلام عمری (کویت )

abdussalamsyed@ymail.com

 اللہ تعالی کی طرف سے جتنے بھی انبیاءآئے وہ عقیدہ  الوہیت کی تصحیح اور فکر انسانی کی اصلاح ہی کے لیے آئے ۔ وہ اس بلند بالاہستی کی طرف دعوت دینے آئے تھے جس کی بزرگی کا راز خود اس کی ذات وصفات ہیں۔ اس کی بادشاہت اتنی وسیع اور اس کی سلطنت اتنی زبردست ہے کہ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے اس سے اس کی عظمت وجلال پر کوئی آنچ نہیں آسکتی ، اس کے اقتدارمیں کوئی کمی نہیں ہوسکتی ،اس کے آب وتاب میں کوئی فرق نہیں آسکتا ۔اس کی عظمت وکبریائی کا آفتاب اسی طرح دمکتا رہے گا ،وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی ساجھی نہیں ، وہ بے نیاز ہے ،اس کو کسی کی ضرورت نہیں ،وہ بے اولاد ہے اس کی کوئی اولاد نہیں،وہ اول ہے اس کے پاس ماں باپ نہیں ،وہ بے مثال ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں:لا تُدرِکُہُ الا َبصَارُ وَہُوَ یُد رِکُ الا َبصَارَ (الانعام 103) ”(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اُس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے“ ۔

 اس ذات باری تعالی نے جو فطرت انسان کو بخشی ہے اس کی روشنی اگرچہ انسان کو معرفت الہی تک پہنچادیتی ہے مگر خواہشات کا پرستار، دنیا کا طلبگار، خالق حقیقی سے منحرف ، جزا وسزا سے بے پرواہ انسان شرک کی نجاست سے نکلنا ہی نہیںچاہتا ۔ شرک ایک ایسی چیز ہے جسے عقل ومنطق سے کوئی واسطہ نہیں ،انسانی فطرت سے کوئی لگاؤ نہیں۔  

قرآن میں ہے : ”کچھ لوگ ہیں جو بلاجانے بوجھے اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہرشیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ۔ اس کے بارے میں تو یہ طے ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کرکے چھوڑے گا اور اسے آگ کے عذاب تک پہنچا کردم لے گا ۔ (الحج 40)

حدیث قدسی میں ہے : ”میں نے اپنے بندوں کو خالص توحید پر پیدا کیا تھا ،پس شیطان آئے اور انہیں ان کے دین سے بہکالے گئے اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں “۔ (مسلم)

آج دنیا جس پریشانی سے دوچار ہے وہ ایک روحانی بحران ہے جس کا سبب یہ ہے کہ دنیا نے ان اعلی قدروں کا انکار کردیا جنہیں دین اسلام لے کر آیا تھا ، وہ قدریں کیا ہیں ؟ حق اور انصاف ،اخوت اور فراخ دلی ۔وغیرہ

اورآج اس بحران سے دنیا کے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ پھر سے ان اقدار کی طرف پلٹ آئے ۔اورایک نہ ایک دن دنیا اپنی فطرت کی رہنمائی میںلازماً ان قدروں کی طرف لوٹ آئے گی ۔ اور جس آن دنیا فطرت کی راہ پالے گی خودبخود اسلام کے دامن میں آجائے گی ،اس لیے کہ اسلام ہی دینِ فطرت ہے ۔

اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ عقائد پر ہی پورے دین کی عمارت قائم ہے ۔اگر عقائد نہیں تو دین دین نہیں رہتا ۔ اس باب میں دین اسلام کا انداز دنیا کے دیگر تمام ادیان سے بالکل الگ اور مختلف ہے ، وہ صرف عقل ہی کو مخاطب نہیں کرتا،وہ عقائد کی تعمیر کرتے ہوئے عقل اور دل دونوں سے خطاب کرتا ہے ، وہ فکر اور احساس دونوں کو جھنجھوڑتا ہے ،وہ ذہنی قویٰ کے ساتھ ساتھ جذبات کو بھی بیدار کرتا ہے ۔

مگر افسوس برصغیر پاک وہند کے بعض مدارس میں علمِ توحید کے جو اسباق ہوتے ہیں ان اسباق سے طلباءکی ذہنی کیفیت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی معادلاتِ جبریہ کی تشریحات کے وقت یہ دونوں چیزیں عقل کے ناخن کو تو تیز کرتی ہیں مگر قلب پر کوئی اثر نہیں چھوڑتیں ۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ طالب علم اللہ کے وجود پردرجنو ںدلائل بیان کرتا جاتا ہے مگر اس کا دل ہی خالقِ بزرگ وبرتر کی عظمت کے احساس سے خالی ہوتا ہے ۔ اس محسن حقیقی کے لیے وہ اپنے اندر شوق ومحبت کی کوئی گرمی یا خوف وخشیت کی کوئی جھرجھری نہیں محسوس کرتا۔ کیا واقعی عقائد کے اسباق ایسے ہی ہونے چاہئیں ؟ کیا عقائد کی تعلیم کا یہی طریقہ مناسب ومعقول ہے ؟

اسلام کا عقیدہ ایک ایسا آفتاب ہے ‘ جو کسی کی زندگی کی افق سے طلوع ہوتا ہے تو اسے سراپا نور بنا دیتا ہے‘ اسکے کسی بھی گوشے مےں تاریکی کا نام و نشاں باقی نہےں رہتا ۔ مگر افسوس ! اوپر ذکر کی گئی خامی کی وجہ سے لوگ تصوف کا رخ کرنے لگے کہ یہاں جو روح کی پیاس بجھ نہ سکی ہے ممکن ہے وہاںبجھ جائے لےکن تصوف ایک ایسی وادی ہے جہاں انسان سنبھلتا کم ہے اور پھسلتا زیادہ ہے۔ يہ وہ صحراء ہے جسکے مسافر عموماً منزل سے نا آشنا رہتے ہيں۔ اس راہ ميں خطرات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہيں۔ دوسری طرف کلامی معرکہ آرائیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ بے سروپا اور بے معنی جھگڑوں ميں اللہ تعالی کے اسماءو صفات کو بھی ہم نے لا گھسایا ۔ اس طرح ہمارا معاشرہ پست ہمتی اور کم حوصلگی کا شکار ہو گیا۔ يہ فلسفے کيا آئے کہ عقیدے سے تعلق رکھنے والے علوم اپنی اصل شاہراہ سے ہٹ گئے۔ اور علم توحید کی کتابيں فلاسفہ کی اصطلاحات و نظریات ‘ انکے افکار کا ملغوبہ بن گئیں۔ نتیجہ يہ ہوا کہ مسلم معاشرہ ميں شرک کا زہر سرایت کر گیا اور خالق ارض و سماء سے ہمارا رشتہ کمزور ہو گیا۔ اس طرح اسلامی معاشرہ ميں بے شمار برائیاں ،مہلک بیماریاں اور اجتماعی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ جو امت کی ترقی و بلندی کے ليے سد راہ بن گئیں اور بہت حد تک اسکے زوال و انحطاط کا موجب ہوئيں۔ بالآخر ہماری نگاہوں نے وہ  نا مبارک وقت بھی دیکھ لیا کہ اسلامی حکومت صلیبی جنگ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور اسلام کو يہ ہزیمت خود اپنے دوستوں کی ناچاقیوں اور نام لیواﺅں کی فکری معرکہ آرائيوں کے ہاتھوں اٹھانی پڑی۔ آج حالت اتنی گئی گذری ہو گئی کہ کوئی اور امت بھی فکری وحدت اور جذباتی ہم آہنگی کی اتنی ضرورتمند شاید ہوگی جتنی امت مسلمہ ہے۔ اس خستہ حال امت کے تن ناتواں ميں يہ مہلک امراض اپنے گھونسلے بنائے ہوئے ہیں اور وہ ماہر اطباء اور مخلص رہنماﺅں کی دل سوزیوں کو ترس رہی ہے۔

آج وہ ہماری بد ذوقی پر ماتم کناں ہے کہ ہم نے اسے بدعات و خرافات اور جہالت کے تاریک بادلوں ميں روپوش کر دیا ۔ اف يہ کیسی بدمذاقی ہے۔ آج ہم نور سے بے زار اور ظلمتوں کے پرستار ہيں۔ جبکہ ہم اس نبی کے امتی ہيں جو روز اول سے ہی نور کے علم بردار اور تاریکی سے بر سر پیکار تھے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی عقیدہ پر مبنی کچھ ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو مغرب زدہ ذہنوں میں اسلامی عقائد کو راسخ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف عام و خاص کے قلب و عقل کو سنوارے اور انکے افکار و عقائد کی اصلاح کرے تودوسری طرف انھيں جوش وجذبہ سے مالا مال اور ولولہ عمل سے سر شار کر دے کہ ان کے قدم ڈگمگائيں نہيں۔ وہ حق کی راہ ميں پوری ثابت قدمی اور پامردی کا مظاہرہ کر سکيںاور اس راہ ميں پيش آنے والے خطرات و مصائب سے کبھی ہراساں اور دل شکستہ نہ ہوں۔ مسلمانوں کے ہاتھوں ميں حکومت کی باگ ڈور اسی وقت آسکتی ہے جب انکے دلوں ميں اسلامی عقائد کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔ پھر يہ بات بھی سمجھ لینی چاہيے کہ دلوں ميں اسلامی عقائد کی جڑيں اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہيں اور امت انکے شریں نتائج سے اسی وقت مستفید ہو سکتی ہے جبکہ ان کے سلسلے ميں وہی انداز اختیار کیا جائے جو خود اسلام نے اختیار کیا ہے اور ان کو اسی طرح پیش کیا جائے جس طرح اسلام نے پيش کیا ہے۔  

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*