سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

 چوہدری محمد اعظم (کویت )

machoudhry675@hotmail.com

خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضى الله عنه  کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ والد عفان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے جا ملتا ہے ۔ حضرت عثمان ذوالنورین ص کی نانی نبی پاک اکی پھوپھی تھیں۔

 آپ رضى الله عنه کا نام عثمان  اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ رضى الله عنه ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ رضى الله عنه نے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضى الله عنه کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ طبقات ابن سعد کے مطابق آپ رضى الله عنه نے چوتھے نمبر پر اسلام قبول کیا ۔ حضور  صلى الله عليه وسلم  پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں حضرت عثمان غنی رضى الله عنه کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ رضى الله عنه سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ رضى الله عنه نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔

  حضرت عثمان غنی رضى الله عنه اعلی سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ رضى الله عنه  ہوگا۔ حضرت عثمان  رضى الله عنه  کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے کچھ عرصہ بعد اپنی صاحب زادی حضرت رقیہ  رضى الله عنها کا نکاح آپ  سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی اجازت اور حکم الہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو حضرت عثمان رضى الله عنه بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، مگر جب یہ غلط افواہ پھیلی کہ کفار قریش مسلمان ہوگئے ہیں اور حالات سازگار ہوگئے ہیں تو دوسرے مسلمانوں کی طرح حضرت عثمان غنی رضى الله عنه بھی واپس آگئے ۔ جب ہجرت مدینہ کا حکم ہوا تو حضرت عثمان رضى الله عنه اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے،و ہاں بھی آپ رضى الله عنه نے تجارت کی اور کامیاب تاجر ثابت ہوے۔ ان دنوں مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر حضرت عثمان رضى الله عنه نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔ غزوئہ بدر میں حضرت رقیہ رضى الله عنها کی علالت کے سبب نبی اکرم  صلى الله عليه وسلم کی اجازت سے نہ جاسکے ۔ غزوئہ احد اور خندق میں شریک ہوے ۔ جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو پیارے آقا صلى الله عليه وسلم  نے دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ رضى الله عنه کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔

جب رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے حضرت عثمان غنی رضى الله عنه  کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے حضرت عثمان  رضى الله عنه کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان غنی  رضى الله عنه کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ  رضى الله عنهم سے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے بیعت لی کہ حضرت عثمان  رضى الله عنه کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادئہ صلح ہوگئے اور حضرت عثمان   رضى الله عنه واپس آگئے۔

غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو حضرت عثمان غنی  رضى الله عنه  نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔

رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کے ” حجة الوداع “ کے موقع پر حضرت عثمان  رضى الله عنه ہمراہ تھے ۔

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق  رضى الله عنه کی مجلس مشاورت کے اہم رکن تھے ۔ حضرت عمر  رضى الله عنه کی خلافت کا وصیت نامہ آپ  رضى الله عنه نے ہی تحریر فرمایا ۔

 دینی معاملات پر آپ  رضى الله عنه کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔ حضرت عثمان  رضى الله عنه صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرئہ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے عثمان  رضى الله عنه کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔

 عام طور پر دن کو روزہ رکھتے، رات ریاضت و عبادت میں گزارتے ۔ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے ۔ یتیموں، بیواﺅں اور مسکینوں کی مسلسل خبر گیری فرماتے ۔ ابن عساکر نے زید بن ثابت  رضى الله عنه سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا:”میرے پاس سے جب عثمان رضى الله عنه  گزرے تو میرے پاس فرشتہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس فرشتہ نے کہا کہ یہ شہید ہیں ان کو قوم شہید کر دے گی مجھے ان سے شرم آتی ہے“ ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضى الله عنها سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان رضى الله عنه ہمارے پاس آتے تو اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم اپنے لباس کو درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ اس سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں ۔

  آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اے عثمان رضى الله عنه اللہ تعالی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ  رضى الله عنه کا محاصرہ کیا گیا تو آپ  رضى الله عنه نے فرمایا کہ مجھے حضور صلى الله عليه وسلم نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریںگے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔

 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوںنے حضرت عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ رضى الله عنه نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ رضى الله عنه کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ حضرت عثمان ص کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔

 حضرت عثمان رضى الله عنه کی زریں اصول :

 ٭ غم دنیا ایک تاریکی ہے اور غم آخرت دل میں ایک نور ہے ۔ تارک دنیا اللہ کا، تارک گناہ فرشتوں کا ،تارک طبع مسلمانوں کا محبوب ہوتا ہے ۔

٭ چار چیزیں بے کار ہيں :

(1) وہ علم جو بے عمل ہو (2)وہ مال جو خرچ نہ کیا جائے (3) وہ زہد جس سے دنیا حاصل کی جائے ( 4) وہ لمبی عمر جس میں سامان آخرت کچھ نہ کیا جائے ۔

 ٭ مجھے دنیا میں تین باتیں پسند ہیں :

( ۱) بھوکوں کو کھانا کھلانا (۲) ننگوں کو کپڑا پہنانا   ( ۳) قرآن مجید خود پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا۔

 ٭ بظاہر چار باتوں میں ایک خوبی ہے مگر حقیقت میں چاروں کی تہہ میں چار ضروری بھی ہیں :

 (1) نیکو کاروں سے ملنا ایک خوبی ہے مگر ان کی اتباع کرنا ایک ضروری عمل ہے ۔(2)تلاوت قرآن مجید ایک خوبی ہے مگر اس پر عمل کرنا ضروری ہے ۔(3) مریض کی عیادت ایک خوبی ہے مگر اس کی وصیت کرنا ایک ضروری عمل ہے ۔(4) زیارت قبور ایک خوبی ہے مگر وہاں کی تیاری کرناایک ضروری امر ہے

٭ حضرت عثمان رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ مجھے چار باتوں میں عبادت الہی کا مزہ آتاہے:

 (1) فرائض کی ادائیگی میں۔ (2) حرام اشیاءسے پرہیز کرنے میں۔ ( 3) امید اجر پر نیک کام کرنے میں  (4) خوف الہی سے برائیوں سے بچنے میں۔

 ٭ آپ رضى الله عنه نے فرمایا کہ متقی اور نیک آدمی کی پانچ علامتیں ہیں :

 ( 1) ایسے شخص کی صحبت میں رہنا جس سے دین کی اصلاح ہو ۔ ( 2) شرمگاہ اور زبان کو قابو میں رکھنا۔ (3) مسرت دنیا کو وبال خیال کرنا۔(4) شبہات کے خوف سے حلال سے بھی پرہیز کرنا۔(5) ایک حرام چیز میں بھی ہلاکت ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*